أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ

ترجمہ:

وہ اللہ کے نزدیک مختلف درجوں والے ہیں اور اللہ انکے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ اللہ کے نزدیک متعدد درجوں والے ہیں ‘ اور اللہ ان کے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ 

ثواب اور عذاب کے مختلف درجات : 

اس آیت کا معنی ہے جن لوگوں نے خیانت کو ترک کیا وہ سب ایک درجہ کے نہیں ہیں بلکہ نیت اور اخلاص کے اعتبار سے ان کے مختلف درجات ہیں یا اس کا معنی ہے ایمان لانے والے اور اعمال ؟ صالحہ کرنے والے سب ایک درجہ کے نہیں ہیں بلکہ نیت ‘ اخلاص اور اعمال کی کمی اور بیشی کے اعتبار سے ان کے مختلف مدارج اور درجات ہیں اور اجر وثواب کے لحاظ سے جنت کے بہت درجات ہیں ‘ اسی طرح جن لوگوں نے خیانت کی یا جنہوں نے کفر کیا اور معصیت کی ان سب کا دوزخ میں ایک درجہ نہیں ہے بلکہ ان کے کفر کی کیفیت اور گناہوں کی کمی اور بیشی کے لحاظ سے دوزخ میں بہت درجات ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا منافقین دوزخ کے سب سے آخری طبقہ میں ہوں گے ‘ اسی طرح آپ نے ابوطالب کے متعلق فرمایا وہ جہنم کی سختیوں میں تھا میں نے اس کو کھینچ کر تھوڑی سی آگ میں کردیا ‘ اس کے بعد فرمایا اور اللہ ان کے کاموں کو خوب جاننے والا ہے ‘ یہ ان کے مختلف درجات کی دلیل ہے کیونکہ ہو ہر شخص کے عمل کو خوب جاننے والا ہے تو اس کو اس کے عمل کے اعتبار سے پوری پوری جزا دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 163