أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰهِ كَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰٮهُ جَهَنَّمُ‌ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ

ترجمہ:

تو کیا جس شخص نے اللہ کی رضا کی پیروی کی وہ اس شخص کی مثل ہوگا جو اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو کیا جس شخص نے اللہ کی رضا کی پیروی کی وہ اس شخص کی مثل ہوگا جو اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانا۔ (آل عمران : ١٦٢) 

نیکو کاروں کا بدکاروں کی مثل نہ ہونا :

اس آیت کی حسب ذیل تفسیریں کی گئی ہیں : 

(١) جس نے خیانت کو ترک کرنے میں اللہ کی رضا کی پیروی کی کیا وہ اس کی مثل ہوسکتا ہے جو خیانت کا ارتکاب کر کے اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا۔ 

(٢) جو شخص اللہ پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی اطاعت کر کے اس کی رضا کی پیروی کی کیا وہ اس شخص کی مثل ہوسکتا ہے جو کفر اور معصیت کر کے اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا۔ 

(٣) جن ایمان والوں نے اخلاص کے ساتھ نیک کام کرکے اللہ کی رضا حاصل کی کیا وہ ان منافقوں کے برابر ہوسکتے ہیں جو اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ 

(٤) جنگ احد میں جن مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر لبیک کہہ کر میدان جنگ میں پہنچ کر اللہ کی رضا حاصل کی کیا وہ ان مسلمانوں کے برابر ہوسکتے ہیں جنہوں نے میدان جنگ میں نہ پہنچ کر اللہ کے غضب کو دعوت دی۔ 

یہ تمام وجوہ صحیح ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اس آیت کو اپنے عموم پر رہنے دیا جائے ‘ قرآن مجید میں اس مضمون کی اور بھی آیات ہیں : 

(آیت) ” افمن کان مؤمنا کمن کان فاسقا “۔ (السجدۃ؛ ١٨) 

ترجمہ : تو کیا جو مومن ہو وہ فاسق کی طرح ہوسکتا ہے ؟ 

(آیت) ” ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار “۔ (ص : ٢٨) 

ترجمہ : کیا ہم ایمان لانے والوں اور نیک کام کرنے والوں کو زمین میں فساد کرنے والوں کی مثل کردیں گے یا ہم متقین کو بدکاروں کی مثل کردیں گے۔ 

(آیت) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت سوآء محیاھم ومماتھم سآء ما یحکمون “۔ (الجاثیہ : ٢١) 

ترجمہ : کیا جن لوگوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے ان کا یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی مثل کردیں گے کہ انکی زندگی اور موت برابر ہوجائے ؟ وہ کیسا برا فیصلہ کر رہے ہیں۔ 

(آیت) ” افنجعل المسلمین کالمجرمین، مالکم کیف تحکمون “۔ (القلم : ٣٦۔ ٣٥) 

کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی مثل کردیں گے ؟ تمہیں کیا ہوگیا تم کیسا فیصلہ کر رہے ہو ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 162