*درس 007: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَلَا يَجِبُ غَسْلُ مَا اسْتَرْسَلَ مِنْ اللِّحْيَةِ عِنْدَنَا، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ يَجِبُ (لَهُ) أَنَّ الْمُسْتَرْسِلَ تَابِعٌ لِمَا اتَّصَلَ، وَالتَّبَعُ حُكْمُهُ حُكْمُ الْأَصْلِ.

وَ (لَنَا) أَنَّهُ إنَّمَا يُوَاجِهُ إلَى الْمُتَّصِلِ عَادَةً، لَا إلَى الْمُسْتَرْسِلِ، فَلَمْ يَكُنْ الْمُسْتَرْسِلُ وَجْهًا، فَلَا يَجِبُ غَسْلُهُ

اور ہم حنفیوں کے نزدیک داڑھی کے لٹکتے بالوں کا دھونا لازم نہیں، اور امام شافعی کے نزدیک لازم ہے۔ امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ داڑھی کے لٹکتے بال چہرے سے متصل داڑھی کے تابع (حصہ) ہے۔ اور جو اصل کا حکم ہوتا ہے وہی تابع کا حکم ہوتا ہے۔

اور ہم حنفیوں کی دلیل یہ ہے کہ جو بال روبرو ہوتے ہیں وہ چہرہ پر متصل داڑھی کے ہیں نہ کہ لٹکتی داڑھی کے بال۔ وہ چہرہ کی حدود میں داخل نہیں لہذا اس کا دھونا بھی ضروری نہیں۔

وَإِدْخَالُ الْمَاءِ فِي دَاخِلِ الْعَيْنَيْنِ لَيْسَ بِوَاجِبٍ؛ لِأَنَّ دَاخِلَ الْعَيْنِ لَيْسَ بِوَجْهٍ؛ لِأَنَّهُ لَا يُوَاجَهُ إلَيْهِ؛ وَلِأَنَّ فِيهِ حَرَجًا، وَقِيلَ: إنَّ مَنْ تَكَلَّفَ لِذَلِكَ مِنْ الصَّحَابَةِ كُفَّ بَصَرُهُ، كَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.

اور دونوں آنکھوں کے اندرونی حصہ کا دھونا لازم نہیں ہے، اسلئے کہ اندرونی حصہ چہرہ کی تعریف میں شامل نہیں اور نہ ہی اس کی طرف روبرو ہوا جاتا ہے، اور اسلئے بھی ضروری نہیں کہ اسکے دھونے میں حرج ہے۔ روایتوں میں بیان کیا گیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے اندرونی حصہ کو دھونے میں تکلف سے کام لیا تو انکی بینائی متاثر ہوگئی۔ جیسے عبداللہ ابن عباس اور عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہم۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

داڑھی کے لٹکتے بالوں کا دھونا ضروری نہیں کیونکہ وہ چہرے کی حدود میں شامل نہیں۔

مجھے امید ہے آپ کو اس حوالے سے مزید سمجھانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ ہم ہچھلے دروس میں چہرے کی تعریف اور حدود سمجھ چکے ہیں۔

یہ بات یاد رکھیں یہاں جو ہم *ضروری نہیں*، *لازم نہیں* کہہ رہے ہیں اسکا مطلب ہے فرض نہیں، سنت ہے یا نہیں یہ بعد کی بحث ہے، فرض پورا ہونے سے فائدہ یہ ہوگا کہ وضو درست ہوجائے گا اور نماز بھی جائز۔

اب رہا یہ مسئلہ کہ آنکھوں کے اندرونی حصہ کا دھونا ضروری ہے کہ نہیں۔ تو ان کا دھونا ضروری نہیں بلکہ دھونے میں شدید نقصان کا اندیشہ ہے، بعض صحابہ نے اس میں تکلف سے کام لیا تو انکی بینائی متاثر ہوگئی۔

لیکن علامہ کاسانی نے کہا ہے کہ آنکھوں کا اندرونی حصہ چہرہ میں شامل نہیں ہے، یہ بات فقیر اپنی ناقص عقل اور کم فہمی کے سبب نہیں سمجھ سکا کہ آنکھوں کا اندرونی حصہ چہرے کی حدود میں کیوں شامل نہیں۔۔ اسکا دھونا نہ دھونا الگ مسئلہ ہے، خیر میں نے دیگر کتب فقہ میں اسکی وضاحت ڈھونڈنا چاہی مگر نہیں ملی بلکہ یہی ملا کہ اندرونی حصے کا دھونا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس میں حرج ہے۔

اور اسی حرج کی وجہ سے یہ مسئلہ بھی رد المحتار میں پڑھا کہ اگر کسی نے ناپاک سرمہ آنکھوں میں لگایا تو اندرونی حصہ دھونا فرض نہیں معاف ہے کیونکہ اس میں حرج یے۔

*حرج:* یہ ایک فقہی اصطلاح ہے، جب کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں شدید قسم کی مشکل ہیش آئے تو شریعت وہاں آسانی فراہم کردیتی ہے۔

یہاں چہرہ دھونے کے مسائل ختم ہوئے، ایک نظر بہار شریعت میں وضو میں چہرہ دھونے کے مسائل ضرور پڑھ لیں۔۔ تاکہ سب مسائل کلئیر ہوسکیں۔

اگلی پوسٹ ہاتھ دھونے کے مسائل سے متعلق ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*