فاروق اعظم نے اشاعت حدیث کیلئے صحابہ کرام کو مامور فرمایا

 

دورئہ حدیث کے علاوہ انفرادی طور پر بھی حدیثیں یاد کرنے کابڑا اہتمام تھا ۔ حفاظت حدیث کایہ شغل صرف عہد نبوی تک محدود نہیں رہابلکہ عہد صحابہ میں حصول حدیث ،حفظ حدیثاوراشاعت حدیث کا شوق اپنے جوبن پرتھا ۔

مستشرقین اورپھر انکے بعد منکرین حدیث نے اس بات پر خوب واویلا کیا ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے احادیث کی اشاعت پر سخت پابندی لگادی تھی اور کوئی انکے دور میں اس کام کو نہیں کرسکتاتھا ،لیکن اس بے بنیاد الزام کی حقیقت قارئین ملاحظہ فرماچکے ہیں یہاںقدرے تفصیل سے اس مفروضہ کا رد وابطال مقصود ہے ۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت اسلامی کے گوشے گوشے میں حدیث پاک کی تعلیم کیلئے ایسے صحابہ کرام کو روانہ فرمایا جنکی پختگی سیرت اور بلندی کردار کے علاوہ ان کی جلالت علمی تمام صحابہ کرام میں مسلم تھی ،حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ازالۃ الخفاءمیں تحریر فرماتے ہیں ۔

چنانکہ فاروق اعظم عبداللہ بن مسعود راباجمعے بکوفہ فرستاد ، ومغفل بن یسار وعبداللہ بن مغفل وعمران بن حصین را بہ بصرہ ،وعبادہ بن صامت وابودرداء رابشام ،وبہ معاویہ بن سفیان کہامیرشام بود قد غن بلیغ نوشت کہ از حدیث ایشاں تجاوز نہ کند ۔

قرآن وسنت کی تعلیم کیلئے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوایک جماعت کے ساتھ کوفہ بھیجا ۔مغفل بن یسار ، عبداللہ بن مغفل اورعمران بن حصین کو بصرہ ۔ عبادہ بن صامت اور ابودرداء کو شام بھیجا ۔ اور حضرت امیر معاویہ کو جو اس وقت شام کے گورنر تھے سخت تاکید ی حکم لکھا کہ یہ حضرات جو احادیث بیان کریں انسے ہرگز تجاوز نہ کیا جائے ۔

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل کوفہ کوبھی ایک خط لکھاتھا جس میں تحریر فرمایا ۔

انی بعثت الیکم عماربن یاسر امیرا ،وعبداللہ بن مسعود معلما ووزیرا ، وھما من النجباء من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ومن اہل بدرفاقتدوا بھما واسمعوا،وقداثرتکم بعبد اللہ بن مسعود علی نفسی ۔

میں تمہاری طرف عمار بن یاسر کوامیر اور عبداللہ بن مسعود کو معلم بناکر بھج رہاہوں ،اور یہ دونوں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بزرگ ترین صحابہ میں سے ہیں اوربدری ہیں ، انکی پیروی کرو اور انکا حکم مانو ، خاص طور پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوتمہاری طرف بھیج کرمیں نے تمہیں خود پر ترجیح دی ہے ۔

علامہ خضری نے تاریخ التشریع الاسلامی میں مذکورہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد لکھاہے ۔

وقدقام فی الکوفۃ یأخذ منہ اہلھا حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہو معلمہم وقاضیہم ۔

یعنی اسکے بعد حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدت تک کوفہ میں قیام پذیر رہے اوروہاں کے باشندے ان سے احادیث نبوی سیکھتے رہے ، وہ اہل کوفہ کے استاد بھی تھے اور قاضیبھی ۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب بصرہ کی امارت پر حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کیا اور وہ وہاں پہونچے تو انہوں نے اپنے آنے کی غرض وغایت ان الفاظ میں بیان فرمائی ۔

بعثنی عمر الیکم لاعلمکم کتاب ربکم وسنۃ نبیکم ۔

مجھے حضرت عمر نے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور حضور نبی کریم کی سنت کی تعلیم دوں ۔ جل جلا لہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

اسکے علاوہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی صوبوں کے حکام وقضاۃ اور عساکر اسلامیہ کے قائدین کو خط لکھتے تو انہیں کتاب اللہ اور سنت نبوی پر کار بند رہنے کی سخت تاکید فرماتے ۔آپ کا ایک تاریخی خط ہے جو آپ نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارسال کیاتھا اس میں قاضی کے فرائض اور مجلس قضاکے آداب کو اس حسن وخوبی اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر اسے اسلام کا بدترین دشمن بھی پڑھے تو جھوم جائے ۔ دیگر امور کے علاوہ آپ نے انہیں یہ بھی تحریر فرمایا ۔

ثم الفہم الفہم فیما ادلی الیک مما ورد علیک مما لیس فی قرآن ولا سنۃ ثم قایس الامور عندذلک ۔

ان واقعات کا جن کے لئے تمھیں کوئی حکم قرآن وسنت میں نہ ملے فیصلہ کرنے کیلئے

عقل اور سمجھ سے کام لو اور ایک چیز کو دوسری پر قیاس کیا کرو ۔

ٍآپ کا ایک مکتوب جو قاضی شریح کوروانہ کیاگیا اس میں آپ ان کیلئے ایک منہاج مقرر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

اذا اتاک امر فاقض بما فی کتاب اللہ ، فان اتاک بما لیس فی کتاب اللہ فاقض بما سن فیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؍ ۔

جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے تو اس کا فیصلہ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق کرو اور اگر کوئی ایسا واقعہ پیش ہو جس کا حکم قرآن میں نہ ہوتو پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کرو ۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے عہد خلافت میں جب حج کرنے کیلئے گئے تو مملکت اسلامیہ کے تمام والیوں کو حکم بھیجا کہ وہ بھی حج کے موقع پر حاضر ہوں ،جب وہ سب جمع ہوگئے تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک تقریر فرمائی ۔

قال ایہا الناس ! انی ما ارسل الیکم عما لالیضربو ابشارکم ولا لیأخذ وا اموالکم وانما ارسلہم الیکم یعلموکم دینکم وسنۃ نبیکم ، فمن فعل بہ شیٔ سویذلک فلیرفعہ الی ،فوالذی نفس عمر بیدہ لاقصنہ منہ ۔

آپ نے فرمایا : اے لوگو ! میں نے تمہاری طرف جو حکام بھیجے ہیں وہ اس لئے نہیں بھیجے تاکہ وہ تمہیں زدوکوب کریں اور تمہارے اموال تم سے چھینیں ، میں ے انہیں صرف اس لئے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ وہ تمہیں تمہارا دین اور تمہارے نبی کی سنت سکھائیں ،حکام میں سے اگر تمہارے ساتھ کسی نے زیادتی کی ہو تو پیش کرو۔ اس ذات پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں عمر کی جان ہے میں اس حاکم سے قصاص لئے بغیر نہیں رہوں گا ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے محبوب وکریم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت کی نشرواشاعت اورتمام قلمرو اسلامی میں اس پر سختی سے عمل کرانے کی جو مساعی کیں یہ اس کا نہایت ہی مختصر خاکہ ہے لیکن اس سے کم ازکم یہ حقیقت تو ہویداہوجاتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت امت پر قیامت تک فرض ہے اور اسی میں ان کی ترقی عزت اور ہیبت کا راز پنہا ںہے ، اسی لئے تو آپ نے ملک کے گوشے گوشے میں جلیل القدر صحابہ کرام کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو ان کے رسول کی سنت کی تعلیم دیں اور حکام کو بار بار اتباع سنت کیلئے مکتوب روانہ فرمائے۔ (سنت خیر الانام ، مصنفہ پیر کرم شاہ ازہری، ۱۱۳)