أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـــًٔا ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے ایمان کے بدلہ کفر کو خرید لیا وہ اللہ (کے دین) کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے

تفسیر:

ایمان کے بدلہ میں کفر کو خریدنے کا محمل : 

اس سے پہلی آیت کے مصداق منافقین بھی ہوسکتے ہیں ‘ مرتدین بھی اور یہود بھی ‘ اگر اس کا مصداق منافقین ہوں ‘ تو ایمان کے بدلہ کفر کو خریدنے کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ساتھ رہ کر اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کو دیکھ کر ان کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتے لیکن انہوں نے یہ موقع ضائع کردیا اور اپنے باطنی کفر پر قائم اور مصر رہے ‘، اور اگر اس سے مراد مرتدین ہوں تو پھر واضح ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور اگر اس سے مراد یہود ہوں تو معنی یہ ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ کی نبوت پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کے وسیلہ سے فتح کی دعائیں کرتے تھے اور آپ کے ظہور کے بعد تورات میں درج علامتوں کی وجہ سے آپ کو پہچانتے تھے لیکن انہوں نے بغض اور عناد کی وجہ سے آپ کا کفر اور انکار کیا کیونکہ بنو اسرائیل کے بجائے بنو اسماعیل سے مبعوث ہوئے تھے ‘ سو اس طرح انہوں نے ایمان کے بدلہ میں کفر کو خرید لیا ‘ خریدنے سے مراد یہاں تبدیل کرنا ہے ‘ اور یہاں تبدیل کرنے کو خریدنے سے اس لیے تعبیر کیا ہے کہ آدمی اس چیز کو خریدتا ہے جس کی طرف وہ راغب ہو اور یہ کفر پر راغب تھے اور جس چیز کے بدلہ میں خریدتا ہے وہ اس کے قبضہ میں ہوتی ہے اور چونکہ آپ پر ایمان لانا ان کے اختیار میں تھا اور اس کے محرکات بھی موجود تھے تو گویا ایمان ان کے قبضہ میں تھا لیکن انہوں نے اس کو خرچ کر کے کفر خرید لیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 177