حدیث نمبر :274

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں کہ جس پر فرض نماز آئے ۱؎ تو اس کا وضو وخشوع ورکوع اچھی طرح کرے۲؎ مگر یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے،جب تک کہ گناہ کبیرہ نہ ہو۳؎ یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے۴؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی نماز پنجگانہ اور جمعہ۔خیال رہے کہ فرض کا ذکر احترازی نہیں،کیونکہ نماز تہجد و اشراق وعیدین کے وضو کا بھی یہی حال ہے۔چونکہ اکثر وضو نماز پنجگانہ کے لیئے ہی ہوتے ہیں اس لیئے ان کا ہی ذکر فرمایا،نیز اگر کوئی وقت سے پہلے وضو کرے تب بھی یہی ثواب ہوگا۔

۲؎ نماز کا خشوع یہ ہے کہ اس کا ہر رکن صحیح ادا کرے،دل میں عاجزی اور خوف خدا ہو،نگاہ اپنے ٹھکانے پر رہےکہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پاؤں کی پشت،سجدہ میں ناک کے نتھنےاور قعدہ میں گود میں رہے۔خشوع نماز کی روح ہے،رب فرماتاہے:”ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ”صرف رکوع کا اسی لئے ذکر فرمایا کہ یہ سجدہ کا پیش خیمہ ہے اور بمقابلۂ سجدہ کے اس میں مشقت زیادہ ہے،نیز یہ مسلمانوں کی نمازوں کا خاصہ ہے،یہودونصاریٰ کی نمازوں میں نہ تھا،اس کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے،نیز رکوع مستقل عبادت نہیں،صرف نماز ہی میں عبادت ہےاورسجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت ہے۔جیسے سجدۂ شکر،سجدۂ تلاوت وغیرہ۔

۳؎ یعنی اس سے گناہ کبیرہ معاف نہیں ہوتے صرف صغیرہ معاف ہوتے ہیں،لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کبیرہ والے کے صغیرہ بھی معاف نہیں ہوتے۔(لمعات)

۴؎ یعنی یہ ثواب کسی خاص نماز کا نہیں بلکہ عمر میں ہرنماز کا ہے۔