صحابہ کرام نے اپنے عمل وکردار سے سنت رسول کی حفاظت فرمائی

صحابہ کرام نے اپنے عمل وکردار سے سنت رسول کی حفاظت فرمائی

حفاظت حدیث کی ذمہ داری سے صحابہ کرام اس منزل پر آکر خاموش نہیں ہوگئے کے انکو محفو ظ کرکے آرام کی نیند سوجاتے ، ان کیلئے حدیث کے جملوں کی حفاظت محض تبرک کیلئے نہیں تھی جن کو یاد کرکے بطور تبر ک قلوب واذہان میں محفوظ کرلیا جاتا ، بلکہ قرآنی تعلیمات کیطرح ان کو بھی وہ وحی الہی سمجھتے تھے جن پر عمل ان کا شعار دائم تھا ۔

ہر شخص ان فرامین کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ،ان کے لطیف احساسات سے لیکر طبعی خواہشات تک سب کے سب سنت مصطفوی کے پابند تھے ، ان کی خلوتوں کا سوزوگداز ،انکی جلوتوں کا خروش عمل ،انکے شب وروزکے مشاغل اور انکےنالہا ئے شب دیجور سب میں سنت رسول کا عکس صاف طور پر دکھائی دیتا تھا ۔

میں کسی ایک فرد کی بات نہیں کررہا ہوں بلکہ شمع نبوت کے پروانوں کا عموما یہ ہی حال تھا، آج کی طرح دنیا ان پر غالب اور مسلط نہیں تھی بلکہ وہ ان تمام عوائق وموانع سے بالا تر ہوکر صرف اور صرف اپنے محبوب کی یاد کو دل میں بسائے سفروحضر میں اپنی دنیا کو انہیں کے ذکر سےآباد رکھتے تھے ،ان کا عشق رسول ہر ارشاد کی تعمیل سے عبارت تھا ۔

عبادات میں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر ان کیلئے کوئی چارئہ کار ہی نہ تھا ، لیکن انکی اتباع ہر اس کام میں مضمر ہوتی جو انکے رسول کی طرف کسی نہ کسی طرحمنسوب ہوتا ۔

کتب احادیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح طورپر ثابت ہوچکی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث پاک بیان کرتے وقت جس خاص ہیئت ووضع کو اختیار فرمایا ہوتاتھا تو راوی بھی اسی اداسے حدیث روایت کرتا ۔مثلا احادیث مسلسلہ میں وہ احادیث جن کے راوی بوقت روایت مصافحہ کرتے ، تبسم فرماتے یا کسی دوسری ہیئت کا اظہار کرتے جو حضورسے ثابت ہوتی ۔

مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ادائووں کو اپنانا اور ان پر کاربند رہنا انکی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا، صحابہ کرام میں سنت رسول کی پیروی کا جذبہ اس حدتک موجود تھا کہ جس مقام پر جو کام حضور نے کیا تھا صحابہ کرام بھی اس مقام پر وہی کام کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں مشہور ہے کہ:۔

کان یتتبع آثار ہ فی کل مسجد صلی فیہ ،وکان یعترض براحلتہ فی طریق رأی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عرض ناقۃ (الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لا بن حجر، ۴ /۱۶۰)

جن جن مقامات پر حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حالت سفر وحضر میں نماز یں پڑھیں تھیں حضرت عبداللہ بن عمر ان مقامات کوتلاش کرکے نمازیں پڑھتے ،اور جہاں حضورنے اپنی سواری کا رخ پھیرا ہوتا وہاں قصدا آپ بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

یہاں تک کہ کہاجاتاہے کہ سفرکے موقع پر اگر حضور نے کسی جگہ استنجاء فرمایا ہوتا تو آپ بغیر ضرورت اس جگہ اسی حالت میں بیٹھتے۔

اگر کسی وقت یہ حضور کی خدمت میں حاضر نہ رہتے تو ان اقوال وافعال کے بارے میں دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے پوچھتے اوراس پر عمل پیرارہتے ۔

امام مالک سے ایک دن انکے شاگرد یحی بن یحی نے پوچھا۔

اسمعت المشائخ یقولون : من اخذ بقول ابن عمر لم یدع من الاستقصاء شیئاً ؟ قال : نعم ۔(الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لا بن حجر، ۴/۱۵۹)

کیاآپ نے مشائخ کرام کویہ فرماتے سنا ہے کہ جس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی پیروی کی اس نے حضور سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع میں کوئی کوتاہی نہیں کی ؟ بولے : ہاں۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے نمونے چلتے پھرتے صحابہ کرام میں دیکھے جاتے اوران کو دیکھکر صحابہ کرام حضور کی یاد تازہ کرتے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں عبدالرحمن بن زید نخعی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا:

حدثنا باقرب الناس من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہدیاً ودلاً

تلقاہ فنأ خذ عنہ ونسمع منہ (الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لا بن حجر، ۴/۲۰۰)

مجھے ایسے شخص کی نشاندھی کیجئے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے طور طریقوں میں زیادہ قریب ہو ،تاکہ میں ان سے ملاقات کرکے علم حاصل کروں اور احادیث کی سماعت کروں ۔

قال: کان اقرب الناس ہدیاً ودلاً وسمتابرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ابن مسعود ۔(الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لا بن حجر، ۴/۲۰۰)

فرمایا: حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے چال ڈھال میں اوروضع قطع میں

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ قریب تھے ۔

بہر حال صحابہ کرام میں ذوق اتباع عام تھا اوران کا دستور عام یہ ہی تھا کہ زندگی کے ہرشعبہ میں حضور کی سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ۔انہوں نے اپنی عادات ، اپنے اخلاق اوراپنے طرز حیات کو حضور سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگنے کیلئے ہرممکن کوشش کی ،وہ صرف خود ہی اپنی زندگیوں کو حضور کے اسوئہ حسنہ کے سانچے میں ڈھالنے کے مشتاق نہ تھے بلکہ وہ ایک دوسرے کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نمونۂ عمل کواپنا نے کی تلقین بھی کرتے تھے ۔

امیرالمومنین حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب زخمی ہوئے تو آپ سے عرض کیاگیا کہ آپ کسی کواپنا خلیفہ نامزد فرمادیں ،توآپ نے فرمایا:

ان اترک فقد ترک من ھو خیرمنی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ وان استخلف فقد استخلف من ھو خیرمنی ۔ ابو بکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اگر میں اس معاملہ کو ویسے ہی چھوڑدوں تو ایسا انہوں نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔اوراگر خلیفہ مقرر کردوں تویہ بھی اس کی پیروی ہوگی جو مجھ سے بہتر ہے یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔( ضیاء النبی، ۷/۹۱)

فتح مکہ کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ پر مسلمانوں کی قوت وشوکت ظاہر کرنے کیلئے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے کاندھوں کو کھلا رکھیں اور طواف میں رمل کریں ۔جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قوت وشوکت عطافرمائی تو کند ھے کھولنے اوررمل کرنے کا سبب تو ختم ہوگیا لیکن حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :

فیم الرمل الآن والکشف عن المناکب وقدأطأ اللہ الاسلام ونفی الکفر واہلہ ،ومع ذلک لاندع شیئا کنا نفعلہ علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

اب رمل اور کندھے کھولنے کی ضرورت کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطافرمادیا ہے اورکفر اور اہل کفر کو ختم کردیاہے ۔لیکن اسکے باوجود ہم اس کام کو ترک نہیں کرینگے جو ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد ہمایوں میں کیا کرتے تھے۔( ضیاء النبی ۷/۹۴)

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔

میں نے امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوایک مجلس میں تشریف فرمادیکھا ۔آپ نے آگ پر پکاہوا کھانا منگایا اور اسے تناول فرمایا ، پھرنماز کیلئے کھڑے ہوئے، نماز پڑھی اورفرمایا : میں اس انداز میں بیٹھا جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بیٹھنے کاانداز تھا ، میں نے اس طرح کھایا جس طرح حضور تناول فرماتے تھے اور میں نے اس طرح نماز پڑھی جس طرح حضور نماز پڑھتے تھے ۔

مولائے کائنات امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے تھے ۔

کنت اری ان باطن القدمین احق بالمسح من ظاہر ھما حتی رأیت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یمسح ظاہرھما ۔

میری رائے یہ تھی کہ پائوں کے نیچے والے حصہ پرمسح کرنا اوپر والے حصہ پر مسح کرنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے حتی کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پائوں کے اوپر والے حصہ پر مسح کرتے دیکھا ۔

گویا باب مدینۃ العلم نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر اپنی رائے کوقربان کردیا۔ مومن کاکام ہی یہ ہے۔

عقل قرباں کن بہ پیش مصطفی( ضیاء النبی، ۷/۹۲)

حضرت علی بن ربیعہ فرماتے ہیں ۔

امیرالمومنین حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی سواری کیلئے ایک جانور حاضر کیاگیا ،جب آپ نے رکاب میں پائوں رکھا تو پڑھا ۔

بسم اللہ ۔

جب آپ چوپائے پر سیدھے بیٹھ گئے توپڑھا ۔

الحمد للہ سبحان الذی سخرلنا ہذا وماکنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون ۔

تمام خوبیاں اللہ تعالیٰ کیلئے ،پاک ہے وہ ذات جس نے فرمانبرداربنادیا اسے ہمارے لئے ،اور ہم اس پر قابو پانے کی قدرت نہیں رکھتے ۔اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں ۔

پھر آپ نے تین مرتبہ الحمد للہ پڑھا اور تین مرتبہ تکبیر کہی اور پھر یہ کلمات پڑھے ۔

سبحانک لاالہ الا انت قد ظلمت نفسی فاغفرلی۔

تو پاک ہے تیرے سواکوئی معبود نہیں ،میں نے اپنی جان پر ظلم کیاہے مجھے معاف فرما۔

اسکے بعد آپ مسکرائے ،میں نے عرض کیا : امیرالمومنین ! آپکے مسکرانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :۔

میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کووہ کام کرتے دیکھاہے جومیں نے اب کیا ،حضور اس کام کے بعد مسکرائے تومیں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! مسکرانے کی وجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :۔

بندہ جب رب اغفرلی کہتاہے تو اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے : میرے بندہ کو یقین ہے کہ میرے بغیر کوئی گناہوں کا بخشنے والا نہیں ۔(ضیاء النبی، ۷/۹۲)

اس طرح کی مثالیں بے شمارمنقول ہیں جنکی جمع وتالیف کیلئے دفتر درکار ،منصف مزاج اور حق تلا ش کرنے والا ان چند واقعات سے یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علہم احادیث طیبہ اور سنت رسول پر کس طرح سختی سے کاربند تھے اور دیکھنے والوں کو سیرت

رسول کا عکس جمیل انکی زندگیوں میں صاف نظر آتاتھا ۔نہ جانے وہ کونسے اسباب تھے جنکی بناپرمنکرین حدیث نے ان واضح بیانات کو بھی لائق اعتنانہ سمجھا اور آج تک وہی ایک وظیفہ ورد زبان ہے کہ تدوین حدیث دوسوسال بعد عمل میں آئی ۔لہذا قابل عمل نہیں۔

علامہ پیر کرم شاہ ازہری نے اس سلسلہ میں کیاخوب لکھاہے ۔فرماتے ہیں ۔

مستشرقین (اور منکرین حدیث ) تدوین کوہی حفاطت کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں ۔لیکن ہم ان سے پوچھنے کاحق رکھتے ہیں کہ ذراوہ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ کیا وہ چیز زیادہ محفوظ رہی ہے جسکو خوب صورتی کے ساتھ مدون کرکے کتب خانوں کی الماریوں کی زینت بنادیا جائے یاوہ چیز زیادہ محفوظ رہی ہے جسے لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں نافذ کردیا جائے ؟

اقوام متحدہ کاحقوق انسانی کا چار ٹر بلاشبہ عمدہ ترین شکلوں میں مدون ہے ،لیکن اس عمدہ تدوین کے باوجود وہ انہیں ممالک میں زندہ ہے جہاں یہ حقوق انسانی عملاً بھی نافذ ہیں ۔ جن ممالک میں جنگل کاقانون رائج ہے ، جہاں طاقتورجوکچھ کرنا چاہے اسے عملاً اس کا حق حاصل ہے اور کمزور کو جینے کا حق بھی نہیں دیاجاتا ،وہاں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر کوکوئی نہیں جانتا ۔ان ممالک کے غریب انسانوں کیلئے اس چارٹر کی مردہ لاش کی کوئی حیثیت نہیں ۔جن ممالک میں یہ حقوق عملاً نافذ ہیں وہاں کوئی شخص ان میں تحریف یاتبدیلی کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ، لیکن جن ممالک میں یہ عملا نافذ نہیں اور صرف چند قانون داں انکو جانتے ہیں وہاں انکی حالت کو بگاڑ کرپیش کرنا کسی قسمت آزما کیلئے مشکل نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام میں احادیث طیبہ کی حفاظت کیلئے سب سے پہلے یہ طریقہ اختیار کیا کہ لاکھوں انسانوں کے سینوں میں انکو محفوظ کرکے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں انہیں نافذ کردیا ۔ آندھیاں چلتی رہیں ، طوفان اٹھتے رہے ،ملت اسلامیہ سیاسی اور عسکری طور پر کمزور ہوتی رہی لیکن ہدایت انسان کا وہ چارٹر جو احادیث طیبہ کی شکل میں مدتوں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں نافذ رہا ، نہ اسکی اہمیت کو ختم کیا جاسکا اور نہ ہی اسکو صفحہ ٔ ہستی سے مٹایا جاسکا ۔حقیقت یہ ہے کہ احادیث طیبہ کی حفاظت کا یہ ایسا بے نظیر طریقہ ہے جو صرف ملت اسلامیہ ہی کا حصہ ہے ۔(ضیاء النبی، ۷/۹۷)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.