أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَقَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِى الۡاَرۡضِ اَوۡ كَانُوۡا غُزًّى لَّوۡ كَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا ۚ لِيَجۡعَلَ اللّٰهُ ذٰ لِكَ حَسۡرَةً فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ‌ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! کافروں کی مثل نہ ہوجانا ! جب ان کے بھائی کسی لڑائی یا سفر میں گئے تو انہوں نے ان کے متعلق کہا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے تاکہ (انجام کار) اللہ اس قول کو ان کی حسرت کا سبب بنا دے ‘ اور اللہ ہی زندہ کرتا ہے اور موت طاری کرتا ہے اور اللہ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے

تفسیر:

ربط آیات اور خلاصہ تفسیر : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شیطان کے وسوسوں سے ڈرایا تھا جس کے نتیجہ میں وہ جنگ احد میں شکست سے دوچار ہوگئے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منافقوں کو وسوسوں سے خبردار کیا ہے جو شیطان کے مددگار ہیں ‘ کیونکہ منافقین مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے سے عار دلاتے تھے اور جو مسلمان ان کے نسبی بھائی تھے یا دینی بھائی تھے (کیونکہ منافق بھی بظاہر مسلمان تھے) جب وہ کسی دوردراز سفر پر جاتے یا کافروں کے خلاف جہاد کرنے کے لیے جاتے اور اس سفر میں وہ فوت ہوجاتے یا قتل کردیئے جاتے تو وہ ان کے متعلق کہتے اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ 

یوں کہنا منع ہے کہ اگر میں فلاں کام کرلیتا تو فلاں مصیبت نہ آتی : 

منافقین یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ ان کا تقدیر پر ایمان نہیں تھا ‘ جو چیز جس شخص کے لیے وہ کسی عمل سے ٹل نہیں سکتی ‘ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ کہ اگر کوئی نقصان ہوجائے تو یوں نہ کہو کہ اگر یہ شخص فلاں کام کرلیتا تو نقصان نہ ہوتا۔ 

امام مسلم روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے زیادہ بہتر اور زیادہ محبوب ہے ‘ اور ہر ایک میں خیر ہے ‘ جو چیز تمہیں نفع دے اس پر حرص کرو ‘ اور اللہ سے مدد حاصل کرو اور عاجز نہ ہو ‘ اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں فلاں کام کرلیتا تو مجھے یہ مصیبت نہ پہنچتی البتہ یہ کہو کہ یہ چیز عاجز نہ ہو ‘ اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں فلاں کام کرلیتا تو مجھے یہ مصیبت نہ پہنچتی ‘ البتہ یہ کہو کہ یہ چیز اللہ نے مقدر کردی ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اور ” اگر “ (کا لفظ) شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے (کتاب القدر ‘ باب : ٨ باب فی الامربالقوۃ وترک العجز) 

اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی امر واقع ہوجائے تو پھر یہ نہ کہا جائے کہ اگر میں فلاں کام کرلیتا تو یہ مصیبت نہ آتی ‘ اگر وہ یہ بات جزم اور یقین کے ساتھ کہتا ہے یعنی اگر میں یہ کام کرلیتا تو یقینا یہ مصیبت نہ آتی تو ایسا کہنا حرام ہے ‘ کیونکہ اس سے تقدیر کا انکار ظاہر ہوتا ہے اور اگر وہ اظہار افسوس کے لیے ایسا کہتا ہے تو پھر یہ مکروہ تنزیہی ہے جیسے کوئی فلاں ڈاکٹر سے علاج کرا لیتا یا فلاں دوائی پلا دیتا تو یہ مریض نہ مرتا کیونکہ موت وحیات کا تعلق قضاء مبرم سے ہے اور امتحان میں فیل یا پاس ہونے کا تعلق قضاء معلق سے ہے۔ 

مستقبل کے لیے اگر کا لفظ کہنے کا جواز اور ماضی کے لیے اگر کا لفظ کہنے کی ممانعت : 

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے غار میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا ‘ اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کو دیکھ لیا تو وہ ہم کو دیکھ لے گا ‘ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نکلی ہوئی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کو منہدم کر کے (دوبارہ بنا دیتا اور) جو حصہ (حطیم) اس سے نکال دیا گیا تھا وہ اس میں داخل کردیتا (صحیح بخاری ‘ کتاب الحج باب : ٤٢) اور آپ نے فرمایا اگر میں کسی کو بغیر گواہ کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کردیتا (صحیح بخاری کتاب التمنی باب : ٩) اور اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت وضو کا حکم دیتا (صحیح بخاری ‘ کتاب الایمان باب : ٢٦) ان تمام حدیثوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ” اگر “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جو امر ماضی میں واقع ہوچکا ہو اس کے متعلق آپ نے ” اگر “ کہنے سے منع فرمایا ہے مثلا اگر ایسا ہوجاتا تو ایسا نہ ہوتا اور اس سوال میں جو مثالیں پیش کی گئی ہیں ان میں ” اگر “ کا لفظ مستقبل کے بارے میں ہے اور یہ منع نہیں ہے اور ماضی میں اظہار تاسف کے لیے ” اگر “ کا لفظ جائز ہے اور مکروہ تنزیہی ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان جواز کے لیے اس طرح فرمایا ہے حجۃ الوداع میں جن صحابہ نے ہدی نہیں بھیجی تھی آپ نے ان کو عمرہ کرنے کے بعد احرام کھولنے کا حکم دیا اور آپ نے چونکہ ہدی بھیج دی تھی اس لیے آپ احرام پر قائم رہے۔ ان صحابہ کو آپ کی اتباع سے محروم ہونے پر افسوس ہوا تو آپ نے فرمایا : اگر میں اس بات پر پہلے مطلع (متوجہ) ہوجاتا جس پر بعد میں مطلع ہوا ہوں تو میں ہدی روانہ نہ کرتا۔ آپ کا یہ فرمانا اظہار افسوس کے لیے تھا۔ 

اس کی تحقیق کہ جہاد کی نیت نہ کرنا نفاق ہے : 

منافقین نے جو یہ کہا تھا کہ اگر یہ ہمارے پاس رہتے تو قتل نہ کیے جاتے اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ کفار کے خلاف جہاد کرنے سے گھبراتے تھے اور موت سے ڈرتے تھے ان کے دل میں جہاد کرنے کے لیے کوئی جذبہ تھا نہ کوئی امنگ اور یہ نفاق کی علامت ہے۔ 

امام مسلم روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص مرگیا اور اس نے جہاد نہیں کیا اور نہ اس کے دل میں جہاد کی خواہش ہوئی وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا ہے۔ (کتاب الامارۃ ‘ باب : ٤٧‘ ذم من مات ولم یغز) 

جس شخص پر کسی فعل کا کرنا دشوار ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ یہ نیت کرے کہ جب وہ اس فعل پر قادر ہوگا تو وہ اس فعل کو کرے گا ‘ اور اس کی یہ نیت اس فعل کے قائم مقام ہوگی اور اگر اس نے ظاہرا اس فعل کو کیا نہ اس فعل کی نیت کی تو یہ اس منافق کا حال ہے جو نیکی کرتا ہے نہ اس کی نیت کرتا ہے ‘ عبداللہ بن المبارک نے کہا میری رائے میں یہ حکم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں تھا ‘ جب جہاد واجب تھا اس لیے جس نے جہاد کی نیت نہیں کی وہ منافق تھا ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکم تمام زمانوں کو شامل ہو اور اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس نے جہاد کی نیت بھی نہیں کی وہ اخلاق منافقین کے مشابہ ہے یہ معنی نہیں ہے کہ وہ حقیقۃ منافق ہے کیونکہ جہاد میں شریک نہ ہونا منافقین کا طریقہ تھا۔ حدیث میں ہے جس نے کسی عبادت کے کرنے کی نیت کی اور اس عبادت کے کرنے سے پہلے وہ فوت ہوگیا تو وہ اس ملامت کا مستحق نہیں ہے جو اس شخص پر کی جاتی ہے جس نے اس عبادت کی نیت بھی نہیں کی ‘ اور قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے کسی عبادت کو شروع کردیا اور مکمل ہونے سے پہلے فوت ہوگیا تو اس کو اس کا اجر مل جاتا ہے : 

(آیت) ” ومن یخرج من بیتہ مہاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ (النساء : ١٠٠) 

ترجمہ : اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے پھر اسے موت آجائے تو بیشک اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ثابت ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تاکہ (انجام کار) اللہ اس قول کو اس کی حسرت کا سبب بنا دے۔ (آل عمران : ١٥٦) 

منافقین کے قول کے حسرت ہونے کی وجوہات : 

جو مسلمان کسی سفر میں جاتے اور فوت ہوجاتے ‘ یا کسی غزوہ میں جاتے اور وہاں شہید ہوجاتے تو مناقین ان مسلمانوں کے رشتہ داروں سے کہتے اگر وہ مسلمان ہمارے پاس رہتے اور اس سفر میں نہ جاتے تو نہ مرتے یا اس غزوہ میں نہ جاتے تو قتل نہ کیے جاتے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ ان کے اس قول کو انجام کار ان کی حسرت کا سبب بنادے گا۔ یہ قول ان کی حسرت کیسے بنے گا اس کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہیں : 

(١) منافقین اپنے مسلمان بھائیوں کے دلوں میں جب یہ شبہ ڈالیں گے اور وہ ان کے کہنے میں آکر جہاد کرنے نہیں جائیں گے ‘ پھر جب وہ دیکھیں گے کہ مسلمان جہاد کرکے سلامتی سے مال غنیمت لے کر کامیاب وکامران لوٹے تو ان کو حسرت ہوگی کہ کاش انہوں نے ان منافقوں کا کہا نہ مانا ہوتا اور جہاد میں چلے گئے ہوتے۔ 

(٢) قیامت کے دن جب منافقین دیکھیں گے کہ مجاہدین اور شہداء کو اللہ تعالیٰ کس قدر انعام واکرام سے نواز رہا ہے اور ان کو بےپناہ اجر وثواب مل رہا ہے اور ان منافقوں کو اس قول کی بناء پر ذلت اور رسوائی کے عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو وہ حسرت سے کہیں گے کاش ہم نے یہ نہ کہا ہوتا۔ 

(٣) منافقین ضعفاء مسلمین کو جہاد سے روکنے کے لیے شبہ ڈالیں گے اور جب وہ مسلمان جہاد پر نہیں جائیں گے تو وہ خوش ہوں گے لیکن بعد میں جب ان مسلمانوں پر ان منافقوں کے مکرو فریب کا حال کھل جائے گا اور وہ ان سے بیزار ہوجائیں گے تو پھر وہ منافق حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے یہ نہ کہا ہوتا۔ 

(٤) جب منافق متصلب اور پختہ مسلمانوں کے سامنے یہ شبہات بیان کریں گے تو وہ ان کی طرف توجہ نہیں کریں گے اور ان کی سعی رائیگاں جائے گی اس وقت ان منافقوں کو حسرت ہوگی کہ کاش انہوں نے ان سے یہ نہ کہا ہوتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 156