أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَٮِٕنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَا اِلَى اللّٰهِ تُحۡشَرُوۡنَ

ترجمہ:

اور اگر تم فوت ہوجاؤ یا تم قتل کیے جاؤ تو یقینا تم اللہ ہی کی طرف جمع کیے جاؤ گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم فوت ہوجاؤ یا تم قتل کیے جاؤ تو یقینا تم اللہ ہی کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔ (آل عمران : ١٥٨) 

دوزخ سے نجات ‘ جنت کے حصول اور دیدار الہی کی طلب کے مدارج میں امام رازی کا نظریہ : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور رحمت کا ذکر فرمایا اور اس آیت میں اللہ کی طرف جمع کیے جانے کا ذکر فرمایا ‘ اور یہ دراصل آخرت کے تین مرتبوں اور درجات کی طرف اشارہ ہے ‘ پہلا مرتبہ دوزخ کے عذاب سے نجات ہے اس کی طرف مغفرت سے اشارہ فرمایا دوسرا مرتبہ جنت میں دخول اور اس کا حصول ہے اس کی طرف رحمت سے اشارہ فرمایا اور سب سے بلند مرتبہ اللہ کی رضا اور اس کی ذات سے ملاقات ہے اس کی طرف اس سے اشارہ فرمایا کہ تم اللہ ہی کی طرف جمع کیے جاؤ گے ‘ کچھ لوگ اللہ کے عذاب کے خوف سے عبادت کرتے ہیں ان کا پہلا مرتبہ ہے ‘ اور کچھ لوگ جنت کی طمع سے عبادت کرتے ہیں یہ دوسرے مرتبہ کے لوگ ہیں اور کچھ لوگ محض اللہ کی رضا اور اس کی ملاقات کے شوق میں عبادت کرتے ہیں یہ سب سے بلند مرتبہ ہے۔ 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے بدن بہت لاغر اور چہرے کمزور ہوگئے تھے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر کثرت عبادت کے آثار دیکھے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا تم اللہ سے کس چیز کی طلب کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کرم سے بہت بعید ہے کہ وہ تم کو عذاب سے نجات نہ دے ‘ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزرے اور ان پر بھی اسی طرح عبادت کے آثار دیکھے ‘ ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا ہم اللہ کی جنت اور اس کی رحمت کو طلب کرتے ہیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کے کرم سے بہت بعید ہے کہ وہ تم کو جنت اور اپنی رحمت عطا نہ کرے ‘ پھر تیسری قوم کے پاس سے گزرے ان پر عبادت کے آثار بہت زیادہ تھے ‘ ان سے سوال کیا تم کس لیے عبادت کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا اس لیے کہ وہ ہمارا معبود ہے اور ہم اس کے بندے ہیں ہم کسی چیز کی رغبت سے عبادت کرتے ہیں نہ کسی چیز کے خوف سے عبادت کرتے ہیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اللہ کے مخلص بندے ہو اور تم سچے عبادت گزار ہو۔ تم ان آیات کی ترتیب میں غور کرو پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مغفرت کا ذکر کیا اس میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اس کے عذاب کے خوف سے عبادت کرتے ہیں ‘ پھر رحمت کا ذکر فرمایا اس میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو ثواب کی طلب میں اس کی عبادت کرتے ہیں پھر آخر میں فرمایا تم ضرور اللہ کی طرف جمع کیے جاؤ گے اس میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اس کے بندے ہیں اور اللہ ان کا رب ‘ مالک اور معبود ہے اور یہ عابدوں کا سب سے بلند مقام ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کا شرف بیان کرتے ہوئے فرمایا : 

(آیت) ” ومن عندہ لایستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون “۔ (الانبیاء : ١٩) 

ترجمہ : اور جو اللہ کے پاس (فرشتے) ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں نہ تھکتے ہیں۔ 

اور متقین کا شرف بیان کرتے ہوئے فرمایا :

(آیت) ” ان المتقین فی جنت ونھر، فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر “۔ (القمر : ٥٥۔ ٥٤) 

ترجمہ : بیشک متقین جنتوں اور دریاؤں میں ہوں گے ‘ سچی عزت کے بلند مقام میں بڑی قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ 

چونکہ ان لوگوں نے محض اللہ کی رضا کے لیے عبادت کی اور اس کی ملاقات کے شوق میں ریاضت کی اس لیے وہ اللہ کے پاس جمع کیے جائیں گے (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٧٨‘ مطبوعہ دارا الفکر بیروت) 

دوزخ سے نجات ‘ جنت کے حصول اور دیدار الہی کی طلب کے مدارج میں امام غزالی کا نظریہ : 

امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

عمل میں اخلاص یہ ہے کہ عمل کرنے والا دنیا اور آخرت میں اس کا کوئی عوض طلب نہ کرے ‘ یہ ردیم کا قول ہے ‘ اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں نفس کا حصہ ایک آفت ہے ‘ اور جو شخص جنت کی نعمتوں اور لذتوں سے حصہ لینے کے لیے عبادت کرتا ہے اس کی عبادت میں اخلاص نہیں ہے ‘ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمل سے صرف اللہ عزوجل کی ذات کا ارادہ کیا جائے اور یہ صدیقین کا اخلاص ہے اور یہی اخلاص مطلق ہے ‘ اور جو شخص جنت کی امید اور دوزخ کے خوف کی وجہ سے عبادت کرتا ہے وہ اپنے پیٹ اور فرج کے حصہ کی طلب میں عبادت کر رہا ہے اور صاحبان عقل کے نزدیک تو صرف اللہ عزوجل کی ذات ہی مطلوب ہے ‘ لیکن انسان کی ہر حرکت کسی غرض کے لیے ہوتی ہے اور تمام اغراض سے بری ہونا تو اللہ تعالیٰ کی صفات سے ہے ‘ اور جس نے یہ دعوی کیا کہ وہ بےغرض عبادت کرتا ہے وہ کافر ہے اور قاضی ابوبکر باقلانی نے اس شخص کی تکفیر کا فیصلہ کیا جو تمام جو تمام حظوظ اور اغراض سے بری ہونے کا دعوی کرتا ہے اور کہا یہ صفات الوہیت سے ہے ‘ قاضی ابوبکر کا فیصلہ برحق ہے لیکن ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ لوگ جن حظوظ اور اغراض کی وجہ سے عمل کرتے ہیں وہ ان سے بری ہیں یعنی وہ فقط جنت کی لذتوں کے حصول کے لیے عبادت نہیں کرتے ان لوگوں کا حظ اور ان کی غرض اللہ کی معرفت اس سے مناجات ‘ اور اس کے دیدار کی لذت حاصل کرنا ہے ‘ عام لوگ اس لذت کا تصور نہیں کرسکتے بلکہ وہ اس پر حیران ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت ‘ مناجات اور دیدار کے بدلہ میں جنت کی نعمتیں دی جائیں تو وہ ان کو حقیر جانیں گے اور ان کی طرف التفات نہیں کریں گے ‘ سو ان کا حرکت کرنا اور عبادت کرنا بھی ایک حظ اور غرض کے لیے ہے لیکن ان کا حظ فقط ان کا معبود ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ (احیاء العلوم ج ٥ ص ٢٩١۔ ٢٩٠) 

دوزخ سے نجات ‘ جنت کے حصول اور دیدار الہی کے طلب کے مدارج میں مصنف کا نظریہ : 

امام غزالی اور امام رازی نے عبادت گزاروں کے جو یہ تین مراتب بیان کیے ہیں یہ برحق ہیں اور جو شخص معرفت الہی میں ڈوبا ہوا ہو اور اخلاص کا پیکر ہو اور دنیا کی تمام نعمتوں اور لذتوں نہ کرتا ہو اور ہر کام اور ہر مشغلہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی وجہ سے مشغول ہو ‘ کھانے پینے اور عمل ازدواج میں اسے کوئی لذت اور سرور حاصل نہ ہو بلکہ ان کاموں میں وہ صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی وجہ سے مشغول ہو اس کا سرور اور اس کی لذت صرف اطاعت الہی کا جذبہ ہو ‘ وہ اپنی طبیعت اور اشتہاء کی وجہ سے عمدہ اور لذیذ کھانوں ‘ خوب صورت ملبوسات اور اپنی بیوی سے عمل ازدواج اور بچوں کے پیار کا شوق نہ رکھے بلکہ ہر تعلق اور ہر نسبت میں صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت ہی اس کا ذوق و شوق اور اس کی غرض وغایت ہو تو ایسا شخص یہ کہے کہ میرا مقصد صرف اللہ عزوجل کی ذات کا دیدار ‘ اس سے ملاقات ‘ اس سے مناجات اور اس کی معرفت ہے نہ مجھے دوزخ سے نجات کی طلب ہے نہ جنت کے حصول کی تو وہ اپنے دعوی میں سچا ہے ‘ لیکن جس شخص کو اچھے کھانے کھا کر لطف اور مزہ آتا ہو ‘ جو عمل ازدواج میں لذت پاتا ہو اور جو اچھے کپڑے پہن کر خوش ہوتا ہو اور جس کو اپنے بچوں کو پیار کرکے راحت اور سکون ملے وہ یہ کہے کہ مجھے جنت نہیں چاہیے اور جنت کا حقارت سے ذکر کرے وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اور بناوٹی صوفی ہے۔ 

دوزخ سے نجات اور جنت کی طلب کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات : 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قیامت کے عذاب سے نجات اور مغفرت کی دعا کی ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” والذی اطمع ان یغفرلی خطیتی یوم الدین “۔ (الشعراء : ٨٢) 

ترجمہ : اور جس سے میری امید وابستہ ہے کہ وہ قیامت کے دن میری (ظاہری) خطائیں معاف فرمائے گا۔ 

(آیت) ” ولا تخزنی یوم یبعثون، یوم لا ینفع مال ولا بنون، (الشعراء : ٨٨۔ ٨٧) 

ترجمہ : جس دن سب لوگ اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے شرمندہ نہ کرنا، جس دن نہ مال نفع دے گا نہ بیٹے۔ 

اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جنت کے حصول کی دعا کی۔ 

(آیت) ” واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم “۔ (الشعراء : ٨٥) 

ترجمہ : اور مجھے نعمت والی جنت کے وارثوں میں شامل کر دے۔ 

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت عظیم اولوالعزم نبی ہیں ‘ جب وہ قیامت کے عذاب سے نجات اور جنت کے حصول کی دعا کر رہے ہیں تو یہ مدعیان تصوف جو ان کے گرد راہ کو بھی نہیں پہنچتے وہ کیسے دوزخ سے نجات اور جنت کی طلب سے مستغنی ہوسکتے ہیں : 

دوزخ سے نجات اور جنت کی طلب کے ثبوت میں احادیث : 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! جبرائیل اور میکائیل کے رب یا فرمایا حضرت اسرافیل کے رب میں دوزخ کی گرمی اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں یہ دعا کرتے تھے ‘ اے اللہ ! میں قبر کے فتنہ اور دجال کے فتنہ ‘ اور زندگی اور موت کے فتنہ اور جہنم کی گرمی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے تین مرتبہ اللہ جنت کا سوال کیا تو جنت دعا کرتی ہے کہ اے اللہ اس کو جنت میں داخل کر دے اور جس شخص نے تین مرتبہ دوزخ سے پناہ مانگی تو دوزخ دعا کرتی ہے کہ اے اللہ ! اس کو دوزخ سے پناہ میں رکھ (سنن نسائی ج ٢ ص ٣١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح کون صاحب اخلاص ہوگا بلکہ آپ سید المخلصین ہیں اور جب آپ نے خود دوزخ سے پناہ کی دعا کی ہے اور امت کو اس دعا کی تلقین کی ہے تو دوزخ سے پناہ طلب کرنے کا عمل گھٹیا اور معمولی کیسے ہوسکتا ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا بہت زیادہ کرتے تھے : اے اللہ ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما اور آخرت میں اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ 

(صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٤٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٤٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ص ٣٠٣‘ بیروت) 

امام حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں میں سے یہ دعا تھی ‘ اے اللہ ! ہم تجھ سے رحمت کی موجبات اور پختہ مغفرت کو طلب کرتے ہیں ‘ اور ہر گناہ سے سلامتی اور نیکی کی سہولت طلب کرتے ہیں اور جنت کی کامیابی اور تیری مدد سے دوزخ سے نجات طلب کرتے ہیں ‘ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے (حافظ ذہبی نے اس حدیث کو بلاجرح نقل کیا ہے) (المستدرک ج ١ ص ٥٢٥‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں ہر دو درجوں میں آسمان اور زمین جتنا فاصلہ ہے اور فردوس سب سے بلند درجہ ہے اس سے جنت کے چار دریا بہہ رہے ہیں اور اس کے اوپر عرش ہے سو جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔ (کتاب صفۃ الجنۃ ‘ باب : ٤‘ ماجاء فی صفۃ درجات الجنۃ رقم الحدیث : ٢٥٣١) 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا : اے اللہ میں تجھ سے تمام نعمت کا سوال کرتا ہوں ‘ آپ نے پوچھا تمام نعمت کیا چیز ہے ‘ اس نے کہا میں نے جو دعا کی ہے میں اس سے خیر کی امید رکھتا ہوں ‘ آپ نے فرمایا تمام نعمت جنت میں داخل ہونا ہے اور دوزخ سے کامیابی حاصل کرنا ہے۔ (الجامع الصحیح ‘ کتاب الدعوات ‘ باب : ٩٤‘ حدیث : ٣٥٢٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٥۔ ٢٣١‘ الادب المفرد للبخاری ص ١٨٨‘ مطبوعہ پاکستان) 

امام احمد روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن رفاعہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ بنو سلمہ کا ایک شخص تھا جس کا نام سلیم تھا ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! جب ہم سو جاتے ہیں اس وقت ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل آتے ہیں ‘ ہم دن بھر کام کاج میں مشغول رہتے ہیں ‘ یہ اس وقت آکر نماز کی اذان دیتے ہیں پھر ہم کو لمبی نماز پڑھاتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے معاذ بن جبل تم فتنہ ڈالنے والے نہ بنو ‘ یا تم میرے ساتھ نماز پڑھو یا اپنی قوم کو تخفیف کے ساتھ نماز پڑھاؤ‘ پھر آپ نے سلیم سے پوچھا تمہیں کتنا قرآن یاد ہے ؟ اس نے کہا میں اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور دوزخ سے پناہ طلب کرتا ہوں ‘ اس نے کہا بہ خدا آپ کی دعا اور معاذ کی دعا بہت حسین ہے ‘ آپ نے فرمایا میری اور معاذ کی دعا صرف یہ ہے کہ ہم اللہ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور دوزخ سے اس کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٧٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

دوزخ سے نجات اور جنت کے حصول کی طلب اخلاص کے منافی نہیں ہے : 

ان تمام احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی عذاب سے نجات کی اور جنت کی حصول کی دعا کی ہے اور امت کو بھی ان دعاؤں کی تلقین کی ہے ‘ اس لیے کوئی شخص کتنا ہی بڑا صاحب اخلاص اور صوفی کیوں نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اس کو اپنی پناہ میں رکھے اور جنت الفردوس عطا فرمائے اور یہ سمجھنا چاہیے اور یہ دعا کرنی چاہیے کہ ہرچند کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کی ذات کے دیدار کے لائق نہیں ہے اور یہ اللہ کے اولی العزم بندوں اور مقربین کا حصہ ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ اس کے حال پر کرم فرمائے اور اس کو شرف ملاقات عطا کرے اور اپنے دیدار سے نوازے تو یہ اس پر اس کا بہت بڑا کرم ہے ‘ امام اعظم ابوحنیفہ کو دیکھ کر کسی شخص نے کہا یہ تو جنتی شخص ہے ‘ امام اعظم رونے لگے اور فرمایا میں کہاں جنت کے لائق ہوں اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے دوزخ کے عذاب سے نجات دے دی تو یہی اس کا مجھ پر بڑا کرم ہوگا ‘ غور کیجئے ایک امام اعظم ہیں جو اپنے آپ کو جنت کے قابل نہیں سمجھتے تھے اور ایک اس زمانہ کے صوفیاء ہیں جو جنت کو اپنے لائق نہیں سمجھتے !

البتہ یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب انسان اللہ کی عبادت کرے تو عبادت میں صرف یہ نیت کرنی چاہیے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے ‘ اللہ اس کا معبود ہے اور بندہ پر لازم ہے کہ اپنے معبود کی عبادت کرے اور اس کی اطاعت کرے ‘ کسی غرض اور ثواب کی نیت سے عبادت نہ کرے ‘ اگر اللہ تعالیٰ اجر وثواب نہ بھی عطا کرے تب بھی اس کا مملوک اور اس کا بندہ ہونے کی وجہ سے اس پر اللہ کی عبادت اور اطاعت لازم ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع بھی اس نیت سے کرے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم اور فضل سے جن عبادات پر اجر وثواب کی دعا کرتا رہے کہ یہ بھی عبادت ہے اور اس کے حکم پر عمل کرنا اور اس کی اطاعت ہے اور جنت کے حصول اور اجر وثواب کی دعا کرتا رہے کہ یہ بھی عبادت ہے اور اس کے حکم پر عمل کرنا اور اس کی اطاعت ہے اور جنت کی نعمتوں کو معاذ اللہ حقیر نہ جانے ‘ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن مجید میں جنت کی نعمتوں کو بہت عظمت اور شکوہ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کو حقیر جاننا معاذ اللہ ‘ اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے البتہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے ملاقات اور اس کا دیدار سب سے بڑی نعمت ہے لیکن یہ نعمت بھی جنت ہی میں حاصل ہوگی ‘ بعض مدعیان محبت کہتے ہیں کہ ہم کو مدینہ چاہیے جنت نہیں چاہیے اور مدینہ کے مقابلہ میں جنت کو حقیر جانتے ہیں لیکن وہ یہ غور نہیں کرتے کہ مدینہ کی عظمت اور محبت اس وجہ سے ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن ہے لیکن وہ عارضی مسکن ہے اور جنت آپ کا دائمی مسکن ہے تو اگر حضور کے مسکن ہونے کی وجہ سے مدینہ محبوب ہے تو جنت کو زیادہ محبوب ہونا چاہیے کیونکہ وہ آپ کا دائمی مسکن ہے ‘ نیز یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت مدینہ کے جس حصہ میں آرام فرما ہیں وہ بھی جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے کیونکہ آپ نے فرمایا میرے منبر اور میرے حجرے کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ (سنن کبری للبیہقی ج ٥ ص ٢٤٦) سو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب بھی جنت میں ہیں اور قیامت کے بعد بھی جنت میں ہوں گے تو اول آخر جنت ہی کو محبوب قرار دینا چاہیے اور مدینہ منور کی محبوبیت جنت کے بعد ثانوی درجہ میں ہے البتہ جس جگہ آپ کا جسد انور ہے وہ کعبہ ‘ عرش اور جنت سے بھی افضل ہے اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 158