اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ‌ؕ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 168

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ‌ؕ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو بیٹھ رہے اور انھوں نے (شہید ہونے والے) اپنے بھائیوں کے متعلق کہا اگر یہ ہمارا کہنا مان لیتے تو قتل نہ کیے جاتے ‘ آپ کہیے اگر تم سچے ہو تو جب تمہاری موت آئے تو اسے ٹال دینا

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 168

‌وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا  ۖۚ وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ‌ۚ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰكُمۡ‌ؕ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَٮِٕذٍ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ‌ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ‌ۚ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 167

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

‌وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا  ۖۚ وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ‌ۚ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰكُمۡ‌ؕ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَٮِٕذٍ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ‌ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ‌ۚ

ترجمہ:

اور تاکہ (اللہ) منافقوں کو الگ کر دے ‘ اور ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو ‘ یا (اپنے شہر کا) دفاع کرو تو انھوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے ‘ اس دن وہ ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے ‘ وہ اپنی زبانوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جو انکے دلوں میں نہیں تھی اور اللہ ان چیزوں کو زیادہ جاننے والا ہے جن کو وہ چھپاتے ہیں

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 167

وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ‏ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 166

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ‏

ترجمہ:

دو فریقوں کے مقابلہ کے دن تم پر جو مصیبت آئی تھی تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لیے کہ اللہ مومنوں کو متمیز کر دے

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 166

اَوَلَمَّاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰذَا‌ؕ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 165

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمَّاۤ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰذَا‌ؕ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

ترجمہ:

یہ کیا ہوا کہ جب تمہیں ایک مصیبت پہنچی حالانکہ تم اس سے دگنی مصیبت (کفار کو) پہنچا چکے تھے ‘ (پھر بھی) تم نے کہا یہ مصیبت کہاں سے آئی ‘ آپ کہیے کہ یہ مصیبت تمہاری ہی طرف سے آئی ہے ‘ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

بعض مسلمانوں اور منافقوں کے شبہات اور ان کے جوابات :

جنگ بدر میں مسلمانوں نے ستر مشرکوں کو قتل کردیا تھا اور ستر مشرک گرفتار کرلیے گئے تھے ‘ اس کے بعد جنگ احد میں ستر مسلمان شہید کردیئے گئے تو بعض مسلمان کہنے لگے ‘ ہم پر یہ مصیبت کیسے ٹوٹ پڑی ‘ حالانکہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے مقابلہ پر مشرک ہیں اور ہم میں اللہ کا نبی بھی موجود ہے جن پر آسمان سے وحی آتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : اے نبی ! آپ کہئے کہ یہ مصیبت تمہاری خود لائی ہوئی ہے ‘ تم میری حکم عدولی کر کے احد پہاڑ سے ہٹے اور مال غنیمت لینے کے لیے ٹوٹ پڑے ‘ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ‘ وہ چاہے تو تمہاری اس تقصیر پر در گذر کرے اور چاہے تو سزا دے ‘ وہ چاہے تو فضل اور احسان کرے اور چاہے تو انتقام لے۔ جس دن کفر اور اسلام کے دو لشکر معرکہ آراء ہوئے اس دن جو مسلمان شہید ہوئے اور جو مسلمان زخمی ہوئے وہ سب اللہ کی قضاء وقدر کے مطابق ہوا اور اس کی حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مخلص مسلمانوں کو منافقوں سے متمیز کردیا ‘ اور جن منافقوں نے اپنے نفاق پر ظاہری اسلام کا پردہ ڈالا ہوا تھا وہ پردہ اٹھا دیا اور ان کے نفاق کو ظاہر کردیا۔ 

عبداللہ بن ابی اور اس کے تین سو ساتھی جو جنگ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصرت سے انحراف کرکے لشکر اسلام سے نکل گئے تھے ‘ ان کے پیچھے حضرت جابر کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام گئے اور ان سے کہا اللہ سے ڈرو اور اپنے نبی کا ساتھ نہ چھوڑو اللہ کی راہ میں قتال کرو یا کم از کم اپنے شہر کا دفاع کرو تو عبداللہ بن ابی نے کہا میرے خیال میں جنگ نہیں ہوگی ‘ اور اگر ہمیں جنگ کا یقین ہوتا تو ہم تمہارے ساتھ رہتے ‘ جب حضرت عبداللہ ان سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے کہا اے اللہ کے دشمنو ! جاؤ عنقریب اپنے نبی کو تم سے مستغنی کر دے گا وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گئے اور شہید ہوگئے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١١١‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کا پردہ چاک کردیا اور جو لوگ انکو مسلمان سمجھتے تھے ان پر ان کا نفاق ظاہر کردیا اور جس دن ان کا حال ظاہر ہوگیا اس دن وہ ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے ‘ یہ منافق اپنی زبانوں سے ایمان کو ظاہر کرتے تھے اور اپنے کفر کو چھپاتے تھے۔ 

یہ منافق یعنی عبداللہ بن ابی کے اصحاب جو جہاد میں شامل نہیں ہوئے تھے اور شہر میں بیٹھے رہے تھے۔ ان کے نسبی بھائی جن کا تعلق خزرج سے تھا جو جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے ‘ ان کے متعلق ان منافقوں کو کہا کہ اگر ہمارے یہ (نسبی یا پڑوسی) بھائی مدینہ میں رہتے تو قتل نہ کیے جاتے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی اور اس کے اصحاب نے قبیلہ خزرج کے لوگوں سے کہا یہ لوگ جو قتل کردیئے گئے اگر یہ ہماری پیروی کرلیتے تو جنگ میں نہ مارے جاتے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی : اے نبی ! آپ ان سے کہئے اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو جب تمہارے اوپر موت آئے تو تم اس کو خود سے ٹال کردکھانا۔ 

علامہ ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٥ ھ لکھتے ہیں : 

میں نے بعض مفسرین سے سمرقند میں سنا کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی ‘ اسی دن ستر منافقین مرگئے تھے۔ (تفسیر سمرقندی مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٣ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 165

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ  ۚ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 164

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ  ۚ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ

ترجمہ:

بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ‘ بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

احسان جتلا کر جزا کا طالب ہونا یہ معنی مذموم ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بغیر طلب جزاء کے مومنوں پر اپنے انعام اور احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ 

آیات سابقہ سے مناسبت : 

آیات سابقہ سے اس آیت کے ارتباط کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں : 

(١) اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر لوگوں کے دو گروہ بیان فرمائے ایک وہ جو اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اللہ کی ناراضگی کے کام کرتے ہیں۔ اب اللہ نے ان دونوں فریقوں کی تفصیل شروع کی پہلے مومنین کا ذکر فرمایا جو اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج کر ان پر احسان فرمایا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کو کفر اورشرک کی نجاست سے پاک کرتا ہے اور ان کے اعضاء اور قلب کو ہر قسم کے گناہوں سے بچا کر صاف رکھتا ہے اور ان کو کتاب اور سنت کی تعلیم دیتا ہے۔

(٢) بعض منافقین نے جنگ بدر کے دن ایک چادر کے متعلق یہ کہا تھا کہ شاید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ چادرلی ہوگی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے اور نبی کریم کی براءت کرتے ہوئے فرمایا تھا اور خیانت کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہے (آل عمران : ١٦١) 

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسی برات اور نزاہت کو موکد کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ عظیم رسول ان کے شہر میں پیدا ہوئے اور ان کے سامنے نشو و نما پائی اور پوری زندگی میں اس نبی سے صدق ‘ امانت ‘ اللہ کی طرف بلانے اور دنیا سے بےرغبتی کرنے کے سوا ان سے کچھ ظاہر نہیں ہوا ‘ تو ایسے صادق ‘ امین اور زاہد کی طرف خیانت کی نسبت کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے۔ 

(٣) پھر اللہ تعالیٰ نے صرف آپ کی برائت اور نزاہت پر اکتفا نہیں کی بلکہ فرمایا اس عظیم رسول کا وجود تو تمہارے لیے بہت بڑی نعمت ہے ‘ کیونکہ وہ تم کو بےدینی اور گمراہی سے پاک کرتے ہیں اور تم کو علوم و معارف سے نوازتے ہیں ‘ امام احمد روایت کرتے ہیں : 

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے نجاشی سے کہا : اے امیر ! ہم لوگ جاہل تھے ‘ بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ مردار کھاتے تھے ‘ بےحیائی کے کام کرتے تھے ‘ رشتے توڑتے تھے ‘ ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے ‘ ہم میں سے قوی شخص ضعیف کا حق کھا جاتا تھا ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک عظیم رسول بھیجا جن کے نسب کو ‘ ان کے صدق کو ‘ ان کی امانت داری کو اور ان کی پاک دامنی کو ہم اچھی طرح جانتے تھے ‘ انہوں نے ہم کو دعوت دی کہ ہم اللہ واحد لاشریک کی عبادت کریں ‘ اور ہم اور ہمارے آباء و اجداد جن پتھروں اور بتوں کی عبادت کرتے تھے اس کو ترک کردیں انہوں نے ہم کو تعلیم دی کہ ہم سچ بولیں ‘ امانت ادا کریں ‘ رشتے جوڑیں ‘ ہمسایوں سے اچھا سلوک کریں ‘ حرام کاموں اور خوں ریزی کو چھوڑ دیں ‘ انہوں نے ہمیں بےحیائی کے کاموں ‘ جھوٹ بولنے ‘ یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے منع کیا۔ انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں ‘ نماز پڑھیں ‘ زکوۃ ادا کریں اور روزے رکھیں۔ الحدیث (مسند احمد ج ١ ص ٢٠٢) 

سوجس نبی نے ایسی انقلاب افروز تعلیم دی ہو اس کی طرف خیانت کی نسبت کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے۔ 

(٤) تم لوگ گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے تمہارے شہر میں یہ عظیم رسول پیدا ہوئے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بےنظیر اور لافانی کتاب نازل کی اور ان کو بہ کثرت معجزات عطا کئے ‘ تمام انبیاء کا ان کو قائد بنایا تو ان کی وجہ سے اور ان کے دین پر عمل کرنے کی وجہ سے تمہیں تمام دنیا میں شہرت اور عزت ملی تو ان پر کسی قسم کا طعن کرنا کس قدر عدل اور انصاف سے بعید ہے۔ 

(٥) اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیتوں میں مسلمانوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کرنے کی تلقین کی تھی ‘ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اس عظیم رسول کی بعثت تم پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے سو تم پر لازم ہے کہ تم اپنی تمام تر قوتوں سے ان کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔ 

نبیوں اور رسولوں کی بعثت کا عام انسانوں اور مومنوں کے لیے رحمت ہونا : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کو مسلمانوں پر احسان قرار دیا ہے ‘ جس طرح کی بعثت مومنوں پر احسان طرح عموما نبیوں اور رسولوں کی بعثت بھی عام انسانوں اور مومنوں پر احسان ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے عموما انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے متعلق اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے : 

(آیت) ” رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (النساء : ١٦٥) 

ترجمہ : (ہم نے) بشارت دینے والے اور ڈرانے والے رسول (بھیجے) تاکہ رسولوں (کے آنے) کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے خلاف کے خلاف کسی عذر کی گنجائش نہ رہے۔ 

رسولوں کی بعثت سے لوگوں کو متعدد طریقوں سے رشد رو ہدایت حاصل ہوتی ہے : 

(١) انسانوں کی عقل اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت کے لیے ناقص اور نارسا ہے اور شیطان قدم قدم پر لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے خلاف شکوک و شبہات ڈالتا ہے ‘ اللہ کا نبی کا انسانوں کو اللہ کی معرفت کراتا ہے اور شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے۔ 

(٢) ہرچند کہ بعض انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں لیکن وہ از خود یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ تعالیٰ کن کاموں سے راضی ہوتا ہے اور کن کاموں سے ناراض ہوتا ہے ‘ نبی ان کو عبادات اور معاملات کے لیے ایسے طریقے بتاتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ان کاموں سے منع فرماتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ 

(٣) انسان اپنی فطرت میں سست اور غافل ہے ‘ اسے عبادات اور معاملات کے طریقے معلوم بھی ہوجائیں پھر بھی وہ سستی اور غفلت کی وجہ سے بےعملی اور بدعملی کا شکار ہوجاتا ہے نبی آکر انہیں نیکی کی طرف رغبت دلاتا ہے اور برائی پر اللہ کی گرفت سے ڈراتا ہے۔ 

(٤) جس طرح آنکھ میں اللہ تعالیٰ نے چیزوں کو دیکھنے کا نور رکھا ہے لیکن جب تک آفتاب یا چراغ کا نور اس نور کے معاون نہ ہو تو اشیاء کو دیکھنے کے لیے یہ نور ناکافی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقل میں اپنی معرفت کا نور رکھا ہے لیکن جب تک نور نبوت اس کے معاون نہ ہو یہ نور ناکام اور ناتمام ہے۔ 

(٥) نبی اللہ کے احکام پر عمل کرکے دکھاتا ہے اور عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔ 

(٦) انسان اس وقت بےجھجھک گناہ کرتا ہے جب وہ حرص ‘ شہوت یا غضب سے بےقابو ہوجائے ‘ نبی اپنی تعلیم سے دلوں میں ایسا خوف خدا پیدا کرتا ہے کہ انسان ایسی حالت میں سنبھل جاتا ہے خدا کو یاد کرتا ہے اور معصیت سے باز آجاتا ہے۔ 

(٧) سخت مشکلات ‘ مصائب اور بیماریوں میں نبی پابندی سے اللہ کی اطاعت اور عبادت کرتا ہے تاکہ سخت مشکلات اور مصائب کسی شخص کے لیے عبادت نہ کرنے کا عذر نہ بن سکیں۔ 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلائل اور مومنین پر وجوہ احسان : 

سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر حسب ذیل دلائل ہیں اور یہی دلائل مومنوں پر وجوہ احسان ہیں : 

(١) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں پیدا ہوئے اور آپ نے وہیں نشو و نما پائی ‘ اور چالیس سال تک اہل مکہ دیکھتے رہے کہ آپ نے ہمیشہ سچ بولا ‘ اور آپ کی پارسائی اور امانت و دیانت کا سکہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گیا۔ آپ حرص وطمع ‘ جھوٹ ‘ بےحیائی اور برائی کے کاموں سے ہمیشہ دور رہے لوگ آپ کو صادق اور امین کے نام سے پہچانتے تھے۔ پھر جب آپ نے چالیس سال بعد اللہ کے نبی اور رسول ہونے کا دعوی کیا تو یہ یقین کیا جاسکتا تھا کہ جس شخص نے آج تک بندوں کے متعلق کوئی جھوٹ نہیں بولا وہ یکایک خدا پر کیسے جھوٹ باندھے گا !

(٢) اہل مکہ کو علم تھا کہ آپ نے کسی استاذ کے آگے کبھی زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا ‘ کسی کا درس سنا نہ کسی کتاب کو پڑھا نہ کسی سے علم کا تکرار کیا ‘ پھر چالیس سال اسی طرح گزارنے کے بعد آپ یکایک غار حرا سے نکلے اور ایسا فصیح وبلیغ کلام پڑھا جس کی نظیر لانے سے آج تک تمام دنیا عاجز ہے ‘ پھر اس کلام میں گذشتہ اقوام کی تاریخ اور ان کے واقعات تھے جن کو پہلے آپ نے کسی سے سنا نہ تھا اور جن کی اہل کتاب نے تصدیق کردی اور اس کلام میں مستقبل کے متعلق پیش گوئیاں تھیں جو اپنے اپنے وقت میں حرف بہ حرف پوری ہوئیں تو عقل سلیم کے لیے اس کو باور کرنے میں کوئی تامل نہ رہا کہ یہ کسی انسان کا نہیں اللہ کا کلام ہے ‘ اور اس کلام کو اللہ نے آپ پر نازل کیا اور آپ اور آپ اس کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں۔

(٣) مخالفین نے آپ کو دعوی نبوت سے دستبردار ہونے کے لیے بڑی بھاری مالی پیش کشیں کیں ‘ عرب کی حسین عورتوں کو نکاح کے لیے پیش کیا ‘ لیکن آپ توحید کا پیغام سنانے سے دستبردار نہیں ہوئے ‘ پھر آپ کو اذیتیں پہنچائی گئیں ‘ آپ کے اصحاب کو تنگ کیا گیا ‘ آپ کا سماجی بائیکاٹ کردیا گیا (٧ نبوت میں) مخالفین نے مل کر یہ معادہ کیا کہ کوئی شخص خاندان بنوہاشم سے تعلق رکھے گا نہ ان سے خریدو فروخت کرے گا نہ ان کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز جانے دیگا حتی کہ وہ سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کے لیے ہمارے حوالے نہ کردیں ‘ اس کے نتیجہ میں آپ تین سال تک شعب ابو طالب میں محصور رہے ‘ جب ان مصائب اور مشقتوں کے باوجود آپ اللہ کی توحید بیان کرنے سے دست کش نہیں ہوئے تو سب نے مل کر آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا حتی کہ آپ کو ہجرت کر کے اپنا وطن چھوڑنا پڑا ‘ آپ نے سب کچھ چھوڑا ‘ لیکن پیغام حق سنانا نہیں چھوڑا ‘ جو شخص اپنے موقف کی خاطر اتنے مصائب اور اذیتیں برداشت نہیں کرسکتا۔ سو جس شخص کے سامنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ سیرت ہو اس کو آپ کو صداقت میں کبھی تامل نہیں ہوسکتا۔ 

(٤) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کتاب پیش کی، اس میں اللہ کی وجود ‘ اس کے خالق کائنات ہونے اور واحد لا شریک ہونے کا بیان ہے اور شرک سے تنزیہ ہے ‘ اس میں نیک عمل کرنے اور برے عمل نہ کرنے کی تلقین اور ترغیب ہے ‘ اور ان کے منکروں پر عذاب نازل ہونے کا بیان ہے۔ غرض اس کتاب میں نیکی اور سچائی کے سوا کچھ نہیں تو جس شخص نے یہ کتاب پیش کی اور اس کے منزل من اللہ ہونے کا دعوی کیا وہ خود نیک اور سچا کیوں نہیں ہوگا ! 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیشمار معجزات پیش کیے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھایا ‘ سورج کو پلٹایا ‘ درخت آپ کے اشارہ پر چل کر آتے اور پھر واپس اپنی جگہ چلے جاتے ‘ درختوں ‘ پتھروں ‘ اور مختلف جانوروں نے آپ کا کلمہ پڑھا ‘ کھانے پینے کی چیزوں کی کم مقدار آپ کی برکت سے بہت زیادہ ہوجاتی تھی ‘ آپ نے علوم و معارف کے دریا بہائے غیب کی خبریں بیان کیں ‘ آپ چاہتے تو آپ خدائی کا دعوی کردیتے اور یہ دنیا جو چند کمالات کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کو خدا مان چکی ہے ‘ جس نے فرعون کو بغیر کسی کمال کے خدا مان لیا تھا جو لوگ بلاوجہ اور بےسبب عناصر اور پتھروں کی پرستش کرتے رہے ان سے کچھ بعید نہ تھا بلکہ زیادہ توقع تھی کہ وہ ان کمالات کو دیکھ کر آپ کی خدائی کے دعوی پر یقینا ایمان لے آتے ‘ لیکن آپ نے کہا میں تمہاری مثل ایک بشر ہوں ‘ جس طرح تم خدا نہیں میں بھی خدا نہیں ہوں ‘ مجھ پر صرف اس کی وحی آتی ہے ‘ یہ کلام جس کی فصاحت و بلاغت ‘ غیب کی خبروں اور عالم گیر ہدایتوں کے اعتبار سے میں نے اس کی نظیر لانے کا چیلنج کیا ہے یہ میری قابلیت اور کاوش کا نتیجہ نہیں ہے لفظ بہ لفظ اللہ کا کلام ہے ‘ اور یہ جو بہ کثرت معجزات میں نے دکھائے ہیں یہ میری قدرت کا ثمرہ نہیں ہیں یہ اسی خدائے واحد کی قدرت سے ظہور میں آئے ہیں ‘ میں جو اولین اور آخرین کی خبریں ‘ ” ماکان “ ومایکون “ اور غیب کی باتیں بتاتا ہوں یہ میرا ذاتی علم نہیں ہے ‘ یہ سب کچھ میں اللہ کے دیئے ہوئے علم اور اس کی وحی سے بتاتا ہوں ‘ میرا علم اور میری قدرت ‘ میرا کوئی وصف اور کوئی کمال بھی ذاتی نہیں ہے ‘ میں خود اور میرے تمام اوصاف سب اللہ کے عطا کردہ ہیں ‘ آپ سے کہا گیا کہ فلاں علاقہ کے لوگ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ‘ آپ نے فرمایا اگر مخلوق کے لیے سجدہ روا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ‘ ہماری تعظیم صرف سلام کرنے میں ہے ‘ آپ بہت زیادہ عبادت کرتے تھے اور راتوں کو اتنا طویل قیام کرتے تھے کہ آپ کے پیر سوج جاتے تھے ‘ دن میں سو مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتے تھے آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ نے اتنے عظیم کمالات پیش کیے اور برملا یہ اعلان کیا کہ یہ میرا ذاتی کمال نہیں ہے ‘ جھوٹا انسان تو بڑا بننے کے لیے دوسروں کے ایسے کمالات بھی اپنی طرف منسوب کرلیتا ہے جن کے اصل ماخذ کا بہ آسانی پتا چل جاتا ہے ‘ اگر بالفرض آپ یہ کہہ دیتے کہ یہ سب میرے ذاتی کمالات ہیں تو کسی انسان کے پاس ان کمالات کے اصل ماخذ تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا آپ کی صداقت اور راست بازی پر اس سے بڑھ کر کھلی ہوئی دلیل اور کیا ہوگی ، صرف یہی نہیں آپ نے ان کمالات میں سے کسی کمال کا اعزاز نہیں لیا ‘ بلکہ آپ نے ہمیشہ اس سے اجتناب کیا کہ ان کمالات کی وجہ سے آپ کی غیر معمولی تعظیم اور تکریم کی جائے ‘ لوگوں نے آپ کو سجدہ کرنا چاہا تو آپ نے اس سے منع فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت کا اعلان قطعی کردیا پھر بھی راتوں کو اس قدر طویل قیام فرماتے کہ پاؤں پر ورم آجاتا ‘ اور استفار پر بھی فرماتے کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ! غرض ان تمام کمالات کے باوجود آپ نے عجز و انکسار اور اظہار عبدیت کو اپنا شعار بنایا ‘ ایک مرتبہ مال غنیمت میں بہت سے غلام ‘ باندیاں اور بہت سازو سامان ملا ‘ آپ نے اس سے بہت مسلمانوں کو دیا اگر کسی کو نہیں دیا تو اپنی صاحبزادی حضرت سدتنا فاطمہ زہرا (رض) کو ‘ فرمایا تم عشاء کی نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ‘ ٣٣ مرتبہ الحمد للہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لینا ‘ یہ تمہیں ایک باندی کی ضرورت سے کفایت کرے گا ‘ جو شخص جھوٹا ہو وہ اپنے کمالات سے اپنی ذات کے لیے نفع حاصل کرتا ہے یا اپنی اولاد کے لیے ‘ آپ نے اپنے کمالات سے اپنے لیے کوئی بڑائی چاہی ‘ نہ نفع اور آرام چاہا ‘ نہ اپنی اولاد کے لیے کوئی منفعت طلب کی بلکہ جو نفع ملا وہ عام مسلمانوں کو پہنچایا اور جو بڑائی اور کبریائی تھی اس کی نسبت اللہ کی طرف کی ‘ لوگوں کو بھی اللہ کی عبادت کی طرف بلایا اور خود بھی دن رات اس کی عبادت میں لگے رہے تو ہم ان کو سچا کیوں نہ مانیں ‘ ان کی تصدیق کیوں نہ کریں اور ان پر ایمان کیوں نہ لائیں ! 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے اہل عرب کا دین بدترین دین تھا ‘ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ ان کے اخلاق بھی بہت خراب تھے ‘ وہ قتل و غارت گری ‘ لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کرتے تھے ‘ مردار کھاتے تھے ‘ رشتوں کو توڑتے تھے ‘ شراب پیتے تھے اور جوا کھیلتے تھے ‘ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان میں مبعوث کیا ‘ تو وہ ذلت کی پسماندگی سے نکل کر عزت کی بلندیوں پر فائز ہوگئے ‘ حتی کہ وہ علم وہنر ‘ زھد وتقوی اور فہم فراست اور شجاعت اور بہادری کے لحاظ سے دنیا کی سب سے افضل اور برتر قوم شمار کیے جانے لگے اور چونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے شہر میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے تو دوسروں کی بہ نسبت ان کو آپ سے استفادہ کا زیادہ موقع ملا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا۔ 

(٧) ہر قوم اپنے بطل جلیل اور رجل عظیم پر فخر کرتی ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہود و نصاری اور عرب سب فخر کرتے تھے ‘ سو ان پر فخر کرنا سب میں مشترک تھا ‘ اور یہود صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر فخر کرتے تھے اور نصاری صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر فخر کرتے تھے ‘ عرب والوں کے لیے کوئی ایسی شخصیت نہ تھی جس پر وہ انفرادی طور پر فخر کرتے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا اور اب عرب بجا طور پر یہ فخر کرتے ہیں کہ انبیاء ورسل کے سردار دو عالم کے مختار ان کے شہر میں پیدا ہوئے اور یہیں انہوں نے اعلان نبوت کیا۔ 

(٨) اللہ تعالیٰ نے نوع انسان اور بشر سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا ‘ اور یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اگر اللہ تعالیٰ نور ‘ نار ملائکہ یا جنات میں سے آپ کو مبعوث کردیتا تو انسانوں کے لیے آپ سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا آپ کی سیرت مسلمانوں کے لیے نمونہ اور حجت نہ ہوتی اس لیے اللہ نے اپنا یہ عظیم رسول فرشتوں میں سے بھیجا نہ جنات میں سے نہ نور میں سے نہ نار میں سے بلکہ یہ عظیم رسول انسانوں میں سے مبعوث فرمایا اور مومنوں کی جنس میں سے اس عظیم رسول کو بھیجا ‘ تاکہ مومن اس سے استفادہ کرسکیں ‘ اس کی بات سن سکیں ‘ اس کے عمل کو دیکھ سکیں اس کی بات سن سکیں ‘ اس کے عمل کو دیکھ سکیں اور بیشک یہ اللہ کا مومنوں پر بہت بڑا احسان ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بنوآدم کو جو تکریم دی ‘ اس کو احسن تقویم میں پیدا کیا ‘ اپنے دست قدرت سے اس کی تخلیق کی اور اسے اپنی صورت پر بنایا ‘ یہ ساری عزتیں اور کرامتیں انسان اور بشر کو اس لیے دی گئی تھیں کہ اس عظیم رسول کو نوع انسان اور بشر سے مبعوث فرمانا تھا۔ اگر ان کو مبعوث کرنا نہ ہوتا تو بشریت کا یہ فروغ ہوتا نہ انسانیت کا یہ عروج ہوتا۔ 

(٩) اس آیت میں مومنین سے مراد مومن ہیں جو اس وقت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے تھے ‘ اور فرمایا ہے ” جب ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا “ اس سے مراد ان امور میں مماثلت ہے جو آپ کے قرب اور آپ سے اکتساب فیض کا سبب ہوں ‘ اور اس سے مراد نسب ‘ لغت اور وطن ہے ‘ جب آپ ان کے نسب اور ان کی قوم سے مبعوث ہوئے تو لوگ آپ سے مانوس ہوئے اور آپ کی طرف مائل ہوئے اور آپ کے قرب سے توحش اور اجنبیت کا شکار نہیں ہوئے ‘ اور جب آپ ان کی لغت اور ان کی زبان میں کلام کرتے تھے تو آپ کا خطاب اور آپ کا کلام سمجھنا ان کے لیے آسان ہوا نیز ہم زبان ہونا بھی قرب کا ذریعہ ہوتا ہے ‘ اور جب آپ ان کے وطن میں رہنے والے تھے اور آپ نے ان کے سامنے نشو و نما پائی اور آپ کی تمام زندگی ان کے سامنے تھی ‘ انہوں نے آپ کی سچائی ‘ اپنے موقف پر استقامت اور آپ کے معجزات دیکھے تو ان کے لیے آپ پر ایمان لانا بہت آسان ہوگیا۔ 

(١٠) علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ آپ ان کے نسب سے مبعوث نہیں کیے گئے اور یہ مومنوں پر اس وجہ سے احسان ہے کہ اگر آپ کسی اور جنس سے مبعوث کیے جاتے تو ایک جنس دوسری جنس سے متوحش اور متنفر ہوتی ہے اور اس سے مانوس نہیں ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مومنوں کی جنس سے مبعوث کیا تو وہ آپ سے مانوس ہوئے اور ان کو آپ سے وحشت نہیں ہوئی اور آپ سے فیض حاصل کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا اور آپ کی زبان وہ سمجھتے تھے ‘ اور آپ کی سیرت پر مطلع تھے اور یہ آپ کی تصدیق کا ذریعہ بنا ‘ اس آیت میں آپ کی بعثت کو مومنین کے لیے احسان فرمایا ہے حالانکہ آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی رحمت سے استفادہ صرف مومنین ہی کرتے ہیں ‘ جس طرح قرآن مجید کو فرمایا یہ متقین کے لیے ہدایت ہے جب کہ دوسری آیت میں فرمایا ہے یہ تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ : ١٨٥) کیونکہ قرآن مجید کی ہدایت سے صرف متقین ہی استفادہ کرتے ہیں۔ (روح المعانی : ج ٤ ص ١١٣۔ ١١٢) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نوع انسان اور بشر سے مبعوث کیے گئے : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں :

(آیت) ” من انفسہم “ کا معنی ہے ان کے نسب سے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ان کے نسب سے مراد یہ ہے کہ آپ ولد اسماعیل سے تھے ‘ اور یہ حضرت عائشہ (رض) کا قول ہے کیونکہ انہوں نے فرمایا یہ آیت خاص عربوں کے لیے ہے ‘ اور دوسرے مفسرین نے کہا اس آیت سے مراد کل مومن ہیں اور (آیت) ” من انفسھم “ کا معنی یہ ہے کہ آپ ان میں سے ایک فرد ہیں ‘ وہ آپ کو بھی پہچانتے تھے اور آپ کے نسب کو بھی پہچانتے تھے ‘ آپ نہ فرشتے تھے اور نہ بنو آدم کے علاوہ کسی اور جنس کے فرد تھے ‘ یہ قول زجاج کا مختار ہے ‘ اگر مومنوں پر احسان کی وجہ یہ ہو کہ آپ عرب تھے تو عجمیوں پر آپ کی بعثت کی وجہ سے کوئی احسان نہیں ہوگا ‘ لیکن عجمیوں پر بھی اس وجہ سے احسان ہے کہ جب ان کو آپ کی بعثت کی خبر دی گئی اور ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ آپ انی ہی میں سے ایک فرد ہیں اور انہوں نے آپ کے صدق اور آپ کی امانت کو جان لیا تو ان کے لیے آپ کی نبوت کو ماننا آسان ہوگیا۔ (الوسیط ج ١ ص ٥١٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی الحنفی المتوفی ٣٧٥ ھ لکھتے ہیں : 

(آیت) ” من انفسہم “ کا معنی ہے ان کی اصل اور عرب میں ان کے نسب سے ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی جنس سے یعنی بنو آدم سے ‘ اللہ نے آپ کو فرشتوں میں سے نہیں بنایا ‘ آپ کی تین فضیلتیں تھیں ‘ آپ کا نسب عربوں میں قریش میں سے تھا ‘ اور قریش میں سے بنو ہاشم میں سے تھا اور اس پر اتفاق تھا کہ عرب افضل ہیں اور عربوں میں قریش اور قریش میں سے بنو ہاشم۔ دوسری فضیلت یہ تھی کہ اعلان نبوت سے پہلے آپ لوگوں میں بہ طور امین معروف تھے ‘ اور تیسری فضیلت یہ تھی کہ سب کو معلوم تھا کہ آپ امی ہیں اور پھر آپ نے ایک معجز کلام پیش کیا۔ (تفسیر السمرقندی ج ١ ص ٣١٣‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٣ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

(آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے آپ ان کی مثل بشر ہیں ‘ ایک قرات شاذہ فا کی زبر کے ساتھ ہے یعنی آپ ان میں سے زیادہ نفیس ہیں ‘ کیونکہ آپ بنو ہاشم سے ہیں اور بنو ہاشم قریش میں افضل ہیں ‘ اور عرب عجم سے افضل ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا یہ آیت عرب کے لیے ہے اور دیگر مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد کل مومن ہیں اور (آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے آپ ان میں سے ایک فرد ہیں ‘ اور ان کی مثل بشر ہیں اور صرف وحی سے ان میں ممتاز ہیں (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢٦٤۔ ٢٦٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں دو قول ہیں حضرت عائشہ (رض) اور جمہور سے منقول ہے کہ یہ آیت عربوں کے ساتھ خاص ہے اور اس کا معنی ہے آپ کا نسب ان میں معروف ہے اور یہی وجہ احسان ہے اور دوسروں کا قول ہے یہ آیت سب مومنوں کے لیے ہے اور اس آیت کا معنی ہے نہ آپ فرشتے ہیں اور نہ بنو آدم کے علاوہ کسی اور جنس کے فرد ہیں اور یہی وجہ احسان ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ٤٩٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : 

(آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے آپ ان کے نسب سے اور ان کی جنس سے ان کی مثل عربی ہیں تاکہ وہ آسانی کے ساتھ آپ کا کلام سمجھ لیں ‘ اور صدق اور امانت میں آپ کے حال سے وقف ہوں اور آپ پر فخر کریں ایک قرات فا کی زبر کے ساتھ ہے ‘ یعنی آپ ان میں سے سب سے زیادہ شرف والے ہیں کیونکہ آپ کا قبیلہ سب سے اشرف اور افضل تھا۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ٩٥‘ مطبوعہ دارفراس للنشروالتوزیع مصر) 

علامہ ابو الحیان عبداللہ بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت کا معنی ہے کہ آپ بنو آدم کی جنس سے ہیں ‘ اور یہ اس وجہ سے احسان ہے کہ لوگ آپ سے مانوس ہو کر اکتساب فیض کرلیں ‘ اور دو مختلف جنسوں میں جو وحشت اور نفرت ہوتی ہے وہ نہ ہو ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کے مخاطب عرب ہیں اور وجہ احسان یہ ہے کہ آپ ان کی مثل عرب ہیں ‘ ان کی زبان بولتے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے آپ سے استفادہ آسان ہے اور آپ کی سیرت طیبہ انمیں معروف ہے اور یہ آپ کی نبوت کو جاننے کا ذریعہ ہے۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ٤١٦۔ ٤١٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابو العباس بن یوسف السمین الحلبی الشافعی المتوفی ٧٥٦ ھ لکھتے ہیں : 

(آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے کہ آپ انکی جنس سے ہیں ‘ حضرت عائشہ (رض) حضرت فاطمہ (رض) اور ضحاک کی یہی قرات ہے ‘ اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ یہ فاء کی زبر کے ساتھ ہے ‘ یعنی آپ سب سے زیادہ نفیس اور مکرم ہیں ‘ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : میں نسب ‘ حسب اور صہر (سسرال) کے لحاظ سے تم سب سے زیادہ نفیس ہوں۔ (الدرالمصون ج ٢ ص ٢٥١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ )

علامہ جلال الدین شافعی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

آپ ان کی مثل عربی ہیں تاکہ وہ آپ کا کلام سمجھ سکیں اور آپ کی وجہ سے مشرف ہوں نہ فرشتے ہیں نہ عجمی (جلالین مع الجمل ج ١ ص ٣٣٢‘ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) 

علامہ ابوالسعود محمد بن عمادی حنفی متوفی ٩٨٢ ھ لکھتے ہیں : 

آپ ان کے نسب سے یا ان کی جنس سے ان کی مثل عربی ہیں تاکہ وہ آسانی سے آپ کا کلام سمجھ سکیں اور آپ کے صدق اور آپ کی امانت پر مطلع ہوں اور اس پر فخر کریں اور اس میں ان کے لیے عظیم شرف ہے ‘ ایک قرات فا کی زبر کے ساتھ ہے کیونکہ آپ کا قبیلہ سب سے افضل قبیلہ تھا۔ (تفسیر ابوالسعود علی ھامش الکبیر ج ٢ ص ٤٥٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نور کا اطلاق بھی فرمایا ہے۔ 

(آیت) ” قد جآء کم من اللہ نور و کتاب مبین “۔ (المائدۃ : ١٥) 

بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آیا اور روشن کتاب “۔ 

اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرنور کا اطلاق بھی جائز ہے ‘ نور کی دو قسمیں ہیں ایک حسی اور مادی نور ہے جیسے سورج ‘ چاند اور چراغ کا نور ہے جو آنکھ سے نظر آتا ہے اور حسی نور اندھیروں کو دور کرتا ہے ‘ ایک معنوی نور ہے جو کفر اور گمراہی سے نکل کر اسلام اور ہدایت کی طرف لاتا ہے ‘ اس کا ادراک عقل سے ہوتا ہے ‘ اور یہی نور افضل ہے اور یہی انبیاء (علیہم السلام) کی صفت ہے ‘ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے لائق بھی یہی نور ہے ‘ نیز آپ کی بشریت مادی کثافتوں سے پاک اور منزہ تھی اور غایت لطافت میں تھی حتی کہ آپ کے جسم مبارک کا سایہ بھی نہیں پڑتا تھا اس وجہ سے بھی آپ کو نور فرمایا گیا اور اس لیے بھی کہ آپ کی حقیقت میں عقل کے علاوہ استعداد وحی کا عنصر بھی رکھا گیا جو عام انسانوں کے اعتبار سے بہ منزلہ فصل ہے اور اسی آپ امور غیبیہ کا ادراک کرتے ہیں ‘ اس لیے آپ کو نور فرمایا گیا ‘ نیز اس لیے بھی کہ بعض اوقات آپ سے حسی نورانیت کو بھی ظہور ہوتا ہے جیسا کہ بعض احادیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کے دو دانتوں میں جھری (خلاء) تھی ‘ جب آپ گفتگو فرماتے تو آپ کے سامنے کے دانتوں سے نور کی طرح نکلتا ہوا دیکھائی دیتا تھا۔ (شمائل ترمذی مع جامع ترمذی ص ٥٦٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ‘ سنن دارمی ج ١ ص ٢٣‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ‘ دلائل النبوۃ ج ١ ص ٢١٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ دار الکتب العربی ‘ بیروت ١٤٠٢ ھ) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سایہ نہ تھا ‘ آپ جب بھی سورج کے سامنے کھڑے ہوتے تھے ‘ آپ کا نور سورج کی روشنی پر غالب رہتا اور آپ جب بھی چراغ کے سامنے کھڑے ہوتے تو آپ کا نور چراغ کے نور پر غالب رہتا (الوفاباحوال المصطفی ص ٤٠٧‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد) 

بعض علماء سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انسان اور بشر نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ آپ کی حقیقت نور ہے اور بشریت آپ کی صفت یا آپ کا لباس ہے ‘ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ آپ کی حقیقت کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا ‘ نورانیت بھی آپ کی صفت ہے ‘ اور بشریت بھی آپ کی صفت ہے ‘ لیکن قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے یہی واضح ہوتا ہے کہ آپ نوع انسان اور بشر سے مبعوث کیے گئے ہیں اور یہی آپ کی حقیقت ہے لیکن استعداد وحی کے لحاظ سے آپ عام انسانوں سے ممتاز ہیں اور آپ پرنور کا اطلاق بھی کیا گیا ہے اور اس کے محامل وہی ہیں جو ہم نے بیان کردیئے ہیں لیکن یہ ایک فکری مسئلہ ہے اس کا ضروریات دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم یہ بات ضرور ملحوظ رہنی چاہیے کہ ہماری عقائد کی تمام کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی انسان اور بشر ہوتا ہے جس پر وحی نازل کی جاتی ہے اور اس کو تبلیغ احکام کے لیے مبعوث کیا جاتا ہے : 

صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء وہ بشر ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ (کتاب العقائد ص ٨‘ مطبوعہ تاجدار حرم پبلشنگ کمپنی کراچی) 

صدر الشریعہ علامہ محمد امجد علی اعظمی متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

عقیدہ : نبی اس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو ‘ اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں۔ rnّ (بہار شریعت ج ١ ص ٩‘ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور) 

تلاوت ‘ تزکیہ اور کتاب و حکمت کی تعلیم کا بیان : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

یعنی ان پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں ‘ آیت کا معنی دلیل ہے ‘ قرآن مجید کے جملوں کو اس لیے آیات فرمایا ہے کیونکہ قرآن مجید کا ہر جملہ اپنی بلاغت کے اعتبار سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی نبوت کے صدق پر دلیل ہے ‘ اور وہ چونکہ اہل لسان تھے اس لیے ہر جملہ سے انکے مفہوم کو بغیر کسی ترجمہ کے جان لیتے تھے اور اس کی بلاغت کی وجہ سے اس کے اعجاز کو بھی سمجھتے تھے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

تزکیہ کا معنی ہے پاک اور صاف کرنا ‘ یعنی آپ انہیں اسلام کی ہدایت دے کر ان کے ظاہر کو صاف اور ان کے باطن کو پاک کرتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

کتاب کی تعلیم سے مراد ہے قرآن مجید کے مقاصد کا بیان کرنا اور قرآن مجید کے حفظ کا حکم دنیا ‘ تاکہ انہیں ہر وقت قرآن مجید کے معانی مستحضر رہیں اور حکمت سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے ‘ یا کتاب سے مراد ظاہر شریعت ہے اور حکمت سے مراد شریعت کے اسرار اور معارف ہیں ‘ یا حکمت سے مراد ہے شریعت کے بیان کیے ہوئے وہ اصول جن پر عمل کرنے سے ایک فرد ‘ ایک خاندان اور ایک ملک کی اصلاح ہوتی ہے جس کو تہذیب اخلاق ‘ تدبیر منزل اور سیاست مدینہ کہا جاتا ہے، مثلا قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “۔ (الحشر : ٩) 

ترجمہ : جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ 

یا جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی چیز کی محبت تمہیں (اس کا عیب دیکھنے سے) اندھا اور (اس کا عیب سننے سے) بہرہ کردیتی ہے (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٤٣‘ مسند احمد ج ٥ ص ١٩٤‘ ج ٦ ص ٤٥٠) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو حکمت کی تعلیم دی ہے یہ اس کی دو تین مثالیں ہیں ‘ جو شخص قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ کرے گا وہ ایسی بیشمار مثالوں پر مطلع ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 164