*نام اقدس پر انگوٹھے چومنے پر علما ومحدثین کا اجماع*

چنانچہ علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

وضعف تقبیل ظفری إبهاميه مع مسبحتيه والمسح على عينيه عند قوله *محمد رسول الله*ﷺ لأنه لم يثبت في الحديث المرفوع لكن المحدثين إتفقوا على أن الحديث الضعيف يجوز العمل به في الترغيب والترهيب.الخ

یعنی انگوٹھوں اور شہادت کی انگلیوں کے ناخن چوم کر آنکھوں پر ملنا جبکہ حضورﷺکا نام پاک سنا جائے

یہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ کسی حدیث مرفوع سے یہ بات ثابت نہیں ہے *لیکن محدثین کرام نے اس بات پر اتفاق فرمایا ہے* کہ ترغیب وترہیب میں حدیثِ ضعیف پر بھی عمل کرنا جائز ہے۔

(روح البیان ج2پارہ6ص401 زیرآیت وإذا ناديتم إلى الصلوة مطبوعہ بیروت)

جب حدیثِ ضعیف ثواب وعتاب اعمال میں بالاتفاق مقبول ہے تو انگوٹھے چومنے کے اثبات میں اگرچہ حدیثِ صحیح مرفوع نہیں لیکن ضعیف تو موجود ہے اور یہ کام ترغیب وترہیب کے زمرہ میں آتا ہے لہذا اتفاق محدثین یہ جائز ہوا اب اسکی مخالفت کرنا در اصل تمام محدثین کرام کی مخالفت کرنا ہے

جو کسی صاحب علم کو زیب نہیں دیتا۔

اور

پھر اسکے علاوہ خاتم الفقہاء علامہ ابنِ عابدین نے ردالمختار میں اس مسئلہ پر فیصلہ و فتویٰ دیا ہے۔

یستحب أن يقال عند سماع الأولى من الشهادة *صلى الله عليك يا رسول الله* وعند الثانية *قرت عينى بك يا رسول الله* ثم يقول اللهم متعنى بالسمع والبصر بعد وضع ظفرى الإبهامين على العينين.الخ

اذان میں بوقتِ سماع شہادت اولی صلی اللہُ علیک یارسول اللّٰہ پڑھنا مستحب ہے اور دوسری شہادت کے وقت قرت عینی بک یا رسول اللّٰہ پڑھنا مستحب ہے اس کے بعد انگوٹھوں کے دونوں ناخن آنکھوں پر رکھتے ہوئے یہ پڑھے اللھم متعنی بالسمع والبصر (یعنی ایسے کہنے اور کرنے والے کو حضور صلی اللہُ علیہ وسلم اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے)

ردالمختار ج1 ص415 باب الاذان مطبوعہ مصر)