أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَحۡزُنۡكَ الَّذِيۡنَ يُسَارِعُوۡنَ فِى الۡكُفۡرِ‌ۚ اِنَّهُمۡ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـــًٔا ‌ؕ يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَلَّا يَجۡعَلَ لَهُمۡ حَظًّا فِىۡ الۡاٰخِرَةِ ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ‏

ترجمہ:

اور آپ ان لوگوں سے غمزدہ نہ ہوں جو کفر (کے میدان) میں دوڑتے پھرتے ہیں بیشک یہ اللہ (کے دین) کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکیں گے، اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ ان لوگوں سے غم زدہ نہ ہوں جو کفر (کے میدان) میں دوڑتے پھرتے ہیں :۔ (آل عمران : ١٧٦) 

دین اسلام کے غلبہ کی پیش گوئی :

اس آیت کے سبب نزول کے متعلق کئی اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت کفار قریش کے متعلق ہے ‘ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار قریش آپ سے جنگ کرنے کے لیے جو منصوبے بنا رہے ہیں اور بار بار مدینہ پر لشکر کشی کر رہے ہیں اس سے آپ متفکر اور پریشان نہ ہوں ‘ یہ اللہ کے دین اور اس کی نشرواشاعت کو مٹا نہیں سکتے اور نہ تمام مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں ‘ ان جنگوں کے نتیجے میں جو مسلمان زخمی یا شہید ہوجاتے ہیں اس سے دین اسلام کو کچھ ضرر نہیں ہوتا نہ ان مسلمانوں کو نقصان ہوتا ہے کیونکہ وہ آخرت میں بہت اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ 

دوسرا سبب یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ جنگ احد کے بعد اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر نعوذ باللہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی ہوتے تو جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست نہ ہوتی۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک بادشاہ کی طرح ہیں جس طرح بادشاہ کو کبھی فتح ہوتی ہے اور کبھی شکست سو ان کا بھی یہی حال ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قسم کی باتیں سن کر رنجیدہ ہوتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ رنجیدہ نہ ہوں ان کی یہ مخالفانہ باتیں اسلام اور مسلمانوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔ 

تیسرا سبب یہ ہے کہ بعض کافر مسلمان ہوئے اور کفار قریش کے ڈر سے پھر مرتد ہوگئے اس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رنج ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت کا تعلق کفار ‘ منافقین اور مرتدین سب کے ساتھ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ تسلی دی ہو کہ اسلام کے جس قدر مخالفین ہیں ان کی اسلام کے خلاف سازشیں اور سرگرمیاں اللہ کے دین کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : rnّ (آیت) ” یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکفرون “ (الصف : ٨) 

ترجمہ : (یہ کافر) اپنے منہ سے (پھونک مار کر) اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ 

(آیت) ” یریدون لیطفؤانور اللہ بافواھھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکافرون “۔ (التوبہ : ٣٢) 

ترجمہ : وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اس وقت تک نہیں مانے گا جب تک کہ اپنے نور کو پورا نہ کر دے خواہ کافروں کو (کتنا ہی) ناگوار ہو۔ 

(آیت) ” ھوالذی ارسل رسولہ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون “۔ (التوبہ : ٣٣) 

ترجمہ : وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو (کتنا ہی) ناگوار ہو۔ 

اور کفار اسلام کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور ایک وقت وہ آیا کہ سرزمین عرب میں اسلام کے سوا اور کوئی دین باقی نہیں رہا ‘ اور آج تک وہاں ایسا ہی ہے اور اس کے بعد مسلمان دنیا کے کئی براعظموں میں فتوحات اسلام کے جھنڈے گاڑتے رہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی پیش گوئی پوری ہوئی ‘ اور زیر بحث آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہی تسلی دی کہ آپ کفار کی مخالفت سے آزردہ نہ ہوں ان کی مخالفت دین اسلام کو کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان :

اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ کافر کے کفر اور فاسق کے فسق پر رنج اور افسوس کرنا تو اللہ اور اس کے دین سے محبت کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ عین عبادت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافروں کے کفر میں سبقت اور سرعت پر رنج اور افسوس کرنے سے کیوں منع فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں آپ کو زیادہ رنج اور افسوس کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہ نہی تشریعی نہیں ہے بلکہ مشفقانہ ممانعت ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے اسلام لانے پر بہت حریص تھے اور ان کے کفر پر ڈٹے رہنے سے آپ کو بہت زیادہ رنج ہوتا تھا جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ : 

(آیت) ” فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا “۔ (الکہف : ٦) 

ترجمہ : اگر وہ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو کہیں آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے بیٹھیں گے۔ 

سو اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آپ سے بہت زیادہ محبت ہے وہ آپ کو آزردہ خاطر نہیں دیکھنا چاہتا اس نے فرمایا :

(آیت) ” وان تولوا فانماعلیک البلاغ “۔ (ال عمران : ٢٠) 

ترجمہ : اگر یہ اعراض کریں تو آپ تو کا کام تو صرف دین کو پہنچایا ہے۔ 

کسی کو مومن بنانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے ‘ اگر کوئی ایمان لائے گا تو اس کا فائدہ ہے اور کفر پر قائم رہے گا تو اس کا نقصان ہے آپ کیوں ملول خاطر ہوتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ (آل عمران : ١٧٦) 

دنیا میں کافروں کی خوشحالی سے دھوکا نہ کھایا جائے : 

کافروں کو دنیا میں جو ڈھیل دی جارہی ہے اور وہ مادی ترقی میں سب سے آگے نکل رہے ہیں۔ صنعت و تجارت ‘ آلات حرب اور مال و دولت کی فراوانی کو دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ شاید ان کا دین اور ان کا نظریہ ہی برحق ہے اور وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں ‘ بلکہ یہ صرف اس لیے ہے کہ ان کو جو کچھ دنیا ہے وہ دنیا میں ہی دے دیا جائے ‘ آخرت میں ان کے لیے اجر وثواب سے کچھ نہ رہے اور وہ صرف ذلت و خواری کے عذاب میں مبتلا رہیں جیسا کہ ان آیات میں ہے : 

(آیت) ” لایغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد، متاع قلیل، ثم ماوھم جھنم، وبئس المھاد “۔ 

(ال عمران : ١٩٧۔ ١٩٦) 

ترجمہ : (اے مخاطب) کافروں کا شہروں میں (شان و شوکت کے ساتھ) گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے ‘ یہ (حیات فانی کا) قلیل فائدہ ہے ‘ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

(آیت) ” فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدنیا وتزھق انفسھم وھم کفرون “۔ (التوبہ : ٥٥) 

ترجمہ : تو ان کے مال اور ان کی اولاد آپ کی تعجب میں نہ ڈال دیں، اللہ تعالیٰ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اس (مال اور اولاد) کی وجہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں عذاب میں مبتلا کرے اور کفر کی حالت میں ان کی جان نکلے۔ 

(آیت) ” ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحیوۃ الدنیا : لنفتنھم فیہ و رزق ربک خیر وابقی “۔ (طہ : ١٣١) 

ترجمہ : اور آپ دنیاوی زندگی کی ان زینتوں کی طرف نہ دیکھیں جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو (عارضی) فائدہ کے لیے دیں ہیں تاکہ ہم ان کو آزمائش میں ڈالیں اور آپ کے رب کا (اخروی) رزق سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ کافروں کا دنیا میں شوکت اور قوت کے ساتھ رہنا اور مسلمانوں کا ان سے کم آسودگی سے رہنا ان کے مقبول ہونے اور مسلمانوں کے نامقبول ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 176