محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی!

محمد رئیس احمد

ولادت ونسب:

حضرت نظام الدین اولیا۷ ۲؍ صفر المظفر ۶۳۶ھ مطابق ۱۹ ؍اکتوبر ۱۲۳۸ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام محمد تھا۔ سلسلۂ نسب حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔

تعلیم وتربیت:

 مولانا علاء الدین اصولی سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے دہلی پہنچے جہاں آپ نے مولانا شمس الدین، مولانا کمال الدین اور مختلف مشاہیر علما سے مختلف علوم کی تحصیل کی۔ علمی مہارت واستعداد کی بنا پر معاصرین کے مابین ’’ نظام الدین منطقی اصولی‘‘ اور ’’نظام الدین محفل شکن‘‘ کے لقب سے معروف ہوگئے۔

خواجہ فرید الدین گنج شکر کی بارگاہ میں:

زمانۂ طلب علمی ہی میں برہان العاشقین خواجہ فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ کے روحانی فضائل وکمالات نے کشورِ دل کو فتح کرلیا تھا۔ بیس سال کی عمر میں اجودھن (پاک پٹن شریف) میں فرید وقت کی بارگاہ قدس میں حاضر ہوئے۔ اپنی اس حاضری اور ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے خود ہی فرماتے ہیں: جب میں شیخ کبیر کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھتے ہی یہ شعر پڑھا  ؎

 اے آتش فراقت دلہا کباب کرد 

سیلاب اشتیاقت جانہا خراب کرد 

تیری فرقت اور جدائی کی آگ نے کئی دلوں کو کباب کردیا اور تیرے شوق کی آگ نے کئی جانیں خراب کردیں۔ خواجہ شیخ کبیر کی حیات میں تین بار اجودھن حاضر ہوئے۔ کس حاضری میں خلافت سے مشرف ہوئے، تذکرہ نگاروں نے اس کی صراحت نہیں کی ہے، ہاں یہ صراحت ضرور ملتی ہے کہ آپ شیخ فرید کی بارگاہ سے علمی وروحانی فیضان اور خلافت سے سرفراز ہوکر دہلی لوٹے۔

خانقاہی نظام کا قیام اور صوفیانہ شان:

 دہلی کے قریب بستی غیاث پور میں نظام خانقاہی قائم کی اور مسند رشد وہدایت کو زینت بخشی۔ آپ صاحبِ کشف وکرامت تھے۔ متعدد کرامات کا آپ سے ظہور ہوا جو زبان زد عام وخاص ہے۔ غیاث پور میں قیام کے ابتدائی دور میں کافی تنگ دستی اور فاقوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دور میں سلطان وقت نے ایک گائوں کی پیش کش کی۔ آپ نے صوفیانہ شانِ استغنا کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اور میرے خدمت گاروں کو تمھارے گاؤں کی چنداں ضرورت نہیں، خداوند قدوس بڑا کارساز ہے۔ پھر غیب سے آپ کی امداد ہوئی، مقبولیت کا ستارہ چمکا، یہاں تک کہ اس عسر کے بعد یسر کا دور آگیا۔ آپ مرجع عوام وخواص، شاہ وگدا بن گئے۔ لوگوں کا آپ کی طرف رجوع اس قدر ہوا کہ سلاطینِ دہلی کی عظمتیں ماند پڑگئیں۔ اب خانقاہی نظام سے دست گیری، غریب نوازی، انسان سازی کا کارنامہ انجام دیا جانے لگا۔ روزانہ لنگر خانے سے ہزاروں لوگ شکم سیر ہونے لگے مگر آپ کا حال یہ تھا کہ مسلسل روزے رکھتے اور سحری میں خاد م کھانا پیش کرتا تو اس خیال سے نہ کھاتے کہ نہ جانے اس وقت کتنے لوگ بھوکے پیاسے سورہے ہوں گے۔ خلق کی درد مندی کی ایسی انوکھی مثال مشکل ہی سے ملتی ہے۔ یقینا یہ ایک صاحب دل اور مرد حق آگاہ ہی کی صفت ہوسکتی ہے۔

مریدین وخلفا:

 اس دور میں جو آپ نے انسان سازی کا سب سے اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ مریدین کی باطنی اصلاح فرماکر انھیں کشورِ ولایت کی حکمرانی عطا کی ۔ مریدین وخلفا کی ایک طویل فہرست ہے جو زہد وتقویٰ، علم وروحانیت اور معرفت وولایت غرض ہر اعتبار سے اپنے عہد میں یکتائے روز گار شمار کیے جاتے ہیں۔ ان حضرات نے بھی بزرگان چشت کے مشن کو آگے بڑھایا، گلشنِ اسلام کی آبیاری کی اور انسانی اقدار کے احیا کا فریضہ انجام دیا۔خاص کر خواجہ نصیرالدین محمود اودھی چراغ دہلوی ، حضرت خواجہ امیر خسرو،خواجہ برہان الدین غریب،خواجہ امیر حسن علاسجزی ، خواجہ شمس الدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی دینی وعلمی وادبی اور صوفیانہ خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

تبلیغ دین:

مسلمانوں کی اصلاح وتزکیہ کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں میں دین اسلام کا کام کیا اور اپنے مریدین کو تبلیغ اسلام کی خاطر مختلف بلاد وامصار میں بڑی تعداد میں متعین کردیا۔ اسلام کی جڑیں جس طرح دورِ نظامی میں ہند میں مضبوط ہوئیں وہ ہماری دعوتی تاریخ کا روشن حصہ ہے۔ جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے خواجہ برہان الدین غریب ہانسوی کو خلافت واجازت عطا فرمائی اور انھیں سات سو مریدوں کے ہم راہ جنوبی ہندوستان کے علاقہ دکن میں دعوت وارشاد کے لیے روانہ کیا۔ دکن میں آج جو اسلام کی فصل بہار ہے، اس میں خواجہ نظام الدین اور ان کے مریدین وخلفا کا خون جگر شامل ہے۔

شریعت کی پاس داری اور تصلب فی الدین:

بلاشبہ شریعت کے زینے کے بغیر منزلِ ولایت تک رسائی تقریبا ناممکن ہے؛ اس لیے کہ شریعت زینہ ہے اور طریقت جلوۂ بالائے بام ۔ دین پر استقامت سنت مصطفیٰ ﷺ پر عمل آوری کے بغیر ولایت کا خواب دیکھنا ریت کا محل بنانے کے مترادف ہے، جو خود ہدایت یافتہ نہیں وہ بھلا لوگوں کی رہ نمائی کیسے کرسکے گا؟ اسی لیے جاہل صوفی کو شیطان کا مسخرہ کہا گیا ہے۔جو خود گم راہ ہوتا ہے وہ دوسروں کو بھی گم راہ کرتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنے کردار وعمل کو شریعت اسلامی کے سانچے میں ڈھالا جائے تاکہ آگے رسائی ممکن ہوسکے۔ اس ضمن میں جب ہم خواجہ نظام الدین اولیا کی کتابِ حیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہر ہر ورق سے اطاعت وشرعی پاس داری کے ساتھ تصلب فی الدین کے ناقابل فراموش واقعات اور نصیحت آمیز ارشادات ملتے ہیں۔ جو سالکین کے لیے بہترین زادِ راہ ہیں۔ بادشاہوں کی بارگاہوں سے پرہیز، خلوت وگوشہ نشینی کے باوجود خلق خدا کی امداد ودست گیری، حاجت روائی، ذہنی وفکری رہنمائی، تربیت روحانی، انسانی اقدار واوصاف کی تعمیر وتصحیح، آسودگی وتنگ دستی ہر دو حالت میں شکر خداوندی محبوبِ الٰہی کے نمایاں اوصاف رہے ہیں۔

حضرت محبوب الٰہی بھی ان بندگانِ خاص میں سےتھے جنھیں نماز سے بے پناہ محبت اور رغبت تھی۔ شریعت کی پاس داری کا خیال اس قدر رہتا کہ جب لوگ ملاقات کے لیے آتے اور مہینہ رمضان کا ہوتا تو ان سےصدقۂ فطر اور نماز تراویح کے اہتمام کے بارے میں ضرور پوچھتے، نمازوں کی پابندی اور احکام شرع پر عمل آوری کی تلقین کرتے۔ آپ کی مجالس ذکر اور ملفوظات کے مجموعوں میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔

 آپ کے معمولات میں نماز اوّابین، ایام بیض کے روزے، نماز چاشت، صلاۃ السعادت (چار رکعت)، تلاوت قرآن خاص طور سے تھے۔ پوری زندگی شریعت پر تصلب کی برکت سے آخری وقت بھی نماز کی پابندی کا ثمرہ ملا۔ ہوا یوں کہ وصال شریف سے چالیس روز پیشتر استغراق کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ جب آپ نے کھانا ترک کردیا اور سکر (جو اہل اللہ کا وصف ہے) کا عالم پیدا ہوتا تو اس میں نماز کی پابندی فرماتےرہے۔ لوگوں سے پوچھتے کہ کیا میں نے نماز ادا کرلی ہے؟ جواب ملتا، جی! آپ ادا کرچکے ہیں۔ ارشاد فرماتے: میں دوبارہ پڑھتا ہوں۔ غرض آخری ایام میں ہر نماز تکرار سے پڑھا کرتے تھے۔

حضرت محبوبِ الٰہی کی کتابِ حیات بڑی انوکھی ہے، ہر موافق ومخالف کے لیے درسِ عبرت ہے اور دعوتِ عمل بھی۔