أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَرُدُّوۡكُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ فَتَـنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اگر تم نے کفار کا کہنا مان لیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں لوٹا دیں گے اور تم نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے

تفسیر:

دینی معاملات میں کفار کی اطاعت سے ممانعت : 

اس سے پہلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے متبعین کے آثار صالحہ پر چلنے کی تلقین فرمائی تھی اور اس آیت میں مشرکین عرب اور کفار کی پیروی کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ کیونکہ جب جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر پھیل گئی تو منافقوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اب جا کر ابوسفیان سے امان حاصل کرنی چاہیے اور بعض نے کہا اب تم اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جاؤ اللہ تعالیٰ نے ان کے رد اور مذمت میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! اگر تم نے کافروں کا کہا مان لیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں لوٹا دیں گے اور تم نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے ‘ ہرچند کہ یہ آیت خاص موقع اور خاص سبب کے متعلق نازل ہوئی اور ان کا مورد جنگ احد کے خاص واقعات ہیں لیکن اس کا حکم عام ہے ‘ اور مسلمانوں کو اپنے دین اور اپنے مذہبی معمولات کے خلاف کفار کی کسی بات کو نہیں ماننا چاہیے اور اپنے دین اور مذہب کے خلاف ان کی اطاعت کرنا دین اور دنیا کا فساد مول لینا ہے۔ 

اللہ کے سوا کسی اور کی خدائی پر دلیل کا نہ ہونا۔ 

جنگ احد میں جب ابوسفیان اور اس کے رفقاء دیگر مشرکین مسلمانوں کو شکست دے کر لوٹ گئے اور مکہ کی جانب لگے تو کچھ مسافت طے کرنے کے بعد وہ نادم ہوئے اور کہنے لگے ‘ یہ ہم نے کیا کیا ‘ ہم نے ان سے جنگ کی اور جب تھوڑے سے مسلمان باقی بچ گئے تو ہم لوٹ آئے ‘ واپس چلو ہمارے لیے یہ نادر موقع ہے کہ ہم مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں ‘ جب انہوں نے واپسی کا عزم کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ اپنا ارادہ پورا کیے بغیر مکہ واپس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا : ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیا اور وہ اپنا ارادہ پورا کیے بغیر مکہ واپس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا : ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اس چیز کو شریک کیا ہے جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ 

سلطان کا معنی حجت ‘ بیان ‘ عذر اور برہان ہے ‘ والی کو سلطان اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین پر اللہ عزوجل کی حجت ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ لفظ سلیط سے بنا ہے سلیط تلوں کے تیل کو کہتے ہیں جس سے چراغ روشن کیا جاتا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور باطل کو مٹانے کے لیے بھی سلطان سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ سلیط کا معنی لوہا ہے اور سلاطتہ حدت کو کہتے ہیں اور سلیط کا معنی قہر ہیں۔ اس میں نون زائد ہے اور سلطان کا معنی قوت ہے کیونکہ وہ اپنی قوت سے حکومت کو قائم کرتا ہے اور اپنے احکام جاری کرتا ہے اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بتوں کی عبادت کرنا کسی ملت میں بھی جائز نہیں رہا اور نہ عقل اس کو جائز قرار دیتی ہے ‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عقائد میں تقلید کرنا جائز نہیں ہے ‘ جو چیز بغیر کسی دلیل کے محض رائے اور نفسانی خواہش پر مبنی ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے ‘ مشرکین ایک سے زیادہ عبادت کے مستحق مانتے تھے اور بغیر دلیل کے ان کی عبادت کرتے تھے ‘ بہ فرض محال اگر دو خدا ہوتے تو وہ اپنی خدائی پر کوئی دلیل نازل کرتے اور کوئی حجت اتارتے اور جب اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور خدا کی خدائی پر کوئی دلیل نہیں پائی گئی تو معلوم ہوا اور اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اگر کوئی اور خدا ہوتا تو وہ ضرور کوئی دلیل بھیجتا ‘ اس لیے بغیر کسی دلیل کے اللہ کے سوا کسی اور کو خدا ماننا اور اس کی عبادت کرنا شرک اور باطل ہے اور ان مشرکوں کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ 

جنگ احد میں مسلمانوں کی پسائی کا بیان : 

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ احد کے بعد مدینہ لوٹ آئے جب کہ اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوچکے تھے اور بہت سے مسلمان زخمی ہوگئے تھے ‘ اس وقت بعض مسلمانوں نے کہا ہم کو یہ شکست کیسے ہوگئی ہم سے تو اللہ نے مدد کا وعدہ فرمایا تھا ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : اور بیشک اللہ نے تم سے یا ہوا وعدہ سچا کردیا جب تم (ابتداء میں) اس کے اذن سے ان کافروں کو قتل کر رہے تھے۔ کیونکہ جنگ احد کے شروع میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگئی تھی ‘ کافر بھاگ گئے اور مسلمان ان کا مال غنیمت لوٹنے لگے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد پہاڑ کی پشت پر پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ متعین کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ فتح ہو یا شکست تم اس جگہ سے نہ ہٹنا ‘ جب ان تیراندازوں نے مسلمانوں کو مال غنیمت لوٹتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا ہم بھی جا کر مال غنیمت لوٹتے ہیں ان کے سردار حضرت عبداللہ بن جبیر بن مطعم نے ان کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرحال میں یہیں قائم رہنے کا حکم دیا ہے لیکن دو چار کے سوا کسی نے ان کی بات نہ مانی اور جب یہ مورچہ خالی ہوگیا تو یکایک پیچھے سے آکر خالد بن ولید کی قیادت میں مشرکوں نے حملہ کیا ‘ مسلمان مال غنیمت لوٹ رہے تھے کہ اچانک ان کے سروں پر تلواریں برسنے لگیں وہ گھبرا کر افراتفری میں بھاگے ‘ اور یوں اللہ کی دی ہوئی فتح کو مسلمانوں نے باہمی اختلاف اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی سے شکست میں بدل دیا ‘ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی واقعات کا نقشہ کھینچا ہے فرماتا ہے : حتی کہ جب تم نے بزدلی دکھائی اور (رسول اللہ کا) حکم ماننے میں اختلاف کیا ‘ اور اپنی پسندیدہ چیزوں (مال غنیمت) دیکھنے کے بعد تم نے (رسول اللہ کی) نافرمانی کی تم میں سے بعض دنیا کا ارادہ کر رہے تھے (جو اپنی ڈیوٹی چھوڑکر مال غنیمت کے پیچھے دوڑے) اور بعض آخرت کا ارادہ کر رہے تھے (جو اپنی ڈیوٹی پر قائم رہے اور وہی کفار سے مدافعت کرتے ہوئے شہید ہو گیے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو ان سے پھیرلیا تاکہ وہ تمہیں آزمائش میں ڈالے۔ (آل عمران : ١٥٢) اس آیت کی کئی تفسیریں ہیں : 

” اللہ نے تم کو ان سے پھیر دیا “ کی تفسیریں۔

(١) احد پہاڑ کی پشت پر جو تیر انداز مقرر کیے گئے تھے ان کے دو گروہ ہوگئے تھے۔ ایک مال غنیمت کے پیچھے دوڑ پڑا تھا ‘ اور ایک گروہ اپنی جگہ قائم رہا تھا ‘ پھر جو گروہ اپنی جگہ قائم رہا دشمن کی چڑھائی کے بعد اگر وہ اسی طرح قائم رہتا تو دشمن ان کو قتل کردیتا اور وہ بغیر کسی مقصد اور فائدہ اور فائدہ کے قتل ہوجاتے ‘ اس لیے ان کے لیے یہ جائز ہوا کہ وہ اس جگہ سے کسی اور مناسب مورچہ پر چلے جائیں اور وہاں ان کو جہاد کرنے کا اور باقی پر ایک محفوظ جگہ چلے گئے تھے ‘ اسی طرح وہ مسلمان بھی ایک محفوظ جگہ چلے گئے اور وہاں ان کو جہاد کرنے کا اور باقی مسلمانوں کی طرف سے مدافعت کرنے کا حکم دیا اس لیے فرمایا پھر اللہ نے تم کو ان سے پھیرلیا تاکہ وہ تم کو آزمائش میں ڈالے ‘ اور جو صحابہ مال غنیمت لوٹنے چلے گئے تھے ان کے متعلق فرمایا : اور بیشک اس نے تم کو معاف کردیا اور اللہ ایمان والوں پر بہت فضل کرنے والا ہے۔ 

(٢) اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا تھا لیکن جب مسلمانوں کا ایک گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے خلاف مال غنیمت لوٹنے کے لیے بھاگا تو اللہ تعالیٰ نے بطور سزا مسلمانوں کا رعب کفار کے دلوں سے زائل کردیا اس لیے فرمایا : پھر اللہ نے تم کو ان سے پھیرلیا ‘ اور اس چیز کو مسلمانوں کے لیے آزمائش بنا دیاتا کہ وہ اللہ سے توبہ کریں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کرنے سے استغفار کریں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے تم کو ان سے پھیر دیا۔ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے تم کو فورا ان پر دوبارہ حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا تاکہ اس تخفیف کے ذیریعہ تم کو آزمائش میں ڈالے اور یہ ظاہر فرمائے کہ تم میں سے کتنے لوگ دوبارہ جہاد میں ثابت قدم رہتے ہیں اور اس بار جو تم سے چوک ہوگئی اس کو اللہ نے معاف کردیا۔ 

(٤) ” اللہ نے تم کو ان سے پھیر دیا “ اس کا معنی یہ ہے تم کفار پر غلبہ پاچکے تھے لیکن جب تم نے نافرمانی کی اور بزدلی دکھائی تو اللہ نے تم کو شکست میں مبتلا کر کے تم کو ان سے پھیر دیا یعنی تمہارے غلبہ کو ان سے پھیر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور بیشک اس نے تم کو معاف کردیا ‘ یعنی اس حکم عدولی کی سزا میں تم کو بالکل نیست ونابود نہیں کیا اور تمہاری اس لغزش کو معاف کردیا ‘ جہاد میں پیٹھ موڑ کو بھاگنا گناہ کبیرہ ہے اور یہاں اس گناہ کبیرہ پر مسلمانوں کے معافی مانگنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بغیرتوبہ اور استغفار کے مسلمانوں کے اس گناہ کو معاف کردیا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کا ذکر فرمایا کہ اللہ ایمان والوں پر بہت فضل کرنے والا ہے۔ 

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے بھی گناہ کبیرہ کو معاف کردیتا ہے اور یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے اس کے برخلاف خوارج اور معتزلہ کے نزدیک بغیر توبہ کے گناہ کبیرہ معاف نہیں ہوتا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب تم چڑھتے جارہے تھے اور کسی کو پیٹھ پھیر کر نہیں دیکھ رہے تھے اور رسول تمہاری پچھلی جماعت میں کھڑے ہوئے تم کو بلا رہے تھے تو اللہ نے تمہیں غم بالائے غم میں مبتلا کیا تاکہ (مال غنیمت سے) محرومی اور اس (شکست) کی مصیبت پر تم غم زدہ نہ ہو ‘ اور اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ 

مسلمانوں کو غم اٹھانے اور مصائب برداشت کرنے کا عادی بنانا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حسن بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد میں جب مسلمان دشمن سے شکست کھا گئے تو وہ وادی میں بگٹٹ بھاگتے ہوئے جا رہے تھے۔ 

قتادہ بیان کرتے ہیں جنگ احد کے دن مسلمان وادی میں بھاگے جارہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے اللہ کے بندو میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ۔ 

سدی بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جب مشرکوں نے مسلمانوں پر شدت سے دباؤ ڈالا اور ان کو شکست دے دی تو بعض مسلمان مدینہ چلے گئے ‘ اور بعض پہاڑ پر چڑھ کر ایک چٹان کی اوٹ میں ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے اللہ کے بندو میری طرف آؤ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے پہاڑ پر چڑھنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان کو بلانے کا ذکر کیا ہے۔ 

جس طرح کسی بڑی مصیبت کو دیکھ کر چھوٹی مصیبت کا غم جاتا رہتا ہے ‘ اسی مسلمان مال غنیمت سے محرومی اور شکست پر غم زدہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے غم میں مبتلا کیا تاکہ اس بڑے غم کے مقابلہ میں یہ چھوٹا غم جاتا رہے اس بڑے غم کی کئی تفسیرین کی گئی ہیں ‘ امام ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن سب سے بڑا غم یہ تھا کہ یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیئے گئے اور دوسرا غم یہ تھا کہ ستر صحابہ شہید ہوگئے تھے۔ ٦٦ انصار اور ٤ مہاجرین اور بہت سارے صحابہ زخمی ہوگئے تھے۔ 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ایک غم یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر پھیل گئی تھی اور دوسرا غم یہ تھا کہ کافروں نے پلٹ کر حملہ کیا اور مسلمان اس اچانک یلغار سے گھبرا کر بھاگ پڑے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ٨٩۔ ٨٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکم عدولی کر کے جو آپ کو غم پہنچایا تھا اس کی سزا میں انہیں جنگ احد میں شکست اور اپنے احباب کے قتل اور ان کے زخمی ہونے کا غم اٹھانا پڑا ‘ تاکہ مسلمان غم اٹھانے اور مصیبت برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں اور مستقبل میں پھر کبھی کسی مصیبت اور محرومی سے غم زدہ نہ ہوں۔ 

دوسری تفسیر یہ ہے کہ جنگ بدر میں جو مشرکین کو غم اٹھانا پڑا تھا اس کے مقابلہ میں جنگ احد میں مسلمانوں کو غم اٹھانا پڑا تاکہ مسلمانوں کی توجہ دنیا سے منقطع ہوجائے ‘ وہ دنیا کے ملنے سے خوش ہوں ‘ نہ دنیا کے جاتے رہنے سے مغموم ہوں ‘ یعنی نہ بدر کی کامیابی پر اترائیں نہ احد کی ناکامی پر حوصلہ ہار بیٹھیں۔ 

تیسری تفسیر یہ ہے کہ جنگ احد میں ان کو بہت سے غموں سے سابقہ پڑا تھا ‘ جانی اور مالی نقصان کا غم تھا ‘ تمام مسلمانوں کو جو ہزیمت اٹھانی پڑنی اس کا غم تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو چہرہ زخمی ہوا اور آپ کا دانت شہید ہوا اس کا غم تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر پھیل گئی اس کا غم تھا ‘ مسلمانوں سے جو حکم عدولی سرزد ہوگئی اس کی پشیمانی تھی اور اس پر مواخذہ کا غم تھا ‘ مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے حالانکہ آپ انہیں آوازیں دے رہے تھے۔ اس بزدلی دکھانے کا غم تھا ‘ آپ کے حکم ماننے میں جو اختلاف اور تنازع کیا اس کا غم تھا مال غنیمت ہاتھ سے نکل جانے کا غم تھا ‘ ابوسفیان نے جو پلٹ کر حملہ کیا اور بھگدڑ میں مسلمان مارے گئے اس کا غم تھا۔ مسلمانوں کے احباب اور رشتہ دار مارے گئے انکا مثلہ کیا گیا اس کا غم تھا ‘ غرض بہت سارے غموم تھے ان پر یہ غم اس لیے مسلط کیے گئے کہ وہ غم جھیلنے اور مصائب برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں تاکہ پھر کبھی اگر کوئی نعمت جاتی رہے یا کوئی مصیبت آپڑے تو گھبرانہ جائیں اور ثابت قدمی اور اطمینان سے مردانہ وار مصائب کا مقابلہ کریں۔ 

رنج کا خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج 

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں۔

شروع میں مسلمان بھاگے جا رہے تھے لیکن بعد میں حضرت کعب بن مالک (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچان لیا اور انہوں نے بلند آواز سے ندا کی اے مسلمانو ! مبارک ہو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا پھر سب مسلمان آپ کے پاس جمع ہوگئے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 149