کیامجددیت کامعیارہزارکتاب لکھناہے؟

کیاتصنیفات وکارنامےتمام گناہوں کاکفارہ ثابت ہوسکتی ہیں؟

ایک من دودھ کےپھٹنےکےلیےایک قطرہ لیموں کافی ہے

تحریر:- احمداشرف

امام غزالی نے فرمایا “العلم شجرة العمل ثمرھا ولو قرات العلم مائة سنة وجمعت الف کتاب لا اکون مستعدا لرحمة اللہ تعالی الا باالعمل لان لیس للانسان الا ماسعی”

مفہوم:- علم ایک درخت ہے اور علم کے مطابق عمل کرنا اس کا پھل، اگر میں سو سال علم حاصل کر لوں، اور ایک ہزار کتاب جمع کرلوں تب بھی بغیر علم کے مطابق عمل کئے ہوئے میں اللہ تبارک وتعالی کی رحمت کا مستحق نہیں ہوں گا کیوں کہ (انسان کو بدلے میں وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہوگی)

دوستو! امام غزالی کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان چاہے جتنا علم حاصل کرلے چاہے جتنی کتابیں جمع یا تصنیف کرلے لیکن وہ تصانیف ولائبریری رب کی رحمت کی ضامن نہیں ہوسکتی اور نہ وہ تمام تصنیفات اور اس انسان کا علم ہدایت کا معیار بن سکتا ہے جب تک اس کا کردار وعمل اس علم کے مطابق نہ ہو جائے۔

امام غزالی کے اس قول کو ذہن میں رکھتے ہوئے دور حاضر کا جائزہ لیا جاۓ تو آپ کو ایسی بہت سی مثالیں مل جائیں گی جہاں لوگ شخصیت پرستی وتصنیف پرستی کے دلدل میں پھنس کر خود کے ایمان وعقیدے کو تباہ وبرباد کرچکے ہیں۔آج کے دور میں ایک ہوا چلی ہوئ ہے کہ کسی نے 100 کتابیں لکھ ڈالی تو شیخ الاسلام کسی نے 1000 کتابیں لکھ ڈالی تو مجدد۔شیوخیت ومجددیت کا اتنا سطحی و گھٹیا معیار ماضی قریب ہی میں بنا ہے۔

اگر زیادتی علم ہدایت کی دلیل ہوتی تو ابلیس معلم الملائکہ تھا لیکن وہی رائیندہ بارگاہ خداوندی ہوا، مرزا غلام احمد قادیانی کوئ سڑک چھاپ جاہل نہیں بلکہ اس نے بھی بہت علم حاصل کیا تھا نیز اس نے عیسائیوں سے متعدد مناظرے بھی کئے تھے اور اسی علم کے دھونس سے اس نے اپنے معتقدین کا ایک حلقہ بنالیا تھا اور بعد میں نبوت کا دعوی کربیٹھا اس وقت بھی اس کے کچھ اندھ بھکت اس کے ساتھ ہوگئے۔اسی طرح ابن تیمیہ، اسماعیل دہلوی،اشرف علی تھانوی،رشید احمد گنگوہی سب کے سب علم والے تھے لیکن ان سب کا علم نافع نہیں تھا۔یعنی ان سب نے اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرتے ہوۓ نفس کو ترجیح دی۔

اسی طرح دور حاضر میں طاہر القادری بھی اسی کڑی کا ایک متفقہ گمراہ وگمراہ گر شخص ہے ،متفقہ اس لئے کہ اس کی کھلی گمراہی پر مطلع ہونے کے بعد کوئ بھی مسلمان جس کے دل میں ایمان کا کروڑواں حصہ ہوگا اسے گمراہ ہی سمجھے گا۔نیز جن اعمال وجرائم کا مرتکب طاہر القادری ہے ان سب کو باطل اور غیر شرعی ان کے مخالفین ہی نہیں بلکہ ان کے معتقدین بھی مانتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ وہ اعمال طاہر القادری سے سرزد ہوئے لہذا شخصیت پرستی کے نشے میں مست مختوم العقل افراد ان کو گمراہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔یعنی زید نے شراب تو پیا لیکن وہ شرابی نہیں ہوا۔جو لوگ کل تک کرسمس منانا غلط مانتے تھے اب اس کی دلیل پیش کررہے ہیں،جو لوگ یہود ونصاری کو کافر مانتے تھے اب طاہر القادری کے بیان کے بعد اسے بچانے کے لئے اسے مومن ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کے اندھے مقلدین اس کے تمام غیر شرعی حرکات کا جواب اس کی کتابوں کی لسٹ دیکھا کر دیتے ہیں اس کے کارناموں کو شمار کرا کر دیتے ہیں اس سے بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس کے عقیدت مند بھی اس کے متعدد اعمال کو غیر شرعی و گمراہیت پر مبنی تسلیم کرتے ہیں اسی وجہ سے اس کا دفاع کرنے کے بجائے اس کی تصانیف پیش کرتے ہیں۔

اس کے کچھ معتقدین کہتے ہیں کہ غلطیاں سب سے ہوتی ہیں، بہت سی باتوں کو نظر انداز بھی کرنا چاہئے اس لئے کہ دوسری طرف ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں بڑی بڑی تصنیفات ہیں لہذا ہمیں اس پر دھیان دینا چاہئے۔ایسا کہنا بھی اندھی تقلید وشخصیت پرستی کی دلیل ہے۔ یقینا جو انسان کوئ بڑا کارنامہ انجام دے ملک وملت کے علاوہ دین وشریعت کی عظیم خدمات انجام دے تو اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کارناموں کو ڈھال بنا کر کفر وایمان کو ایک کردو، عیسائیوں کو ہماری مسجدوں میں گھسا دو،مسلمانوں کو کرسمس جو عیسائیوں کا مذہبی شعار ہے اسے منانے کی ترغیب دو، پیارے نبی ﷺ پر جھوٹ باندھو جو من میں آئے وہ کرو شیعہ سنی کو شیر وشکر بنا دو بھائ بھائ بول دو اور شیعہ سنی کے مابین کسی بھی اختلاف کا انکار کردو۔ یہ سب کوئ چھوٹی موٹی غلطی نہیں بلکہ گناہ عظیم ہے بلکہ بعض علماء نے اس کے کچھ حرکات کی بنیاد پر کفر تک کا قول کیا ہے۔یقینا اگر اس کی شرعی گرفت کی جائے اور استفتاء کیا جائے تو ایمان کے لالے پڑ جائیں گے۔اللہ تبارک وتعالی نے ابلیس کی ایک غلطی کی بنیاد پر جس طرح اسے مردود قرار دیا اور اس کے ہزاروں لاکھوں سال کی عبادت کو اس کے منہ پر مار دیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نظر انداز کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور گناہ کی حیثیت کو بھی تولا جاتا ہے اس کے بعد ہی نظر انداز کیاجاتا ہے ابلیس کا ایک جرم اتنا بھاری بھرکم تھا کہ لاکھوں سال کی عبادت بھی اسے بچا نہیں پائ اور میزان میں وہ ایک جرم بھاری رہا۔اسی طرح طاہر القادری کے جرم نہیں بلکہ ایسے بھاری بھرکم جرائم ہیں کہ اگر وہ 8 یا 10 بار پیدا ہوکر کارناموں کے پہاڑ تیار کردے تو بھی اس کا ایک جرم اس کے تمام کارناموں پر بھاری ثابت ہوگا۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ ایک من دودھ کے پھٹنے کے لیے ایک قطرہ لیموں کافی ہے بالکل یہی حال طاہر القادری کے کارناموں کا ہے۔

اس کی داڑھی کو ایک حد تک نظر انداز کیا جاسکتا تھا لیکن جب ان کے معتقدین ان کو مجدد وغوث زمانہ جیسے القاب سے یاد کرتے ہیں تو اس صورت میں داڑھی کو بھی قطعی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اس پر چند سنگین الزامات ہیں جسے میں یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں میں امید کرتا ہوں کہ ان کے اندھ بھکت طاہر القادری تک پہونچائیں اور ان کے انڈیا آنے پر ان سے جواب طلب کریں۔

ایک یہ کہ انہوں نے یہود ونصاری کو Believer کہا یعنی مومن کہا ہے حالانکہ وہ لوگ نص قرآن سے کافر ہیں نیز دور حاضر کے یہود ونصاری تو شدید ترین کفار میں سے ہیں۔ان کے کچھ ماننے والے کہتے ہیں کہ Believer کا معنی آپ نے مومن کیسے مراد لے لیا اس کا اور بھی معنی ہوتا ہے،تو میں ان سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے بلیور کا معنی “مومن” طاہر القادری کے ہی وضاحت سے اخذ کیا ہے اس نے خود وضاحت کیا یے کہ وہ لوگ یعنی یہود ونصاری کافر نہیں ہیں آپ ان سب کو کافر نہیں کہہ سکتے لہذا جب انہوں نے خود کافر کہنے سے منع کردیا تو اب Believer کا معنی “مومن” متعین ہوگیا۔

دوسرا یہ کہ اس نے عیسائی کفار کے مذہبی شعار کرسمس کو ان لوگوں کے ساتھ منایا اور مبارکباد بھی پیش کیا۔ اس کے کچھ معتقدین کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی ہیں اگر ایک نبی کی یوم پیدائش منا لیا تو کیا برائ ہے؟

جناب یہاں بات میلاد عیسی کی نہیں بلکہ شعار نصاری کی ہے۔اس لئے کہ کرسمس اب محض میلاد عیسی نہیں رہا بلکہ نصاری کا مذہبی شعار بن گیا ہے اور کفار کے کسی مذہبی شعار کا انعقاد از روئے شرع کیا ہے علماء کرام ومفتیان عظام مفصل جواب دیں گے نیز حضرت عیسی علیہ السلام کی یوم پیدائش 25 دسمبر ہے یہ کس کی تحقیق ہے؟

اگر آپ کو یوم سیدنا عیسی علیہ السلام ہی منانا ہے تو منائیے الگ سے کس نے روکا ہے کوئ ایک دن مقرر کر لیں،اس میں آپ عیسائیوں کو بھی بلائیں اور دین اسلام کے پیغام کو سنائیں تاکہ وہ اسلام قبول کرے اور اس میں حضرت عیسی کے مناقب بیان کریں اور ان کو بشر اور نبی بتائیں نیز یہ بھی بتائیں کہ انہوں نے بھی ہمارے پیارے آقا ﷺ کی آمد کی خوش خبری سنائیں لہذا ہم اپنے عیسائ سماج سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ بھی دین اسلام کو قبول کریں۔

لیکن طاہر القادری نے کیا کیا اس نے عیسائیوں کو ہی کلین چٹ دے دیا کہ وہ لوگ کافر نہیں ہیں۔ان کا اور حوصلہ بڑھا دیا ان کے تہوار کو منا کر اسے یہ حوصلہ دیا کہ ان کا مذہب حق ہے اسی لئے اسلام کا اتنا بڑا اسکالر ہمارے ساتھ کرسمس منا رہا ہے۔اسی پروگرام میں یہ بھی کہتا ہے کہ مسلمان اگر سارے انبیاء کو مانے لیکن صرف حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ مانے تو وہ کافرہے لیکن عیسائ ہمارے پیارے آقاﷺ کو نہ مانے بلکہ ان کی توہین بھی کرے تو وہ کافر نہیں بلکہ مومن۔

یہ ہے اس کی کھلی گمراہی

اس کے ایمان کی تباہی کے لئے اتنا ہی کافی ہے لیکن اس نے ایک اور گھنونی حرکت کی ہے وہ یہ کہ اس نے پیارے نبی ﷺ کی جانب منسوب کرتے ہوۓ کہا تھا کہ پیارے نبی ﷺ نے اللہ تعالی سے طاہر القادری کے عمر کی زیادتی کے لئے سفارش فرمایا ہے جس وقت سفارش فرمایا اس وقت اس کی عر 32 سال تھی اور اس وقت اسے اتنے ہی عمر سے ایک سال کم یعنی 31 سال کی عمر مل گئ۔تو اس کی عمر کل ملا کر 63 سال ہوئ۔

اب اہل علم ہی فیصلہ کریں کہ اس وقت اس کی عمر 63 سے زیادہ ہے لیکن اب تک وہ مرا نہیں۔کیا یہ پیارے آقاﷺ پر جھوٹ منسوب کرنا نہیں ہوا؟ کیا اس کے حساب سے اللہ کا حکم بھی غلط ثابت نہ ہوا کہ اسے 31 سال عطا کیا گیا لیکن اب تک زندہ ہے۔آخر اس انسان نےچھوڑا کسے ہے؟ نہ رسول کی ذات کو نہ اللہ کی ذات کو سب کی جانب تو جھوٹ منسوب کردیا۔

اسی طرح ویمبلے میں ایک کانفرنس منعقد کرکے اس میں مختلف مذاہب کے علماء کو بلاکر جمع کیا اور اس میں یہ کہا تھا کہ آپ اپنے اپنے مذہب کے مطابق جس لفظ سے بھی اپنے GOD کو پکارتے ہیں سب کا مطلب ایک اللہ ہی ہے۔اب ہندو رام کو پکارتا ہے تو کیا اس کا مطلب اللہ ہے۔عیسائ مسیح کو پکارتے ہیں تو کیا اس کا مطلب اللہ ہے؟

آخر یہ کون سا دین پیش کیا ہے طاہرالقادری نے اور کون سا شراب پلا دیا ہے جس کا نشہ اس کے اندھ بھکتوں کے دماغ سے اترتا ہی نہیں۔اللہ ہی بہتر جانے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ طاہرالقادرکا بھی علم اور اس کی تصنیفات اس کو اللہ کی رحمتیں سمیٹنے کے قابل نہیں کرسکتی کیونکہ اس کاکردار وعمل اس کے علم کے عین مخالف ہے۔اسی وجہ سے علماء اہلسنت نے اسے دھتکار دیا تو کفار ورافضیوں کا مہمان خصوصی بننے کی نوبت آگئ ہے۔

منہاجیوں سے گذارش ہے کہ طاہرالقادری انڈیا آنے والا ہے اس کی ایک میٹنگ یہاں کے علماء حق کے ساتھ بھی رکھیں اور اسے بالکل لائو دیکھا یا جائے تاکہ علماء اہلسنت سے تبادلہ خیال ہوسکے اور تمام شکوک شبہات کا ازالہ ممکن ہو۔

اگر طاہر القادری تیار ہیں تو وہ آفیشیلی اعلان کریں جس طرح ہندوستان آمد کا اعلان کیا تھا کہ وہ علماء اہلسنت سے تبادلہ خیال کو تیار ہیں تاکہ اس فتنے کا سد باب ہو۔

اللہ ہم سب کو حق پر قائم ودائم رکھے اور شخصیت پرستی کی بلا سے محفوظ ومامون رکھے۔آمین

#احمداشرف

4 جنوری 2019 بروز جمعہ