*درس 009: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَطْلَبُ مَسْحِ الرَّأْسِ (وَالثَّالِثُ) : مَسْحُ الرَّأْسِ مَرَّةً وَاحِدَةً

وضو کا تیسرا رکن : ایک مرتبہ سر کا مسح کرنا ہے۔

لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ} [المائدة: 6]

جس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور اپنے سروں کا مسح کرو۔

وَالْأَمْرُ الْمُطْلَقُ بِالْفِعْلِ لَا يُوجِبُ التَّكْرَارَ

ایک مرتبہ فرض اسلئے کہ مطلق (بغیر قید کے) حکم دینا بار بار کرنے کا تقاضا نہیں کرتا ۔(اسکی تفصیلی وضاحت گزر چکی ہے)

وَاخْتُلِفَ فِي الْمِقْدَارِ الْمَفْرُوضِ مَسْحُهُ، ذَكَرَهُ فِي الْأَصْلِ، وَقَدَّرَهُ بِثَلَاثِ أَصَابِعِ الْيَدِ

اور فرض مسح کی مقدار میں فقہاء کا اختلاف ہوا۔ اصل (امام محمد کی کتاب) میں مقدار کو ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہاتھ کی تین انگلیوں کے برابر ہے۔

وَرَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِالرُّبْعِ، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ

امام حسن نے امام اعظم سے چوتھائی سر کی مقدار روایت کی ہے، اور یہی امام زفر کا موقف ہے۔

وَذَكَرَ الْكَرْخِيُّ وَالطَّحَاوِيُّ عَنْ أَصْحَابِنَا مِقْدَارَ النَّاصِيَةِ.

امام کرخی اور امام طحاوی نے حنفی فقہاء کرام کے حوالے سے پیشانی کے برابر مقدار بیان کی ہے۔

وَقَالَ مَالِكٌ: لَا يَجُوزُ حَتَّى يَمْسَحَ جَمِيعَ الرَّأْسِ، أَوْ أَكَثْرَهُ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: إذَا مَسَحَ مَا يُسَمَّى مَسْحًا يَجُوزُ، وَإِنْ كَانَ ثَلَاثَ شَعَرَاتٍ.

امام مالک کا موقف ہے کہ پورے سر یا اکثر حصہ کا مسح فرض ہے، امام شافعی کا موقف ہے کہ اتنی مقدار پر مسح کرلیاجائے جس کو مسح کہہ سکیں تو فرض اتر جائے گا اگرچہ تین بالوں پر مسح کیا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

آج کا درس کافی معلوماتی (Informative) ہے، امید ہے آپ احباب بہت کچھ سیکھیں گے اور سمجھیں گے۔

وضو کا تیسرا رکن (فرض) سر کا مسح ہے اور اسکی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے۔ اپنے سروں کا مسح کرو۔

یہاں تک تو بات واضح ہے، اب سوال یہ ہے کہ سر کے کتنے حصے کا مسح کرنا فرض ہے، ایک بال کے برابر، ایک انگلی کے برابر یا پورے سر کا مسح فرض ہے ؟؟

اس بارے میں قرآن خاموش ہے واضح حکم موجود نہیں ہے، اور جن مسائل میں واضح حکم موجود نہیں ہوتا وہاں فقہاء کرام اپنی خداداد صلاحیتوں سے ، دلائل میں غور و فکر کرکے اور رحمتِ الہی کی زبردست تائیدسے مسئلہ کا حکم نکالتے ہیں۔

اس طرح کے مسائل کو *”اجتہادی مسائل”* کہتے ہیں اورجو فقہاء ایسے مسائل کا حکم نکالتے ہیں انہیں *”مجتہد”* کہتے ہیں۔

اب ظاہر ہے سب کی صلاحتیں الگ، نظر و فکر جدا ہوتی ہے لہذا حکم نکالنے اور موقف اپنانے میں اختلاف ہوجاتا ہے، یہ وہی اختلاف ہے جس کو امت کے لئے رحمت قرار دیا گیا اور حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی چاروں فقہی مذاہب انہیں مبارک اختلافوں کا نتیجہ ہے۔

جو جس مسئلہ میں صحیح حکم معلوم کرلے گا اسکا ثواب دو درجہ زیادہ ہوگا اور جو حکم نکالنے میں صحیح بات تک نہیں پہنچ سکا تو اسکی کوشش کی وجہ سے ایک درجہ ثواب ملے گا اور یہ سب ہمیں آخرت میں معلوم ہوگا۔

ایک اور دلچسپ پہلو سمجھئے۔۔

سر کا مسح فرض ہے یہ آیت سے واضح طور پر ثابت ہے، اس میں اجتہاد یعنی غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے ،جو اس کا انکار کرے گا کافر ہوجائے گا کیونکہ یہ قرآن کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔

سر کی کسی معین مقدار (مثلا چوتھائی حصہ) کا مسح فرض ہے، یہ والا فرض آیت سے واضح طور پر ثابت نہیں ہے بلکہ اجتہاد یعنی غور و فکر کرکے نکالا گیا ہے، لہذا کوئی دلائل کے ساتھ اس کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا جیسے حنفی شافع مالکی سب کے اپنے اپنے موقف ہیں۔

ہاں اگر کوئی بلاوجہ کہہ دے کہ *میں وے* نہیں مانتا تو وہ گمراہ ہے کیونکہ مجتہد کی بات ماننا (تقلید کرنا) غیر مجتہد پر واجب ہے۔

پہلی قسم کا جو فرض ہے اسے *فرضِ اعتقادی* اور دوسری قسم کے فرض کو *فرضِ عملی* یا *فرضِ اختلافی* کہتے ہیں۔

یہاں سے یہ اشکال بھی دور ہوگیا جو بعض بھائیوں کو ہوتا ہےکہ نماز کی فرضیت کا انکار تو کفر ہے لیکن نماز میں تکبیرِ تحریمہ، قرات، قیام وسلام وغیرہ کا انکار کفر نہیں ،ایسا کیوں ہے ؟ حالانکہ دونوں فرض ہیں۔

امید ہےاسی بحث میں جواب مل گیا ہوگا کہ نماز کی فرضیت *فرضِ اعتقادی* جبکہ بقیہ اعمال *فرضِ عملی* ہیں۔

اگلے درس میں مسح کی مقدار اورمتعلقہ مسائل پر دلچسپ بحث کی جائے گی۔ دیگر احباب کو بھی گروپ میں شامل فرمائیں۔

*ابو محمد عارفین القادری*