*درس 008: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَالثَّانِي) غَسْلُ الْيَدَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَأَيْدِيَكُمْ} [المائدة: ٦] وَمُطْلَقُ الْأَمْرِ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ.

وَالْمِرْفَقَانِ يَدْخُلَانِ فِي الْغَسْلِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ، وَعِنْدَ زُفَرَ لَا يَدْخُلَانِ، وَلَوْ قُطِعَتْ يَدُهُ مِنْ الْمِرْفَقِ، يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ مَوْضِعِ الْقَطْعِ عِنْدَنَا خِلَافًا لَهُ.

وضو کا دوسرا رکن دونوں ہاتھوں کا ایک بار دھونا ہے، جسکی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے۔ (اور اپنے ہاتھوں کو دھولو). اور مطلق (بغیر کسی قید کے) حکم دینا تکرار کا تقاضا نہیں کرتے۔

اور کہنیاں ہمارے تین اماموں (امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد) کے نزدیک دھونے کے حکم میں داخل ہیں۔

اور امام زفر کے نزدیک کہنیاں دھونے کے حکم میں داخل نہیں ہیں۔

لہذا اگر کسی کا ہاتھ کہنی سے کٹ جائے تو ہمارے نزدیک کہنی کے حصہ کا دھونا فرض ہے جبکہ امام زفر کے نزدیک فرض نہیں ہے۔

(وَلَنَا) أَنَّ الْأَمْرَ تَعَلَّقَ بِغَسْلِ الْيَدِ، وَالْيَدُ اسْمٌ لِهَذِهِ الْجَارِحَةِ مِنْ رُءُوسِ الْأَصَابِعِ إلَى الْإِبِطِ، وَلَوْلَا ذِكْرُ الْمِرْفَقِ لَوَجَبَ غَسْلُ الْيَدِ كُلِّهَا، فَكَانَ ذِكْرُ الْمِرْفَقِ لِإِسْقَاطِ الْحُكْمِ عَمَّا وَرَاءَهُ

ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے *ید* یعنی ہاتھ کے دھونے کا حکم دیا ہے۔

اور *ید* انگلیوں کے سِروں سے لیکر بغل تک کا نام ہے۔

اگر اللہ تعالی کہنیوں کا ذکر نہ فرماتا تو مکمل ہاتھ دھونا فرض ہوتا۔ تو کہنی کا ذکر کردینے کی وجہ سے اس سے اوپر حصہ کا دھونا ساقط ہوگیا۔

وَقَدْ رَوَى جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – «كَانَ إذَا بَلَغَ الْمِرْفَقَيْنِ فِي الْوُضُوءِ أَدَارَ الْمَاءَ عَلَيْهِمَا».

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران وضو جب کہنیوں تک پہنچتے تو انکے اوپر سے پانی ڈالتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

اللہ نے ارشاد فرمایا:

*وأيديكم إلى المرافق*

یعنی اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو۔

فقہاء کرام میں اختلاف ہوا کہ کہنیاں دھونے میں شامل یے یا نہیں ؟

تو تحقیقی اور درست رائے یہی ہے کہ کہنیاں دھونا بھی فرض ہے۔

یہاں *غایہ مغایہ* کی بحث بھی کی جاتی ہے مگر علامہ کاسانی نے ایک اور آسان دلیل بھی دے دی کہ ہاتھ “انگلیوں کے سروں سے بغل تک کا نام ہے” اس میں اللہ تعالی نے خود کہنی کا ذکر فرمادیا تو وہ شامل ہوگی اس سے اوپر کا حصہ شامل نہیں ہوگا۔

میں نے دیگر کتب میں اس فرض سے متعلق مسائل دیکھے تو زیادہ کلام نہیں ملا بس احتیاطیں زیادہ ہیں۔۔

مثلا

انگلیوں کی کروٹیں، کلائی کی کروٹیں، ناخنوں کی تہہ وغیرہ، انگوٹھی چھلا تنگ ہو تو اتار کر پانی بہانا۔۔۔

اگر کسی کی چھ انگلیاں ہو تو سب کا دھونا فرض ہے کیونکہ چھٹی انگلی بھی *ید* میں شامل ہے۔

امام زفر، امام اعظم رضی اللہ عنہما کے ہی شاگرد ہیں۔ یہاں ہمارے لئے سبق ہے کہ شاگرد اپنے استاد سے دلیل کی بنیاد پر علمی اختلاف کرسکتا ہے۔۔۔ اس سے نہ شاگرد باغی کہلائے گا نہ استاد کی توہین لازم آئے گی۔

یہی معاملہ پیر و مرید کا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*