أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآٮِٕفَةً مِّنۡكُمۡ‌ۙ وَطَآٮِٕفَةٌ قَدۡ اَهَمَّتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ يَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ ظَنَّ الۡجَـاهِلِيَّةِ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ‌ؕ يُخۡفُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا ‌ؕ قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ‌ۚ وَلِيَبۡتَلِىَ اللّٰهُ مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

ترجمہ:

پھر (اللہ نے) پریشانی کے بعد تم پر سکون نازل کیا (جس کے نتیجہ میں) تمہاری ایک جماعت پر اونگھ طاری ہوگئی اور دوسری جماعت (منافقوں کی) اپنی جانوں کے متعلق پریشانیوں میں مبتلا تھی وہ اللہ کے متعلق زمانہ جاہلیت کی طرح ناحق بدگمانی کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کیا اس معاملہ میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ آپ کہیے بیشک تمام معاملات میں اللہ ہی کا اختیار ہے وہ اپنے دلوں میں ان چیزوں کو چھپاتے تھے جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے کاش ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے آپ کہیے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کا قتل کیا جانا مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے، اور (یہ اس لیے ہوا) کہ اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو آزمائے (ظاہر کرے) اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اور اللہ دلوں کی باتوں کو آزمائے (ظاہر کرے) اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اور اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرکے مسلمانوں کا سو جانا اور منافقوں کا پریشانی سے جاگتے رہنا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سدی بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب مشرکین واپس جانے لگے تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم اگلے سال بدر میں مقابلہ کریں گے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکے پیچھے ایک شخص کو بھیجا دیکھو کہ یہ اپنے گھوڑوں پر بیٹھ گئے ہیں اور سازوسامان ایک طرف رکھ دیا ہے تو پھر مدینہ پر چڑھائی کے لیے آرہے ہیں ‘ تب تم اللہ سے ڈرو ‘ اور صبر کرو اور جنگ کی تیاری کرو ‘ جب اس قاصد نے یہ دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سازو سامان پر بیٹھ گئے ہیں تو وہ تیزی سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے انکے جانے کی خبر دی ‘ جب مسلمانوں کو اس خبر کا علم ہوا تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور وہ بےفکر ہو کر سو گئے اور منافق جاگتے رہے انہیں یہ خطرہ تھا کہ کفار پھر آکر حملہ کردیں گے ‘ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دے دی تھی کہ جب وہ اپنے سازوسامان پر سوار ہوں گے تو واپس چلے جائیں اس لیے مسلمان بےفکر ہو کر سو گئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر (اللہ نے) پریشانی کے بعد تم پر سکون نازل کیا (جس کے نتیجہ میں) تمہاری ایک جماعت پر اونگھ طاری ہوگئی۔ 

حضرت ابو طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر اونگھ طاری ہوگئی تھی میرے ہاتھ سے تلوار بار بار گر جاتی تھی۔ 

حضرت ابوطلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ہر شخص اپنی ڈھال کے نیچے نیند سے جھونٹے کھا رہا تھا نیز حضرت ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر اونگھ طاری ہو رہی تھی میرے ایک ہاتھ سے تلوار گر جاتی تو میں دوسرے ہاتھ میں اٹھا لیتا ‘ ادھر منافقین کو اپنی جانوں کا خطرہ لگا ہوا تھا وہ زمانہ جاہلیت کیطرح اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیاں کر رہے تھے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بدگمانیوں کا حال بیان فرمایا : وہ کہہ رہے تھے کہ کیا اس معاملہ میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ آپ کہئے کہ بیشک تمام معاملات میں اللہ ہی کا ختیار ہے ‘ اور وہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارا کوئی اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ قتل نہ کیے جاتے ‘ وہ زمانہ جاہلیت کی طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانیاں کر رہے تھے۔ یعنی وہ تقدیر انکار کر رہے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہئے کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں ‘ یعنی اچھی اور بری ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے وابستہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے آزمانے کا معنی : 

وہ اپنے دلوں میں ان چیزوں کو چھپاتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے یعنی وہ شرک ‘ کفر اور تکذیب کو چھپاتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے ‘ وہ کہتے تھے کاش ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاںٗ قتل نہ کیے جاتے ‘ یعنی وہ کہتے تھے کہ اگر ہماری عقل حاضر ہوتی تو ہم اہل مکہ سے قتال کے لیے نہ نکلتے اور ہمارے بڑے بڑے سردار قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہئے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کا قتل کیا جانا مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ 

اور یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو آزمائے ‘ یعنی اللہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو آزمانے والا کرتا ہے ‘ تاکہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ بطور غیب جانتا تھا ان کا ظہور بہ طور مشاہدہ ہوجائے یا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو مشاہد کرائے ‘ کیونکہ حقیقۃ آزمانا اللہ تعالیٰ کے حق میں محال ہے کیونکہ آزماتا وہ شخص ہے جو نتیجہ اور انجام سے بیخبر ہو اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اللہ تعالیٰ نے تم پر جنگ اور قتال کو فرض کیا اور جنگ احد میں تمہاری مدد نہیں کی ‘ تاکہ تمہارے صبر کو آزمائے اور جب تم اخلاص سے توبہ کرو تو تمہارے گناہوں کو مٹا دے۔ اس آیت میں بھی آزمانے یہی معنی ہے کہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو آزمانے والا کرتا ہے اور اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ یعنی وہ جانتا ہے کہ کسی دل میں کیا خیر ہے اور کیا شر ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 154