صحابہ کرام نے حصول حدیث کے لئے مصائب برداشت کئے

اس معیار پر جب انکی زندگیاں دیکھی جاتی ہیں تو ہرمسلمان بیساختہ یہ کہنے پر مجبور نظرآتاہے کہ انکی تبلیغ وہدایت محض اللہ ورسول کی رضا کیلئے تھی اپنے نفس کو دخل دینے کے وہ ہرگزروادار نہ تھے، سنت رسول کی اشاعت اوراسکی تعلیم وتعلم میں انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ،کسی کو حکم رسول سنانے میں نہ انہیں کوئی خوف محسوس ہوتا اور نہ کسی سے حدیث رسول سیکھنے میں کوئی عار محسوس ہوتی تھی ،انکے یہاں شرافت نسبی اور رفعت علمی بھی اس چیز سے مانع نہیں تھی ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما خاندان رسول کے ایک اہم فرد تھے ، کاشانۂ نبوت میں انکی حقیقی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا رہتی تھیں ۔وہاں شب وروز گذارنے کا بھی موقع ملتا تھا ،انہوں نے کیا کچھ حضور سے نہیں سیکھا ہوگا ۔ حضور نے انکے لئے تفقہ فی الدین کی دعا بھی کی تھی ،لیکن ان تمام چیزوں پر تکیہ کرکے انہوں نے حضورکے وصال اقدس کے بعد اپنے آپ کو معطل نہٰیں سمجھ لیا تھا ،خود فرماتے ہیں ۔

میں نے ایک انصاری صحابی سے کہا : ہم حضورکی صحبت سے تو اب محروم ہوگئے ہیں لیکن اکا بر صحابہ موجود ہیں چلو ان سے ہی حضور کی احادیث سنیں اور اکتساب علم کریں ،وہ بولے ،

یاابن عباس اتری الناس یحتاجون الیک وفی الناس من اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

ارے جناب ،اتنے جلیل القدر اکابر صحابہ کی موجود گی میں کسی کو کیا پڑی ہے کہ ہم سے آکر مسائل پوچھے ۔

لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آگے چل کر چھوٹے ہی بڑے بن جاتے ہیں ۔

فرماتے ہیں : میں نے انکی نصیحت پر کان نہ دھرا اورمسلسل کوشش جاری رکھی ،جس کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ انکے پاس حضور کی کوئی حدیث ہے تو میں انکے دردولت پر پہونچتا اور حدیث سنکر یاد کرلیتا ۔ بعض حضرات کے پاس پہونچتا اور معلوم ہوتا کہ وہ آرام میں ہیں توانکی چوکھٹ پرسررکھکر لیٹ جاتا ،ہوائوں کے تھپیڑے چلتے ،گر دوغبار اڑکر میرے چہرے اور کپڑوں پر اٹ جاتا ،لیکن میں اسی حال میں منتظر رہتا ،وہ خود باہر تشریف لاتے تواس وقت میں اپنا مدعابیان کرتا ،وہ حضرات مجھ سے فرماتے : آپ توخاندان نبوت کے فردہیں ،آپ نے یہاں آنے کی زحمت کیوں اٹھائی ،ہمیں یاد کیاہوتا ہم خود آپکے پاس پہونچتے ،میں عرض کرتا : میں طالب علم ہوں ،لہذا میں ہی اس بات کا مستحق ہوںکہ آپکی خدمت میں حاضری دوں ۔بعض حضرات پوچھتے ،آپ یہاں کب سے ہیں تو میں وقت بتاتا جس پر وہ برہم ہوکر فرماتے،

آپ نے اپنی آمد کی اطلاع ہمیں کیوں نہ کرادی کہ ہم فوراً آتے، میں عرض کرتا : میرے دل نے نہ چاہا کہ میں ازخود آپ کو بلائوں اور آپ اپنی ضرورت میں ہوں ۔

انکی اس جانفشانی اور عرق ریزی کا ثمرہ تھا کہ حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صغر سنی کے باوجود ممتاز علمائے صحابہ میں جگہ دیتے ۔

جب آپ مرجع انام بن گئے تو وہ انصاری صحابی بہت پچھتاتے اورکہتے تھے ۔

کان ہذاالفتیٰ اعقل منی۔ 

یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقلمند نکلا ۔