*درس 006: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَلَمْ يَذْكُرْ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ حَدَّ الْوَجْهِ، وَذَكَرَ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ الْأُصُولِ أَنَّهُ مِنْ قِصَاصِ الشَّعْرِ إلَى أَسْفَلِ الذَّقَنِ، وَإِلَى شَحْمَتَيْ الْأُذُنَيْنِ

ظاہر الروایۃ میں چہرہ کی تعریف مذکور نہیں ہے، بلکہ غیر ظاہر الروایۃ میں چہرہ کی تعریف مذکورہ ہے اور وہ یہ کہ سر کے بال کی جڑ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک۔

الْوَجْه اسْمٌ لِمَا يُوَاجِهُ الْإِنْسَانَ، أَوْ مَا يُوَاجَهُ إلَيْهِ فِي الْعَادَةِ، وَالْمُوَاجَهَةُ تَقَعُ بِهَذَا الْمَحْدُودِ

اور چہرہ اس جہت کا نام ہے جو انسان کے روبرو ہوتا ہے، یا انسان عادۃً (ملاقات کے وقت) اسی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور یہ روبرو ہونا چہرہ کی مذکورہ حدود کی طرف ہی ہوتا ہے۔

فَوَجَبَ غَسْلُهُ قَبْلَ نَبَاتِ الشَّعْرِ، فَإِذَا نَبَتَ الشَّعْرُ يَسْقُطُ غَسْلُ مَا تَحْتَهُ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ.

لہذا مذکورہ حدود کا دھونا ضروری ہے داڑھی کے بال نکلنے سے پہلے، اور اگر داڑھی کے بال نکل آئے تو اسکے نیچے کی جِلد کا دھونا اکثر علماء کے نزدیک ضروری نہیں ہے۔

(وَلَنَا) أَنَّ الْوَاجِبَ غَسْلُ الْوَجْهِ، وَلَمَّا نَبَتَ الشَّعْرُ خَرَجَ مَا تَحْتَهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ وَجْهًا، لِأَنَّهُ لَا يُوَاجَهُ إلَيْهِ، فَلَا يَجِبُ غُسْلُهُ

(دیگر فقہاء کے دلائل کے بعد) ہماری دلیل یہ ہے کہ وَجْهٌ (چہرہ) کا دھونا ضروری ہے، اور جب بال نکل آئے تو اسکے نیچے کی جِلد وَجْهٌ کی تعریف سے نکل گئی، اسلئے کہ وہ اب روبرو نہیں ہے تو اس جِلد کا دھونا بھی ضروری نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

یہ تو ثابت ہوگیا کہ ایک بار چہرہ دھونا فرض ہے اور ایک ہی بار کیوں فرض ہے۔

اب علامہ کاسانی چہرہ کی تعریف اور حدود بیان کررہے ہیں، کیونکہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے، اپنے چہروں کو دھولو۔

اگر آپ چہرہ کی تعریف و حدود سمجھ جائیں گے تو بہارِ شریعت میں موجود متعلقہ مسائل کی بنیادی وجہ بھی سمجھ لیں گے۔

(ہم ظاہر الروایۃ پر گفتگو نہیں کررہے کیونکہ اسکا تعلق صرف مفتیان کرام سے ہوتا ہے)

چہرہ کو عربی میں وَجْهٌ کہتے ہیں، اور وَجْهٌ کی تعریف آپ جان چکے ہیں کہ جس طرف انسان عموما رخ کرکے گفتگو کرتاہے، اسے روبرو ہونا بھی کہتے ہیں۔

آپ کو معلوم ہے کہ جب ہم سرکارِ عالی وقار ﷺ کے روضہ اطہر پر حاضر ہوتے ہیں تو آپ کی جالیوں کے روبرو کھڑے ہوتے ہیں، آپ کی جالیوں کو *مواجه شريف* بھی اسی معنی کا لحاظ رکھتے ہوئے کہا جاتا ہے۔

پریکٹیلی سمجھنا چاہیں تو آئینہ کے سامنےنارمل کھڑے ہوجائیں، جب آپ اپنے چہرے پر نظر ڈالیں گے تو سر کے بال اگنے سے لیکر ٹھوڑی کے نیچے تک کا خفیف حصہ اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک کا حصہ ہمارے سامنے واضح ظاہر رہتا ہے، یہ چہرہ ہے اور اس کا دھونا فرض ہے۔

عورت میں مذکورہ حدود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی لیکن مرد کے داڑھی کے بال آجاتے ہیں۔۔

مگر ہم چہرہ کی تعریف جان لینے کے بعد داڑھی کے مسائل بھی حل کرلیتے ہیں۔

گھنی داڑھی نے جِلد کو چھپا دیا تو جِلد کا دھونا ضروری نہیں ہے کیونکہ وہ روبرو نہیں ہے اور داڑھی گھنی نہ ہو، جِلد بھی نظر آرہی ہو تو وہ روبرو ہے اور اس جلد کا دھونا بھی ضروری ہے۔

ذرا بہارِ شریعت کے مسائل ملاحظہ کریں۔۔ امید ہےاب آپ ان مسائل کی بنیاد سے واقف ہوگئے ہوں گے۔

۱۔ جس کے سر کے اگلے حصہ کے بال گرگئے یا جَمے نہیں اس پر وہیں تک مونھ دھونا فرض ہے جہاں تک عادۃً بال ہوتے ہیں۔

۲۔ مونچھوں یا بھووں یا بچی (ہونٹ کے نیچے) کے بال گھنے ہوں کہ کھال باِلکل نہ دکھائی دے تو جِلد کا دھونا فرض نہیں بالوں کا دھونا فرض ہے اور اگر ان جگہوں کے بال گھنے نہ ہوں تو جِلد کا دھونا بھی فرض ہے۔

۳۔ لَبوں کا وہ حصہ جو عادۃً لب بند کرنے کے بعد ظاہر رہتا ہے، اس کا دھونا فرض ہے تو اگر کوئی خوب زور سے لب بند کرلے کہ ا س میں کاکچھ حصہ چُھپ گیا کہ اس پر پانی نہ پہنچا، نہ کُلّی کی کہ دُھل جاتا تو وُضو نہ ہوا ،ہاں وہ حصہ جو عادۃً مونھ بند کرنے میں ظاہر نہیں ہوتا اس کا دھونا فرض نہیں۔

٤۔ پَلک کا ہر بال پُورا دھونا فرض ہے اگر اس میں کیچڑ وغیرہ کوئی سَخْت چیز جم گئی ہو تو چُھڑا نا فرض ہے۔

اگلی پوسٹ میں داڑھی کے لٹکتے بال اور آنکھوں کے ڈھیلے دھونے کا حکم بیان ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*