حفاظت حدیث کے لئے صحابہ نے دور دراز کے سفر کئے

حصول علم حدیث کیلئے صحابہ کرام کا طرزعمل اور جدوجہد کچھ انہیں پر منحصر نہیں ،ایک ایک حدیث کی حفاظت وروایت کیلئے انہوں نے محنت شاقہ کی اوراس دولت کو حاصل کیا ۔

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں جنکو مدینہ ہجرتکرکے حضور کے تشریف لانے پر میزبانی کاشرف حاصل ہوا اور حضور کے شب وروز دیکھنے کا نہایت قریب سے موقع ملا ۔

اس شرف کے حصو ل کے باوجود علم حدیث کیلئے انکی مساعی کااندازہ اس واقعہ سےکیجئے۔

ایک حدیث آپ نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی تھی لیکن اس میں کچھ شبہ محسوس ہوتاتھا، جس مجلس میں وہ حدیث سماعت کی تھی آپکے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی دربار رسالت میں حاضرتھے لیکن ان کا قیام ان دنوں مصر میں تھا ،باقی دوسرے سامعین کا حال کچھ نہیں معلوم ہوسکا ۔لہذا اس شبہ کودورکرنے کیلئے آپ نے مصر کیلئے رخت سفر باندھ لیا اور چل پڑے ، جذبہ شوق میں یہ والہانہ سفر طے ہوا اگر چہ اس وقت بڑھاپے کاعالم تھا ،راستہ بھی نہایت دشوار گذار اور وہ بھی یک و تنہا ،ان کلفتوں کو برداشت کرتے ہوئے

طول طویل راستہ طے کیا اور مہینوں کی مسافت طے کرکے مصر پہونچے ۔اس وقت مصر کے گورنر حضرت مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، آپ سیدھے پہلے انہیں کے یہاں پہونچے ،امیرمصر نے بعد ملاقات دریافت کیا:۔ماجاء بک یااباایوب !اے ابوایوب کس لئے آنا ہوا ۔فرمایا :۔میرے ساتھ ایک آدمی بھیجو جو مجھے عقبہ بن عامر کے مکان تک پہونچادے ، چنانچہ ایک صاحب کو لے کروہاں پہونچے ،جب حضرت عقبہ کو معلوم ہوا تو دوڑ کر باہر آئے اور فرط

شوق میں گلے سے لگالیا اور تشریف آوری کی وجہ پوچھی ،فرمایا:حدیث سمعتہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لم یبق احد سمعہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم غیری وغیرک فی سترالمومن ،قال عقبۃ : نعم ،سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : من ستر مومنا فی الدنیاعلی عورۃ سترہ اللہ یوم القیامۃ ،فقال ابوایوب : صدقت ، (جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۹۴ ٭ ضیاء النبی ۷/۷۹)

ایک حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہے اور اسکا سننے والا اب میرے اور آپکے سوا کوئی دوسرا دنیا میں نہیں ہے اور اس حدیث میں مسلمان کی پردہ پوشی کابیان ہے ، حضرت عقبہ نے کہا: ہاں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوفرماتے سنا : جس نے دنیا میں کسی مومن کی پردہ پوشی کی تواللہ تعالیٰ روز قیامت اسکے عیب نہیں کھولے گا۔حضرت ابوایوب انصاری نے فرمایا: آپ نے سچ فرمایا ۔

اسکے بعد کہتے ہیں : مجھے اس حدیث کا پہلے سے علم تھا لیکن کچھ شبہ ہوگیا تھا جسکی تحقیق کیلئے میں نے آپکے پاس سفرکیا ۔سبحان اللہ یہ تھی ان کی کمال احتیاط ، اسکے بعد کیا ہوا سنئے ۔

فاتی ابوایوب راحلتہ فرکبہا وانصرف الی المدینۃ وماحل رحلہ ۔(۴۵۔ جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۹۴)

حضرت ابوایوب نے اس حدیث کو سنتے ہی مدینہ شریف کی طرف مراجعت فرمائی اورمصر میں اپنی سواری کاکجاوہ بھی نہ کھولا ۔یعنی مصر آنے کا مقصد حدیث کے الفاظ کی تصدیق کے سواکچھ نہ تھا ،

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان جلیل القدر صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں

جنکو مکثرین کہاجاتاہے ، آپ کے سلسلہ میں بھی اسی طرح کاایک واقعہ بیان کیاجاتاہے ۔

آپ نے ایک حدیث حضرت عبداللہ بن انیس انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطہ سے سنی ،شوق دامنگیرہوا کہ خود ان سے یہ حدیث سنی جائے ،آگے کا واقعہ خود انہیں کی زبان سے

سنئے اور طلب حدیث میں انکی جانفشانی کی داد دیجئے ۔فرماتے ہیں ۔

بلغنی حدیث عن رجل من اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فابتعت بعیرافشدد ت علیہ رحلی ثم سرت الیہ شہرا حتی قدمت الشام ،فاذا عبداللہ بن انیس الانصاری فاتیت منزلہ وارسلت الیہ ان جابرا علی الباب فرجع الی الرسول فقال : جابر بن عبداللہ ،فقلت : نعم ، فخرج الی فاعتنقتہ واعتنقنی ،قال : قلت ؛ حدیث بلغنی عنک انک سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،قال :نعم، سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : یحشرالناس یوم القیامۃ فینادیہم بصوت یسمعہ من بعد کما یسمعہ من قرب ،اناالملک الدیان لاینبغی لاہل الجنۃ ان یدخل الجنۃ وواحد من اہل النار یطلبہ بمظلمۃ حتی یقتصہ منہ حتی اللطمۃ ۔(جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۹۳ ضیاء النبی ۷/۸۰اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابۃ للجزری، ۳/۱۷۸)

مجھے ایک حدیث کے بارے میں پتہ چلا کہ حضرت عبداللہ بن انیس انصاری اس حدیث کوبیان کرتے تھے ،میں نے اسی وقت ایک اونٹ خریدااوراس پر اپنا کجاوہ کسا اورایک ماہ کا سفر طے کرکے ملک شام پہونچا ،حضرت عبداللہ کے گھر پہونچ کر اطلاع کرائی کہ دروازہ پرجابر کھڑاہے ،قاصد نے باہر آکر کہاکیا آپ جابربن عبداللہ ہیں ، میں نے کہا: ہاں ،یہ سنتے ہی آپ فوراً دولت خانہ سے باہرآئے اور فرط شوق میں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے ،پھرمیں نے اپنامدعا بیان کیا ،کہ مظالم کے سلسلہ میں ایک حدیث کے بارے میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ، میں اس حدیث کو براہ راست نہیں سن سکا ہوں لہذا مجھے وہ حدیث سنائیں میرے آنے کا واحد مقصد یہ ہی ہے فرمایا:۔

میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : قیامت کے دن لوگ جمع ہونگے ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا ہوگی اوراسکو دورونزدیک کے سب لوگ سنیں گے ،اللہ تعالیٰ فرمائیگا ، میں ذرہ ذرہ کا حساب کرنے والا بادشاہ ہوں ، کوئی جنتی اس وقت تک جنت میں نہیں جائیگا جب تک کسی دوزخی کاحساب اسکے ذمہ باقی ہے پہلے اسکا قصاص دے خواہ ایک تھپڑہی ہو ۔

ایک ایک حدیث کے حصول کے لئے اتنے طویل سفر اس بات کابین ثبوت ہیں کہ حضرات صحابہ کرام نے حفاظت حدیث کا جو بیڑا اٹھایا تھا اسکو اپنے عمل وکردار سے سچ کرکے دکھایا ، تاریخ عالم اس غایت احتیاط اورکمال تفحص کی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے ۔

اما م دارمی نے ایک واقعہ یوں بیان فرمایا۔

ان رجلا من اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رحل الی فضالۃ بن عبداللہ وھو بمصر فقدم علیہ وہو یمد لناقۃ لہ ،فقال : مرحبا ،قال : اماانی لم آتک زائراً ولکن سمعت انا وانت حدیثا من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

رجوت ان یکون عندک منہ علم۔ (السنن للدارمی)

ایک صحابی سفر کرکے حضرت فضالہ بن عبداللہ کے پاس مصر پہونچے ،اس وقت حضرت فضالہ اپنی اونٹنی کیلئے چارہ تیار کررہے تھے ،کہتے ہیں : مجھے دیکھ کر بیساختہ انہوں نے خوش آمدید کہا ، میں نے کہا: میں آپ سے محض ملاقات کیلئے نہیں آیا بلکہ میرامقصد یہ ہے کہ میں نے اور

آپ نے حضور سے ایک حدیث سنی تھی ،امید ہے کہ آپکو یادہوگی وہ مجھے سنائو ،

اور حضرت ابوسعید خدری مشہور صحابی کے بارے میں تو کہاجاتاہے :۔

ان ابا سعید رجل فی حرف ۔

حضرت ابوسعید خدری نے تو محض ایک حرف حدیث کی تحقیق کیلئے باقاعدہ سفر کیا ۔

یہ تمام واقعات اوران جیسے صدہا واقعات اس چیز کا بین ثبوت ہیں کہ صحابہ کرام کے درمیان احادیث کریمہ کے حفظ وضبط کا خصوصی اہتمام اورعام رواج تھا ،ہرشخص ممکنہ حد تک اس بات کیلئے مستعد رہتا کہ سنت رسول کاعلم جس طرح بھی ہوحاصل کیاجائے ،اسکا آپس میں خوب ورد کیاجائے تاکہ سب لوگ اس سے بخوبی واقف ہوجائیں ۔