أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدۡ جَمَعُوۡا لَـكُمۡ فَاخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ اِيۡمَانًا  ۖ وَّقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ

ترجمہ:

ان لوگوں سے بعض لوگوں نے کہا تھا کہ تمہارے مقابلہ کے لیے بہت بڑا لشکر جمع ہوچکا ہے سو تم ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور پختہ ہوگیا اور انہوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ (آل عمران : ١٧٣) 

ایمان میں زیادتی کا محمل جب نعیم بن مسعود اور منافقوں نے مسلمانوں کو ابوسفیان کے لشکر سے ڈرایا تو انہوں نے ان کے قول کی طرف توجہ نہیں کی اور ان کا اللہ تعالیٰ پر یہ اعتماد اور قوی ہوگیا کہ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا انہوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے، بعض علماء ایمان میں کمی اور زیادتی کے قائل ہیں وہ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ایمان قول اور عمل سے مرکب ہے اور اس میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے ‘ لیکن تحقیق یہ ہے کہ بعض اوقات ایمان کا اعمال پر اطلاق کیا جاتا ہے اور اس سے مراد ایمان کامل ہوتا ہے اور نفس ایمان جو دل کے ماننے اور تصدیق کرنے کو کہتے ہیں اس میں کمی اور زیادتی نہیں ہوتی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جوں جوں انسان کا شرح صدر ہوتا ہے اور وہ دلائل پر مطلع ہوتا ہے تو اس کا ایمان اور قوی اور پختہ ہوجاتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 173