*درس 010: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَاخْتُلِفَ فِي الْمِقْدَارِ الْمَفْرُوضِ مَسْحُهُ، ذَكَرَهُ فِي الْأَصْلِ، وَقَدَّرَهُ بِثَلَاثِ أَصَابِعِ الْيَدِ

اور فرض مسح کی مقدار میں فقہاء کا اختلاف ہوا۔ اصل (امام محمد کی کتاب) میں مقدار کو ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہاتھ کی تین انگلیوں کے برابر ہے۔

وَرَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِالرُّبْعِ، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ

امام حسن نے امام اعظم سے چوتھائی سر کی مقدار روایت کی ہے، اور یہی امام زفر کا موقف ہے۔

وَذَكَرَ الْكَرْخِيُّ وَالطَّحَاوِيُّ عَنْ أَصْحَابِنَا مِقْدَارَ النَّاصِيَةِ.

امام کرخی اور امام طحاوی نے حنفی فقہاء کرام کے حوالے سے مقدار الناصیہ (پیشانی کے اوپری حصہ کے برابر) بیان کی ہے۔

وَقَالَ مَالِكٌ: لَا يَجُوزُ حَتَّى يَمْسَحَ جَمِيعَ الرَّأْسِ، أَوْ أَكَثْرَهُ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: إذَا مَسَحَ مَا يُسَمَّى مَسْحًا يَجُوزُ، وَإِنْ كَانَ ثَلَاثَ شَعَرَاتٍ.

امام مالک کا موقف ہے کہ پورے سر یا اکثر حصہ کا مسح فرض ہے، امام شافعی کا موقف ہے کہ اتنی مقدار پر مسح کرلیاجائے جس کو مسح کہہ سکیں تو فرض اتر جائے گا اگرچہ تین بالوں پر مسح کیا ہو۔

وَإِيصَالُ الْمَاءِ إلَى أُصُولِ الشَّعْرِ لَيْسَ بِفَرْضٍ؛ لِأَنَّ فِيهِ حَرَجًا فَأُقِيمَ الْمَسْحُ عَلَى الشَّعْرِ مَقَامَ الْمَسْحِ عَلَى أُصُولِهِ

اور بالوں کی جڑ تک پانی کا پہچانا فرض نہیں ہے اسلئے کہ اس میں حرج ہے لہذا بالوں پر مسح کرنے کو بالوں کی جڑ پر مسح کرنے کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔

وَمَا تَحْتَ الْأُذُنِ عُنُقٌ، وَمَا فَوْقَهُ رَأْسٌ.

کانوں سے نیچے کا حصہ گردن کہلاتا ہے اور اس سے اوپر کا حصہ سر میں شامل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

پچھلے درس میں فقہاء کرام کا اختلاف اور اسکی وجہ بتائی گئی۔

*مسح کی لغوی تعریف:* إمرار اليد على الشيء۔۔۔ یعنی کسی شے پر ہاتھ پھیرنا۔

*مسح کی شرعی تعریف:* إصابة الماء العضوَ۔۔۔ یعنی کسی عضو پر پانی پہنچانا

چونکہ وضو میں سر پر گیلا ہاتھ پھیر کر تری پہنچائی جاتی ہے اسلئے اس عمل کو *مسح* کہتے ہیں۔

سرکا مسح فرض ہے، لیکن کتنا فرض ہے اس میں اختلاف ہے۔

علامہ عینی نے لکھا ہے کہ اس مسئلہ میں فقہائے کرام کے 13 اقوال ہیں۔(البنایۃ شرح الہدایۃ)

ہم اسکی تفصیل میں نہیں جاتے، فقہ حنفی میں تین قول ہیں جو اوپر متن میں ذکر ہوئے۔

*علامہ کاسانی کے نزدیک پہلا قول معتبر ہے یعنی تین انگلیوں کی مقدار کے برابر مسح فرض ہے۔

علامہ مرغینانی نے ہدایہ میں لکھا ہے کہ مقدار الناصیہ چوتھائی حصہ ہی ہے مگر علامہ شامی وغیرہ نے کہا ہے کہ مقدار الناصیہ چوتھائی سے کم حصہ ہوتا ہے۔

بہرحال صحیح قول کے مطابق *چوتھائی سر* کا مسح فرض ہے۔

سوال: آیت میں *سر کا مسح* فرض کہا گیا لیکن ہم تو بالوں پر مسح کرتے ہیں ؟

جواب: اس کا جواب علامہ کاسانی نے دے دیا ہے کہ دراصل بالوں کی جڑوں پر مسح کرنا شدید دشواری کا باعث ہے لہذا بالوں پر مسح کرنا اصل کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔

سوال: *سر* کی حد کہاں سے کہاں تک ہے ؟

جواب: عموما پیشانی کے بال جہاں سے نکلتے ہیں وہاں سے سر کی ابتدا ہوتی ہے اور کانوں کے نچلے حصہ تک سر کی حد ختم ہوتی ہے۔ اس سے نیچے گردن ہے۔

لہذا اس پورے حصہ پر کہیں بھی چوتھائی حصہ کے برابر گیلا ہاتھ ہھیردیا جائے تو مسح ہوجائے گا۔

مسح سے متعلق اگلا اور آخری درس مسائل سے متعلق ہوگا جس میں آپ کو سوالات پیش کئے جائیں گے اور جوابات کی وجوہات کیا ہیں ان پر آپ کو خود غور کرنا ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*