بُھنا ہوا ہَرن

حکایت نمبر144: بُھنا ہوا ہَرن

حضرت سیدنا ابراہیم خواص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق حضرت سنان علیہ رحمۃ اللہ المنا ن کے بھائی حضرت سیدنا حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کرتے ہیں ،حضرت سیدنا ابو تراب نخشی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے چند رفقائ حرمین شریفین کی حاضری کے لئے سفر پر روانہ ہوئے۔ میں نے سب سے الگ تھلگ رہ کر سفر کرنا پسند کیا اور انہیں چھوڑ کر اکیلا ہی سفر کرتا رہا ،چلتے چلتے جب بھوک نے بہت زیادہ ستا یا تو میرے دوستوں نے ایک ہرن شکارکیا او رذبح کرنے کے بعد اسے بھونا پھر سب مل کر کھانے کے لئے بیٹھ گئے ۔ ابھی انہوں نے کھانا شرو ع بھی نہ کیا تھا کہ ایک بہت بڑا پرندہ آیا، اس نے بھنے ہوئے ہر ن پر حملہ کیا اور اس کا چوتھائی حصہ لے کر فضا میں بلند ہوگیا ۔ میرے رفقاء کا کہنا ہے:” ہم نے اس کا پیچھا کیا لیکن کچھ دور جاکر و ہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔” حضرت سیدنا ابو تر اب نخشی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:جب ہم سب دوست مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا :”کیا تمہیں دورانِ سفر کوئی عجیب وغریب واقعہ پیش آیا ؟” انہوں نے جواب دیا:” جی ہاں!ہمیں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔”پھرانہوں نے پرندے اور ہر ن والا واقعہ سنایا۔ ان سے یہ واقعہ سننے کے بعد میں نے کہا:” فلاں دن فلاں وقت میں سوئے حرم سفر پر رواں دواں تھا کہ اچانک ایک پرندہ آیا اور میرے سامنے بھنے ہوئے ہر ن کا چوتھائی حصہ ڈال کروہاں سے غائب ہوگیا ، دیکھو! ہمارے پاک پروردگار عزوجل نے ہمیں کس طر ح ایک ہی وقت میں ایک ہی ہرن کا گو شت کھلایا۔ ”
(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں حلال رزق عطا فرما اور حرام چیزوں سے ہماری حفاظت فرمااور ہمیں تو کُّل کی دولت سے مالا مال فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

ہر بہتے خون سے وضو ہے

حدیث نمبر :317

روایت ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے وہ تمیم داری سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بہتے خون سے وضو ہے۲؎ان دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیااور فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز نے تمیم داری سے نہ سنا نہ انہیں دیکھااور یزیدابن خالداور یزیدابن محمدمجہول لوگ ہیں۳؎

شرح

۱؎ آپ کا نام تمیم ابن اوس یاتمیم ابن خارجہ ہے،دار آپ کے کسی دادا کا نام ہے،جس کی کنیت ابورقیہ تھی،آپ مشہور صحابی ہیں، ۹ھ؁ میں ایمان لائے،رات کو ایک رکعت میں قرآن ختم کرتے تھے،آپ نے ہی اولًا مسجد نبوی شریف میں چراغاں کیا،مدینہ منورہ میں قیام رہا،حضرت عثمان کی شہادت کے بعد شام چلے گئے،وہیں وفات پائی۔اورحضرت عمر بن عبدالعزیز ابن مروان ابن حکم تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو حفص ہے،آپ کی والدہ کا نام لیلےٰ بنت عاصم بن عمرابن خطاب ہے،کنیت ام عاصم،سلیمان ابن عبدالملک کی خلافت کے بعد آپ خلیفہ ہوئے، ۹۹ھ ؁میں خلافت سنبھالی اور ۱۰۱ھ؁ میں ماہ رجب مقام دَیر سمعان میں قریب حمّص انتقال ہوا،چالیس سال عمر ہوئی،دو سال پانچ مہینے خلافت کی،فاطمہ بنت عبدالملک آپ کے نکاح میں تھیں،آپ جیسے عابد،زاہد،خوف خدا میں رونے والے امت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں کم گزرے،آپ عدل و انصاف میں عمر فاروق کا نمونہ تھے،یزید وغیرہ کی بدعتوں کا آپ نے قلع قمع کیا۔

۲؎ یعنی جو خون بہہ کر جسم کے اس حصہ کی طرف آجائے جس کا دھونا غسل میں فرض ہے وہ ناقض وضو ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ خون وضو توڑتا ہے۔حضرت امام شافعی اس کے خلاف ہیں۔

۳؎ مصنف نے اس حدیث پر دو اعتراض کئے:ایک یہ کہ یہ حدیث مرسل ہے کہ بیچ میں ایک راوی چھوٹ گیا ہے۔دوسرے یہ کہ اس کی اسناد میں دو راوی مجہول ہیں۔مگرخیال رہے کہ حنفیوں کے نزدیک حدیث مرسل قابلِ عمل ہے،نیزحنفیوں کے اس مسئلے کا مدار صرف اس حدیث پر نہیں،بلکہ بخاری،ابن ماجہ،ترمذی،طبرانی،موطا امام مالک،ابوداؤد وغیرہم کی بہت سی احادیث پر ہے۔چنانچہ بخاری میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی جیش سے فرمایا کہ جب تمہارے حیض کا زمانہ نکل جائے تو استحاضہ کے زمانہ میں ہر نماز کے لیے نیا وضوکرو۔اگر خون وضو نہیں توڑتا تو استحاضہ والی عورت معذور کیوں قرار دی گئی،نیز ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ حضورفرماتے ہیں اگر نمازمیں کسی کی نکسیر پھوٹ جائے تو نماز چھوڑکر وضوکرے،پھرنماز پوری کرے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں دیکھو۔خیال رہے کہ بہتا خون بحکم قرآن نجاست ہے اور نجاست کا نکلنا وضوتوڑتا ہے۔ایسی صحیح مرفوع حدیث فقیر کی نظر سے نہ گزری جس میں ہو کہ خون ناقض وضو نہیں۔

وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِىَ مِمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ عَقَدَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَاٰ تُوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 33

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِىَ مِمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ عَقَدَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَاٰ تُوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدًا

ترجمہ:

اور ہم نے ہر شخص کو ترکہ کے لیے وارث مقرر کردیے ہیں اولاد اور قرابت دار اور وہ لوگ جن سے تمہارا عہد ہوچکا ہے سو تم انھیں ان کا حصہ دے دو بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ہر شخص کے ترکہ کے لئے وارث مقرر کردیئے ہیں۔ اولاد ‘ قرابت دار اور وہ لوگ جن سے تمہارا عہد ہوچکا ہے سو تم انہیں ان کا حصہ دو بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (النساء : ٣٣)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس انسان کا مال اور ترکہ ہے ہم نے اس کے لئے وارث بنادیئے ہیں پھر ان وارثوں کا بیان فرمایا وہ اس کی اولاد اور اس کے قرابت دار ہیں اور وہ لوگ ہیں جن سے تمہارا عہد ہوچکا ہے۔ 

امام ابن جریر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص دوسرے شخص سے (جس سے اس کی نسبی قرابت نہیں ہوتی تھی) یہ عہد کرتا کہ میرا خون تمہارا خون ہے اور میرا نقصان تمہارا نقصان ہے تم میرے وارث ہو گے اور میں تمہارا وارث ہوں گا تم مجھ سے مطالبہ کرنا اور میں تم سے مطالبہ کروں گا پھر زمانہ اسلام میں اس کا چھٹا حصہ مقرر کردیا گیا اس کا حصہ نکالنے کے بعد باقی ورثہ میں ترکہ تقسیم کیا جاتا تھا پھر جب سورة انفال میں یہ آیت نازل ہوئی : 

(آیت) ” واولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “۔ (الانفال : ٧٥) 

ترجمہ : اور قرابت دار ایک دوسرے کے ساتھ اللہ کی کتاب میں زیادہ حقدار ہیں۔ 

اس آیت کے نزول کے بعد جس شخص سے کسی نے عہد کیا تھا اس کی وراثت منسوخ ہوگئی۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٣٤) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب یہ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور انہوں نے یہ عہد کیا کہ وہ اس کی دیت ادا کرے گا اور اس کا وارث ہوگا تو اس کا دیت ادا کرنا صحیح ہے اور اگر اس کا کوئی اور نسبی وارث نہ ہو تو پھر وہ شخص اس کا وارث ہوگا۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٢٢) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں : 

اس آیت کی تفسیر میں چار قول ہیں : 

(١) جاہلیت میں جو لوگ ایک دوسرے سے ایک دوسرے کا وارث ہونے کا عہد کرتے اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں اور سورة انفال کی آیت سے یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ 

(٢) اس سے وہ مہاجرین اور انصارمراد ہیں جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دوسرے کا بھائی بنادیا تھا۔ 

(٣) اس سے وہ لوگ ہیں مراد ہیں جن کو زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنا بیٹا بنا لیا کرتے تھے حالانکہ وہ کسی اور کے بیٹے ہوتے تھے ‘ پہلے قول کے متعلق امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کا یہ مذہب ہے وہ سورة انفال کی آخری آیت سے منسوخ ہوگیا۔ rnّ (٤) امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ یہ حکم اب بھی باقی ہے البتہ عصبات اور ذوالارحام اس شخص پر مقدم ہیں جس سے عہد کیا گیا وہ نہ ہوں تو اس کو عہد کرنے والے کی وراثت ملے گی۔ 

اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس شخص سے تم نے وراثت کے علاوہ مدد کرنے اور خیر خواہی کا معاہدہ کیا ہے اس معاہدہ کو پورا کرو ‘ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صرف ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معاہدہ ہوتا تھا اس کے سوا نہیں ہوتا تھا اور اسلام نے اس کو متغیر نہیں کیا بلکہ اور پختہ کیا ہے۔ یہ سعید بن جبیر کا قول ہے اور یہ آیت محکم ہے۔ (زاد المسیر ج ٢ ص ٧٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں حلف نہیں ہے حلف صرف جاہلیت میں ہوتا تھا اور اسلام میں اس حلف کی شدت میں اور اضافہ کیا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٣٠‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٥‘ مسند احمد ج ٤ ص ٨٣) 

اس حدیث میں غیر شرعی باتوں پر حلف اٹھانے کی ممانعت ہے اور ایک دوسرے کا وارث بنانے پر حلف اٹھانے کی ممانعت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے لیے جو حلف اٹھایا جائے اس حلف کی شدت میں اور اضافہ کیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 33

وَلَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعۡضَكُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبُوۡا ؕ‌ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبۡنَ‌ ؕ وَسۡئَـلُوا اللّٰهَ مِنۡ فَضۡلِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 32

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعۡضَكُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبُوۡا ؕ‌ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبۡنَ‌ ؕ وَسۡئَـلُوا اللّٰهَ مِنۡ فَضۡلِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا

ترجمہ:

اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو، جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضلیت دی ہے مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (النساء : ٣٢)

اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور اس کی عطا کے خلاف تمنا کرنے سے ممانعت : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو لوگوں کا مال ناجائز طریقہ سے کھانے سے منع فرمایا تھا اور اس آیت میں لوگوں کے اموال کی طمع اور خواہش کرنے سے بھی منع فرمایا تھا ‘ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پہلی آیت میں ظاہری اعضاء سے لوگوں کے مال میں تصرف کرنے سے منع فرمایا تھا اور اس آیت میں دل سے حسد کرنے سے بھی منع فرمایا ہے تاکہ ظاہر اور باطن میں موافقت ہو۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مسلمانوں کو جو مال ‘ عزت اور مرتبہ کے اعتبار سے فضیلت دی ہے اور جو بھی ایسی نعمت عطا فرمائی ہے جس میں رغبت کی جاسکے اس کے حصول کی دوسرے تمنا نہ کریں نہ اس پر حسد کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک ‘ مختار اور علیم اور حکیم ہے وہ جس کو چاہتا ہے نعمت عطا فرماتا ہے ‘ اس لئے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ کاش میرے پاس فلاں مال ہوتا یا فلاں نعمت ہوتی یا فلاں حسین عورت ہوتی۔ رشک کا معنی یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر انسان یہ دعا کرے کہ اس شخص کے پاس بھی یہ نعمت رہے اور اللہ مجھے بھی ایسی نعمت عطا کردے سو رشک کرنا جائز ہے ‘ اور حسد کا معنی یہ ہے کہ انسان یہ چاہے کہ مجھے یہ نعمت ملے یا نہ ملے اس شخص کے پاس یہ نعمت نہ رہے اور حسد جائز نہیں ہے۔ 

بعض علماء نے کہا ہے اس آیت کا یہ معنی ہے کہ کوئی مرد یہ تمنا نہ کرے کہ کاش وہ عورت ہوتا اور کوئی عورت یہ تمنا نہ کرے کہ کاش وہ مرد ہوتی ‘ اور بعض علماء نے یہ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مردوں کا حصہ عورتوں سے دگنا کیا تو بعض عورتوں نے کہا ہم چونکہ صنف ضعیف ہیں اور ہم کو مال کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو ہمارا حصہ دگنا ہونا چاہیے تھا ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق تین روایات ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرتی اور ہمارئے لئے آدھی میراث ہے 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ عورتوں نے جہاد کا سوال کیا اور انہوں نے کہا ہماری بھی یہ خواہش ہے کہ ہم بھی مردوں کی طرح جہاد کریں اور ہمیں بھی انکی طرح اجر ملے۔ 

قتادہ اور سدی نے بیان کیا ہے کہ مردوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ہم کو وراثت میں دگنا حصہ دیا جاتا ہے ہماری عبادتوں کا بھی ہم کو عورتوں سے دگنا اجر ملے اور عورتوں نے کہا ہم یہ چاہتی ہیں کہ ہمارے آدھے گناہ مردوں پر ڈال دیئے جائیں ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٤٩۔ مطبوعہ ایران) 

اس کے بعد فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو ‘ یعنی اللہ سے اپنے اعمال کا صلہ نہ مانگو اور نہ اللہ تعالیٰ سے اس کے عدل کی بناء پر سوال کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور افضل عبادت کشادگی کا انتظار کرنا ہے (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 32

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا

ترجمہ:

اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے ‘ اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے۔ (النساء : ٣١)

صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی تحقیق : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

بعض عرفاء نے کہا ہے کہ یہ مت سوچو کہ گناہ صغیرہ ہے یا کبیرہ ‘ یہ غور کرو کہ تم کس ذات کی نافرمانی کر رہے ہو اور اس اعتبار سے تمام گناہ گناہ کبیرہ ہیں۔ قاضی ابوبکر بن طیب ‘ استاد ابواسحق اسفرائنی ‘ ابوالمالی ‘ ابو نصر عبدالرحیم قشیری وغیرھم کا یہی قول ہے۔ انہوں نے کہا کہ گناہوں کو اضافی طور پر صغیرہ یا کبیرہ کہا جاتا ہے۔ مثلا زنا کفر کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور بوس وکنار زنا کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور کسی گناہ سے اجتناب کی وجہ سے دوسرے گناہ کی مغفرت نہیں ہوتی بلکہ تمام گناہوں کی مغفرت اللہ کی مشیت کے تحت داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ (النساء : ٤٨) 

ترجمہ : بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اسے جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ 

اور یہ جو قرآن مجید میں ہے 

(آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (النساء : ٣١) 

اس آیت میں کبائر سے مراد انواع کفر ہیں ‘ یعنی اگر تمام انواع کفر سے بچو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا ‘ نیز صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث میں حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا حق مارا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر دوزخ واجب کر دے گا اور اس پر جنت حرام کر دے گا ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! ہرچند کہ (اس شخص کا حق) تھوڑی سی چیز ہو ؟ آپ نے فرمایا : ہرچند کہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو ! پس معمولی معصیت پر بھی ایسی شدید وعید ہے جیسی بڑی معصیت پر وعید ہے۔ 

علامہ قرطبی مزید لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا ہے کہ جن چیزوں سے منع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کو جہنم یا غضب یا لعنت یا عذاب کے ذکر پر ختم کیا ہے اور گناہ کبیرہ ہے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا سورة نساء کی تیتیس (٣٣) آیتوں میں جن چیزوں سے منع کیا ہے اور پھر فرمایا ہے (آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “۔ وہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا کبائر سات (٧) ہیں فرمایا یہ ستر کے قریب ہیں اور سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کیا کبائر سات ہیں فرمایا یہ سات سو کے قریب ہیں البتہ استغفار کے بعد کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار سے کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ ہوجاتا ہے) 

گناہ کبیرہ کی تعداد اور ان کے حصر میں علماء کا اختلاف ہے کیونکہ ان میں آثار مختلف ہیں ‘ میں یہ کہتا ہوں کہ گناہ کبیرہ کے متعلق صحیح اور حسن بکثرت احادیث ہیں اور ان سے حصر مقصود نہیں ہے البتہ بعض گناہ بعض دوسرے گناہ سے زیادہ بڑے ہیں اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تکذیب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ورحمتی وسعت کل شیء “ میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” انہ لایایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “۔ میری رحمت سے کافروں کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ اس کے بعد تیسرا درجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” افامنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسروان “۔ (الاعراف : ٩٩) کیا یہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہیں ؟ تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے ہی بےخوف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد چوتھے درجہ پر قتل سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کے بعد لواطت ہے ‘ پھر زنا ہے ‘ پھر شراب نوشی ہے پھر نماز اور اذان کا ترک کرنا ہے پھر جھوٹی گواہی دینا ہے اور ہر وہ گناہ جس پر عذاب شدید کی وعید ہے یا اس کا ضرر عظیم ہے وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٦١۔ ١٥٩ ملخصا مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

میں نے گناہ کبیرہ کے متعلق ان تمام اقوال اور تعریفات پر غور کیا میرے نزدیک جامع مانع اور منضبط تعریف یہ ہے : جس گناہ کی دنیا میں کوئی سزا ہو یا اس پر آخرت میں وعید شدید ہو یا اس گناہ پر لعنت یا غضب ہو وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے اور اس سے بھی زیادہ آسان اور واضح تعریف یہ ہے کہ فرض کا ترک اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے۔ اور واجب کا ترک اور مکروہ تحریمی کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے نیز کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر بےخوفی سے کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے علامہ نووی شافعی اور علامہ بھوتی حنبلی نے جو گناہ کبیرہ اور صغیرہ کی مثالیں دی ہیں ان پر یہ تعریفیں صادق آتی ہیں اس لئے گناہ صغیرہ اور کبیرہ کو سمجھنے کے لئے ان تعریفات کی روشنی میں ان مثالوں کو ایک بار پھر پڑھ لیاجائے۔ اس بحث میں یہ نکتہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ فرض کے ترک کا عذاب واجب کے ترک کے عذاب سے اور حرام کے ارتکاب کا عذاب مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے عذاب سے شدید ہوتا ہے اور اصولیین کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ فرض اور واجب کے ترک کا عذاب ایک جیسا ہوتا ہے اور ان میں صرف ثبوت کے لحاظ سے فرق ہے۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ صغیرہ اور کبیرہ دو قسم کے ہیں۔ استاذ ابو اسحاق نے کہا ہے کہ کوئی گناہ صغیرہ نہیں ہوتا لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ گناہ کبیرہ کی چار تعریفیں ہیں۔ (١) جس معصیت پر حد واجب ہوتی ہے وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٢) جس معصیت پر کتاب اور سنت میں وعید شدید ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٣) امام نے ’ ارشاد “ میں لکھا ہے کہ جس گناہ کو لاپرواہی کے ساتھ کیا گیا ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٤) جس کام کو قرآن مجید نے حرام قرار دیا ہو یا جس کام کی جنس میں قتل وغیرہ کی سزا ہو یا جو کام علی الفور فرض ہو اس کو ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ 

علامہ نووی نے دوسری تعریف کو ترجیح دی ہے پھر علامہ نووی لکھتے ہیں کہ یہ گناہ کبیرہ کی منضبط تعریفات ہیں۔ بعض علماء نے گناہ کبیرہ کو تفصیلا ‘ شمار بھی کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے : قتل ‘ زنا ‘ لواطت ‘ شراب پینا ‘ چوری ‘ قذف ‘ (تہمت لگانا) جھوٹی گواہی دینا ‘ مال غصب کرنا ‘ میدان جہاد سے بھاگنا ‘ سود کھانا ‘ مال یتیم کھانا ‘ والدین کی نافرمانی کرنا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا ‘ جھوٹ باندھنا ‘ بلاعذر شہادت کو چھپانا ‘ رمضان میں بلاعذر روزہ نہ رکھنا ‘ جھوٹی قسم کھانا ‘ قطع رحم کرنا ‘ ناپ اور تول میں خیانت کرنا ‘ نماز کو وقت سے پہلے پڑھنا ‘ بلاعذر نماز قضاء کرنا ‘ مسلمان کو ناحق مارنا ‘ صحابہ کرام کو سب وشتم کرنا ‘ رشوت لینا ‘ دیوثی (فاحشہ عورتوں کے لئے گاہک لانا) حاکم کے پاس چغلی کھانا ‘ زکوۃ نہ دینا ‘ نیکی کا حکم نہ دینا ‘ باوجود قدرت کے برائی سے نہ روکنا ‘ قرآن مجید بھلانا ‘ حیوان کو جلانا ‘ عورت کا بلاسبب خاوند کے پاس نہ جانا ‘ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ‘ اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونا ‘ علماء کی توہین کرنا ‘ ظہار ‘ بلاعذر خنزیر یا مردار کا گوشت کھانا ‘ جادو کرنا ‘ حالت حیض میں وطی کرنا اور چغلی کھانا۔ یہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ 

علامہ نووی نے گناہ صغیرہ کی تفصیل میں ان گناہوں کو لکھا ہے : 

اجنبی عورت کو دیکھنا ‘ غیبت کرنا ‘ ایسا جھوٹ جس میں حد ہے نہ ضرر ‘ لوگوں کے گھروں میں جھانکنا ‘ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے قطع تعلق کرنا ‘ زیادہ لڑنا جھگڑنا اگرچہ حق پر ہو ‘ غیبت پر سکوت کرنا ‘ مردہ پر بین کرنا ‘ مصیبت میں گریبان چاک کرنا اور چلانا ‘ اترا اترا کرچلنا ‘ فاسقوں سے دوستی رکھنا اور ان کے پاس بیٹھنا ‘ اوقات مکروہہ میں نماز پڑھنا ‘ مسجد میں خریدو فروخت کرنا ‘ بچوں پاگلوں کو مسجد میں لانا ‘ جس شخص کو لوگ کسی عیب کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں اس کا امام بننا، نماز میں عبث کام کرنا ‘ جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ‘ قبلہ رخ بول وبراز کرنا “ عام راستہ پر بول وبراز کرنا ‘ جس شخص کو غلبہ شہوت کا خطرہ ہو اس کا روزہ میں بوسہ لینا ‘ صوم وصال رکھنا ‘ استمناء ‘ بغیر جماع کے اجنبیہ سے مباشرت کرنا (یعنی بوس وکنار اور بغل گیر ہونا) بغیر کفارے کے مظاہر کا اپنی عورت سے جماع کرنا ‘ اجنبی عورت سے خلوت کرنا ‘ عورت کا بغیر محرم اور خاوند کے سفر کرنا یا بغیر ثقہ عورتوں کے سفر کرنا۔ (یہ مذہب شافعی کے ساتھ خاص ہے) بخش ‘ احتکار ‘ مسلمان کی بیع پر بیع کرنا ‘ اسی طرح مسلمان کی قیمت پر قیمت لگانا اور منگنی پر منگنی کرنا ‘ شہری کا دیہاتی سے بیع کرنا ‘ دیہاتی قافلہ سے بیع کے لئے ملاقات کرنا ‘ تصریہ (بیع کے لئے تھنوں میں دودھ روک لینا) بغیر عیب بیان کئے ہوئے عیب دار چیز کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت کتا رکھنا ‘ مسلمان کا کافر کو قرآن مجید اور دینی کتابوں کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت نجاست کو بدن پر لگانا اور بلاضرورت خلوت میں اپنی شرمگاہ کھولنا۔ 

عدالت (نیک چلنی) میں صغائر سے بالکل اجتناب کرنا شرط نہیں ہے لیکن صغیرہ پر اصرار یعنی بلاتوبہ بار بار صغیرہ کا ارتکاب کرنا صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے۔ (روضۃ الطالبین وعمدۃ المقتین ج ١٢ ص ٢٢٥۔ ٢٢٢ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٥ ھ) 

علامہ شمس الدین مقدسی محمد بن مفلح حنبلی متوفی ٧٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر حد ہو یا اس پر وعید ہو یا اس پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی کی گئی ہو جس طرح حدیث میں ہے : من غش فلیس منا “۔ ” جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “ یعنی یہ وہ کام ہے جو ہمارے احکام میں سے نہیں ہے یا ہمارے اخلاق میں سے نہیں ہے یا ہماری سنت میں سے نہیں ہے ‘ اور فصول ‘ غتیہ اور مستوعب میں ہے کہ غیبت اور چغلی صغائر میں سے ہے اور قاضی نے معتمد میں کہا ہے کہ کبیرہ وہ ہے جس کا عقاب زیادہ ہو اور صغیرہ وہ ہے جس کا عقاب کم ہو۔ ابن حامد نے کہا ہے کہ صغائر خواہ کسی نوع کے ہوں وہ تکرار سے کبیرہ ہوجاتے ہیں اور ہمارے فقہاء نے کہا ہے کہ تکرار سے صغیرہ کبیرہ نہیں ہوتا جیسا کہ جو امور غیر کفر ہوں وہ تکرار سے کفر نہیں ہوتے۔ (کتاب الفروع ج ٦ ص ٥٦٥۔ ٥٦٤ مطبوعہ عالم الکتب بیروت ‘ ١٣٨٨ ھ) 

علامہ منصور بن یونس بن ادریس بھوتی حنبلی متوفی ١٠٤٦ ھ بیان کرتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ ہے جس پر دنیا میں حد ہو اور آخرت میں وعید ہو جیسا کہ سود کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اور شیخ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جس فعل پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی ہو۔ 

جھوٹ بولنا گناہ صغیرہ ہے بشرطیکہ اس پر دوام اور استمرار نہ ہو البتہ جھوٹی گواہی دینا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ باندھنا یا کسی پر جھوٹی تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے اور صلح کرانے کے لئے بیوی کو راضی کرنے کے لئے اور جنگی چال کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ علامہ ابن جوزی نے کہا ہے ہر وہ نیک مقصد جو جھوٹ کے بغیر حاصل نہ کیا جاسکتا ہو اس کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ غیبت میں اختلاف ہے علامہ قرطبی نے اس کو کبائر میں شمار کیا ہے اور ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ یہ صغیرہ ہے۔ صاحب الفصول ‘ صاحب الغنیہ اور صاحب المستوعب کی یہی تحقیق ہے۔ امام داؤد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق بلاعلم کچھ کہنا گناہ کبیرہ ہے ‘ ضرورت کے وقت علم چھپانا گناہ کبیرہ ہے ‘ فخر اور غرور کے لئے علم حاصل کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ جاندار کی تصویر بنانا گناہ کبیرہ ہے ‘ کاہن اور نجومی کے پاس جانا اور ان کی تصدیق کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ‘ بدعت کی دعوت دینا ‘ خیانت کرنا ‘ بدفالی کرنا ‘ بدفالی نکالنا ‘ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا ‘ وصیت میں زیادتی کرنا ‘ خمر بیچنا ‘ سودی معاملہ لکھنا اور سود پر گواہی دینا کبیرہ ہے ‘ دو چہروں والا ہونا یعنی بظاہر دوستی رکھنا اور بباطن دشمنی رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔ خود کو کسی اور نسب کی طرف منسوب کرنا ‘ جانور سے بدفعلی کرنا ‘ بلاعذر جمعہ ترک کرنا ‘ نشہ آور اشیاء استعمال کرنا ‘ نیکی کرکے احسان جتلانا ‘ لوگوں کی مرضی کے بغیر ان کی باتیں کان لگا کر سننا ‘ کسی پر بلا استحقاق لعنت کرنا ‘ غیر اللہ کی قسم کھانا یہ تمام امور گناہ کبیرہ ہیں ‘ اور جو مسائل اجتہادیہ ہیں ان کو کسی مجتہد کی اتباع میں کرنا ‘ معصیت نہیں ہے ‘ مثلا امام ابوحنیفہ کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کرنا جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں ہے اور امام مالک کے نزدیک بغیر گواہوں کے نکاح جائز ہے اور باقی ائمہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ علامہ بھوتی حنبلی کے ذکر کردہ کبیرہ گناہوں میں سے ہم نے ان گناہوں کو حذف کردیا جن کو اس سے پہلے ہم علامہ نووی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں۔ (کشاف القناع ج ٦ ص ٤٢٢۔ ٤١٩‘ ملخصا مطبوعہ عالم الکتب بیروت) 

اصرار سے گناہ صغیرہ کے کبیرہ ہونے کی وجہ : 

علامہ شامی اور دوسرے فقہاء نے لکھا ہے کہ گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے ایک علمی مجلس میں مجھ سے ایک فاضل دوست نے سوال کیا کہ صغیرہ پر اصرار کرنا دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہے اس لئے یہ اسی درجہ کی معصیت ہونی چاہیے اور جب یہ پہلے صغیرہ تھا تو دوبارہ اس کو کرنے سے یہ گناہ کبیرہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے اس کے جواب میں کہا : اگر گناہ صغیرہ کرنے کے بعد انسان نادم ہو اور اس پر استغفار کرے اور پھر دوبارہ شامت نفس سے وہ صغیرہ گناہ کرلے تو یہ اصرار نہیں ہے تکرار ہے اور گناہ صغیرہ کرنے کے بعد نادم اور تائب نہ ہو اور بلاجھجک اس گناہ کا اعادہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے اور یہ کبیرہ اس وجہ سے ہوگیا کہ اس نے اس گنہا کو معمولی سمجھا اور اس میں احکام شرعیہ کی تخفیف اور بےوقعتی ہے اور شریعت کی تخفیف اور بےوقعتی گناہ کبیرہ ہے ‘ جبکہ شریعت کی توہین کفر ہے۔ فرض اور واجب تو دور کی بات ہے جو فعل مسنون ہو اس کی تخفیف اور بےوقعتی بھی گناہ کبیرہ ہے ‘ اور اس کی توہین کرنا کفر ہے۔ العیاذ باللہ ! 

اس کے بعد اس بحث کو لکھتے وقت جب میں نے اس سوال پر غور کیا تو مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ قرآن اور حدیث میں معصیت پر اصرار کرنے کو کبیرہ قرار دیا ہے خواہ وہ کسی درجہ کی معصیت ہو معصیت پر نفس اصرار گناہ کبیرہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ اوظلموا انفسھم ذکرواللہ فاستغفروا الذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی مافعلوا وھم یعلمون، اولئک جزآؤھم مغفرۃ من ربھم وجنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ونعم اجر العاملین “۔ (ال عمران : ١٣٦۔ ١٣٥) 

ترجمہ : اور جب وہ لوگ بےحیائی کا کام یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشتا ہے اور وہ لوگ جان بوجھ کر اپنے کئے (یعنی گناہوں) پر اصرار نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ جنات ہیں جن کی نیچے دریا جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور (نیک) کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اخروی انعامات کو عدم اصرار معصیت پر مرتب فرمایا ہے اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ معصیت پر اصرار کرنا اخروی عذاب کو مستلزم ہے اور اس سے بھی زیادہ صریح یہ آیت ہے۔ : 

(آیت) ” عفا اللہ عما سلف ومن عاد فینتقم اللہ منہ ‘ واللہ عزیز ذوانتقام “۔ (المائدہ : ٩٥) 

ترجمہ : جو ہوچکا اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اور جس نے دوبارہ یہ کام کیا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ بڑا غالب ہے بدلہ لینے والا۔ 

ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصرار پر وعید فرمائی ہے اور وعید گناہ کبیرہ پر ہوتی ہے۔

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں کے لئے عذاب ہو جو اپنے کئے ہوئے (گناہ) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے (گناہ پر) استغفار کرلیا تو یہ اس کا اصرار نہیں ہے خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ گناہ کرے۔ (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ١٥١٤) 

اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ گناہ کے بعد استغفار کرلیا جائے تو یہ تکرار ہے اور گناہ کے بعد پھر گناہ کرے اور توبہ نہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ 

علامہ قرطبی لکھتے ہیں : کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : 

استغفار کے ساتھ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ گناہ صغیرہ نہیں رہتا (یعنی کبیرہ ہوجاتا ہے) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٥٩‘ مطبوعہ ایران) 

اصرار کے ساتھ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے اس پر یہ حدیث صراحتا دلالت کرتی ہے علامہ آلوسی امام بیہقی کے حوالے سے لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے موقوفا روایت ہے کہ جس گناہ پر بندہ اصرار کرے (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرے) وہ گناہ کبیرہ ہے اور جب بندہ کسی گناہ پر توبہ کرلے تو وہ گناہ کبیرہ نہیں ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٦٢‘ مطبوعہ بیروت) 

قرآن مجید کی آیات ‘ احادیث اور آثار سے یہ واضح ہوگیا کہ گناہ پر اصرار کرنا (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرنا) اس گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے خواہ وہ گناہ کسی درجہ کا ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ کرنے کے بعد توبہ نہ کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شخص اس گناہ کو معمولی اور بےوقعت سمجھتا ہے اور اس کا یہ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منع کرنے کو اہمیت نہیں دیتا اور ان کے احکام کی پرواہ نہیں کرتا اور شریعت کو معمولی اور بےوقعت سمجھنا اور اس سے لاپرواہی برتنا یہی گناہ کبیرہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

صرف اسلام ہی دین ہے

سارے جہاں کے خالق و مالک، معبودِ حقیقی اللہ عز و جل کے یہاں صرف اسلام ہی دین ہے، اسلام کے سوا جتنے بھی ادیان و مذاہب رائج ہیں سب خود ساختہ ہیں، انسانوں ہی کے ایجاد کردہ ہیں، جن کی کوئی حقیقت ہے نہ حیثیت اور جو ہرگز ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ اللہ جل مجدہٗ نے صاف ارشاد فرمایا:…

’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ترجمہ: بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ (کنز الایمان،آل عمران، ۱۹)

’’و من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ‘‘ (آل عمران) ترجمہ: اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔ (کنز الایمان)

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف چودہ سو برس پرانا دین ہے وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اسلام کا زمینی سفر اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب دنیا کے سب سے پہلے انسان اور تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام نے اس دھرتی پر قدم رنجہ فرمایا تھا حالانکہ اسلام کا سفرِ اصلی نورِ محمدی کی تخلیق سے ہی شروع ہو گیا تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام تک سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا، وہ مسلمان تھے، انہوں نے اسلام ہی کی تبلیغ کی اور ان پر جو ایمان لائے وہ مسلمان ہی کہلائے۔ البتہ جب نبیوں اور رسولوں کے سردار و خاتم، پیغمبرِ اسلام، نبی ٔ امی، حضرت سیدنا محمد عربیتشریف لائے تو رب عظیم نے آپ کو سارے انسانوں کا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر اسلام کو کامل فرمایا۔

قرآن مقدس ان تمام حقائق کا اس طرح اظہار فرماتا ہے:…

’’کان الناس امۃ واحدۃ‘‘ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے۔

(کنزالایمان، البقرہ، ۲۱۳)

’’و ما کان الناس الا امۃ واحدۃ فاختلفوا‘‘ ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے۔ (کنز الایمان،یونس،۱۹)

’’قل یٰایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘

ترجمہ: تم فرمادو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

(کنزالایمان ،اعراف، ۱۵۸)

چوں کہ آقا حضور ﷺ کل انسانوں کے رسول ہیں، رسول انسانیت ہیں، رب کائنات نے انہیں سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ ارشاد ربانی ہے:…’’و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعلمین‘‘ ترجمہ: اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے۔ (کنزالایمان،الانبیاء:۱۰۷)

’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘ ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام دین پسند کیا۔ (کنزالایمان،مائدہ:۳)

خود حضور رسالت مآب ﷺ نے بھی اعلان فرمایا:…

’’اے اللہ کے نبیو! ہمارا دین ایک ہے‘‘ (بخاری شریف)

یعنی ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا۔

چوں کہ سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا اور دنیا کے سارے انسان، خطہ و علاقہ اور عہد کے مطابق انہیں ہادیانِ کرام کی امت میں تھے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے آقا حضور سیدنا محمد رسول اللہا تمام انسانوں کے رسول ہیں اور وہی کل جہاں کے لئے رحمت ہیں۔ لہٰذا اس سے بھی ثابت ہوا کہ اسلام ہی کل انسانوں کا دین ہے۔

چوں کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے اس لئے اللہ رب العزت نے سب کے لئے ایک مرکز قائم فرمایا، ارشاد فرماتا ہے: …’’ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا و ہدیً للعالمین فیہ آیٰت بینٰت مقام ابراہیم و من دخلہ کان آمنا و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العٰلمین‘‘ ترجمہ:بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہاں کا راہنما، اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو کوئی اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہاں سے بے پرواہ ہے۔

(البقرہ:۹۶،۹۷…کنزالایمان)

قرآنی آیات اور سرکار ابد قرارﷺ کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام ہی دینِ الٰہی ہے، یہی سارے نبیوں اور رسولوں کا دین ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دین کو حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ا پر کامل فرمایا۔ رہتی دنیا تک چوں کہ حضور ا کی نبوت و رسالت قائم رہے گی اور اسلام ہی کی حکمرانی رہے گی۔

اسلام در اصل دینِ فطرت ہے یہی سب کا دین ہے، ہر انسان کا دین ہے، رنگ و نسل، خطہ و علاقہ، عہد و عصر اور جنس و عمر کی تخصیص کے بغیر اور اسی لئے اس کا ہر اصول اور قانون انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس نے انسان کو زندگی کا سلیقہ اور بندگی کا طریقہ بخشا ہے۔ یہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کی فطرت پر خالقِ کائنات اللہ رب تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے:…’’اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی ہوئی چیز نہ بدلنا، یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے‘‘ (کنزالایمان… روم:۳۰)

حدیثِ پاک ہے:…’’بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا لیتے ہیں، عیسائی بنا لیتے ہیں، مجوسی بنا لیتے ہیں‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی)

اسلام ہی دینِ فطرت بھی اور دینِ انسانیت بھی

’’اسلام دینِ انسانیت ہے‘‘ سے دو معانی مراد لئے جا سکتے ہیں۔

(۱)اسلام انسانیت یعنی آدمیت، بشریت کا دین ہے، یعنی سارے انسانوں کا دین ہے۔

(۲)انسانیت سے مراد ہے انسانی اقدار یعنی شرافت، انس، محبت، رحمدلی، اخلاق، تہذیب وغیرہ وغیرہ۔

پس اسلام سلامتی کا دین ہے، امن و آشتی کا دین ہے، اخلاق و تہذیب اور شرافت کا دین ہے، رأفت و رحمت اور محبت و رواداری کا دین ہے۔ اس کی دعوت، اسکی تعلیم، اس کی صداقت، اس کی محبت ہر انسان کو عام ہے۔

اسلام کی تعریف ایک مستشرق نے اس طرح کی ہے وہ اسلام کو انگریزی میں لکھتا ہے۔ ISLAM

اس کے پہلے حرف (I) سے مراد لیتا ہے (I) یعنی میں۔

دوسرے حرف (S) سے مراد لیتا ہے Shallیعنی (گا)

تیسرے حرف (L) سے مراد لیتا ہے Love یعنی محبت۔

چوتھے حرف (A) سے مراد لیتا ہے All یعنی سب۔

پانچویں حرف (M) سے مراد لیتا ہے Man Kind بنی نوعِ انسانی۔

مطلب ہوا:… "I shall love all Man kind”

یعنی میں سبھی انسانوں سے پیار کروں گا۔ اور لا ریب یہی اسلام ہے۔

اسلام کسی بھی انسان کے ساتھ ظلم، نا انصافی، کسی کی دل آزاری اور تعصب و فرقہ واریت کے سخت خلاف ہے۔ اسلام امن و آشتی کا علم بردار ہے۔ اصل ستیہ اور اہنسا (سچائی اور عدمِ تشدد۔ Truth and Non-Vorlence) کا علم بردار صرف اور صرف اسلام ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:…’’جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلایا اس نے گویا سب لوگوں کو جلایا‘‘ (مائدہ:۳۲)

جانِ رحمت سیدنا محمد عربی ا کا ارشاد گرامی ہے:…’’مخلوق اللہ کا گھرانہ ہے۔ پس اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہی ہے جو اس کے گھرانے کے لئے فائدہ مند ہو‘‘ ۔

(طبرانی کبیر، طبرانی اوسط، حلیۃ الاولیا، شعب الایمان و غیرہا)

اسلام جو دینِ فطرت ہے، دینِ انسانیت ہے، رحمت و محبت ہے، جس نے انسان کو اس کے پیدا کرنے والے خالق و مالک اور اس کے معبود حقیقی کی معرفت عطا کی، جس نے انسان کو تہذیب و اخلاق اور شرافت و انسانیت کا درس دیا، جہاں گیری و جہاں بانی کے آداب سکھائے۔ افسوس اور حیرت بلکہ ظلم در ظلم!! کہ اعدائِ اسلام اور ظالمانِ زمانہ بالخصوص امریکہ و یورپ اور ایشیامیں ان کے ایجنٹ اسرائیل اور ہمارے ملک بھارت کی فرقہ پرست تنظیموں کے لیڈران اور ارکان، اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے اسلام پر دہشت گردی اور مسلمانوں پر دہشت گرد کا لیبل لگانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ در اصل ان ظالمانِ زمانہ کو اسلام کی حقانیت سے سخت خطرہ ہے جو ان کے شیطانی مشن کے فروغ کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

٭ صرف اسلام ہی انسانیت کا محافظ اور عالمی امن کا ضامن ہے۔

٭ اسلام نے رواداری کا جو تصور پیش کیا ہے تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، یہاں تک کہ اس دور جدید میں بھی یہ تصور نہیں ملتا۔

٭ اسلام نے ذمی کافر کو مسلمانوں ہی کے سے حقوق دئے ہیں۔

٭ اسلام نے غلاموں کو آزادی سے ہمکنار کیا، جبری مزدوری، استحصال، ذخیرہ اندوزی، کالابازاری، سود خوری، بے پردگی، عیاشی، فحاشی اور تمام خرافات و خرابات کا سدِ باب فرما دیا۔

٭ انسان تو انسان اسلام نے تو حیوانات و نباتات کے تحفظ اور ان کی بے حرمتی پر روک لگا دی۔

٭ رحمتِ عالم ﷺ نے (۱)زندہ جانوروں کا گوشت کاٹنے سے منع فرمایا۔ (۲)کسی بھی جانور کو آگ میں جلانے سے منع فرمایا۔ (۳)جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ (۴)کسی بھی جانور کو بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرنے سے منع فرمایا۔

اسلام کی سچائیوں اور اچھائیوں کو اجاگر کرنے کے لئے ایک دفتر ہی نہیں پوری عمر چاہئے۔ یہ ہر انسان کا دین ہے، اسلام ہی ہر انسان کا گھر ہے، یہیں امن ہے، ہر انسان کو اسلام کے گھر میں یعنی اپنے گھر میں لوٹ آنا چاہئے۔

کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے دی

کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے دی

تدوین حدیث کو کتابت حدیث کی صورت ہی میں تسلیم کرنے والے اس بات پر بھی مصر ہیں کہ دوسری اور تیسری صدی میں حدیث کی جمع وتدوین کا اہتمام ہوا، اس سے پہلے محض زبانی حافظوں پر تکیہ تھا ،اس مفروضہ کی حقیقت کیا ہے بعض کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے ،مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔ جب اسلام لوگوں کے قلوب واذہان میں راسخ ہوگیا اور قرآن مجید کا کافی حصہ نازل ہوچکا اور اس چیز کا اب خطرہ ہی جاتا رہا کہ قرآن وحدیث میں کسی طرح کا اختلاط روبعمل آئے گا تو کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے عطافرمائی ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :۔

مامن اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احداکثر حدیثا عنی الاماکان من عبداللہ عمرو ،فانہ کان یکتب ولااکتب ۔(السنۃ قبل التدوین، ۳۰۴)

صحابہ کرام میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ احادیث پاک کا ذخیرہ نہیں سوائے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۔

روی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رجلا من الانصار کان یشہد حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فلایحفظہ فیسأل اباہریرۃ فیحدثہ ،ثم شکا قلۃ حفظہ الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال لہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : استعن علی حفظک بیمینک۔(السنۃ قبل التدوین، ۳۰۴)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتا لیکن احادیث کو یاد نہ رکھ پاتا ،پھرابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کرتا تو وہ اسے احادیث سناتے ،ایک دن اپنے حافظ کی کمی کی شکایت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کی توآپ نے اس سے فرمایا : اپنے حافظے کی مدد اپنے دائیں ہاتھ سے کیا کرو ۔ یعنی حفظ کے ساتھ ساتھ احادیث کو لکھ لیا کرو ۔

روی عن رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہ قال: قلنا : یارسول اللہ ! انا نسمع منک اشیاء افنکتبھا ؟قال : اکتبوا ولا حرج ۔(المعجم الکبیر للطبرانی، ۴/۳۲۹)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم ، ہم آپ سے کچھ چیزیں سنتے ہیں کیا ہم انہیں لکھ لیاکریں ،آپ نے فرمایا : لکھ لیا کرو ۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

روی عن انس بن مالک انہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : قیدوا العلم بالکتاب ۔( المستدرک للحاکم، ۱/۱۰۶)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علم کو تحریر کے ذریعہ مقید کرلو ۔

ان تمام روایات سے ثابت کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر کتابت حدیث کی اجازت عطا فرمائی ۔لہذ بہت صحابہ کرام اقوال کریمانہ کو ضبط تحریر میں لائے اور حضور کے زمانۂ اقدس اور صحابہ کرام کے عہد زریں میں کثیر تعداد میں صحیفے تیار ہوئے ۔

حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس مبارکہ میں بارہا ایسا ہوتا کہ حضور جو فرماتے صحابہ کرام اس کو لکھتے ۔

دارمی شریف کی روایت ہے :۔

عن ابی قبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : سمعت عبداللہ قال: بینما نحن حول رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نکتب اذ سئل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ای المدینتین تفتح اولا قسطنطنیۃ اورومیۃ ؟ فقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لابل مدینۃ ہرقل ۔(السنن للدارمی، ۱/۱۶۲)

حضرت ابو قبیل کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا ، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے لکھ رہے تھے کہ اتنے میں حضور سے پوچھا گیا : یارسول اللہ !دونوں شہروں میں سے پہلے کون فتح ہوگا ،قسطنطنیہ یا رومیہ ؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا : نہیں بلکہ ہرقل کا شہر یعنی قسطنطنیہ ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ایک خطبہ دیا جس کا پس منظر یوں ہے :۔ بنوخزاعہ کے کچھ لوگوں نے بنو لیث کے کسی ایک شخص کو قتل کردیا ،حضور کو اس چیز کی اطلاع دی گئی ،آپ نے ایک سواری پر تشریف فرماہوکر خطبہ شروع فرمایا ،اس مبارک بیان میں مکہ معظمہ کی حرمت اور لوگوں کو قتل وغارت گری سے بچانے کیلئے سخت ہدایات تھیں ،اس خطبہ کی عظمت کے پیش نظر یمنی صحابی حضرت ابوشاہ نے لکھنے کی خواہش ظاہر کی تو حضور نے یہ پورا خطبہ لکھوایاتھا ۔(الجامع للبخاری، کتاب العلم،)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یمن کے گورنر مقرر کئے گئے اور آپ یمن جانے لگے تو حضور نے ان کو ضروری چیزیں لکھواکر مرحمت فرمائیں ،ساتھ ہی اشباہ ونظائر پر قیاس اور استنباط مسائل کی تعلیم سے بھی نوازا۔آپ نے وہاں جاکر جب ماحول کا جائزہ لیا تو بہت سی باتیں الجھن کا باعث تھیں ، لہذا آپ نے ان تمام چیزوں کے متعلق بارگاہ رسالت سے ہدایات طلب کیں جس کے جواب میں حضور نے ان کو ایک تحریر روانہ فرمائی۔( السنن للدار قطنی،)

اسی طرح وائل بن حجر مشہور صحابی جو حضر موت کے شہزادے تھے جب مشرف باسلام ہوئے اور اپنے وطن واپس جانے لگے توحضور سے نماز ،روزہ ،سود اور شراب وغیرہ کے اسلامی احکام لکھوانے کی خواہش ظاہر کی جو آپ کو لکھ کر عنایت کئے گئے ۔

حضرت عمروبن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجب یمن کا حاکم بناکربھیجا گیا تھا تو انہیں بھی فرائض ،صدقات اوردیتوں کے احکام تحریری شکل میں ہی دیئے گئے تھے ۔(کنز العمال للمتقی، ۳/۱۶۶)

آپ کو زکوۃ کے احکام نہایت تفصیل سے بعد میں ارسال کئے گئے تھے جو آپ کے خاندان کے پاس ایک عرصہ تک محفوظ رہے اور حضرت عمربن عبدالعزیز کے زمانۂ خلافت میں ان کے خاندان میں برآمد ہوئے جس کی تفصیل سنن ابودائود میں موجود ہے۔( السنن لابی داؤد۔)

علامہ سید محمود احمد صاحب رضوی لکھتے ہیں :۔

سنن ابو دائود میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں وہ تمام حدیثیں جن کا تعلق مسائل زکوۃ سے تھا یکجا قلم بند کروادیں جس کا نام ’’کتاب الصدقہ ‘‘تھا مگر اسکو عمال وحکام کے پاس روانہ کرنے سے قبل ہی آپ کا وصال ہوگیا تو خلفائے راشدین میں سے سید نا صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے زمانے میں اسے نافذ کیا ،اس کے مطابق زکوۃ کے وصول وتحصیل کا ہمیشہ انتظام رکھا ۔

امام بخاری نے اسی’’ کتاب الصدقہ ‘‘کا مضمون نقل کیا ہے جسے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین کا حاکم بناکر بھجتے وقت انکے حوالے کیا تھا ، اس میں اونٹوں ،بکریوں ،چاندی اورسونے کی زکوۃ کے نصاب کابیان ہے ۔

’’کتاب الصدقہ ‘‘جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو بکر بن حزم کو لکھوائی تھی وہ دوسرے امراء کو بھی بھجی گئی ۔

محصلین زکوۃ کے پاس کتاب الصدقہ کے علاوہ اور بھی تحریریں تھیں ۔

ضحاک بن سفیان صحابی کے پاس حضور کی تحریر کرائی ہوئی ایک ہدایت تھی جس میں شوہر کی دیت کا حکم تھا ۔ حرم مدینہ طیبہ کے سلسلہ میں ایک تحریر حضرت رافع بن خدیج کے پاس تھی نیز حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مجموعہ تیار کیا تھا جو ان کے صاحبزادے کے پاس رہا ۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہرقل کو جو خط لکھا تھا اس کا ذکر کتب صحاح میں ملتا ہے ،اب اس خط کی فوٹوبھی شائع بھی ہوچکی ہے ،صحاح کے بیان اور فوٹو کی تحریر میں ذرہ برابر فرق نہیں (فیوض الباری شرح بخاری، ۱/۲۳)

اسکے علاوہ سلاطین کو دعوت اسلام ،صلح نامے ، معاہدے ، اور امان نامے وغیرہ سیکڑوں چیزیں تھیں جو آپ کے زمانہ اقدس میں تحریری شکل میں موجود تھیں ۔