فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ‌ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ ۖ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 159

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ‌ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ ۖ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ

ترجمہ:

سو اللہ کی عظیم رحمت سے آپ مسلمانوں کیلیے نرم ہوگئے اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو وہ ضرور آپ کے پاس سے بھاگ جاتے تو آپ ان کو معاف کردیں اور ان کے لیے استغفار کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ لیں اور جب آپ (کسی کام کا) عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں ‘ بیشک اللہ توکل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اللہ کی عظیم رحمت سے آپ مسلمانوں کے لیے نرم ہوگئے اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو وہ ضرور آپ کے پاس سے بھاگ جاتے تو آپ ان کو معاف کردیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ (آل عمران : ١٥٩) 

بعض مسلمان جنگ احد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے بھاگ گئے تھے ‘ بعد میں وہ آپ کے پاس لوٹ آئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر کوئی گرفت نہیں کی نہ سختی کی بلکہ نہایت نرم اور ملائم طریقہ سے ان سے گفتگو فرمائی ‘ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو معاف کردیا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسلمانوں پر اس نرمی کی تعریف فرمائی ہے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عفو و درگذر کے متعلق قرآن مجید کی آیات : 

(آیت) ” واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین “۔ (الشعراء : ٢١٥) 

جن مسلمانوں نے آپ کی پیروی کی ان کے لیے اپنی رحمت کے بازوجھکا دیجئے۔ 

(آیت) ” خذالعفو وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین “۔ (الاعراف : ١٩٩)

ترجمہ : معاف کرنا اختیار کیجئے نیکی کا حکم دیجئے ‘ اور جاہلوں سے اعراض کیجئے۔ 

(آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم “۔ (التوبہ : ١٢٨) 

ترجمہ : بیشک تمہارے پاس تم میں سے ایک عظیم رسول آگئے ہیں جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت دشوار ہے جو تمہاری (آسانی پر) بہت حریص ہیں اور ایمان والوں پر بہت شفیق اور بہت مہربان ہیں۔ 

(آیت) ” انک لعلی خلق عظیم “ (القلم : ٤) 

ترجمہ : بیشک آپ بہت عظیم خلق پر فائز ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عفو و درگزر اور حسن اخلاق کے متعلق احادیث : 

امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تقاضا کیا اور بہت بدکلامی کی ‘ آپ کی اصحاب نے اس کو مارنے کا ارادہ کیا ‘ آپ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو ‘ کیونکہ صاحب حق کے لیے بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے اور ایک اونٹ خرید کر اس کا حق ادا کردو ‘ صحابہ نے کہا اس وقت جو اونٹ دستیاب ہیں اس کے اونٹ سے افضل ہیں۔ 

آپ نے فرمایا وہی خرید کر اس کو ادا کردو ‘ کیونکہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض اچھی طرح ادا کرے۔ (صبح بخاری ج ١ ص ٣٢٣‘ ٣٢١‘ ٣٠٩‘ طبع کراچی) 

اگر وہ شخص کوئی مسلمان اعرابی تھا تو بدکلامی کا مطلب ہے اس نے قرض کی واپسی کا سختی سے مطالبہ کیا اور اگر وہ شخص یہودی یا کافر تھا تو اس بد کلامی سے کفریہ کلام بھی مراد ہوسکتا ہے۔ 

سراقہ بن مالک کو معاف کردینا : 

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے خلاف دعا ضرر کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا ‘ اس نے کہا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے میں آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچاؤں گا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا کی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٥٥٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی) 

عبدالرحمن بن مالک المدلجی (سراقہ بن مالک کے بھتیجے) روایت کرتے ہیں کہ سراقہ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور انہوں نے کہا قریش نے یہ اعلان کیا ہے کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر کو قتل کرے گا یا ان کو گرفتار کرکے لائے گا تو ہر ایک کے بدلہ میں اس کو سو اونٹ انعام میں دئیے جائیں گے ‘ اسی وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا میں نے ساحل کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ دیکھے ہیں اور میرا گمان ہے کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب ہیں میں نے اس کو ٹالنے کیلیے کہا وہ نہیں ہوں گے لیکن تم نے فلاں فلاں کو دیکھا ہوگا میں تھوڑی دیر تک وہاں بیٹھا رہا پھر میں گھر گیا اور میں نے اپنی کینز سے کہا کہ میری گھوڑی کو فلاں ٹیلے کے پیچھے لے جاؤ میں اپنا نیزہ لے کر گھوڑی پر سوار ہوا حتی کہ میں نے کے قریب جا پہنچا پھر میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر فال نکالی تو وہ میرے خلاف نکلی لیکن میں نے فال والے تیر کی مخالفت کی اور آپ کا پیچھے کرتا رہا حتی کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی ‘ آپ ادھر ‘ ادھر نہیں دیکھ رہے تھے اور حضرت ابوبکر ادھر ادھر دیکھ رہے تھے اچانک میری گھوڑی کے دونوں اگلے پیر زمین میں دھنس گئے اور میں زمین پر گھر گیا میں نے اس کو ڈانٹا لیکن اس کے پیر زمین سے نہیں نکل سکے میں نے پھر تیر سے فال نکلی تو میرے خلاف نکلی میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کو امان دینے کا اعلان کیا وہ ٹھہر گئے اور میں پھر اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر ان کے پاس گیا اور جس وقت میری گھوڑی زمین میں دھنس گئی تھی اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ عنقریب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین غالب ہوجائے گا ‘ میں نے آپ کو بتایا کہ آپ کی قوم نے آپ کے اوپر سواونٹوں کا انعام رکھا تھا اور یہ بتایا کہ قریش آپ کو قتل کرنے یا آپ کو گرفتار کرنے کے درپے ہیں اور میں نے آپ کو زاد راہ اور متاع پیش کیا ‘ آپ نے اس کو قبول نہیں فرمایا اور مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا صرف اتنا فرمایا کہ ہمارے معاملہ کو مخفی رکھنا میں نے آپ سے یہ سوال کیا کہ آپ مجھے امان لکھ کردیں آپ نے عامر فہیرہ کو حکم دیا اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر امان لکھ دی پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مدینہ کی طرف) روانہ ہوگئے (صحیح بخاری ج ١ ص ٥٥٤‘ طبع کراچی) 

غور کیجئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کو امان لکھ کر دے رہے ہیں جو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں آپ کو قتل کرنے کیلیے نکلا تھا ! 

عمیر بن وہب کو معاف کردینا : 

امام عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں قریش کی شکست کے بعد عمیربن وھب اور صفوان بن امیہ حطیم کعبہ میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے ‘ عمیر بن وہب قریش کے شیطانوں میں سے ایک بڑا شیطان تھا ‘ اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو بہت ایذاء پہنچایا کرتا تھا ‘ اور مکہ میں آپ نے اور آپ کے اصحاب نے اس سے بہت تکلیفیں اٹھائی تھیں ‘ عمیر کا بیٹا وہب بن عمیر بدر کے قیدیوں میں تھا ‘ انہوں نے مقتولین بدر کا ذکر کیا ‘ صفوان نے کہا خدا کی قسم ان کے بعد اب زندہ رہنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ‘ عمیر نے کہا تم نے سچ کہا ‘ خدا کی قسم اگر میں نے قرض نہ دینا ہوتا جس کی میرے پاس گنجائش نہیں ہے اور مجھے اپنے بال بچوں کے ضائع ہوجانے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ابھی راونہ ہوتا تو میں ابھی روانہ ہوتا اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر کے آتا ‘ صفوان نے اس بات کو غنیمت جانا اور کہا تمہارے قرض کا میں ضامن ہوں اور تمہارے بال بچے میرے بچوں کے ساتھ رہیں گے اور جب تک وہ زندہ رہیں گے ان کا خرچ میں اٹھاؤں گا ‘ اس معاہدہ کے بعد عمیر نے اپنی تلوار کو زہر میں ڈبویا اور مدینہ پہنچ گیا ‘ حضرت عمر بن الخطاب صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے جنگ بدر کے متعلق باتیں کر رہے تھے ‘ اچانک حضرت عمر (رض) نے دیکھا کہ عمیر بن وھب ہے یہ تلوار لٹکائے ہوئے آیا ہے ‘ آپ نے فرمایا اس کو میرے پاس لاؤ‘ حضرت عمر (رض) اس کو لے کر آئے اس کی گردن سے اس کو تلوار کی پیٹی پکڑلی اور اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بٹھا دیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اے عمر اس کو چھوڑ دو ‘ اور عمیر سے کہا میرے قریب آؤ اس نے کہا صبح بخیر یہ زمانہ جاہلیت کا سلام تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمارا اسلام تمہارے سلام سے بہتر ہے اور وہی اہل جنت کا سلام ہے ‘ آپ نے اس سے پوچھا اے عمیر ! تم کس لیے آئے ہو ! اس نے کہا آپ کے پاس جو ہمارے قیدی ہیں ان کے متعلق یہ کہنے آیا ہوں کہ آپ ان پر احسان کریں ‘ آپ نے فرمایا پھر تمہارے گلے میں یہ تلوار کیسی ہے ؟ اس نے کہا ان تلواروں کے لیے خرابی ہو انہوں نے ہم سے کون سی مصیبت دور کردی ہے ! آپ نے فرمایا کیا تم سچ کہہ رہے ہو تم اسی لیے آئے ہو ؟ اس نے کہا خدا کی قسم میں اسی لیے آیا ہوں ‘ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم اور صفوان بن امیہ صحن کعبہ میں بیٹھے ہوئے تھے تم نے مقتولین بدر کا ذکر کیا پھر تم نے کہا اگر مجھ پر قرض اور بچوں کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں ابھی روانہ ہوجاتا اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرکے آتا ‘ پھر صفوان اس شرط پر تمہارے قرض اور تمہارے بچوں کی کفالت کا ضامن ہوگیا کہ تم مجھے قتل کردو گے اور تمہارے اور تمہارے اس ارادہ کے پورا ہونے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا ‘ یہ سن کر عمیر نے بےساختہ کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ یا رسول اللہ پہلے ہم آسمانی خبروں اور وحی کے متعلق آپ کی تکذیب کرتے تھے ‘ اور یہ ایسی خبر ہے ‘ جس کے موقع پر میرے اور صفوان کے سوا اور کوئی موجود نہیں تھا ‘ خدا کی قسم ! مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ بات صرف اللہ نے بتائی ہے اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ‘ اس نے کلمہ شہادت پڑھا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہارا دینی بھائی ہے اس کو قرآن کی تعلیم دو ‘ اور اس کے قیدی کو آزاد کردو ‘ پھر حضرت عمیر بن وھب مکہ چلے گئے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگے اور جس طرح پہلے مسلمانوں پر ظلم کرتے تھے اب مشرکین کے خلاف تیغ بےنیام رہتے تھے ‘ ان کی تبلیغ سے بہت لوگ مسلمان ہوگئے۔ (السیرۃ النبویہ ج ٢ ص ٢٧٢‘ الروض الانف ج ٣ ص ١١٤‘ بیروت الاستیعاب رقم : ٢٠٢٠‘ اسدالغابہ رقم : ٤٠٩٦‘ الاصابہ رقم : ٦٠٧٣) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر میں بجھی ہوئی تلوار لے کر آیا وہ آپ کی نرمی اور حسن اخلاق کو دیکھ کر نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ اسلام کا مبلغ بن گیا : 

عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانا : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمر ابن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول فوت ہوگیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا گیا ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں دوڑ کر آپ کے پاس گیا میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ ابن ابی کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں ؟ حالانکہ اس نے فلاں دن یہ اور یہ کہا تھا (کہ مدینہ پہنچ کر عزت والے ذلت والوں کو نکال دیں گے اور یہ کہا تھا کہ جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں جب تک وہ آپ کا ساتھ چھوڑ نہ دیں اس وقت ان پر خرچ نہ کرو اور حضرت عائشہ (رض) پر بدکاری کی تہمت لگائی تھی جس سے آپ کو سخت رنج پہنچا تھا ‘ اور آپ سے کہا تھا کہ اپنی سواری دور کرو مجھے اس سے بدبو آتی ہے ‘ جنگ احد میں عین لڑائی کے وقت اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر لشکر سے نکل گیا) میں آپ کو یہ تمام باتیں گنواتا رہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبسم فرما کر کہا۔ ” اپنی رائے کو رہنے دو “ جب میں نے بہت اصرار کیا تو آپ نے فرمایا مجھے اختیار دیا گیا ہے (کہ استغفار کرو یا نہ کرو) سو میں نے (استغفار کرنے کو) اختیار کرلیا اور اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ اگر میں نے ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کیا تو اس کی مغفرت کردی جائے گی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرتا ‘ حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ الحدیث (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٦٧٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس معاملہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا میری قمیص اور اس پر میری نماز جنازہ اس سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کرسکتی اور بیشک مجھے یہ امید ہے کہ میرے اس عمل سے اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام لے آئیں گے۔ (جامع البیان ج ١٠ ص ‘ ١٤٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

سو آپ کی اس نرمی اور حسن اخلاق کو دیکھ کر عبداللہ بن ابی کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام لے آئے۔ 

فتح مکہ کے بعد ابوسفیان اور ہند کو معاف کردینا : 

اما ابوالحسن علی بن ابی الکرم الشیانی المتوی ٦٣٠ ھ بیان کرتے ہیں : 

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نین مکہ فتح کرلیا تو ابوسفیان بن الحارث اور عبداللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی اور حضرت ام سلمہ (رض) نے ان کی سفارش کی ‘ ابوسفیان نے کہا مجھے باریاب ہونے کی اجازت نہیں ملی تو میں اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر زمین میں نکل جاؤں گا اور بھوکا پیاسا مرجاؤں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنا تو آپ کا دل نرم ہوگیا اور آپ نے ان کو اجازت دے دی اور انہوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیا ‘ ایک قول یہ ہے کہ حضرت علی (رض) نے ابو سفیان سے کہا تم حضور کے سامنے کی طرف سے جانا اور آپ سے وہی کہنا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا تھا۔ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی ہے اور بیشک ہم ہی قصوروار تھے ‘ انہوں نے اسی طرح کہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو معاف فرمائے اور وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ‘ آپ نے ان کو قریب بٹھایا اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ابو سفیان نے اپنی پچھلی تمام زیادتیوں پر معافی مانگی ‘ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عباس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوسفیان فخر کو پسند کرتا ہے ‘ اس کو کوئی ایسی چیز عنایت کیجئے جس کی وجہ سے یہ اپنی قوم میں فخر کرے ‘ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوگا اس کو امان ہے اور جو شخص حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہوگا اس کو امان ہے اور جو شخص مسجد میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے اور جس نے اپنے گھر کا دروازبند کرلیا اس کو امان ہے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ١٦٦۔ ١٦٤‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت) 

جب آپ کے سامنے ہند کو پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کیا یہ ہند ہے ؟ ہند نے کہا میں ہند ہوں ‘ اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ میری پچھلی باتوں کو معاف کر دیجئے ‘ ہند کے ساتھ اور بھی عورتیں تھیں۔ آپ نے ان سے عہد لیا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گی ‘ چوری نہیں کریں گی ‘ بدکاری نہیں کریں گی ‘ اولاد کو قتل نہیں کریں گی کسی بےقصور پر بہتان نہیں باندھیں گی ‘ کسی نیک کام میں حضور کی نافرمانی نہیں کریں گی ‘ پھر آپ نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا ان سے بیعت لو ‘ اور ان سب کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ١٧٢۔ ١٧١‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت) 

فتح مکہ کے بعد صفوان بن امیہ کو معاف کردینا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ صفوان بن امیہ (یہی وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے لیے عمیر بن وہب کو مدینہ بھیجا تھا) جدہ جانے کے لیے مکہ سے نکلا تاکہ جدہ سے یمن چلا جائے ‘ حضرت عمیربن وہب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! صفوان بن امیہ اپنی قوم کا سردار ہے اور وہ آپ کے خوف سے بھاگ رہا ہے تاکہ اپنے آپ کو سمندر میں گرا دے آپ اس کو امان دے دیجئے ‘ آپ نے فرمایا اس کو امان ہے ‘ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مجھ کو کوئی ایسی چیز عنایت کیجئے جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے اس کو امان دے دی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنا وہ عمامہ عطا فرمایا جس کو پہن کر آپ مکہ میں داخل ہوئے تھے ‘ حضرت عمیر وہ عمامہ لے کر گئے اور ان کو جدہ میں جالیا اس وقت وہ جہاز میں سوار ہونے کا ارادہ کر رہے تھے ‘ انہوں نے کہا اے صفوان ! اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے بجائے اپنے دل میں اللہ کو یاد کرو ‘ دیکھو یہ امان ہے جو میں تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر آیا ہوں ‘ صفوان نے کہا تم چلے جاؤ‘ حضرت عمیر نے کہا اے صفوان ‘ وہ سب سے زیادہ افضل ‘ سب سے زیادہ نیک ‘ سب سے زیادہ حلیم اور سب سے اچھے ہیں ‘ حضرت عمیر (رض) صفوان کو حضور کے پاس لے آئے ‘ صفوان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ‘ اس کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے مجھے امان دے دی ہے ! آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا ‘ صفوان نے کہا مجھے اسلام لانے کے لیے دو ماہ کی مہلت دیجئے آپ نے فرمایا میں تمہیں چار ماہ کی مہلت دیتا ہوں۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٣٣٩۔ ٣٣٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ کتاب المغازی للواقدی ج ٢ ص ٨٥٣‘ الکامل لابن الاثیر ج ٢ ص ١٦٨‘ البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٣٠٨) 

فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل کو معاف کردینا : 

امام ابن اثیر شیبانی متوفی ٦٣٠ ھ لکھتے ہیں : 

عکرمہ بن ابی جہل بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچانے ‘ آپ سے عداوت رکھنے اور آپ کے خلاف جنگوں میں پیشہ صرف کرنے میں اپنے باپ کی مثل تھا ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کو فتح کرلیا تو اس کو اپنی جان کا خوف ہوا اور وہ یمن کی طرف بھاگ گیا ‘ لیکن اس کی بیوی ام حکیم بنت الحارث مسلمان ہوگئیں اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عکرمہ کے لیے امان طلب کی ‘ اور اپنے ساتھ ایک رومی غلام لے کر اس کو ڈھونڈنے نکلیں ‘ انہوں نے عرب کے بعض قبیلوں کی مدد سے عکرمہ کو جا لیا ‘ اس وقت عکرمہ سمندر کے سفر کا ارادہ کر رہے تھے ‘ ام حکیم نے کہا میں تمہارے پاس اس شخص کے ہاں سے آئی ہوں جو لوگوں میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں سب سے زیادہ حلیم ہیں اور سب سے زیادہ کریم ہیں ‘ اور انہوں نے تم کو امان دے دی ہے ‘ جب عکرمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت خوش ہوئے ‘ پھر عکرمہ مسلمان ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ درخواست کی کہ وہ اس کے لیے استغفار کریں پھر آپ نے ان کے لیے استغفار کیا۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ١٦٨‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت) 

امام ابن عساکرمتوفی ٧٥١ ھ روایت کرتے ہیں : 

جب عکرمہ کشتی میں سوار ہوئے تو سخت ہوا چلی انہوں نے اس وقت لات اور عزی کو پکارا کشتی والوں نے کہا اس موقع پر اخلاص کے ساتھ صرف اللہ وحدہ لاشریک کو پکارا جائے اور کسی کو پکارنا جائز نہیں ‘ عکرمہ نے سوچا اگر سمندر میں صرف اسی کی الوہیت ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو پھر خشکی میں بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر دل میں عہد کیا کہ وہ ضرور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر رجوع کریں گے۔ سو انہوں نے آپ کے پاس جا کر آپ سے بیعت کرلی (مختصر تاریخ دمشق ج ١٧ ص ١٣٤) 

نیز امام ابن عساکرمتوفی ٧٥١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جس روز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہجرت کرکے پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا ـ: راکب (سوار) مہاجر کو خوش آمدید ہو ‘ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی میں کیا کہوں ؟ فرمایا کہو : اشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ “ میں نے عرض کیا : میں پھر کیا کہوں فرمایا : کہو : اے اللہ ! میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں مہاجر اور مجاہد ہوں ‘ سو انہوں نے اسی طرح کہا ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھ سے جس کسی چیز کا سوال کرو گے جو میں لوگوں کو عطا کر رہا ہوں گا تو میں وہ تم کو ضرور عطا کروں گا ‘ حضرت عکرمہ (رض) نے کہا میں آپ سے کسی مال کا سوال نہیں کروں گا ‘ میں قریش میں بہت زیادہ مالدار ہوں ‘ لیکن میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں اور کہا میں نے پہلے جتنا مال لوگوں کو اللہ کی راہ میں روکنے کے لیے خرچ کیا تھا۔ خدا کی قسم اگر اللہ نے مجھے لمبی زندگی دی تو میں اس سے دگنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا۔ 

ایک اور روایت میں ہے جب عکرمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرط خوشی سے کھڑے ہوگئے ‘ اور فرمایا اس مہاجر کو مرحبا ہو ! 

(مختصر تاریخ دمشق ج ١٧ ص ١٣٣۔ ١٣٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ کتاب المغازی للواقدی ج ٢ ص ٨٥١‘ تاریخ الامم والملوک ج ٢ ص ٣٣١‘ البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٢٩٨‘ سیرۃ النبویہ لابن ہشام مع الروض الانف ج ٢ ص ٢٧٨) 

فتح مکہ کے بعد (طائف میں) وحشی کو معاف کردینا : 

وحشی بن حرب ‘ جبیر بن مطعم کے غلام تھے ‘ ایک قول یہ ہے کہ بنت الحارث بن عامر کے غلام تھے ‘ حارث بن عامر کی بیٹی نے ان سے کہا میرا باپ جنگ بدر میں قتل کردیا گیا تھا اگر تم نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حمزہ یا علی بن ابی طالب ان تینوں میں سے کسی ایک کو قتل کردیا تو تم آزاد ہو ‘ جنگ احد میں وحشی نے حضرت سیدنا حمزہ (رض) کو قتل کردیا تھا ‘ اور اس قتل سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت اذیت پہنچی تھی ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو یہ جان کے خوف سے طائف بھاگ کر چلے گئے تھے ‘ پھر ایک وفد کے ساتھ آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی اور کلمہ پڑھ لیا ‘ حافظ ابن عساکر نے ان کے اسلام قبول کرنے کا بہت تاثر انگیز واقعہ نقل کیا ہے۔ 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (رض) کے قاتل وحشی کو بلایا اور ان کو اسلام کی دعوت دی ‘ وحشی نے کہا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے کس طرح اپنے دین کی دعوت دے رہے ہیں حالانکہ میں نے شرک کیا ہے ‘ قتل کیا ہے اور زنا کیا ہے اور آپ یہ پڑھتے ہیں : 

(آیت) ” والذین لایدعون مع اللہ الھا اخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون ومن یفعل ذالک یلق اثاما، یضعف لہ العذاب یوم القیامۃ ویخلد فیہ مھانا “۔ (الفرقان : ٦٩۔ ٦٨) 

اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس شخص کے قتل کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ (مثلا قصاص میں) اور زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسا کرے گا وہ سزا پائے گا، قیامت کے دن اس کے عذاب کو دگنا کردیا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا۔ 

جب وحشی نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل کردی : 

(آیت) ” الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا فاولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت وکان اللہ غفورا رحیما، (الفرقان : ٧٠) 

ترجمہ : لیکن جو (موت سے پہلے) توبہ کرلے ‘ اور ایمان لے آئے اور نیک کام کرے تو اللہ ان لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

وحشی نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بہت سخت شرط ہے کیونکہ اس میں ایمان لانے سے پہلے کے گناہوں کا ذکر ہے ‘ ہوسکتا ہے مجھ سے ایمان لانے کے بعد گناہ ہوجائیں تو پھر ایمان لانے کے بعد اگر میری بخشش نہ ہو تو پھر میرے ایمان لانے کا کیا فائدہ ! 

تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : 

(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ (النساء : ٤٨) 

ترجمہ : بیشک اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے علاوہ جو گناہ ہو اسے جس کے لیے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ 

وحشی نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آیت میں تو مغفرت اللہ کے چاہنے پر موقوف ہے ‘ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ مجھے بخشنا نہ چاہے پھر میرے ایمان لانے کا کیا فائدہ ! تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : 

(آیت) ” قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسیم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم “۔ (الزمر : ٥٣) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ اے میرے بندو ‘ جو اپنی جانوں پر زیادتیاں کرچکے ہو ‘ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بیشک وہی بہت بخشنے والا ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

وحشی نے کہا اب مجھے اطمینان ہوا پھر اس نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا ‘ صحابہ نے پوچھا یہ بشارت آیا صرف وحشی کے لیے ہے یا سب کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا سب کے لیے ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ وحشی امان طلب کرکے آیا اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسلام قبول کرنے کے متعلق یہی شرائط پیش کیں اور آپ نے یہی جوابات دیئے (مختصر تاریخ دمشق ج ٢٦ ص ‘ ٢٦٣۔ ٢٦٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

غور فرمائیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کی ایک ایک شرط پوری کرکے اور اس کا ایک ایک ناز اٹھا کر اس کو کلمہ پڑھا رہے ہیں اور جنت کا راستہ دکھا رہے ہیں جو آپ کے انتہائی عزیز چچا کا قاتل تھا ‘ اگر کوئی شخص ہمارے کسی عزیز رشتہ دار کو قتل کرکے ہم سے دنیا کی کسی جگہ کا راستہ پوچھے تو ہم اس سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے تو ان کے ظرف کی عظمت کا کیا کہنا جو ایسے شخص کا ایک ایک نخرہ پورا کرکے اسے جنت کا راستہ دکھا رہے ہیں ! 

ہبار بن الاسود کو معاف کردینا : 

امام محمد بن عمر واقدی متوفی ٢٠٧ ھ روایت کرتے ہیں :

ہبار بن اسود کا جرم یہ تھا کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی حضرت سید نا زنیب (رض) کو پشت میں نیزہ مارا تھا اس وقت ہو حاملہ تھیں وہ گرگئیں اور ان کا حمل ساقط ہوگیا ‘ جس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو ساتھ مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے اچانک ہبار بن اسود آگیا وہ بہت فصیح اللسان تھا اس نے کہا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نے آپ کو برا کہا اس کو برا کہا گیا ‘ میں آپ کے اسلام کا قرار کرنے آیا ہوں ‘ پھر اس نے کلمہ شہادت پڑھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا اسلام قبول کرلیا ‘ اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیز سلمہ آئیں اور انہوں نے ہبار سے کہا اللہ تیری آنکھوں کو ٹھنڈا نہ کرے تو وہی ہے جس نے فلاں کام کیا تھا اور فلاں کام کیا تھا ‘ آپ نے فرمایا اسلام نے ان تمام کاموں کو مٹا دیا ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو برا کہنے اور اس کے پچھلے کام گنوانے سے منع فرمایا۔ (کتاب المغازی للواقدی ج ٢ ص ٨٥٨ ‘۔ ٨٥٧‘ مطبوعہ عالم الکتب ‘ بیروت) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ مال تقسیم کیا ‘ انصار میں سے ایک شخص نے کہا خدا کی قسم ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا جوئی کا ارادہ نہیں کیا ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر اس بات کی خبر دی ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی تھی اور انہوں نے اس پر صبر کیا تھا۔ (صحیح بخاری ج ٣ ص ٨٩٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام واقدی متوفی ٢٠٧ ھ نے بیان کیا ہے کہ اس شخص کا نام معتب بن قشیر تھا اور یہ منافق تھا ‘ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر خیر خواہی کی نیت سے کسی شخص سے اس کے متعلق کہا ہوا قول بیان کیا جائے کہ فلاں شخص آپ کے متعلق یہ کہہ رہا تھا ‘ تو یہ چغلی نہیں ہے اور نہ ممنوع ہے ‘ ورنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن مسعود (رض) سے فرماتے تم چغلی کیوں کر رہے ہو ؟ چغلی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص فساد ڈالنے اور دو آدمیوں کو ایک دوسرے خلاف بھڑکانے کی نیت سے ایک کی بات دوسرے شخص تک پہنچاتا ہے ‘ اور اس حدیث میں آپکی نرمی اور ملائمت کا بیان بالکل واضح ہے۔ 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہا تھا اس وقت آپ ایک نجرانی (یمنی) چادر اوڑھے ہوئے تھے راستہ میں ایک اعرابی (دیہاتی) ملا اس نے بہت زور سے آپکی چادر کھینچی ‘ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو کندھوں کے درمیان چادر کانشان پڑگیا تھا۔ پھر اس نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پاس جو اللہ کا مال ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف متوجہ ہو کر مسکرائے پھر اس کو مال دینے کا حکم دیا۔ (کتاب المغازی للواقدی ج ٢ ص ٩٠٠ مطبوعہ عالم الکتب ‘ بیروت) 

اس حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نرمی ‘ حسن اخلاق اور برائی کا جواب اچھائی سے دینے کا واضح بیان ہے۔ 

عفو اور در گزر کے متعلق قرآن مجید کی آیات : 

(آیت) ” خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین “۔ (الاعراف : ١٩٩) 

ترجمہ : معاف کرنا اختیار کیجئے ‘ نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے اعراض کیجئے۔ 

(آیت) ” ولیعفوا والیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم “۔ (النور : ٢٢) 

ترجمہ : (اور اہل فضل کو چاہیے) کہ وہ معاف کردیں اور درگذر کریں کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ 

(آیت) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم والفواحش واذا ماغضبوا ھم یغفرون ”۔ (الشوری : ٣٧) 

ترجمہ : اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب وہ غضبناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں۔ 

(آیت) ” وجزآء سیئۃ سئیۃ مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “۔ (الشوری : ٤٠) 

ترجمہ : برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے ‘ پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔ 

(آیت) ” ولمن صبر وغفران ذلک لمن عزم الامور “۔ (الشوری : ٤٣) 

ترجمہ : اور البتہ جو صبر کرے اور معاف کردے تو یقینا ضرور یہ ہمت والوں کے کاموں میں سے ہے۔ 

عفو اور درگزر کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا ‘ بندے کے معاف کرنے سے اللہ اس کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو شخص بھی اللہ کی رضا کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند کرتا ہے (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٢١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) 

اس حدیث میں جو عزت بڑھانے کا ذکر ہے اس کے دو بڑھانے کا ذکر ہے اس کے دو محمل ہیں ‘ ایک یہ کہ جس کا قصور معاف کیا جائے اس کے دل میں معاف کرنے والے کی عزت بڑھ جاتی ہے اور دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں معاف کرنے والے کی عزت بڑھائے گا۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٢٢) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی کی وجہ سے اتنی چیزیں عطا فرماتا ہے جو سختی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٢٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ شخص بڑا پہلوان نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے بڑا پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت خود کو قابو میں رکھ سکے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٢٢) 

حضرت سلیمان بن صرد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دو شخص لڑے ‘ دو میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور گردن کی رگیں پھول گئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر وہ کلمہ یہ شخص کہہ دے تو اس کا غصہ چلا جائے گا ‘ وہ کلمہ یہ ہے : اغوذ باللہ من الشیطن الرجیم : الحدیث (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٢٦) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو بھی تکلیف پہنچائی گئی آپ نے اس کا کبھی بدلہ نہیں لیا حتی کہ اللہ کی حدود کو توڑا جائے تو پھر آپ اللہ کی وجہ سے انتقام لیتے تھے (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے زیادہ آسان چیز کو اختیار فرماتے ‘ بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو ‘ اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا ‘ الا یہ کہ کوئی شخص اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عفو و درگذر کے مختلف محامل : 

جب کفار نے آپ کے سر پر پتھر مار کر آپ کا خون بہایا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے ‘ یا جب کسی نے آپ کو سختی سے آواز دی یا جس نے آپ کی چادر کو اس زور سے کھینچا کہ آپ کی گردن میں نشان پڑگیا ‘ اور اس نے آپ سے کہا ‘ آپ مجھے اپنے مال یا اپنے باپ کے مال سے نہیں دیتے تو آپ ہنسے اور اس کو مال دینے کا حکم دیا ‘ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صبر ‘ حلم ‘ حق کو قائم کرنے اور دین پر تصلب کی دلیل ہے ‘ اور یہی آپ کا خلق حسن ہے کیونکہ اگر آپ اللہ کی حدود کو قائم نہ کرتے تو اس سے دین میں ضعف ہوتا ‘ اور اگر آپ اپنے نفس کا انتقام لیتے تو یہ صبر اور حلم کے خلاف ہوتا آپ نے ان دونوں مذموم طریقوں کو ترک کرے متوسط طریقہ کو اختیار فرمایا۔ 

جس منافق شخص نے آپ سے یہ کہا تھا کہ اس تقسیم سے اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا ‘ آپ نے اس شخص کی تالیف قلب کے لیے اس کو معاف کردیا ‘ یا اس کی قوم کی تالیف کے لیے اس کو معاف کردیا ‘ اور جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں توہین آمیز کلام کہتا ہے اس کے کفر پر مسلمانوں کا اجماع ہے ‘ نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منافقین سے اس لیے درگزر کرتے تھے کہ لوگ آپ سے دور نہ ہوں اور لوگ یہ نہ کہیں کہ آپ اپنے اصحاب کو قتل کررہے ہیں کیونکہ منافق بظاہر مسلمان تھے ‘ کبھی آپ تالیف قلب کے لیے ذمی کافر سے بھی درگذر کرلیتے تھے اور کبھی کافر حربی سے اس لیے درگذر فرما لیتے تھے کہ اس نے احکام اسلام کا التزام نہیں کیا تھا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو آپ ان کو معاف کردیں اور ان کے لیے استغفار کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ لیں۔ (آل عمران : ١٥٩) 

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلمانوں پر نرمی اور شفقت کرنے کا بہ تدریج حکم دیا ہے ‘ پہلے آپ کو یہ حکم دیا کہ جنگ احد میں جن مسلمانوں سے تقصیر ہوگئی ہے آپ ان کو معاف کردیں پھر آپ کو یہ حکم دیا کہ آپ ان کے لیے اللہ سے استغفار کریں اور شفاعت طلب کریں اور جب وہ اس درجہ پر پہنچ جائیں کہ اللہ تعالیٰ انکو معاف فرما دے اور یہ اہم قومی معاملات میں مشورہ دینے کے اہل ہوجائیں تو پھر آپ ان سے مشورہ کریں ‘۔ 

مشورہ کا لغوی اور عرفی معنی :

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

مشاورت اور مشورہ کا معنی ہے : بعض کا بعض کی طرف رجوع کرکے ان کی رائے کو حاصل کرنا ‘ جب عرب والے کسی جگہ سے شہد کو نکالتے ہیں اور حاصل کرتے ہیں تو کہتے ہیں ” شرت العسل “ جس امر میں مشورہ طلب کیا جائے اس کو شوری کہتے ہیں۔ 

قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” وامرھم شوری بینہم “ ’ اور ان کا کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے۔ (المفردات ص ٢٧٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

مشورہ کے ذریعہ مختلف آراء ظاہر ہوتی ہیں ‘ اور مشورہ طلب کرنے والا ان مختلف آراء میں غور وفکر کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ کس کی رائے کتاب وسنت ‘ حکمت اور موقع اور محل کے مناسب ہے اور جب اللہ اسے کسی رائے کی طرف ہدایت دے دے تو وہ اس رائے پر عمل کرنے کا عزم کرے اور اللہ پر توکل کرکے اس رائے کو نافذ کر دے۔ 

مشورہ کے متعلق احادیث :

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ لاہور) 

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوگا اور جس نے مشورہ کیا وہ نادم نہیں ہوگا ‘ اور جس نے میانہ روی کی وہ کنگال نہیں ہوگا ‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے مجعم اوسط اور معجم صغیر میں روایت کیا ہے اس کی سند میں عبدالسلام بن عبدالقدوس ایک ضعیف راوی ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی کام کا ارادہ کرے اور اس میں کسی مسلمان شخص سے مشورہ کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس کو درست کام کی ہدایت دے دیتا ہے ‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے اس کی سند میں عمرو بن الحصین العقیلی متروک راوی ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٩٦ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صحابہ سے مشورہ لینے کا حکم کیوں دیا گیا : 

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ مسائل اور معاملات میں امکان وحی کے باوجود اجتہاد کرنا جائز ہے ‘ اور ظن غالب پر عمل کرنا صحیح ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کن امور میں اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ‘ بعض علماء نے کہا اس کا تعلق جنگی چالوں سے ہے کہ جب دشمن کا سامناہو تو اس کا مقابلہ کرنیکے لیے کس طریقہ پر عمل کیا جائے ‘ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ صحابہ کرام (رض) کی تالیف قلب کی جائے ‘ اور جنگ احد میں شکست کی وجہ سے جو صحابہ کرام (رض) دل شکستہ ہوگئے تھے انکی دلجوئی کی جائے ‘ اور ان کے مرتبہ کی بلندی کو ظاہر کیا جائے ‘ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ ان کی رائے سے مستغنی ہے کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل کرکے صحیح سمت کی طرف آپ کی رہنمائی پر قادر ہے ‘ قتادہ ‘ ربیع ‘ ابن اسحاق اور امام شافعی وغیرہ کی یہی رائے ہے کیونکہ عرب سرداروں سے جب کسی اہم معاملہ میں مشورہ نہ لیا جائے تو ان پر گراں گذرتا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ اہم جنگی معاملات میں ان سے مشورہ کریں اس سے ان کی قدر افزائی اور دلجوئی ہوگئی۔ 

حسن بصری اور ضحاک نے یہ بیان کیا ہے جن معاملات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل نہیں کی ان میں آپ کو اپنے صحابہ سے مشورہ کی تعلیم دی جائے ‘ ان کو مشورہ کی فضیلت کا علم ہو اور آپ کے بعد آپ کی امت مشورہ کرنے میں آپ کی اقتداء اور اتباع کرے۔ امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن غنم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) سے فرمایا اگر تم دونوں کسی مشورہ پر متفق ہوجاؤ تو میں تمہاری مخالفت نہیں کروں گا۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٧) اور علامہ آلوسی نے امام ابن عدی اور امام بیہقی کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول مشورہ سے مستغنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مشورہ کو میری امت کے لیے رحمت بنادیا۔ (روح المعانی : ج ٤ ص ١٠٧) 

کس قسم کے لوگوں سے مشورہ کیا جائے :

مشورہ اس شخص سے طلب کرنا چاہیے جو عالم دین ہو اور صاحب فہم و فراست ہو ‘ اور جب کسی ایسے شخص مشورہ لیا جائے اور وہ اس مسئلہ کا صحیح حل معلوم کرنے کی پوری کوشش کرے اس کے باوجود اگر اس کو خطا لاحق ہوجائے تو اس کو ملامت نہیں کی جائے گی۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ جو بندہ مشورہ لے وہ کبھی بدبخت نہیں ہوتا اور جو بندہ خود رائے ہو اور دوسروں کے مشوروں سے مستغنی ہو وہ کبھی نیک بخت نہیں ہوتا ‘ بعض علماء نے کہا ہے کہ کسی تجربہ کار شخص مشورہ لینا چاہیے ‘ کیونکہ وہ تم کو ایسی چیز بتلائے گا جس میں وہ زیادہ ترکامیاب رہا ہوگا ‘ امام اور خلیفہ کو نصب کرنا کس قدر اہم مسئلہ تھا لیکن حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے اس کو ارباب حل وعقد کے باہمی مشورہ اور اتفاق پر چھوڑ دیا ‘ امام بخاری نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ائمہ مباح کاموں میں امین لوگوں اور علماء سے مشورہ کیا کرتے تھے ‘ سفیان ثوری نے کہا متقی اور امانت دار شخص سے مشورہ کرنا چاہیے۔ حسن بصری نے کہا خدا کی قسم ! جو لوگ مشورہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی صحیح حل کی طرف رہنمائی کردیتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢٥١۔ ٢٥٠ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب آپ (کسی کام کا) عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں بیشک اللہ توکل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ (آل عمران : ١٥٩) (رض) اجمعین 

کسی کام کو کرنے کے پختہ ارادہ کو عزم کہتے ہیں۔ نیت ‘ عزم اور قصدیہ الفاظ مترادفہ ہیں ‘ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب آپ اپنے اصحاب سے مشورہ کرکے کسی کام کا عزم کرلیں تو پھر اس کام سے رجوع نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں اور جب آپ اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے کسی کام کا عزم کرلیں تو اس مشورہ پر توکل نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں اور جب آپ اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے کسی کام کا عزم کرلیں تو پھر اس کام سے رجوع نہ کریں ‘ جس طرح جنگ احد میں جب مسلمانوں سے مشورہ کیا گیا ‘ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور پختہ کاروں کی رائے یہ تھی کہ شہر کے اندر رہ کر کافروں سے مدافعانہ جنگ کی جائے اور بعض نوجوان مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ شہر سے باہر نکل کر جنگ کی جائے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رائے کو قبول کرلیا اور جمعہ کی نماز کے بعد گھر گئے اور ہتھیار پہن کر باہر آئے ‘ وہ نوجوان صحابہ نادم ہوئے کہ ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں مانی انہوں نے آپ سے معذرت کی اور اپنی رائے سے رجوع کرلیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب نبی ہتھیار پہن لے تو بغیر جنگ اللہ کیے اس کے لیے ہتھیار اتارنا جائز نہیں ہے ‘ اور یہی اس آیت پر عمل ہے کہ جب آپ نے مسلمانوں سے مشورہ کے بعد اللہ پر توکل کرکے کسی کام کا عزم کرلیا ہے تو پھر اس سے رجوع نہ کریں اور اس کام کر کر ڈالیں۔ 

توکل کا معنی : 

علامہ محمد بن اثیر جزری متوفی ٦٣٠ ھ لکھتے ہیں : 

توکل کا معنی ہے ضامن ہونا ‘ حدیث مرفوع میں ہے : جو شخص دو جبڑوں اور دو ٹانگوں کے درمیان کا متوکل (ضامن) ہوا ‘ میں اس کے لیے جنت کا متوکل (ضامن) ہوں ‘ یعنی جس نے اپنے منہ کو حرام کھانے اور فرج کو حرام کاری سے بچایا میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں ‘ اور توکل کا معنی پناہ میں دینا بھی ہے ‘ حدیث میں ہے مجھے پلک جھپکنے کے لیے بھی غیر کے توکل (پناہ) میں نہ دے یا غیر کے سپرد نہ کر ‘ اور توکل کا معنی اعتماد کرنا اور سپرد کرنا ہے ‘ اور کسی معاملہ میں اللہ پر توکل کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس معاملہ کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور اس میں اللہ پر اعتماد کیا جائے (النہایہ ج ٥ ص ٢٢١‘ مطبوعہ مؤسسہ مطبوعاتے ایران ‘ ١٣٦٤ ھ) 

امام محمد بن غزالی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

جب انسان پر یہ منکشف ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی فاعل نہیں ہے اور خلق ہو یا رزق ہو ‘ دنیا ہو یاروکناہو ‘ زندہ کرنا ہو ‘ اور غنا ہو یا فقر ہو ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو پھر وہ اپنی ضروتوں میں غیر کی طرف نہیں دیکھے گا ‘ اس کے دل میں اسی کا خوف ہوگا اور اسی سے امید ہوگی اسی پر بھروسہ ہوگا اور اسی پر اعتماد ہوگا کیونکہ صرف وہی مستقل فاعل ہے اور باقی چیزیں اس کے مسخر اور تابع ہیں ‘ آسمان اور زمین میں سے کوئی ذرہ خود بہ خود حرکت نہیں کرسکتا ‘ اور جو شخص سبزہ اور فصل کی پیداوار میں بادل ‘ بارش اور ہواؤں پر اعتماد کرتا ہے وہ فاعل حقیقی سے غافل ہے اور ایک قسم کے شرک میں مبتلا ہے۔ (احیاء العلوم ج ٥ ص ١٢١۔ ١٢٠‘ مطبوعہ دارالخیر بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

توکل کا معنی یہ نہیں ہے کہ انسان اپنے آپ کو اور اپنی مساعی کو مہمل چھوڑ دے ‘ جیسا کہ بعض جاہل کہتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کا حکم نہ دیتا ‘ بلکہ توکل یہ ہے کہ انسان اسباب ظاہرہ کی رعایت کرے لیکن دل سے ان اسباب پر اعتماد نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ‘ اس کی تائید اور اس کی حمایت پر اعتماد کرے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے میں ‘ اور اللہ کے ماسوا سے اعراض کرنے میں رغبت دلائی جائے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٨٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

توکل کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

(آیت) ” وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مؤمنین “۔ (المائدہ : ٢٣) 

ترجمہ : اور اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرو۔ 

(آیت) ” ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ “۔ (الطلاق : ٣) 

ترجمہ : اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ 

(آیت) ” الیس اللہ بکاف عبدہ “۔ (الزمر : ٣٦) 

ترجمہ : کیا اللہ اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے۔ 

توکل کے متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجھ پر امتیں پیش کی گئیں ‘ ایک نبی اور دو نبیوں کے ساتھ (دس سے کم لوگوں کی) ایک جماعت تھی ‘ اور بعض نبی ایسے تھے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا حتی کہ میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی ‘ میں نے سوچا یہ کون سی جماعت ہے ؟ کیا یہ میری امت ہے ؟ کہا گیا بلکہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور ان کی امت ہے ‘ اور کہا گیا کہ اپ افق کی طرف دیکھئے ‘ تو ایک جماعت نے افق کو بھر لیا تھا ‘ پھر مجھ سے کہا گیا ‘ ادھر ادھر آسمان کے کناروں میں دیکھئے تو ایک بہت بڑی جماعت تھی جس نے آسمان کے تمام کناروں کو بھر لیا تھا ‘ کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان میں سے ستر ہزار جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے ‘ پھر آپ (حجرہ میں) داخل ہوگئے اور یہ نہیں بیان فرمایا (کہ وہ ستر ہزار کون ہیں) لوگ (اس حدیث میں) بحث وتمحیص کرنے لگے ‘ انہوں نے کہا اس کا مصداق ہم لوگ ہیں ہم لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے رسوسل کی اتباع کی ‘ ہم ہیں یا پھر ہماری اولاد ہے ‘ جو اسلام میں پیدا ہوئی ‘ کیونکہ ہم جاہلیت میں پیدا ہوئے تھے ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ہی بحث پہنچی تو آپ تشریف لائے آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو (زمانہ جاہلیت کا) منتر نہیں کرتے تھے ‘ اور نہی پرندوں سے بدشگونی نکالتے تھے اور نہ (حصول شفا میں) داغ لگانے پر اعتماد کرتے تھے اور صرف اپنے رب پر توکل کرتے تھے (اسباب کو مسیات پر مرتب کرکے نتیجہ کو اللہ کے سپرد کردیتے تھے اور اسی پر اعتماد کرتے تھے) حضرت عکاشہ بن محصن نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اس نے کہا کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا : تم پر عکاشہ نے سبقت کرلی۔ (صحیح بخاری ج ٣ ص ‘ ٨٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم اللہ پر کما حقہ توکل کرو تو تم کو اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔ (الجامع الصحیح ‘ کتاب الزہد ‘ باب ٣٣‘ التوکل علی اللہ ‘ ومسند احمد ج ١ ص ٥٢۔ ٣٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو تنگی اور فقر لاحق ہو اور وہ اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرے اس کا فقر وفاقہ ختم نہیں ہوگا ‘ اور جس شخص کو فقرہ وفاقہ لاحق ہو اور وہ اللہ کے سامنے اپنی حاجت بیان کرتے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو جدل یا بہ دیر رزق عطا فرمائے گا۔ (الجامع الصحیح ‘ کتاب الزہد باب : ١٨‘ باب ماجائد فی الھم فی الدنیا ‘ شعب الایمان للبیہقی ج ٢ ص ١٢٠) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کے ہر مسئلہ کا ضامن ہوتا ہے اور اس کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اور جو دنیا کی طرف رجوع کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا کے سپرد کردیتا ہے۔ 

(شعب الایمان ج ٢ ص ٢٩۔ ٢٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ الترغیب والترہیب ج ٢ ص ٥٣٨‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٠٣)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک روای ابراہیم بن الاشعث ہے وہ ضعیف ہے اور امام ابن حبان نے اس کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ 

توکل کی صحیح تعریف :

امام بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ توکل کی حسب ذیل تعریفات نقل کی ہیں : 

سہل بن عبداللہ تستری نے کہا توکل یہ ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے ایسا ہو جیسے غسل دینے والوں کے ہاتھوں میں مردہ ہوتا ہے وہ جس طرح چاہے اس کو الٹتا ہے پلٹتا ہے۔ 

نہر جو ری نے کہا حقیقت میں متوکل وہ شخص ہے جو مخلوق سے تعلق نہ رکھے ‘ وہ اپنے حال کی کسی سے شکایت نہ کرے اور اگر اس کو کوئی شخص کچھ نہ دے تو اس کی مذمت نہ کرے کیونکہ اس کا یقین ہے کہ دینا اور نہ دینا اللہ کی جانب سے ہے۔ 

ابویزید سے پوچھا گیا کہ بندہ متوکل کب ہوتا ہے انہوں نے کہا جب وہ اپنے دل کو ہر موجود اور مفقود سے منقطع کرلیتا ہے۔ عامر بن عبد قیس نے کہا اللہ کی کتاب میں تین آیات ایسی ہیں جو انسان کو تمام مخلوقات سے کفایت کرتی ہیں اور اس کو ان سے مستغنی کردیتی ہیں : 

(آیت) ” وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو وان یردک بخیر فلا رآد لفضلہ “۔ (یونس : ١٠٧) 

ترجمہ : (اے مخاطب) اور اللہ اگر تجھے کوئی ضرر پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے لیے کسی خیر کا ارادہ کرلے تو اس کے سوا کوئی اور اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔ 

(آیت) ” مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا، وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ وھو العزیز الحکیم، (فاطر : ٢)

ترجمہ ؛ اللہ لوگوں کے لیے جو رحمت کھولتا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو وہ روک لے تو اس کے بعد اسے کوئی چھوڑنے والا نہیں اور وہی غالب ہے حکمت والا ہے۔ 

(آیت) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا ویعلم مستقرھا ومستودعھا کل فی کتاب مبین، (ھود : ٦) 

ترجمہ : اور زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے ‘ وہ اس کے ٹھیرنے کی جگہ اور اس کے سپرد کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ‘ سب کچھ روشن کتاب میں ہے۔ 

اصمعی بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا : اے بھائی تم طالب بھی ہو اور مطلوب بھی ‘ تم کو وہ طلب کرتا ہے جو فوت ہونے والا نہیں ہے اور تم اس چیز کو طلب کرتے ہو جس سے تم مستغنی کردیئے گئے ہو ‘ اے بھائی تم دیکھتے ہو کہ کئی حریص لوگ محروم رہ جاتے ہیں اور کئی بےرغبت لوگ نواز دیئے جاتے ہیں (شعب الا ایمان ج ٢ ص ١١٣۔ ١٠٩) 

نیز امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

توکل کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردے اور اسی پر توکل کرے۔ 

توکل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے چلنے کیلیے جو راستہ بیان کیا ہے جب اس کے سامنے وہ راستہ ظاہر ہو تو وہ اس راستہ پر چلیں اور اس کی مراد تک پہنچنے کا سبب حاصل کریں اور اللہ پر اعتماد کریں کہ وہ ان کو ان کی کوششوں میں کامیاب فرمائے گا اور انہیں ان کی مراد تک پہنچائے گا اور جس نے توکل کو اللہ کے بنائے ہوئے اسباب سے خالی کرلیا۔ اس نے اللہ کے حکم پر عمل نہیں کیا اور اللہ کے بنائے ہوئے طریقہ پر نہیں چلا۔ 

سعید بن جبیر کو ایک رات نماز میں کسی چیز نے ڈنک مارا انہوں نے اس پر دم کیا ‘ ان سے حصین نے پوچھا ‘ آپ کو دم کرنے پر کس نے برا انگیختہ کیا ؟ انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم اللہ پر کما حقہ توکل کرو تو تم کو پرندوں کی طرح رزق دیا جائے گا جو صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔ 

امام احمد نے فرمایا اس حدیث میں کسب اور رزق کو طلب کرنے کی نفی نہیں ہے کیونکہ پرندے صبح سے شام تک رزق کی طلب میں پھرتے رہتے ہیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رزق کی طلب میں تاخیر نہ کرو کیونکہ اس وقت تک کوئی بندہ مر نہیں سکتا جب تک اسے اس کا آخری رزق نہ پہنچ جائے ‘ اللہ سے ڈرو اور رزق حلال کو اچھی طرح سے طلب کرو اور حرام کو چھوڑ دو ۔ 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے تنگی اور فقر کی شکایت کی اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اپنے گھروالوں کے پاس سے آیا ہوں میرے پاس کوئی چیز نہیں جس کو میں ان کے پاس لے کر جاؤں حتی کہ ان میں سے بعض مرجائیں گے ‘ آپ نے فرمایا جاؤ دیکھ کر آؤ گھر میں کیا چیزیں ہیں ؟ وہ ایک چادر اور ایک پیالہ لے آیا ‘ اس نے کہا یا رسول اللہ ! اس چادر کے بعض حصہ کو ہم بچھا لیتے ہیں اور بعض کو ہم اوڑھ لیتے ہیں اور اس پیالہ سے پانی پیتے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو مجھ سے کون ایک درہم میں خریدے گا ؟ ایک شخص نے کہا میں یا رسول اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دے گا ؟ ایک اور شخص نے کہا میں ان کو دو درہموں میں خریدوں گا ‘ آپ نے اس شخص سے فرمایا ایک درہم سے کلہاڑی خرید لو ‘ اور دوسرے درہم سے اپنے اہل کے لیے کھانا خریدو ‘ اس نے ایسا ہی کیا پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹو اور پندرہ دن سے پہلے میرے پاس نہ آنا ‘ وہ پندرہ دن کے بعد آیا تو اس نے کہا میرے پاس دس درہم ہیں آپ نے فرمایا پانچ درہم سے اپنے اہل کے لیے طعام خریدو اور پانچ درہم سے اپنے اہل کے لیے کپڑے خریدو ‘ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے جس چیز کا حکم دیا تھا اس میں اللہ مجھے برکت دی ہے ‘ آپ نے فرمایا یہ (تمہارا کسب اور محنت کرنا) اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن آؤ اور تمہارے چہرے پر سوال کرنے کی وجہ سے خراشیں پڑی ہوں ‘ سوال کرنا صرف تین شخصوں کے لیے جائز ہے ‘ جو سخت بیمار ہو ‘ یا قرض میں ڈوبا ہوا ہو ‘ یا ہلاکت خیز تنگی میں مبتلا ہو۔ (الجامع الصحیح للترمذی ‘ کتاب البیوع ‘ باب : ١١‘ ماجاء فی بیع المدبر ‘ السنن الکبری للبیہقی ج ٧ ص ٤٥) 

امام احمد نے فرمایا اس حدیث میں کسب اور محنت کرنے کی دلیل ہے اور جو شخص کمانے پر قادر ہو اس کو سوال کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص غنی اور تندرست ہو اس کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ 

(سنن کبری ج ٧ ص ١٣‘ شعب الایمان ج ٢ ص ٧٨۔ ٥٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

کیا اسباب کو ترک کرنا اور مال جمع کرنا توکل کے خلاف ہے ؟ 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

ذوالنون سے پوچھا گیا توکل کیا ہے انہوں نے کہا توکل دنیا والوں سے مستغنی ہونا اور اسباب سے منقطع ہونا ہے ‘ اور نہر جو ری نے کہا توکل کا ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان اختیار کو ترک کردے (شعب الایمان ج ٢ ص ١٠٥۔ ١٠٤ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

ہمارے نزدیک یہ دونوں تعریفیں صحیح نہیں ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت بلال (رض) کے پاس گئے اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا ‘ آپ نے پوچھا اے بلال یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے کھجوروں کو ذخیرہ کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : اے بلال کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ ان کھجوروں کیلیے دوزخ کی آگ میں دھواں ہو ! اے بلال خرچ کرو اور عرش والے سے تنگی کرنے کا خوف نہ کرو۔ (شعب الایمان ج ٢ ص ١١٨‘ دلائل النبوت للبیہقی ج ١ ص ٣٤٧) 

ہمارے نزدیک اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ اگر کسی مال کو جمع کیا جائے اور اس میں سے زکوۃ ادا نہ کی جائے تو وہ دوزخ کی آگ کا دھواں بن جائے گا۔ 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین پرندے ہدیہ کئے گئے ‘ آپ نے ایک پرندہ کھالیا اور آپ کی خادمہ نے دو پرندے چھپا کر رکھ دیئے صبح آپ کے سامنے وہ پرندے پیش کئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں نے تم کو کل کے لیے کوئی چیزرکھنے سے منع نہیں کیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ ہر روز کا رزق عطا فرماتا ہے۔ (شعب الایمان ج ٢ ص ١١٩‘ طبع بیروت) (مسند احمد ج ٣ ص ١٨٩) 

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی صحیح ہیں ‘ سوا ہلال بن امیہ کے اور وہ بھی ثقہ ہے، (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٢) 

ہمارے نزدیک یہ حدیث اس زمانہ پر محمول ہے جب مسلمانوں پر تنگی اور عسرت کا زمانہ تھا ‘ جب کبھی دو ایسے متواتر دن نہیں آئے جب دونوں دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر آگ جلی ہو ‘ پھر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کردی بہ کثرت فتوحات ہوئیں اور مال غنیمت کی ریل پیل ہوئی تو اس وقت مسلمانوں کو مال جمع کرنے کی اجازت دے دی گئی ‘ اگر مسلمانوں کے لیے مال جمع کرنا جائزنہ ہوتا تو مسلمانوں پر حج کیسے فرض کیا جاتا کیونکہ حج اسی پر فرض ہے جس کے پاس زاد اور راحلہ ہو ‘ نہ مسلمانوں پر زکوۃ فرض ہوتی ‘ کیونکہ زکوۃ اس پر فرض ہے جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ‘ یا اس کے مساوی مال تجارت ہو ‘ یا اس کے پاس پانچ اونٹ ‘ تیس گائے یا چالیس بکریاں ہوں ‘ اور ظاہر ہے کہ وہ یہ مال جمع کرے گا تو اس پر زکوۃ فرض ہوگی، اسی طرح زرعی پیداوار پر عشر اور خراج کا معاملہ ہے، اسی طرح قربانی بھی صاحب نصاب پر واجب ہے اور مالی صدقات نافلہ بھی مالدار شخص پر واجب ہوں گے ‘ اگر اسلام میں مال جمع کرنے کی اجازت نہ ہو تو ان عبادات کی کس طرح گنجائش ہوگی ! 

اسباب حاصل کرنے کا حکم :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” وتزودوا فان خیرالزاد التقوی “۔ (البقرہ : ١٩٧)

ترجمہ : اور سفر کے لیے زاد راہ لو ‘ سو یقینا بہترین زاد راہ تقوی ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یمن والے بغیر سفر خرچ لیے ہوئے حج کے لیے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم توکل کرنے والے ہیں اور جب وہ مکہ میں پہنچتے تو لوگوں سے مانگنا شروع کردیتے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور سفر کے لیے زاد راہ لو سو یقینا بہترین زاد راہ تقوی ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٠٦‘ مطبوعہ کراچی) 

جو لوگ کسب معاش کے لیے زمین میں سفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہے : 

(آیت) ” واخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ “۔ (المزمل : ٢٠) 

ترجمہ : اور کچھ لوگ اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے زمین میں سفر کرتے ہیں۔ 

نیز اللہ تعالیٰ نے کسب معاش کرنے کا حکم دیا ہے : 

(آیت) ” فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ “۔ (الجمعہ : ١٠) 

ترجمہ : سو جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کو تلاش کرو۔ 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ایوب بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نے ٹیلہ کی چوٹی سے قریش کے ایک آدمی کو آتے دیکھا ‘ صحابہ نے کہا یہ شخص کتنا طاقت ور ہے کاش اس کی طاقت اللہ کی راستہ میں خرچ ہوتی ‘ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا وہی شخص اللہ کے راستہ میں ہے جو قتل کردیا جائے ؟ پھر فرمایا جو شخص اپنے اہل کو سوال کرنے سے روکنے کے لیے (رزق) حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لیے (رزق) حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے ‘ البتہ جو شخص (محض) مال کی کثرت کی طلب میں نکلے وہ شیطان کے راستہ میں ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ‘ ٢٧٢۔ ٢٧١‘ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے ایک شخص نے کہا اگر لوگ اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجائیں تو اللہ ان کو رزق عطا فرمائے گا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا یہ بات دین میں معروف نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو معاش کے ساتھ مبتلا کیا ہے اور فرمایا ہے کچھ لوگ اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے زمین میں سفر کرتے ہیں۔ (المزمل : ٢٠) 

حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے تھے اپنے اہل و عیال کے لیے سعی کرنے کی مثل کسی عمل میں فضیلت نہیں ہے حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ میں بھی نہیں۔ 

سفیان ثوری نے کہا جب تم عبادت کرنے کا ارادہ کرو تو دیکھو گھر میں گندم ہے یا نہیں اگر گھر میں گندم ہے تو عبادت کرو ‘ ورنہ پہلے تم گندم کو طلب کرو پھر اللہ کی عبادت کرو۔ 

ابراھیم خواص نے کہا آداب توکل میں تین چیزیں ہیں ‘ قافلہ کے ساتھ جاؤ تو سفر خرچ لے جاؤ کشتی میں سفر کرو تو سفر خرچ سے سفر کرو ‘ اور مجلس میں بیٹھو تو توشہ دان (ناشتہ دان) لے کر بیٹھو۔ (شعب الایمان ج ٢ ص ٩٧۔ ٩٦ ملخصا ‘ طبع بیروت) 

بیماری کے علاج کا سبب دوا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوا لینے کی ہدایت دی ہے۔ 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت اسامہ بن شریک (رض) بیان کرتے ہیں کہ اعراب نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا ہم دوا نہیں کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اے اللہ کے بندو ! علاج کرو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک بیماری کے سوا ہر بیماری کی دوا بنائی ہے ‘ یا فرمایا اس کی شفا رکھی ہے ‘ پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون سی بیماری ہے ؟ فرمایا بڑھاپا ‘ امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (الجامع الصحیح للترمذی ‘ کتاب الطب ‘ باب : ٢ ماجاء فی الدواء ‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ٣١‘ کتاب الطب ‘ باب : ١ شعب الایمان ج ٢ ص ٧٨) 

امام حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں :

ابو خزامہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ ہم جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن اور اد سے دم کرتے ہیں اور جس آڑ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں ‘ کیا ان میں سے کوئی چیز اللہ کی تقدیر کو بدل سکتی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ (المستدرک ج ٤ ص ١٩٩‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ) 

امام ذہبی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ (تلخیص المستدرک ج ٤ ص ١٩٩) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

امام احمد نے کہا یہ حدیث اس باب میں اصل ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو اسباب بیان کیے ہیں اور ان کی اجازت دی ہے ان اسباب کو استعمال کیا جائے اور یہ اعتقاد رکھے کہ مسبب اللہ تعالیٰ ہے اور ان اسباب کو استعمال کرنے کے بعد جو نفع پہنچتا ہے وہ اللہ عزوجل کی تقدیر سے ہے اور اگر وہ چاہے تو ان اسباب کے استعمال کے باوجود کی منفعت کو روک لے لہذا ان اسباب کے نفع پہنچانے میں اللہ تعالیٰ پر ہی اعتماد کرنا چاہیے اور تمام نتائج اس کے سپرد کرنا چاہئیں (شعب الایمان ج ٢ ص ٧٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ میں اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا اس کو کھول کر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کو باندھ کر توکل کرو۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٦٦٨‘ طبع بیروت ‘ المستدرک ج ٣ ص ٦٣٣‘ شعب الایمان ج ٢ ص ٨٠‘ موارد الظمآن ص ٦٣٣) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سید المتوکلین ہیں اور آپ جنگ احد میں دو زرہیں پہن کر میدان جنگ میں گئے فتح مکہ کے دن آپ نے اپنے سر پر خود پہنا ہوا تھا تھا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرض میں فصد لگوائی۔ (شعب الایمان ج ٢ ص ٧٨‘ الجامع الصحیح للترمذی ج ٤ ص ٣٩٠‘ طبع بیروت) 

ان تمام احادیث سے یہ امر بخوبی واضح ہوگیا کہ اسباب کو مسباب پر مرتب کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔

اشیاء کو جمع کرنا اور ذخیرہ کرنا بھی مطلوب ہے اور توکل کے خلاف نہیں ہے۔ 

کھانے پینے اور دیگر اشیاء کو جمع کرنا اور ذخیرہ کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے اور بعض احادیث میں جو یہ آیا ہے کہ آج کی چیز کو کل کے لیے بچا کر نہ رکھو یہ اس زمانے پر محمول ہے جب مسلمانوں پر تنگی تھی اور جب فتوحات اور مال غنیمت کی کثرت ہوئی اور مسلمان خوشحال ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو کھانے پینے کی اشیاء جمع کرنے کی اجازت دے دی۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عابس بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) پوچھا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ‘ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ صرف اس سال کیا تھا جس سال لوگ بھوکے تھے ‘ آپ نے یہ چاہا کہ غنی فقیر کو کھلائے اور ہم اب پائے اٹھا کر رکھ دیتے ہیں اور اس کو پندرہ دن بعد کھاتے ہیں۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨١٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ‘ ١٣٨١) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں قربانی اور ھدی کے گوشت کو بہ طور زاد راہ لے جاتے تھے۔ 

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے جو شخص قربانی کرے تین دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ باقی نہ رہے ‘ اس کے اگلے سال صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس سال بھی ہم پچھلے سال کی طرح کریں ؟ آپ نے فرمایا کھاؤ اور کھلاؤ اور گوشت کو ذخیرہ کرو ‘ کیونکہ اس سال لوگوں میں بھوک تھی ‘ تو میں نے چاہا کہ اس سال میں تم مسلمانوں کی مدد کرو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٣٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سید المتوکلین ہیں اس کے باوجود آپ ہر سال ازواج مطہرات کو سو وسق غلہ دیتے تھے ‘ ایک وسق ٢٤٠ کل گرام کے برابر ہے۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کی زمین نصف غلہ یا نصف پھلوں کے عوض بٹائی پر دیتے تھے ‘ اور اپنی ازواج کو ہر سال میں سو وسق دیتے تھے۔ اسی وسق کھجوریں اور بیس وسق جو ‘ جب حضرت عمر (رض) خلیفہ ہوئے تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو اختیار دیا وہ چاہیں تو خود زمین اور پانی لے کر کھیتی باڑی کرائیں یا وہ ان کو ہر سال اتنے وسق غلہ دیں ‘ بعض ازواج نے زمین اور پانی کو اختیار کیا اور بعض ازواج نے اسواق کو اختیار کیا۔ حضرت عائشہ (رض) اور حفصہ (رض) نے زمین اور پانی کو اختیار کیا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ، صحیح بخاری ج ٢ ص ٣١٣‘ شعب الایمان ج ٢ ص ٧٨) 

ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ کھانے پینے کی چیزوں کو جمع کرنا اور مستقبل کے لیے پس انداز کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے ‘ توکل کے سلسلہ میں میں نے یہاں بہت تفصیل سے لکھ دیا ہے اور بناوٹی صوفیوں اور جعلی درویشوں نے توکل کا جو غلط مفہوم مشہور کر رکھا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں اس کا بطلان واضح کیا ہے ‘ اور توکل کا صحیح معنی اور مفہوم بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ میری اس کتاب کو قبول عام عطا فرمائے اور قیامت تک تمام مسلمانوں کے لیے اس کو نفع آور بنائے۔ آمین) 

اگر اللہ مدد نہ کرے تو کوئی مددگار نہیں :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مسلمانو ! ) اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں بےسہارا چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے گا ؟ اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے (آل عمران : ١٦٠) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ جب مسلمان اللہ تعالیٰ پر توکل کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرے گا ‘ اور دین کی سربلندی میں ان کی آرزوؤں کو پورا کر دے گا ‘ اس کے بعد از سر نو فرمایا اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا ‘ اور اگر وہ تمہیں بےسہارا چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے گا ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن تمہاری مدد فرمائی تھی اگر وہ تمہاری اسی طرح مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا ‘ اور جس طرح جنگ احد میں اس نے تمہیں بےسہارا چھوڑا دیا تھا اگر وہ اس طرح تمہیں بےسہارا چھوڑ دے تو کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکتا ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کی ترغیب دی ہے اور اپنی نافرمانی سے ڈرایا ہے۔ قرآن مجید کی اور آیات میں بھی یہ مضمون بیان فرمایا ہے : 

(آیت) ” ولینصرن اللہ من ینصرہ، ان اللہ لقوی عزیز “۔ ، (الحج : ٤٠) 

ترجمہ : اور اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک اللہ بہت قوت والا بہت غالب ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم “۔ (محمد : ٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کے (دین کی) مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ 

(آیت) ” ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجآء وھم بالبینات فانتقمنا من الذین اجرموا وکان حق علینا نصرالمؤمنین “۔ (الروم : ٤٧)

ترجمہ : اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے ان کے (زمانے کے مشرک) لوگوں کی طرف وہ انکے پاس واضح دلائل لے کر آئے ‘ پھر ہم نے تکذیب کرنے والے مجرموں سے انتقام لیا اور مومنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمہ (کرم پر) ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 159

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.