أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

ترجمہ:

وہ اللہ کی طرف سے نعمت اور فضل پر خوشی منا رہے ہیں اور اس پر کہ اللہ مومنین کا اجر ضائع نہیں فرماتا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ اللہ کی طرف سے نعمت اور فضل پر خوشی منا رہے ہیں اور اس پر کہ اللہ مومنین کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔ (آل عمران : ١٧١) 

اپنی کامیابی سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی کی کامیابی پر خوش ہونا چاہیے : 

اس سے پہلے یہ ذکر کیا گیا کہ شہداء احد کی روحیں اس بات پر خوشی منارہی ہیں کہ ان کے بعد والے اصحاب احد پر بھی کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ ان نعمتوں پر خوشی منا رہے ہیں۔ پہلے شہداء احد کی اسی خوشی کا ذکر فرمایا جو ان کو اپنے بھائیوں کی اخروی سعادت سن کر حاصل ہوئی اور پھر اس خوشی کا ذکر فرمایا جو ان کو اپنی سعادت اور سرفرازی کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی کامیابی سے زیادہ اپنے بھائیوں کی کامیابی پر خوشی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد فرمایا اللہ مومنین کا اجر ضائع نہیں فرماتا اس میں بتلایا ہے کہ شہادت پر یہ اجر وثواب صرف شہداء احد کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ اجر وثواب تمام مومنین کو حاصل ہوگا اور ایمان پر اجر کا ضائع نہ ہونا اس کو مستلزم ہے کہ مومن مرتکب گناہ کبیرہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا ورنہ اس کے ایمان کا اجر ضائع ہوجائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 171