حدیث نمبر :271

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اﷲ خطائیں مٹا دے درجے بلند کردے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ ۲؎ فرمایا وضوءپورا کرنا مشقتوں میں۳؎ مسجد کی طرف زیادہ قدم رکھنا ۴؎ نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۵؎ یہ ہے سرحد کی حفاظت ۶؎اور مالک ابن انس کی حدیث میں ہے کہ یہ سرحد کی حفاظت،یہ ہے سرحدکی حفاظت دوباراسےمسلم نے روایت کیا ترمذی کی روایت میں تین بارہے۔

شرح

۱؎ خطاؤں سے مراد گناہ صغیرہ ہیں نہ کبیرہ نہ حقوق العباد۔محو سے مراد ہے بخش دینایانامۂ اعمال سے ایسا مٹا دینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔درجوں سے مراد جنت کے درجے ہیں یا دنیا میں ایمان کے درجے۔

۲؎ یہ سوال و جواب اس لیئے ہے کہ تاکہ اگلا فرمان غور سے سنا جائے ورنہ حضور کی تبلیغ ان کی عرض پر موقوف نہیں۔

۳؎ پورےکرنے سے اعضائے وضو کامل دھونا،اورتین بار دھونا،اور وضو کی سنتوں کا پورا کرنا ہے۔مشقت سے مراد سردی،یا بیماری،یا پانی کی گرانی کا زمانہ ہے،یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا۔

۴؎ یا اسی لئے کہ گھرمسجد سے دور ہویا قدم قریب قریب ڈالے۔مطلب یہ کہ ہر وقت نمازمسجد میں پڑھنا،نماز کے علاوہ وعظ وغیرہ کے لئے بھی مسجد میں حاضری دینا موجب ثواب ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواہ مخواہ قریب کی مسجد چھوڑکر دورجاکرنماز پڑھے۔

۵؎ یعنی ایک وقت کی پڑھ کر دوسری نماز کا منتظر رہنا،خواہ مسجد میں بیٹھ کر،یا اس طرح کہ جسم گھر میں،یا دکان میں ہواورکان اذان کی طرف اور دل مسجدمیں لگا ہو۔

۶؎ رباط کے لغوی معنی ہیں گھوڑاپالنا۔اصطلاح میں جہاد کی تیاری یا سرحدِ اسلام پررہ کر کفار کے مقابلے میں ڈٹا رہنا رُبَاط ہے۔رباط بڑی عبادت ہے،رب فرماتا ہے:”وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا”حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے مقابل مورچے سنبھالنا ظاہری رباطہے اور مذکورہ بالا اعمال باطنی رباط یعنی نفس شیطان کے مقابل حدودایمان کی حفاظت۔