أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ۙ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡۙ اَ لَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‌ۘ

ترجمہ:

اللہ نے اپنے فضل سے جو انھیں عطا فرمایا ہے وہ اس پر خوش ہیں اور ان کے بعد والے لوگ جو ابھی ان سے نہیں ملے ان کے متعلق اس بشارت سے خوش ہو رہے ہیں کہ ان پر بھی نہ خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے انہیں اپنے فضل سے جو عطا فرمایا ہے وہ اس پر خوش ہیں۔ اس کے بعد والے لوگ جو ابھی ان سے نہیں ملے ان کے متعلق یہ اس بشارت سے خوش ہو رہے ہیں کہ ان پر بھی نہ خوف ہوگا وہ غمگین ہوں گے۔ (آل عمران : ١٧٠) 

فوت شدہ مسلمانوں کا اپنے اقارب کے اعمال پر مطلع ہونا۔ 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ شہداء اپنے جن لاحقین کے متعلق متفکر رہتے ہیں ان کے احوال ان پر منکشف کر دئیے جاتے ہیں اور اس آیت میں اصحاب احد کے لیے یہ بشارت ہے کہ اس دن کے بعد ان کو کوئی پریشانی لاحق نہ ہوگی۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ عزیزوں اور رشتہ داروں پر پیش کیے جاتے ہیں اگر وہ اچھے عمل ہوتے ہیں تو وہ ان سے خوش ہوتے ہیں اور اگر وہ عمل اچھے نہ ہوں تو وہ دعا داروں پر پیش کیے جاتے ہیں اگر وہ اچھے عمل کرتے ہیں اے اللہ ! ان کو ہدایت دینے سے پہلے ان پر موت طاری نہ کرنا جس طرح تو نے ہمیں ہدایت دی ہے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ١٦٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ مجمع الزوائد ج ٢ ص ٣٢٨‘ کنز العمال ‘ الحدیث : ٤٣٠٢٩‘ ج ١٥ ص ٧٧١ ،

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 170