مفتی عرفان الحق نقشبندی حنفی مدظلہ العالی کی وال سے اور ان کی استدلال کردہ حدیث کی تخریج پر فقیر کا تبصرہ:

مفتی صاحب قبلہ لکھتے ہیں:

سوال

نئے سال کی مباک بادی دیناجائزھے یانہیں؟؟

جواب

نئے سال کی مبارک باد دینا جائز ھے اگر کوئی آپ کو مبارکباد دے تو اس کا جواب دے دیجئے، لیکن خود کبھی پہل نہ کریں۔ یہی اس مسئلہ میں صواب مؤقف ہے۔ اگر کوئی شخص مثلاً آپ کو کہے، آپ کو نیا سال مبارک ہو تو آپ جواباً کہیں کہ آپ کو بھی مبارک ہو اور اللہ تعالی آپ کے اس سال کو خیر وبرکت والا بنادے۔ لیکن آپ خود سے اس کی ابتداء نہ کیجئے، کیونکہ اسلام میں ایسی باتوں کوترک کرنا پسندیدہ عمل بتایاگیا

(من حُسنِ إسلام المرءِ تركُهُ ما لا یعنیہ)

البتہ جواز کی گنجائش ضرور موجود ھے

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے الاوسط میں درج کیا‘ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ:

كان أصحاب النبي صلی الله علیه وآله وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، و رضوان من الرحمن، و جواز من الشيطان.

(الطبراني، الأوسط: 6241)

نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔

واللہ اعلم

محمد عرفان الحق نقشبندی

دار العلوم حنفیہ رضویہ سیمنٹ فیکٹری ڈیرہ غازیخان

03007824224

03457132487

*****************

فقیر کا تبصرہ حدیث کی تخریج پر:

مفتی صاحب قبلہ نے جو امام طبرانی علیہ الرحمہ کی المعجم الاوسط سے جو حدیث نقل کی ہے اس کا مکمل حوالہ اس طرح ہے المعجم الاوسط ج 6 ص 221 رقم الحدیث 6241

اور امام ہیثمی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ [مجمع الزوائد رقم الحدیث 17150]

لیکن میرے علم کے مطابق امام ہیثمی علیہ الرحمہ سے یہاں تسامح ہوا ہے کیونکہ المعجم الاوسط کی سند میں رشدین بن سعد ایک ضعیف راوی موجود ہے۔ اس کے علاوہ امام طبرانی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی سند میں رشدین بن سعد کے تفرد کا کہا ہے [المعجم الاوسط ج6 ص221 رقم الحدیث 6241] جو کہ درست نہیں کیونکہ رشدین بن سعد کا متابع حیوۃ بن شریح (ثقہ) موجود ہے جو امام بغوی علیہ الرحمہ کی کتاب معجم الصحابۃ [ج 3 ص 543 رقم الحدیث 1539] میں موجود ہے جس کی سند میں رشدین بن سعد راوی موجود نہیں بلکہ حیوۃ بن شریح ثقہ راوی موجود ہے۔لہذا اس طرح اس حدیث کی سند پر میں جو ضعف کا اعتراض تھا وہ رفع ہو گیا۔

واللہ اعلم

نوٹ: مفتی محمدعرفان الحق نقشبندی مدظلہ العالی صاحب ایک جید اور صدوق فقیہ ہیں لیکن متصلب حنفی ہیں۔ اللہ عزوجل ان کا سایہ ہمارے اوپر قائم و دائم رکھے۔ (آمین)

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

31 دسمبر 2018ء