أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَٮِٕنۡ قُتِلۡتُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَحۡمَةٌ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ

ترجمہ:

اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے جاؤ یا تم فوت ہوجاؤ تو اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو وہ جمع کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے جاؤ یا تم فوت ہوجاؤ تو البتہ اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو وہ جمع کرتے ہیں۔ (آل عمران : ١٥٧) 

اللہ کی راہ میں مرنے کا بیان : 

منافقین نے جو یہ کہا تھا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے ‘ اس قول کا ایک رد تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ کسی جگہ پر آنے جانے میں مرنے اور جینے کا دخل نہیں ہے ‘ اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت طاری کرتا ہے ‘ اور دوسرا جواب اس آیت میں دیا ہے کہ انسان کو موت تو لامحالہ آنی ہے اور اس سے کوئی مفر نہیں ہے کہ انسان قتل کردیا جائے یا طبعی موت سے مرجائے اور جب یہ موت یا قتل ہونا اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کی طلب میں واقع ہو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انسان دنیا اور اس کی لذتوں کے طلب میں مرجائے کیونکہ انسان مرنے کے بعد ان لذتوں سے فائدہ حاصل نہیں کرسکتا ‘ کیونکہ انسان جب جہاد کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کا دل دنیا سے اعراض کرکے آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو گویا وہ دشمن سے نجات حاصل کرکے دوست کے پاس پہنچ جاتا ہے ‘ اور جب انسان جہاد سے اعراض کر کے دنیا کمانے میں مشغول ہوجائے تو وہ موت سے ڈرتا رہتا ہے اور موت کے بعد وہ اپنی محبوب چیزوں سے بچھڑ جاتا ہے اور حشر تک قبر کے اندھیروں میں پڑا رہتا ہے ‘ اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرجانا اور اس کی مغفرت اور رحمت کو حاصل کرنا دنیا جمع کرنے سے بہتر ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہونا یہ میدان جہاد میں شہادت پانا ہے اور اللہ کی راہ میں مرنا اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی دین کی تبلیغ میں گزارے ‘ قرآن اور حدیث کو پڑھتا اور پڑھاتا رہے ‘ اور اللہ کے دین کو لوگوں تک پہنچاتا رہے ‘ اب اگر اس دوران اس کی موت آگئی تو یہ اللہ کی راہ میں مرنا ہے ‘ میرے زمانہ میں بعض غلط باتیں دین کے نام سے مشہور ہوگئی تھیں اگر میں ان سے اغماض کرلیتا اور ان کے غلط ہونے کو واضح نہ کرتا تو میری بہت واہ واہ ہوتی اور میرے کام کی بہت عزت افزائی کی جاتی لیکن میرے قلب وضمیر نے یہ گوارا نہیں کیا اور میں غلط باتو کے ساتھ موافقت نہ کرسکا مجھے پھولوں کے بجائے کانٹے ملے ‘ داد و تحسین کے بجائے طعن وتشنیع اور دشنام کی سوغاتیں ملیں ‘ میں اس راہ میں مسلسل عملی جہاد کررہا ہوں اور یہی جہاد کرتے ہوئے میں قتل کردیا گیا یا طبعی موت مرگیا تو انشاء اللہ میری موت بھی اسی آیت کا مصداق ہوگی۔ 

اللہ کی مغفرت اور رحمت کا دنیا کی نعمتوں اور لذتوں سے افضل اور بہتر ہونا : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو تم جمع کرتے ہو ‘ اس بہتری کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں : 

(١) جو شخص دنیا کا مال جمع کر رہا ہے اور اسی میں مصروف ہے ہوسکتا ہے وہ کل اس سے استفادہ نہ کرسکے ‘ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ کل کا سورج دیکھنے سے پہلے فوت ہوجائے لیکن جو شخص اللہ کی مغفرت اور رحمت کو حاصل کرنے کے لیے عملی اور عملی جہاد کر رہا ہے وہ اگر اس راہ میں مارا بھی گیا تو کل آخرت میں اس کو اللہ کی رحمت اور مغفرت مل جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور اس نے فرمایا ہے جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کی وہ اس کا اجر پائے گا۔ 

(٢) ہوسکتا ہے کہ دنیا کا مال جمع کرنے والا کل تک زندہ رہے لیکن یہ ممکن ہے کہ کل اس کے پاس یہ مال نہ رہے ‘ کیونکہ کتنے لوگ صبح امیر ہوتے ہیں اور شام کو غریب ہوجاتے ہیں اور ان کا مال کسی وجہ سے ان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے لیکن آخرت کی خیرات ختم نہیں ہوتیں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے رب کے پاس اچھی ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں وہ ختم ہونے والی ہیں اور جو اللہ کے پاس ہیں وہ باقی رہنے والی ہیں۔ 

(٣) ہوسکتا ہے کہ دنیا کا مال جمع کرنے والا کل تک زندہ رہے اور اس کا مال بھی اس کے پاس رہے لیکن کل کوئی ایسی آفت ٹوٹ پڑے یا مصیبت آجائے کہ وہ اس مال سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ مثلا وہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے یا کوئی اور اندوہ گیں حادثہ پیش آجائے اور آخرت کی نعمتوں میں اس طرح ممکن نہیں ہے۔

(٤) اگر کوئی مصیبت نہ بھی آئے تب بھی دنیاوی لذتوں کے ساتھ ہزاروں پریشانیاں لگی رہتی ہیں اور ہر نعمت خطرات کے غلاف میں لپٹی ہوتی ہے ‘ اور آخرت کی نعمتوں کے ساتھ کوئی غم اور فکر نہیں ہوتا۔

(٥) اگر ان خطرات اور پریشانیوں سے صرف نظر بھی کرلی جائے تب بھی دنیا کی لذتیں اور نعمتیں بہرحال فانی ہیں اور ایک دن ختم ہوجانی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں اور لذتیں باقی رہیں گی اور جس نعمت اور لذت کے ساتھ ہر وقت اس کے ختم ہونے یا چھن جانے کا خوف ہو تو انسان عین حصول لذت کے عالم میں بھی ملول اور پریشان رہتا ہے۔ 

جب ان پانچ وجوہات پر غور کیا جائے گا تو انسان پر منکشف ہوجائے گا کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت دنیاوی لذتوں سے بہت بہتر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 157