حفاظت حدیث

گذشتہ اوراق میں آپ ملاحظہ فرماچکے کہ علم حدیث کو حجت شرعی ہونے کی سند قرآن کریم سے ملی ہے ۔ خدا وند قدوس نے اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے آخری رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت کاحکم دیا اور ہر مسلمان کو اس پر عمل پیرا ہو نے کی بدولت سعادت دارین اورفلاح ونجات اخروی کا مژدہ سنایا ۔

اہل اسلام کی اولین جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے یہ فرمان واجب الاذعان براہ راست حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا تھا ، لہذا شب وروز اپنے محسن اعظم اور ہادی برحق کے اشاروں کے منتظر رہتے ،اقوال وافعال میں اپنے لئے نمونہ عمل تلاش کرتے ،زیادہ وقت درباررسول کی حاضری میں گذراتے اور آپکی سیرت وکردار کو اپنا نا ہرفرض سے اہم فرض سمجھتے تھے ۔ انکی نشست وبرخاست ،خلوت وجلوت ،سفروحضر ،عبادات ومعاملات اورموت وحیات کے مراحل سب سنت رسول کی روشنی ہی میں گذرتے اور انجام پاتے۔ احادیث کی حفاظت کا انتظام اس طرح انہوں نے روزاول ہی سے شروع کردیا تھا ۔

صحابہ کرام نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ تعلیم بھی پائی تھی کہ اسلام میں رہبانیت نہیں، لہذامیری سنت اور اسوئہ حسنہ میں اپنے لئے نمونہ ٔعمل تلاش کرو ،(ترک دنیا کرکے بیوی بچوں اوروالدین کو بے سہارا چھوڑ دینا اوردیگر اعزہ واقرباء سے کنارہ کشی اختیار کرلینا مستحسن نہیں ) اس چیز پر حضور اکرم نے صحابہ کرام کو ایک موقع پر نہایت تاکیدی انداز سے متنبہ بھی کیا تھا ،کہ تم پر تمہارابھی حق ہے اورتمہارے والدین اوربیوی بچوں کا بھی ۔ لہذاروزہ رکھو توافطار بھی کرو، عبادت کرو تو آرام بھی کرو الخ کہ یہ سب میری سنت ہیں ۔گویا حضور نے اپنی امت کیلئے عمومی قانون یہ ہی بنایا کہ دنیا نہ چھوڑیں بلکہ دنیاکو اس انداز سے اختیار کریں کہ وہ دین بن جائے اوریہ اسی وقت متصو رہے جب حضور کے اسوئہ حسنہ پر عمل ہو ۔البتہ بعضلوگوں کیلئے معاملہ برعکس تھا جس پر حضور نے کبھی انکار نہ فرمایا ۔

صحابہ کرام نے شب و روزدر رسول پر حاضر رہ کر حدیث و سنت کو محفوظ کیا

صحابہ کرام بسااوقات دن میں تجارت اورکھیتی باڑی میں مشغول رہتے تھے ، لہذا جنکو روزانہ حاضری کا موقع نصیب نہ ہو تا تو وہ اس دن حاضر رہنے والے حضرات سے کسی جدید طرز عمل اوراس دن کی مکمل کارکرگی سے واقف ہونے کیلئے بے چین رہتے ۔بعض دیوانۂ عشق ومحبت وہ بھی تھے جنہوں نے خانگی الجھنوں سے سبکدوشی بلکہ کنارہ کشی اختیار کرکے آخر وقت تک کیلئے یہ عہد وپیمان کرلیا تھا کہ اب اس درکو چھوڑ کر نہ جائینگے ،اصحاب صفہ کی جماعت اس پر پوری طرح کاربند رہتی اورشبانہ روز ان کا مشغلہ یہ ہی رہ گیا تھا کہ جو کچھ محبوب کردگار سے سنیں یاد رکھیں اور اسکو اپنی زندگی میں جذب کرلیں ۔

اس جماعت کے سرگروہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو ذخیرئہ حدیث کےسب سے بڑے راوی شمار ہوتے ہیں ،لوگوں کو انکی کثرت روایت پر کبھی تعجب ہوتا توفرماتے ۔

انکم تقولون ان اباہریرۃ یکثر الحدیث عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وتقولون مابال المہاجرین والانصار لایحدثون عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بمثل ابی ہریرۃ ؟ وان اخوتی من المہاجرین کان یشغلہم الصفق بالاسواق ،وکنت الزم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علی ملٔ بطنی ،فاشہد اذاغابوا ،واحفظ اذانسوا،وکان یشغل اخوتی من الانصار عمل اموالہم ،وکنت امرأمسکینا من مساکیین الصفۃ اعی حین ینسون ۔( الجا مع الصحیح للبخاری کتاب البیوع ۱/۲۷۴ ٭ فوا تح الرحموت مبحث التعارض، ۲)

تم لوگ کہتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتا ہے ، اور یہ بھی کہتے ہو کہ مہاجرین وانصار اتنی حدیثیں کیوں نہیں بیان کرتے ، توسنو ،مہاجرین تو اپنی تجارت میں مصروف رہتے ،اور انصار کا مشغلہ کھیتی باڑی تھا ،اور میراحال یہ تھا کہ میں صرف پیٹ پر حضور کی خدمت میں حاضر رہتا ، جب انصارو مہاجرین غائب رہتے میں اس وقت بھی موجود ہوتا ،اصحاب صفہ میں ایک مسکین میں بھی تھا ،جب لوگ بھولتے تو میں احادیث یادرکھتا تھا ۔

اسکی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ حضور نے آپکی یادداشت کیلئے دعاکی تھی جس کا اثر یہ ہوا کہفرماتے ہیں ۔

فمانسیت من مقالۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تلک من شیٔ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب البیوع ۱ /۲۷۴)

میں پھر کبھی حضور کی حدیث پاک نہیں بھولا ۔

آپ سب سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں غزوئہ خیبر کے موقع پر حاضر ہوئے اور پھر آخر حیات مقدسہ تک حاضر بارگاہ رہے ،آپ نے اس زمانہ میں کس طرحزندگی کے ایام گذارے ،فرماتے ہیں ۔

خداوند قدوس کی قسم ! میں بھوک سے جگرتھام کر زمین پر بیٹھ جاتا اور پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا ،منبررسول اور حجرئہ مقدسہ کے درمیان کبھی چکراکر گرپڑتا ،لوگ سمجھتے میں پاگل ہوں حالانکہ یہ صرف بھوک کا اثر تھا ،ان جانفشانیوں کے عالم میں بھی آپ نے حضور کے شب وروزکو اپنے قلب وذھن میں محفوظ کرلینے کا مشن جاری رکھا ۔

اصحاب صفہ میں حضرت ابوہریرہ ہی تنہانہ تھے بلکہ یہ تعداد مختلف رہتی اورکبھی کبھی ستر تک جاپہونچتی تھی ۔ان حضرات کا مشغلہ ہی یہ تھا کہ احادیث سنیں اور یاد کریں ، سیرت وکردارملاحظہ کریں اوراس کو اپنے لئے نمونہ عمل بنالیں اوردوسروں کو اسکی تبلیغ کریں ۔

انکے علاوہ ہردن آنے جانے والے صحابہ کرام کی تعداد کوکون شمار کرسکتا ہے ، گروپیش پروانوں کا ہجوم رہتا اورماہ رسالت اپنی ضیاء پاشیوں سے سب کو مجلی ومصفی فرماتا ۔ بعض حضرات روزانہ حاضری دینا لازم جانتے تھے اور بعض نے ایک دن بیچ حاضری کا التزام کرلیا تھا ،لیکن انہوں نے ہردن کی مجلس سے استفادہ کا طریقہ یوں اپنایا تھا کہ دواسلامی بھائی آپس میں معاہدہ کرتے کہ آج آپ بارگاہ رسالت میں حاضر رہنا اور میں معاش کی تلاش میں رہونگا پھر کل میری باری ہوگی ۔ شب میں ایک دوسرے کو اپنے مشاہدات سے باخبر کرتا اس طرح دن بھرکیمعلومات میں ایک دوسرے کو اپناشریک بنالیتا تھا ۔

فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انہی حضرات میں سے ایک ہیں فرماتے ہیں ۔

کنت انا وجارلی من الانصار فی بنی امیۃ بن زید وھی من عوالی المدینۃ، وکنا نتناوب النزول علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ینزل یوما وانزل

یوما،فاذا نزلت جئتہ بخیر ذلک الیوم من الوحی وغیرہ ،واذانزل فعل مثل ذلک۔ (الجامع الصحیح للبخاری، باب التناؤب فی العلم، ۱/۱۹)

میں اور میراایک انصاری پڑوسی عوالی مدینہ میں بنوامیہ بن زید کی بستی میں رہتے تھے، ہم دونوں حضور کی خدمت میں بار ی باری حاضر ہوتے ،جس دن میں حاضری دیتا توانکو وحیوغیرہ کے حالات سے باخبر کرتا اوردوسرے دن وہ آتے تو مجھ سے حالات بیان کردیتے ۔

عام حالات میں بھی صحابہ کرام کا یہ معمول تھا کہ جو کچھ وہ سنتے یادیکھتے اسکو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ کسی دوسرے کو ضرور سنادیتے تھے تاکہ کتمان علم نہ ہو جسکو وہ گناہ تصور کرتےتھے ۔

حد تو یہ ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن خلوت کی باتیں بھی صحابہ کو بتادیتی تھیں ، کیونکہ ان سب کا یہ ہی اعتقاد تھا کہ یہ سب کچھ بھی بلاشبہ شریعت ہیں ۔اگر ان کو چھپایاگیا تو پھر امت مسلمہ اپنے خانگی حالات اور خصوصی معاملات میں معلومات کیسے حاصل کرسکے گی ۔ اسلام ایک مکمل دستور حیات بنکر آیاہے جوزندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے ، مہد سے لیکر لحد تک کے جملہ احکام قدم قدم پر رہنمائی کیلئے موجود ہونا ضروری تھے ،لہذا ان حضرات نے اسی نقطۂ نگاہ سے زندگی کے کسی گوشہ کو تشنہ نہیں رہنے دیا۔

اس اجمالی تمہید کے بعد قارئین اسکی تفصیل میں جاکر ان تمام امورکا مشاہدہ اس دور کی مستند تاریخ وواقعات سے خود بھی کرسکتے ہیں ۔ جیساکہ عرض کیاجاچکا ہے کہ حفاظت حدیث کا فریضہ صحابہ کرام نے قول وعمل سے بھی انجام دیا اور لوح وقلم کے انمٹ نقوش کے ذریعہ بھی ۔ یہاں قدرے تفصیل سے میں قارئین کے سامنے دونوں پہلو رکھنا چاہتاہوں تاکہ ہمارے دعویپر مضبوط اور مستحکم دلائل سے روشنی پڑسکے ۔

بارگاہ رسالت ست بلاواسطہ اکتساب فیض کرنے والے صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھسے متجاوز بتائی جاتی ہے ۔(۳۹۔ الاصاب لا بن حجر، ۱/۳)

انکے صدق مقال اور حسن کردار میں کسی کوکیا شبہ ہوسکتا ہے ۔علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں ۔

قال ابن الصلاح : ثم ان الامۃ مجتمعۃ علی تعدیل جمیع الصحابۃ ومن لابس الفتن ۔(الاصابہ لا بن حجر، ۱/۲۳)

امام ابن صلاح شہرزوری کہتے ہیں :۔

اس بات پر اجماع ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین عادل وثقہ ہیں

خواہ وہ باہم مشاجرات میں شریک رہے ہوں ۔

مزید لکھتے ہیں :۔

ماجاء فی تعدیل اللہ ورسولہ للصحابۃ ،وانہ لایحتاج الی سؤال عنہم، وانما یجب فیمن دونہم ،کل حدیث اتصل اسنادہ بین من رواہ وبین النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لم یلزم العمل بہ الابعد ثبوت عدالۃ رجالہ ،ویجب النظر فی احوالہم سوی الصحابی الذی رفعہ الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،لان عدالۃ الصحابۃ ثابتۃ معلومۃ بتعدیل اللہ لہم، واخبارہ عن طہارتہم واختیارہ لہم فی نص القرآن ۔(الاصابہ لا بن حجر، ۱/۲۲)

اللہ ورسول نے صحابہ کو یہ مقام ومنصب عطافرمایا اسی لئے سند حدیث میں انکے بارے میں کچھ تحقیق وتلاش کی ضرورت نہیں ،ہاں انکے علاوہ راویان حدیث کے سلسلہ میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہیں ،لہذا سلسلہ سند میں سب کی چھان بین کی جائیگی اور عمل کرنا لازم اسی وقت ہوگا جب رواۃ کی عدالت ثابت ہوجائے ،صحابہ کرام کے علاوہ سب کے حالات کا علم ہو نا ضروری ہے، ہاں صحابہ اس سے مستثنی ہیں کہ انکی عدالت وطہارت خود اللہ رب العزت نے بیان فرمائی ہے توانکے حالات سے بحث کی ضرورت ہی نہ رہی۔

جب انکی عدالت ونزاہت اجماعی طور پر مسلم تو انہوں نے جو کچھ رسول کی طرف منسوب کرکے فرمایا وہ بلاشبہ حق وصحیح ہے ۔ اسی لئے توکہا جاتا ہے کہ مرسل صحابی سب کے نزدیک حجت ہے کہ اگر صحابی صغیر بامؤخر الاسلام جوکچھ بیان کرتاہے وہ کسی صحابی سے سنکر ہی بیان کرتاہے اوراس امر میں سب برابر کہ حضور کی جانب غلط بات منسوب کرنا ان حضرات قدسی صفات سے متصور ہی نہیں ۔

انکے اقوال وافعال کلی طور پر سنت رسول کا آئینہ تھے ،لہذا جوکچھ انہوں کہایاکیا ان کے پاس ان تمام چیزوں کی سند قرآن وسنت ہی تھے ،انکے اقوال غیر اجتہادی کے بارے میں توفیصلہ ہوچکا کہ وہ حکما حدیث مرفوع ہیں ۔رہے اجتہادی مسائل توانکی بابت بھی یہ ہی کہاجاتاہے کہ وہ بھی سر چشمۂ رشدوہدایت ہیں ۔خود اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے

فرمایا :۔

اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم ۔

میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں ، ان میں سے جسکی اقتداء کروگے ہدایت پائوگے،