زنا حرامزادے اور مسیحی قوم۔

مندرجہ ذیل تحریر ایسے حقائق ہیں کہ جن کو تحریر کرنا اور پڑھنا بہت آسان نہیں ہے لیکن یہ بالکل واضح حقائق ہیں ۔

مغربی ممالک جہاں مسیحی اکثریت میں ہیں اور دیسی مسیحی خود کو یورپی سمجھتے بھی ہیں اور ہمیں بار بار باور بھی کرواتے ہیں۔

مسیحی حضرات خود کو مادر پدر آزاد سمجھتے ہیں اور شریعت کو نجات دہندہ کی بجائے لعنت سمجھتے ہیں ۔

لہذا بائبل مقدس کے مطابق گناہ کو گناہ نہیں سمجھا جاتا لہذا مسیحی اکثریتی ممالک میں جہاں زنا عام ہے وہیں شادی اور باپ کا تصور بھی ختم ہوتا جا رہا ہے ۔

یورپی ویب سائٹ statista کے مطابق 2009 تا 2012 تک یورپی یونین میں تقریبا 50 فیصد بچے ولد حرام تھے اور اکثریت ان کی ہے جن کے والد کا علم نہیں ۔

جنوبی افریقہ میں وزارت داخلہ کی رجسٹریشن کے مطابق 61.7% بچے کے برتھ سرٹیفیکیٹ پر والد کا نام نہیں یعنی نامعلوم ہے۔

امریکہ میں تھوڑا سا زیادہ تقریبا 62 فیصد بچوں کے والد کا علم نہیں۔

انکے اپنے مسحی عالمی شہرت یافتہ سکالر جیمی سواگت جو کے اپنے دور کے دنیا کے سب سے بڑے ٹیلی اونجلسٹ ہے ان کے بقول کچھ حقائق ہیں جو انہوں نے اپنی کتب میں لکھے…

جس کے مطابق امریکہ 1984 کے عدادوشمار کے مطابق صرف امریکہ 5.5. کڑوڑ شرابی ہیں (یاد رہے 1984 میں امریکہ کی آبادی 20 کڑوڑ بھی نا تھی).

امریکہ میں 2.5 کڑوڑ ہم جنس پرست ہیں یعنی Gay….

اوریج کے مطابق ہر آدمی 8 گرل فرینڈز سے جنسی تعلق کرچکا ہوتا ہے… اور ہر آٹھ میں. ایک بندہ اپنے ہی محرم رشتوں سے یعنی ماں. بیٹی اور بہن وغیرہ سے جسمانی تعلق رکھ چکا ہوتا ہے…..

آئس لینڈ کو تو باقاعدہ bastard state کہا جاتا ہے

غضب تو یہ ہے کہ چرچ کے تحت ہونے والے مذہبی پروگراموں میں بھی شراب اور شباب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں اور لوگ انجوائے کرتے ہیں ۔

حرامی لوگوں کی بات آئے تو چرچ آف کینٹربری کے سربراہ جسٹن ویلبائے کو بھلایا نہیں جا سکتا وہ ایک ثابت شدہ حرامی ہیں ان کا اصل باپ چرچل کا پرائیوٹ سیکریٹری ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بائبل مقدس دسویں پشت تک حرامزادے کو خداوند کی جماعت سے داخل ہونے سے روک دیتی ہے لیکن یہ تو دیسی مسیحیوں کی چرچ کا سربراہ بنا ہوا ہے ۔

جنوبی افریقہ میں مقیم مکس ریس کمیونٹی جو کہ تقریبا 20 فیصد ہے وہ تمام ہی گورے اور کالے کے ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہے

جبکہ باسٹارڈ ایک قوم بھی ہے جو فخر کرتے ہیں وہ ولد زنا جرمن نسل سے ہیں ان کی زیادہ تعداد نیمیبیا میں پائی جاتی ہے ان کو باسٹارڈ کہیں وہ فخر محسوس کرتے ہیں سب کیتھولک چرچ اور پروٹسٹنٹ سے تعلق رکھتے ہیں یعنی ایک بھی حلالی نہیں اور نہ ہی وہ پسند کرتے ہیں ۔

بیرون ممالک رہنے والے جانتے ہیں کہ مسیحی اکثریتی معاشروں میں زنا ایک نارمل چیز ہے اور گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کلچر بھی اب دم توڑ چکا ہے اور اب جہاں مرضی جتنے مرضی مرد و خواتین کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں یہ مقبول ترین عمل ہے پورے کا پورا معاشرہ سر عام ایسی کئی خباثتوں میں ملوث ہے ۔

میں نے ذاتی طور پر ایسا کوئی مسیحی نہیں دیکھا جس نے بچے شادی کے بعد پیدا کئے ہوں (جنوبی افریقہ)

مسیحی حضرات بھی قادیانیوں کی طرح پاکستان کو برا ملک سمجھتے ہیں اور چند واقعات کو بنیاد بنا کر ملک اور معاشرے کو مورد الزام ٹھہرانا فرض عین سمجھتے ہیں لیکن میں ان کو واضح کر دینا چاھتا ہوں کہ شکر کریں آپ کے برتھ سرٹیفیکیٹ پر آپ کے والد اور دادا کا نام لکھا جاتا ہے نا معلوم نہیں لکھا جاتا ۔

ورنہ کئی جون پیٹر پال آج ہمیں گالیاں دے رہے ہوتے اور والد سے ناواقف ہوتے ۔

کئی چرچوں نے اب ( gay marriage ) کی سروس شروع کر دی ہے اور پوادران ان سے دہ یکی وصولنے سے بھی عار نہیں سمجھتے ۔

جو مسیحیت میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے وہ مذہب نہیں بلکہ ایک عیاشی اور لاقانونیت کا گڑھ ہے دیکھتا جا شرماتا جا۔

عارف محمد۔