مغرب پر اسلامی خوف و وحشت کے منڈلاتے بادل

بلا شبہ اسلامی اقدار و روایات ہی  دنیا کو کامیابی کی شاہراہوں تک لے جا سکتے ہیں۔

تقریر: ڈاکٹر عبد الرحیم ہلالی

ترجمہ : محمد شاہد رضا نجمی

آخر وہ کون سی چیز ہے جو مغرب کو اسلام سے خوف زدہ کیے ہوئے ہے؟ ذہن کے کینوس پر ابھر نے والا یہ ایک منطقی سوال ہے کہ آیا مغربی حکومتوں نے اسلامی اقدار کے نظام کا معروضی مطالعہ کرلیا ہے اور یہ ان کے نزدیک واضح ہوگیا ہے کہ مغربی تہذیب کے لیے اسلامی نظام ایک خطرہ ثابت ہورہا ہے؟ انسانیت کی خیر خواہی اور فلاح وبہبود کی خاطر ہم مغرب کی ساری حکومتوں کو اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسلامی اقدار کا مطالعہ کریں، تاکہ اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں کے مابین ثقافتی سلسلے برقرار رہ سکیں، نیز  باہمی بد گمانی اور غلط احساسات سے احتراز ممکن ہوسکے۔

اس تعلق سے ’’اسلام اور یورپ‘‘ کے عنوان پر سویڈن میں منعقد حالیہ کانفرنس میں مغربی اتحاد کے مبصر کا یہ تبصرہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں انھوں نے یورپ کو تین بڑی خطائوں کے ارتکاب سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔

پہلی خطا: 

اسلامی اقدار وروایات کی پابندی کو انتہا پسندی سے جوڑنا۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات واتہامات کے پیچھے یہی سبب کار فرما ہے۔ جب کہ اس طرح کے الزامات واتہامات کو جنم دینے والے کردار واعمال ایسی محدود جماعت اور افراد کے عکاس ہیں جو نہ اسلام کے قائد ورہنما ہیں اور نہ ان میں کوئی اسلامی شناخت پائی جاتی ہے۔

دوسری خطا: 

اسلامی حکومتوں پر مغربی روایات کا جبری نفاذ، حالاں کہ اسلامی حکومتوں کا خود اپنا عمدہ، قابلِ احترام مستقل نظام وروایت ہے۔

تیسری خطا: 

یورپ کے تیس ملین مسلمان باشندگان پر یہ الزام لگانا کہ وہ یورپین نہیں ہیں۔ جب کہ در حقیقت خود یورپین ہی اسلامی تعلیمات کو بلا پس وپیش قبول کررہے ہیں۔

اسی سیاق میں سویڈن کے سفیر ’’انجمار کارلسون‘‘ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلم عناصر سے ملے بغیر یورپی اتحاد کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ اسلام اور مغرب کے درمیان موجودہ خلا کی بھرپائی ممکن نہیں ہے، توہم یورپین مسلم نسلوں کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام ہوجائیں گے جن کی تعداد رفتہ رفتہ بڑھتی جارہی ہے۔

آنے والی سطروں میں ہم اسلام کی بعض تہذیبی روایات کا ذکر کرتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے باعثِ فخر اور غیر مسلموں کی جانب سے احترام کی مستحق ہیں؛ کیوں کہ وہ روایات ساری انسانیت کے درمیان امن وسکون عام کرنے والی ہیں۔

اسلام میں عورت کا مقام:

 بلاشبہ اسلام عورت کو مرد کے برابر درجہ دیتا ہے؛ کیوں کہ انسانی رشتے کے لحاظ سے دونوں برابر ہیں۔ مرد وعورت دونوں کو شادی کا حق اور دونوں میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کی جانب سے متساوی حقوق حاصل ہیں۔ مرد وعورت کے مابین اقتصادی وضع میں فرق غالبا اس وجہ سے ہے کہ مرد کی بہ نسبت عورت کے فرائض وحقوق بہت کم ہیں۔ قرآن کریم نے اس کی جانب اشارہ فرمایا ہے کہ مرد پر عورت کی کفالت واجب ہے اور کفالت کا وجوب مرد وعورت کے طبعی اختلا ف کی وجہ سے ہے۔ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنْ اَمْوٰلِہِمْ  فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ۔(النسائ: ۳۴)مرد عورتوں کے مربی ونگراں ہیں؛ اس لیے کہ اللّٰہ رب العزت نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے بھی کہ مردوں نے ان پر اپنےاموال خرچ کیے ،تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوند کی عدم موجودگی میں گھر کا تحفظ کرتی ہیں، جس طرح اللّٰہ نے تحفظ کا حکم دیا ۔

مذہب حنفی کے مطابق عورت کو نکاح کرنے کا حق حاصل ہے، اس طرح وہ زوجیت کے عمل میں مکمل شریک ہے۔یوں ہی شوہر سے اختلاف کی صورت میں اسے شوہر کو مال دے کر فسخِ نکاح کا بھی حق ہے۔ فسخ نکاح کی یہ صورت ’’خلع‘‘ کہلاتی ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت زیادہ ضروری ہے کہ علیحدگی کے خواہش مند مرد وعورت کو اسلامی تعلیمات اس بات کی ہدایت دیتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے تعلق سے کوئی برا رویہ اختیار نہ کریں، بلکہ سابقہ رشتے کا لحاظ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں۔ اسی طرح دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد رجعت کرنے والے مرد کو شریعت اسلامیہ اس بات کی بھی ہدایت دیتی ہے کہ وہ عورت سے سختی اور شدت کے ساتھ معاملہ نہ کرے اور حقوق سے دست برداری کے لیے اس پر دبائو نہ ڈالے۔ بلکہ دونوں ایک دوسرے سےوہ رویہ اختیار کریں، جو شرافت و کرامت اور باہمی احترام ومحبت کا عکاس ہو۔ اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:  وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ- فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ- فَأَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ – سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ۔ یہی وہ بلند اور با عظمت طریقہ ہے جسے دین اسلام عورت سے مرد کے معاملات میں اپنانے کا حکم دیتا ہے، یہاں تک کہ شدید اختلافات کی جگہوں میں بھی اسی طرح کردار پیش کرنے کا حکم دیتا ہے۔البتہ مرد وعورت کے درمیان جواحکام میں اختلافات نظر آتے ہیں وہ دونوں کے فرائض وحقوق  مختلف ہونے کی وجہ سے ہیں۔

اسلام میں آزادی کا تصور:ـ

اسلامی میں آزادی کا مکمل احترام ہے، جب کہ اس سے انسانی اقدار کی پامالی لازم نہ آئے۔

اعتقادی آزادی: 

سب سے پہلی آزادی اعتقادی آزادی ہے۔ قرآن کریم نے لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ۔(البقرۃ: ۲۵۶) فرما کر اسے تحفظ فراہم کردیا ہے۔ اسلام ہی وہ پہلا عقیدہ ہے جس نے انسانیت کو اعتقادی آزادی کا تصور دیا اور دوسرے مذاہب کے متبعین کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے کا درس بھی۔ خلیفۂ راشد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ضعیف وناتواں اور ترش مزاج یہودی کے ساتھ نرمی فرمایا کرتے تھے؛ کیوں کہ وہ کسب ِ معاش پر قادر نہیں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ناپسند کیا کہ آدمی بوڑھا ہونے کے بعد بھی تکلیف ومشقت برداشت کرے، آپ نے اس کے لیے بیت المال سے وظیفہ جاری فرمادیا۔

 بلاشبہ دین اسلام دلوں میں رقت ونرمی کے پودے اگاتا ہے اور دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کا حکم دیتا ہے، جب تک وہ خوش دلی اور امن وسلامتی کے ساتھ رہیں۔ اسی حوالے سے اللہ رب العزت کا یہ ارشاد ہے: لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقٰتِلُوۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیٰرِکُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمْ وَ تُقْسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمْ  اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ۔(الممتحنۃ: ۸) جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالااللہ رب العزت ان کے ساتھ احسان کرنے اور انصاف برتنے سے منع نہیں فرماتا ہے۔ بیشک انصاف والے اللّٰہ کو محبوب ہیں ۔

علمی آزادی: 

اسلام نے علمی آزادی کی وہ وسیع فضا قائم کی ہے جس کے مطابق ایک مجتہد ومحقق خاطی ہونے کی صورت میں بھی ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔

سیاسی آزادی: 

سیاسی آزادی کی ضمانت اس طرح دی گئی ہے کہ عامۃ الناس اپنے معاملات میں حاکم سے رجوع کرسکتے ہیں، بشرطے کہ مقصود امت کی بھلائی ہو۔ اسلام میں شورائی نظام سیاسی آزادی کی اساس ہے، جس کی بنا پر لوگوں کو اپنا حاکم منتخب کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ جب لوگ کسی شخص کو اپنا حاکم منتخب کرلیں اور وہ اللہ رب العزت کی اطاعت وفرماں برداری کو لازم پکڑلے تو لوگوں پر اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔

حاکم مصالح شخصی کی تحصیل کے لیےاپنے اثر ورسوخ کا استعمال نہیں کرسکتا۔ اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی نے اس پر روشن دلیلوں سے حجت قائم فرمادی ہے۔ اسلامی تاریخ سے واقف سبھی لوگ جانتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی وفات کے وقت آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔ اس سے محض یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ رسول اکرم ﷺ وصالِ ظاہری کے وقت کسی دنیوی مال ومتاع کے مالک نہ تھے، بلکہ اہم چیز یہ ہے کہ آپ نے وہ سیاسی نظام قائم فرمایا جس میں غیر مسلم بھی آزادی کی سانسیں لے رہا ہے۔ چناں چہ کوئی یہودی رہن رکھے بغیر اللہ کے رسول ﷺ کو بھی قرض نہیں دے سکتا، اسے سلطانِ وقت سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

 کیا انسانی روایات میں اللہ کے رسول ﷺ کے اس فعل سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ کردار موجود ہے جس کا مظاہرہ آپ نے خطبۂ وداع سے قبل فرمایا تھا۔ لوگوں سے ارشاد فرمایا:فَمَنْ کُنْتُ جَلَدْتُ لَہٗ ظَھْرًا فَھٰذَا ظَھْرِیْ فَلْیَسْتَقِدْ مِنْہٗ، وَمَنْ کُنْتُ شَتَمْتُ لَہٗ عِرْضًا فَھٰذَا عِرْضِیْ فَلْیَسْتَقِدْ مِنْہٗ۔  (المعجم الاوسط للطبرانی: باب من اسمہٗ ابراھیم) اگر میں نے کسی کو کوڑے لگائے تھے تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے وہ اپنا بدلہ لے لے اور اگرمیری ذات سے کسی کی حرمت وتوقیر پامال ہوئی ہو تو وہ بھی اپنا بدلہ لےلے۔ بلاشبہ آپ کی ذات وہ نورانی ذات ہے جو احساسات کو نرم کردیتی ہے، انسان اپنا نفس گناہوں سے پاک وصاف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے رب سےملاقات کے وقت اس کے عفو وکرم کا امید وار ہوجاتا ہے۔

اسلام میں مال کا تصور:

اسلام ذاتی ملکیت کا احترام کرتا ہے اور لوگوں کو شرعی طریقے سے کسبِ رزق اور بلا مکر وفریب شرف وامانت کے ساتھ سرمایہ کاری پر ابھارتا ہے۔ چناں چہ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔ (صحیح مسلم)  اسلام رضائے مولا کی خاطر درست طریقے پر مال خرچ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسب معاش کی فی حد ذاتہ کوئی انتہا نہیں ہے، لہذا حصولِ مال کے لیے بغض وعداوت اور غلط طریقوں کا سہارا لینا درست نہیں ہے۔ جب حرام چیز کسی حلال چیز سے مل جاتی ہے تو حرام اس پر غالب آجاتی ہے۔ یوں ہی اصحابِ ثروت کے لیے غیر نفع بخش اشیا میں اموال صرف کرنا جائز نہیں ہے ۔ قرآن کریم اور سنت نبوی نے ظلم وزیادتی اور جبر وتشدد کے ذریعے کسبِ معاش کو سخت حرام قرار دیا ہے۔ اسلام نے زکاۃ فرض کیا ہے تاکہ لوگوں کے دل انانیت وخود نمائی سے پاک ہوجائیں اور فقرا ومحتاجین کے ساتھ انھیں انسیت حاصل ہوجائے۔

اسلام میں باہمی تعاون، خستہ حال اور مضطرب لوگوں کے درمیان اطمینان وسکون کا ماحول قائم کرنے اور اخلاقی اقدار کی اشاعت پر درج ذیل حدیث سے بڑھ کر کوئی دلیل نہیں پیش کی جاسکتی!اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: أَیُّمَا أَھْلُ مَحَلَّۃٍ (مَدِیْنَۃٍ أَوْ قَرْیَۃٍ) ھَلَکَ فِیْھِمْ اِمْرَؤٌ ضِیَاعًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْھُمْ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ۔ (معجم ابن الاعرابی)اگر کسی شہر یا علاقے میں کوئی شخص مجبور ولاچار ہلاک ہوجائے تو وہاں کے افراد سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ بری الذمہ ہیں۔

 اسی لیے ابن حزم نے اپنی کتاب ’’المحلی‘‘ میں اس حدیث پاک سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگرکسی شہر یا علاقے کے لوگ کسی غریب مرد یا عورت کو بھوکا چھوڑ دیں اور وہ بھوک کی شدت سے ہلاک ہوجائے تو سارے شہر کے لوگ کے قتل کے ذمہ دار ہوں گے اور ان پر قصاص واجب ہوگا۔

یہ وہ بعض اسلامی اقدار وروایات ہیں جو معروضی مطالعہ کے لائق ہیں۔ اگر انسانیت انھیں اپنالے تو اطمینان وسکون کی نعمت سے سرفراز ہوجائے۔

[ماخوذ: ماہنامہ الازہر، مصر، مئی ۲۰۱۶ء ]