*درس 011: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَلَوْ مَسَحَ عَلَى شَعْرِهِ وَكَانَ شَعْرُهُ طَوِيلًا فَإِنْ مَسَحَ عَلَى مَا تَحْتَ أُذُنِهِ لَمْ يَجُزْ، وَإِنْ مَسَحَ عَلَى مَا فَوْقَهَا جَاز

اگر کسی نے اپنےلمبے بالوں پر مسح کیا تو اگر کانوں سے نیچے کیا تو مسح نہیں ہوا۔۔اور اگر کانوں سے اوپر حصہ کا کیا تو مسح ہوگیا۔

وَلَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ، وَالْقَلَنْسُوَةِ، لِأَنَّهُمَا يَمْنَعَانِ إصَابَةَ الْمَاءِ الشَّعْرَ

عِمامہ یا ٹوپی پر مسح کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ پانی پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔

وَلَا يَجُوزُ مَسْحُ الْمَرْأَةِ عَلَى خِمَارِهَا لِمَا رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا – أَنَّهَا أَدْخَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ الْخِمَارِ، وَمَسَحَتْ بِرَأْسِهَا وَقَالَتْ: بِهَذَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اور عورت کو دوپٹہ پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، اسلئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے دوپٹہ کے نیچے ہاتھ داخل کرکے اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔

إلَّا إذَا كَانَ الْخِمَارُ رَقِيقًا يُنْفِذُ الْمَاءَ إلَى شَعْرِهَا، فَيَجُوزُ لِوُجُودِ الْإِصَابَةِ.

مگر اس صورت میں جائز ہے کہ دوپٹہ باریک ہو اور بالوں تک پانی پہنچ جائے، اسلئے کہ یہاں پانی پہنچانا پایا گیا ۔

وَلَوْ أَصَابَ رَأْسَهُ الْمَطَرُ مِقْدَارَ الْمَفْرُوضِ أَجْزَأَهُ مَسَحَهُ بِيَدِهِ أَوْ لَمْ يَمْسَحْهُ؛ لِأَنَّ الْفِعْلَ لَيْسَ بِمَقْصُودٍ فِي الْمَسْحِ، وَإِنَّمَا الْمَقْصُودُ هُوَ وُصُولُ الْمَاءِ إلَى ظَاهِرِ الشَّعْرِ، وَقَدْ وُجِدَ، وَاَللَّهُ الْمُوَفِّقُ.

اور اگر سر پر فرض حصہ کے برابر بارش کا پانی پہنچ گیا تو کافی ہے چاہے اپنے ہاتھ سے مسح کرے یا نہ کرے، اسلئے کہ اپنے فعل سے مسح کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ بالوں تک پانی پہنچ جانا مقصود ہے اور وہ پایا گیا۔ اور اللہ توفیق دینے والا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

مسح کی تعریف، فرض مقداراور سر کی حدود بیان ہوچکی ہیں۔

ایک اضافی بات یہاں سمجھ لیں کہ فرض پورا ہونے کے لئے مسح ہوجانا کافی ہے چاہے اپنے ہاتھ سے پانی پہنچے یا کسی اور ذریعے سے۔

مذکورہ عبارات آسان ہیں لہذا اسکی مزید وضاحت کی حاجت نہیں ہے۔ پچھلے دروس کو ذہن میں رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے جوابات اور ان کی وجوہات پر غور کیجئے۔

ہاتھ گیلا کیا اور سر پر رکھتے ہوئے گدی تک لے گئے ،فرض پورا ہوگیا۔۔ کیونکہ چوتھائی حصہ پر مسح پایا گیا۔

ہاتھ گیلا کیا اور سر کے اوپری حصہ پر پھیر دیا، فرض پورا ہوگیا۔۔کیونکہ چوتھائی حصہ پر مسح پایا گیا۔

کسی بھائی نے کانوں سے نیچے لٹکتی زلفوں پر مسح کرلیا ،فرض ادا نہیں ہوا۔۔ کیوں ؟

اسلامی بہن نے اسکارف اتارے بغیر سر پر اتنا پانی ڈالا کہ سر کا چوتھائی حصہ گیلا ہوگیا،فرض ادا ہوگیا۔۔ کیوں؟

بارش ہورہی تھی، سر بھیگا ہوا تھا، ایک بھائی نے وضو کے بقیہ ارکان پورے کرلئے لیکن اپنے ہاتھوں سے مسح نہیں کیا، فرض ادا ہوگیا۔۔ کیوں ؟

بہارِ شریعت سے ایک بار مسائل دیکھ لیجئے گا، امید ہے وجوہات سمجھ آجائیں گی۔

*ابو محمد عارفین القادری*