وَلَا يَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِىۡ لَهُمۡ خَيۡرٌ لِّاَنۡفُسِهِمۡ‌ؕ اِنَّمَا نُمۡلِىۡ لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا‌ ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 178

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّمَا نُمۡلِىۡ لَهُمۡ خَيۡرٌ لِّاَنۡفُسِهِمۡ‌ؕ اِنَّمَا نُمۡلِىۡ لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا‌ ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ

ترجمہ:

اور کافر ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ ہم ان کو محض انکی بھلائی کے لیے ڈھیل دے رہے ہیں، ہم تو ان کو صرف اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ان کے گناہ (کا عذاب) زیادہ ہو اور ان کے لیے ذلت والا عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافر ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ ہم ان کو محض ان کی بھلائی کے لیے ڈھیل دے رہے ہیں ‘ ہم تو ان کو صرف اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ان کے گناہ (کا عذاب) زیادہ ہو۔ (آل عمران : ١٧٨) 

زندگی اور موت میں کون بہتر ہے اور موت کی تمنا کرنا جائز ہے یا نہیں : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

حضرت عباس (رض) نے فرمایا اس آیت کے مصداق منافقین اور بنو قریظہ اور بنو نضیر ہیں اور مقاتل نے کہا اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان کی عمر لمبی کرکے ان کو مزید گناہ کرنے کا موقع دیتا ہے تاکہ ان کا کفر اور گناہ زیادہ ہوں ‘ زجاج نے کہا اس کا مصداق وہ قوم ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خبر دے دی تھی کہ وہ کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے اور ان کی بقاصرف کفر اور گناہوں میں زیادتی کے لیے ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا مومن یا کافر ‘ ہر ایک کے لیے موت اس کی زندگی سے بہتر ہے ‘ کسی نے کیا یہ بات نہیں ہے کہ مومن زندگی میں نماز پڑھتا رہتا ہے اور روزے رکھتا ہے اور اس کی نیکیاں زیادہ ہوتی رہتی ہیں ؟ حضرت ابن مسعود نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما عند اللہ خیراللابرار (آل عمران : ١٩٨) تو اگر وہ نیک ہے تو اللہ کے پاس جو اس کا اجر ہے وہ زیادہ بہتر ہے ‘ ان سے کہا گیا کیا یہ بات نہیں ہے کہ جب کافر مرے گا تو فورا دوزخ میں چلا جائے گا حالانکہ دنیا میں وہ کھاتا پیتا ہے اور کپڑے پہنتا ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ عزوجل فرماتا ہے : اور کافر ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ ہم ان کو محض ان کی بھلائی کے لیے ڈھیل دے رہے ہیں ‘ ہم تو ان کو صرف اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ان کے گناہ (کا عذاب) زیادہ ہو۔ (آل عمران : ١٧٨) (الوسیط ج ١ ص ٥٢٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے موت کو زندگی سے بہتر فرمایا ہے بظاہر ان کا یہ قول حسب ذیل احادیث کے خلاف ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مصیبت پہنچنے پر موت کی تمنا نہ کرے ‘ اگر اس نے خواہ مخواہ موت کی تمنا کرنی ہو تو یہ دعا کرے اے اللہ ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو مجھے موت عطا کر :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ہرگز موت کی تمنا نہ کرے اگر وہ شخص نیک ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ زیادہ نیکیاں کرے اور اگر وہ بدکار ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ توبہ کرکے اللہ کی رضا طلب کرے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٤٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور نہ موت کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے اور مومن کی عمر اس میں نیکی کے سوا اور کسی چیز کو زیادہ نہیں کرتی۔ (صحیح مسلم ج ٤ ص ٢٠٦٥‘ الحدیث : ٢٦٨٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ بیان کرتے ہیں : 

امام مروزی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے موت کی تمنا کی جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سن رہے تھے۔ آپ نے فرمایا موت کی تمنا نہ کرو اگر تم اہل جنت میں سے ہو تو تمہارا باقی رہنا زیادہ بہتر ہے (کیونکہ تم نیکیاںٗ کرو گے) اور اگر تم اہل دوزخ میں سے ہو تو تمہیں دوزخ میں جانے کی کیا جلدی ہے ؟ (شرح الصدور ص ٣‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصر) 

اس تعارض کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے جو فرمایا ہے کہ کافر ہو یا مومن اس کے لیے موت زندگی سے بہتر ہے ‘ وہ بہ اعتبار نتیجہ اور مال کے ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موت کی دعا اور اس کی تمنا سے منع فرمایا ہے یہ نہیں فرمایا کہ زندگی موت سے بہتر ہے بلکہ امام عبداللہ بن مبارک روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کا تحفہ موت ہے۔ (کتاب الزہد ص ٢١٢‘ الحدیث : ٥٩٩‘ مبطوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ المستدرک ج ٤ ص ٣١٩‘ حافظ الہثمی نے لکھا ہے کہ اس کے روای ثقہ ہیں ‘ مجمع الزوائد ج ٢ ص ٣٢٠‘ حلۃ الاولیاء ج ٨ ص ١٥٨‘ حافظ منذری نے اس کو امام طبرانی کی معجم کبیر کے حوالہ سے لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند جید ہے ‘ الترغیب والترہیب ج ٤ ص ٣٣٥‘ مطبوعہ مصر) 

اس حدیث سے بھی حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ 

ایک اور سوال یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میری جان ہے میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل جاؤں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٩٢) 

اور حضرت عمر نے دعا کی : اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسول کے شہر میں میری موت مقدر کردے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٤۔ ٢٥٣) نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے صدق دل سے شہادت کی دعا کی اللہ اس کو شہید کا اجر عطا فرمائے گا خواہ وہ بستر پر فوت ہو۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ١٢٥) ان احادیث میں موت کی تمنا کرنے کا جواز ہے اور اس سے پہلے جن احادیث کا ذکر کیا گیا ہے ان میں موت کی تمنا کرنے کی ممانعت ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا کے مصائب اور آلام سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنا منع ہے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس سے ملاقات اور شوق شہادت میں موت کی تمنا کرنا جائز ہے بلکہ پسندیدہ امر ہے۔ 

کافروں کو گناہوں کے لیے ڈھیل دینے کی توجہیات :

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ہم کافروں کو صرف ڈھیل دے رہے ہیں یعنی انکی عمر زیادہ کر رہے ہیں کہ ان کے گناہ زیادہ ہوں ‘ اس آیت میں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ایک اور جگہ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون “۔ (الذاریات : ٥٦) 

ترجمہ : میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ 

سورة ذاریات کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کی عمر اس لیے زیادہ کی جارہی ہے تاکہ وہ زیادہ گناہ کریں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں لام ‘ لام عاقبت ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدوا وحزنا “۔ (القصص : ٨) 

ترجمہ : سو فرعون کے گھر والوں نے موسیٰ کو اٹھالیا تاکہ (بالآخر) وہ ان کے لیے دشمن ہوجائیں اور غم کا باعث ہوں “ 

ظاہر ہے کہ فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں دریا سے اپنا دشمن بنانے کے قصد سے نہیں اٹھایا تھا بلکہ اپنا دست وبازو بنانے کے لیے اٹھایا تھا لیکن انجام کار وہ ان کے دشمن بن گئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو بھی اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا تھا اور انکے لیے ایک لمبی عمر مقرر فرما دی تھی ‘ لیکن انجام کار وہ عبادت کرنے کے بجائے گناہ کرنے لگے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ اللہ تعالیٰ انکی عمر لمبی فرمائے گا لیکن یہ اپنے اختیار اور راداہ سے عبادت کی بجائے گناہ کریں گے ‘ سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ کافر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرکے اور پھر لمبی عمر پا کر خوش نہ ہوں اور یہ سمجھیں کہ ایمان نہ لانے کے باوجود ان کی عمر لمبی ہو رہی ہے تو ضرور ان پر یہ قدرت کا انعام ہے بلکہ جوں جوں ان کی عمر زیادہ ہو رہی ہے یہ اور گناہ کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کا اخروی عذاب اور زیادہ ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ ان کی عمر زیادہ کرکے ان کو ایمان لانے کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرتا ہے لیکن وہ اپنی کج بحثی اور ہٹ دھرمی سے زیادہ کفر اور زیادہ گناہ کرتے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ ان کی عمر لمبی کرنا تاکہ وہ انجام کار زیادہ گناہ کریں قضاو قدر کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کے مطابق نہیں ہے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایسا شدید کفر اور گستاخیاں کی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے بطور سزا کے انکے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کو ڈھیل دی تاکہ وہ زیادہ گناہ کریں اور زیادہ عذاب کے مستحق ہوں ‘ یہ بھی ان کی سزا کا ایک حصہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 178

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.