صبح سویرے مختلف ائمہ مساجد کی قرات سننا ، مصر کےفرماں رَوا ابن طولون کی عادت میں شامل تھا ۔

ایک دن ( قراَت سن کر گھر لوٹے تو ) اپنے مصاحب سے کہنے لگے:

یہ دینار لے جاؤ اور فلاں مسجد کے امام صاحب کو دے آؤ!

مصاحب کہتاہے: میں دینار لے کر امام صاحب کےہاں پہنچا ، تو ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا ۔

امام صاحب میرے ساتھ گُھل مِل گئےاوراپنے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے :

” میری بیوی کے ہاں ولادت ہونے والی ہے ، لیکن میرے پاس اتنی رقم بھی نہیں کہ اُس کے لیے ضروری سامان لاسکوں ، اسی پریشانی میں آج نماز پڑھاتے وقت بھی کئی غلطیاں ہوگئیں ۔ “

مصاحب کہتاہے میں نے آکر ابن طولون کو ساری بات بتائی

، تو کہنے لگے:

امام صاحب نے سچ کہا ؛ میں آج ان کی قرات سننے کے لیے ٹھہرا تو وہ بہت غلطیاں کررہے تھے ، میں نے سمجھ لیا ان کا دل کسی اور طرف مشغول ہے ۔( اسی لیے انھیں رقم بھجوائی )

( انظر: الاذکیا لابن جوزی ، الباب الحادی عشر فی سیاق المنقول من ذلک عن السلاطین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ص 57 ، ط دارالفکر بیروت ، س 1425 ھ )

اللہ پاک ہماری مساجد انتظامیہ کو بھی ابن طولون جیسی فہم و فراست عطافرمائے ۔

امام صاحبان کے بھول جانے پر ، چڑھائی کرنے کے بجائےبھولنے کی وجہ تلاش کیا کریں ، ہوسکتا ہے وہ بھی مصری امام کی طرح کسی پریشانی میں مبتلا ہوں!

میرے مسلمان بھائیو! جس طرح دینِ اسلام میں مسجد کا مقام بہت بلند ہے ، اسی طرح امام مسجد کی بھی بڑی شان ہے ۔

اگر غور کیا جائے تو امام ہی وہ ہستی ہے جس کے طفیل اللہ تعالی مقتدیوں کو ایک نماز کے بدلے کئی کئی نمازوں کا ثواب عطافرماتاہے ۔

اس لیے ہم سب پرفرض ہے کہ اپنے امام مسجد کی دنیوی ضرورتوں کا ہرطرح سے خیال رکھاکریں ، تاکہ وہ فارغُ البال ہوکر ہمیں دین سکھائیں ۔

لقمان شاہد

22/4/1440 ھ