حبِّ رسول ﷺ کا معیار اور تقاضے…(2)

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں اس موضوع پراختصار کے ساتھ گفتگو کی تھی ‘ کیونکہ تفصیلات کا احاطہ کالم کی تحدیدات میں ممکن نہیں ہوتا‘ لیکن ہمارے ایک کرم فرما علامہ غلام محمد سیالوی نے کالم کے بارے میں پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمائش کی کہ اس پر مزید لکھا جائے اور انہوں نے بعض امور کی نشاندہی کی‘ میں ان کا شکر گزار ہوں اور ان کی فرمائش کی تعمیل میں چند مزید گزارشات پیش خدمت ہیں:

قرآن کریم کی سورۂ توبہ:24میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ یہ معیار بیان فرمایا کہ انسان اپنے متعلقات کے ساتھ درجہ بدرجہ محبت کا تعلق رکھ سکتا ہے اور اس کی نفی نہیں فرمائی‘ لیکن یہ کڑا معیار مقرر فرمادیا کہ ان تمام چیزوں کی محبت مل کر بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کی ذواتِ عالی صفات اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب نہیں ہونی چاہیے ‘ اس کا فیصلہ اس وقت ہوجاتا ہے جب اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اس کے تقاضوں کا غیر اللہ کی محبت اور مطالبات سے ٹکرائو ہوجائے‘ تو پھر پتا چلتا ہے کہ عملاًانسان کے نزدیک محبوب ترین کون ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”آپ ایسی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں(اور) اللہ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کے دشمنوں سے محبت بھی کرتے ہوں‘ خواہ وہ (دشمنانِ خدا)اُن کے باپ (دادا)‘ بیٹے‘ بھائی بہن اور رشتے دار کیوں نہ ہوں‘‘۔ پھر فرمایا: ”(جو اس معیارِ محبت پرپورا اتریں تو)یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے اُن کی مدد فرمائی اور انہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے دریا رواں ہیں ‘ وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے‘ اللہ اُن سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے‘ یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں ‘سنو!بے شک اللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے‘(المجادلہ:22)‘‘۔ الغرض قرآنِ کریم نے مثبت اور منفی دونوں معیار متعین فرمادیے ‘ حدیث مبارک میں ہے: ”ملائکہ نبیﷺ کے پاس آئے اور آپ اس وقت سورہے تھے‘ اُن کا آپﷺ کے بارے میں (آپس میں مکالمہ ہوا)‘بعض نے کہا: یہ سورہے ہیں اور بعض نے کہا: بے شک آنکھ سورہی ہے اور دل بیدار ہے ‘ پس بعض نے کہا: ایک مثال ہے ‘سو وہ مثال بیان کرو‘تو (دوسرے فرشتوں نے )کہا:ان کی مثال اس شخص کی سی ہے ‘ جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دعوتِ طعام کا اہتمام کیا اور(اس دعوت کی طرف بلانے کے لیے )ایک داعی بھیجا ‘ سو جس نے اس داعی کے بلاوے پر لبیک کہاوہ گھر میں داخل ہوگیااور طعام کو نوش کیااور جس نے اس کی پکار پر لبیک نہ کہا ‘وہ گھر میں داخل نہ ہوا اور دعوتِ طعام نہ کھا پایا۔ پھر انہوں نے کہا: اس کی تاویل بیان کرو تاکہ سمجھ میں آئے تو بعض نے کہا: بے شک وہ سورہے ہیں اور بعض نے کہا: بے شک آنکھ سورہی ہے اور دل بیدار ہے اوربعض نے کہا: یہ گھر (جو بنایا گیا) جنت ہے اور اس کی طرف دعوت دینے والے (سیدنا) محمد ﷺ ہیں‘ سو جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی ‘تو اس نے (در حقیقت) اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی ‘تو اس نے (درحقیقت) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور محمد ﷺ لوگوں(یعنی اہلِ حق واہلِ باطل) کے درمیان فرق کا پیمانہ ہیں‘ (یعنی جو آپ سے محبت واطاعت واتباع کے رشتے میں جڑا رہا وہ جنتی قرار پائے گااور جس نے آپ سے یہ رشتہ قائم نہ کیا وہ جنت سے محروم رہے گا)‘ (مختصر صحیح الامام البخاری:2698)‘‘۔ 

مگر آج کل ہم نے حقیقت کو چھوڑ کر مظاہر اور ظواہر کو اپنا مطلوب ومدّعا بنا لیا جو زیادہ سہل اور بے عملی کی طرف لے جانے والا ہے‘ آج کل مصنوعی اور جعلی عاشقانِ رسول کی بھرمار ہے‘وہ مختلف انداز سے اپنے آپ کو عاشقِ رسول اور محب رسول ﷺظاہر کرتے رہتے ہیں۔ داڑھی مبارک آپ ﷺ کی محبوب سنت ہے اور نہ رکھنے والے کو آپ ناپسند فرماتے ہیں‘مگر بعض خودلوگ نعلین پاک کا نقشہ تو سینے پر سجا لیتے ہیں ‘مگر سنتِ رسول چہرے پر سجانے کے لیے بہت کم تیار ہوتے ہیں ۔ صحابۂ کرام نے سینوں پر یا پگڑیوں پر نعلین پاک کا نقشہ لگاکر عشق ومحبت رسولؐ کا اظہار نہیں کیا تھا‘ بلکہ آپ کے اسوۂ مبارکہ کو اختیار کر کے اطاعت واتباعِ رسول کے جادۂ مستقیم کو اپنا شعار بنایا تھااوراسی شعار سے انہوں نے اللہ کے دین اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو اُس وقت کی دنیا پر غالب کیا اور ہم تعداد میں اُن کے مقابلے میں بدرجہا زائد ہیں‘ لیکن بے توقیر ہیں۔اسی طرح آج کل زمینوں اورپلاٹوں پر قبضہ کرنے والا مافیا‘ رشوت خوراور خوردنی اشیا میں ملاوٹ کرنے والے بڑی بڑی محافلِ میلادونعت خوانی کا انعقاد کر کے اپنے آپ کو عاشقِ رسولؐ ظاہر کرتے ہیں اور لوگ ان محافل میں کثرت سے شرکت کرتے ہیں ‘ مگر فرائض اورارکانِ اسلام میں سے نماز ‘حج ‘روزہ اورزکوٰۃ کی ادائیگی کو اہمیت نہیں دیتے جس کے بارے میں بروز قیامت پرسش ہوگی‘جب کہ محافل کے بارے میں توکوئی سوال نہیں ہوگا‘ اگرچہ یہ محافلِ مقدسہ شریعت کی نظرمیں پسندیدہ ہیں اور نبی کریم ﷺ کی محبت کا ایک مَظہر ہیں۔

ابوبکر بن سلیمان بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطابؓ نے(ایک پابندِ صلوٰۃ نوجوان یعنی اُن کے والد)سلیمان کو فجر کی نمازِ(باجماعت) میں نہ پایا تو اُن کے گھر ان کی والدہ شفاء اُمِّ سلیمان کے پاس گئے اور ان سے کہا: (کیا بات ہے )آج میں نے فجر کی نماز میں سلیمان کو نہیں دیکھا ‘انہوں نے عرض کیا: وہ رات گئے تک نوافل پڑھتے رہے ‘پھر اُن پر نیند غالب آگئی (اور نمازِ فجر باجماعت ادا نہ کر سکے)‘اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: سلیمان فجر کی جماعت میں حاضر ہوتے تو ساری رات اُن کے نوافل میں قیام کے مقابلے میں میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ بات تھی‘(موطاامام مالک:432)‘‘۔غور کیجیے!حضرت سلیمان تارکِ صلوٰۃ نہیں بلکہ پابندِ صلوٰۃ تھے ‘لیکن رات بھر نوافل میں مشغول رہنے کی وجہ سے اُن سے فجر کی جماعت چلی گئی تو حضرت عمر فاروقؓ نے اسے ناپسند فرمایا اور ہمارے ہاں رات بھر جلسوں میں شرکت کرنے والوں میں سے اکثرتارکِ نماز ہوتے ہیں۔

آج کل ان محافل کی رونق بڑھانے کے لیے عمرے کے ٹکٹوں کا اعلان کیا جاتا ہے ‘بعض کاروباری ادارے بھی اپنی پروڈکٹ کی سیل پروموشن کے لیے عمرے کے ٹکٹوں کا اعلان کرتے ہیں‘ حالانکہ شریعت میں اس کا حکم نہیں ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی کو حج یا عمرہ کرانا نیک کام نہیں ہے ‘ضرور ہے ‘ لیکن اگر کوئی کسی نیک آدمی کو عمرہ کرانا بڑی سعادت سمجھتا ہے ‘تو اس کے لیے جلسوں میں نمود اور تشہیر کی کیا ضرورت ہے ‘اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کواور عمرہ کرنے اورکرانے والے کو ہونا چاہیے‘ ریا سے تو اجر باطل ہوجاتا ہے ۔ نیز قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا:کیا آپ نے لوگوں کو حج یا عمرے کرائے یا نہیں ‘ہاں یہ ضرور پوچھا جائے گا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن (اپنے بندے سے) فرمائے گا: اے بنی آدم!میں بیمار تھاتونے میری عیادت نہ کی‘(بندہ) عرض کرے گا: اے پَرْوَردْگار! میں تیری عیادت کیسے کرتا؟‘ تو تو ربُّ العالمین ہے‘ اﷲتعالیٰ فرمائے گا:کیا تو نہیں جانتاکہ میرا فلاں بندہ(تیرے سامنے) بیمار ہوا‘تو تو نے اس کی عیادت نہ کی‘تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا؟‘(اﷲتعالیٰ پھر فرمائے گا:)اے بنی آدم!:میں نے تجھ سے کھانا مانگا ‘توتو نے مجھے نہ کھلایا‘ (بندہ ) عرض کرے گا: اے پَرْوَردْگار!میں تجھے کیسے کھلاتا؟‘تو تو رب العالمین ہے (اور بھوک وپیاس بندوں کی حاجات ہیں) ‘ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا‘ تو تو نے اسے نہ کھلایا‘ اگر تو (میرے اس محتاج) بندے کو کھلاتا‘ توتو اُسے میرے پاس ہی پاتا(یعنی مجھے اپنے قریب ہی پاتا)‘ (اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا:) اے بنی آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا‘ تو تو نے مجھے نہ پلایا‘ بندہ عرض کرے گا :اے پَرْوَردْگار! میں تجھے کیسے پانی پلاتا ؟‘ توتو ربُّ العالمین ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تجھ سے میرے فلاں پیاسے بندے نے پانی مانگا‘ توتو نے اسے نہ پلایا ‘ اگر تو نے اسے پانی پلایا ہوتا‘ تو اسے میرے پاس ہی پاتا‘ (مسلم: 2569)‘‘۔

محدّثینِ کرام نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا: اس حدیثِ قدسی کا منشایہ ہے کہ بیمار کی عیادت‘ بھوکے محتاج کو کھلانا اور پیاسے کوپانی پلانا‘ یہ بالواسطہ اﷲتعالیٰ کی عبادت اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کی سُنَّتِ جلیلہ ہے۔ حدیث پاک کی ترتیب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار کی عیادت اور تیمار داری کا ثواب بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے سے بھی زیادہ ہے۔ اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد : ”اے بنی آدم! اگر تو بیمارکی عیادت کرتا ‘ بھوکے کو کھانا کھلاتا اور پیاسے کو پانی پلاتا تو‘ مجھے اس کے قریب ہی پاتا‘‘۔ یعنی ان کاموں سے اﷲتعالیٰ کی رِضا اور اس کا قُرب حاصل ہوتاہے‘ بندہ اللہ کے قریب ہوجاتاہے اور اللہ کی رحمت بندے پر سایہ فگن ہوجاتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اپنے دکھی بندوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والوں کو اپنا قُرب عطا کرتاہے ۔حدیثِ قدسی ہے‘ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:”میں اپنے ان بندوں کے قریب ہوتاہوں ‘ جوخَشیتِ الٰہی سے لرز اٹھتے ہیں اور بے بسی وبے کسی کے عالم میں شکستہ دل ہوکر مجھے پکارتے ہیں‘ (مرقاۃ‘ ج:3ص:1123)‘‘

حضور ﷺ بھی صحابہ سے محافل اور عمرے وغیرہ کروانے کے بارے نہیں پوچھتے تھے‘ بلکہ پوچھتے تھے:”آج تم میں سے کون روزے سے ہے‘ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: میں‘فرمایا: تم میں سے آج جنازے میں کون شریک ہوا‘ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: میں‘ فرمایا: تم میں سے کس نے آج مسکین کو کھانا کھلایا ہے‘حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: میں نے‘ پھر فرمایا: تم میں سے آج کس نے مریض کی عیادت کی‘ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: میں نے‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں یہ ساری خصلتیں جمع ہوجائیں‘ وہ جنت میں داخل ہوگا‘(صحیح مسلم:1028)‘‘۔اب تو مغربی ممالک سے بھی شکایات آرہی ہیں کہ پیروں ‘نعت خوانوں اور واعظوں کی تصاویر سے مساجدکے درودیوار اٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

مذہب اسلام میں ایمان ایک مستحکم بنیاد

مذہب اسلام میں ایمان ایک مستحکم بنیاد

مولانا سید شاکر حسین مصباحی

٭٭٭٭

مذہب اسلام میں ایمان ایک ایسی مستحکم بنیاد ہے جس پر اعمال خیر کی عمارت قائم کی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے بغیر عبادات کا تصور ہوائوں میں محل قائم کرنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔اورآخرت میں ان پر ثواب کی امید کسی خواب پریشاں سے کم نہیں جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی ۔جس طرح ایک پیاسا مسافر دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر بڑی عجلت سے اس کے قریب پہنچتا ہے تو سوائے یا س وحسرت کے کچھ نہیں پاتا بلکہ مزید ذہنی الجھن میں مبتلا ہوجاتا ہے ، ایسے ہی ایک بے ایمان خوش فہم عامل کا حال ہے جو اپنے اعمال کی جھوٹی جگمگاہٹ پر جزاء خیر کی آس لگائے ہوئے آخرت میں پہنچتا ہے مگر ناامیدی کی کربنا کیوں اور جہنم کی ہولنا کیوں کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوتا ۔

عقیدہ وایمان کی اسی بنیادی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لئے قرآن پاک میں ہر جگہ اسے عمل صالح پر مقدم رکھا گیا ہے مثلا سورئہ عصر میں رب تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا وعملوا الصلحات)’’اس زمانۂ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے‘‘۔ (کنز الایمان)

اسی طرح سورہ التین میں ارشاد ہے:

’’ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددنہ اسفل سافلین الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات فلھم اجر غیر ممنون‘‘۔

’’بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیر دیا مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ انہیں بے حد ثواب ہے۔‘‘ (کنز الایمان)

اس کے بر خلاف ایمان کے بغیر عمل کرنے والوں کے متعلق وعید نازل فرمائی ۔

مثلا سورہ ٔغاشیہ میں وارد ہے:

(وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ تسقی من عین انیہ)

’’کتنے ہی منھ اس دن ذلیل ہوںگے کام کریں، مشقت جھلیں، جائیں بھڑ کتی آگ میں نہایت جلتے چشمے کا پانی پلائے جائیں۔‘‘ (کنزالایمان)

عقیدہ ایمان کی بنیادی اہمیت کے پیش نظر اسلام نے ان کے تحفظ کا بھی خاص اہتمام فرمایا ،بری صحبتوں سے بچنے کی ترغیب فرمائی بالخصوص مبتدع کی صحبت سے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین)

’’اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھو‘‘۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

(ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار)

’’ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے،بد مذہبوں،گمراہوں کے بارے میں حدیث رسول امیں وارد ہے:

(فلا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم)

’’تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو ،نہ پیو ،نہ کھائو،نہ نکاح کرو۔‘‘

نیز ارشاد نبویﷺہے:

(ایاکم وایاھم لا یفتنونکم ولا یضلونکم)

’’بد مذہبوں سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھو ،کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں،کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں۔‘‘

ایمان کیا چیز ہے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے ۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک بار لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے دو،کافی ہے پھر جو جی میں آئے کہو یا کرو،ایمان میں کچھ خلل نہیں آتا، اس خیال خام کی وجہ سے اس قدر لاپرواہ ہوجاتے ہیں کہ کفر سرزد ہونے کے باوجود توبہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ اپنے سچے پکے مسلمان ہونے پر انہیںناز بھی رہتا ہے ،اور اپنے اقوال وافعال کی بے جا تاویلات میں وقت ضائع کرتے ہیں۔۔۔۔۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کا کفر منکشف ہونے کے باوجود اس کے دیگر کاموںیا کارناموں کی طرف نظر کرتے ہوئے اسے کا فر نہیں سمجھا جاتا اور بات آتی ہے تو کہتے ہیں ،ہم اسے کافر کیسے کہیں؟اس نے فلاں کارنامہ انجام دیا ،وہ نماز پڑھتا ہے،روزہ رکھتا ہے،زکوٰۃ دیتا ہے ، حج کرتا ہے وغیرہ حالانکہ یہ نظریۂ اسلام کے سراسر خلاف ہے کیوں کہ قرآن و حدیث کا اعلان کہ کفر سرزد ہونے کے بعد کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ،یہاں تک کہ توبہ کرکے پھر سے اسلام لائے ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

(قل ابا للہ و ایتہ ورسولہ کنتم تستہزؤن لا تعذروا قد کفرتم بعد ایمانکم)

’’تم فرمائو کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو ۔ بہانے نہ بنائو تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔ (کنز الایمان)

تفسیر خزائن العرفان میں آیت مذکورہ کے تحت ہے:

’’غزوئہ تبوک میں جاتے ہوئے منافقین کے تین نفروں میں سے دو رسول اللہﷺکی نسبت تمسخرا کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ روم پر غالب آجائیں گے کتنا بعید خیال ہے اور ایک نفر بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سن کر ہنستا تھا ۔حضورﷺنے ان کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے ۔انہوں نے کہا ہم راستہ کاٹنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دل لگی کی باتیں کررہے تھے،اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان سے وہ عذر وحیلہ قبول نہ کیا گیا۔‘‘

ایک اور ارشاد الٰہی ملاحظہ ہو :

(ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامھم)

’’اور بے شک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر کافر ہوگئے۔‘‘ (کنز الایمان)

اس آیت کریمہ کی شان نزول کے بارے میں صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:

’’امام بغوی نے کلبی سے نقل کیا کہ یہ آیت جلاس ابن سوید کے حق میں نازل ہوئی ۔واقعہ یہ تھا کہ ایک روز سید عالمﷺ نے تبوک میں خطبہ فرمایا ۔اس میں منافقین کا ذکر کیا اور ان کی بد حالی اور بد مالی کا ذکر فرمایا ۔یہ سن کر جلاس نے کہا کہ اگر محمدﷺسچے ہیں تو ہم لوگ گدھوں سے بد تر جب حضورا مدینہ تشریف لائے تو عامر ابن قیس نے حضور سے جلاس کا مقولہ بیان کیا ۔جلاس نے انکار کیا اور کہا یا رسول اللہ عامر نے مجھ پر جھوٹ بولا ۔حضور نے دونوں کو حکم فرمایا ک ممبر کے پاس قسم کھائیں ۔جلاس نے بعد عصر ممبر کے پاس کھڑے ہوکر اللہ کی قسم کھائی کہ اس نے ایسی بات نہیں کہی اور عامر نے اس پر جھوٹ بولا۔خود عامر نے کھڑے ہوکر قسم کھائی کہ بیشک یہ مقولہ جلاس نے کہا اور میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا پھر عامر نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کی اے رب اپنے نبی پر سچے کی تصدیق نازل فرما ۔ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ہی حضرت جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے آیت میںفان یتوبوابک خیرا لھمسن کر جلاس کھڑے ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ا!سنیئے اللہ نے مجھے توبہ کا موقع دیا ۔عامر بن قیس نے جو کچھ کہا سچ کہا ۔میں نے وہ کلمہ کہا تھا اور میں توبہ واستغفار کرتا ہوں ۔حضور ا نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور وہ توبہ پر ثابت رہے۔‘‘

(تفسیر خزائن العرفان)

مذکورہ قرآنی آیات اور ان کی تفسیروں سے بات واضح ہوگئی کہ ایک آدمی ایمان لانے کہ بعد بھی کسی کلمۂ کفر کے ارتکاب سے کافر ہوجاتاہے ا ورایسی صورت میں بے جا عذر خواہی ،تاویلات کی گرما گرمی کوئی فائدہ نہیں دیتی۔صرف توبہ وتجدید ایمان ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔ بعض منافقین اور حضرت جلاس ابن سوید کا واقعہ ببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے کہ :

دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو

میری سنو جو گوش حقیقت نویش ہے

آج کل بد مذہب و گمراہ فرقوں کا حال یہ ہے کہ اولا تو وہ ان کلمات کفریہ جو ان کے پیشوائوں نے کہے یا لکھے سرے سے قصدا ان کا انکار کردیتے ہیں اور جب کتابیں کھول کر سامنے رکھ دی جاتی ہیںتو بے جا تاویلات کا طریقۂ کار اپنا کر عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی نماز وروزے کی دھونس جما کر انہیں بے وقوف بناتے ہیں۔ نہ جانے کتنے لوگ اس دم فریب میں آچکے اور ابھی تک یہ پھسلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بڑے تعجب کی بات ہے جب حضور اکرم ا کی معیت وصحبت اور آپ کی اقتداء میں پڑھی جانے والی نماز کسی کا کلمۂ کفر سرزد ہونے کے بعد کافر ہونے سے نہ بچا سکی تو آج کلمۂ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو توبہ کے بغیر نماز وروزہ کی بنیاد پر کیسے مسلمان مانا جاسکتا ہے۔

ناطقہ سر بگریباں ہے،اسے کیا کہییٔ

خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے

اس دور میں ایمان کا تحفظ بڑا مشکل مسئلہ بن کر رہ گیا ہے۔ ایک طرف بد مذہب وگمراہ فرقے طرح طرح کی کچھڑی پکا کر دعوت قلب ونظر کے بہانے مسلمانوں کا شکار کررہے ہیںتو دوسری طرف ذرائع لہو ولعب ،دن دہاڑے ایمان پر ہاتھ کی صفائی دکھارہے ہیں مثلا فلمی گیت جو عوام الناس میں بہت مقبول ہیں۔لوگ عام دنوں اور بالخصوص خوشیوں کے موقع پر بڑے ہی شوق سے سنتے سناتے ہیں بلکہ خود بھی چلتے پھرتے گاتے رہتے ہیں۔ان میں بعض گیت کفر پر مشتمل ہوتے ہیں ہمارے بعض جاہل دینی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے گیت گانے اور سننے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ۔اگر انہیں عقائد اسلامیہ سے واقفیت ہوتی تو ان کا تصور کرنا بھی گناہ سمجھتے ۔اس سلسلہ میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان کا ایک فتویٰ اکتوبر ۱۹۹۸ء؁کے ماہ نامہ’’اشرفیہ‘‘میں شائع ہوا تھا ،اس کی ضرورت وافادیت کے پیش نظر ہم اسے بعینہ ذیل میں نقل کرتے ہیں:

’’کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کچھ نوجوان مسلم مندرجہ ذیل اشعار بہت شوق سے گاتے ہیں ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ان اشعار کے مفہوم کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں یا یوں ہی صرف زبان پر لاتے ہیں۔بہر صورت شریعت طاہرہ کی روشنی میں ان پر کیا احکام لاگو ہوںگے۔وہ اشعار یہ ہیں:

حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے

خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانیں

خدا بھی جب زمیں پر آسما ں سے دیکھتا ہوگا

میرے محبوب کو کس نے بنایا سوچتا ہوگا

رب نے بھی مجھ پر ستم کیا کیا ہے

سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے

پھولوں سا چہرا تیرا ،کلیوں سی مسکان ہے

رنگ تیرا دیکھ کر ،روپ تیرا دیکھ کر قدرت بھی حیراں ہے

کتنا حسین چہرہ کتنی پاری آنکھیں

کتنی پیاری آنکھیں ہیں ،آنکھوں سے چھلکتاپیار

قدرت نے بنایا ہوگا ،فرصت سے تجھے میرے یار

او میرے ربّا ربّا رے ربّا یہ کیا غضب کیا

جس کو بنانا تھا لڑکی ،اس کو لڑکا بنادیا

اب آگے جو بھی ہو انجام دیکھا جائے گا

خدا تراش لیا اور بندگی کرلی

نیز کیا ان گانوں کو کیسٹوں کے ذریعہ سننا بھی گناہ ہے ؟

الجواب

جتنے اشعار سوال میں درج کئے گئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے ۔جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں ،وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہوکر کافر ومرتد ہوگئے۔ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہوگئے ۔ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ان سب پر فرض ہے کہ فورا بلا تاخیر اشعار میں جو کفریات ہیں ،ان سے توبہ کرلیں۔کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہو ں۔اپنی بیویوں کو رکھنا منظور ہوتو ان سے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کریں ۔ایسی کسیٹس جن میں ایسے کفریہ اشعار ہوں ،ان کو بجانا حرام سخت حرام منجرالی الکفر ہے اور ان کیسٹوں کو سننا بھی حرام بلکہ ایسی کیسٹوں کو ضائع کردینا فرض،اگر معاذ اللہ ایسے کفری اشعار کی کیسٹوں کو پسندیدہ اور اچھی سمجھ کر لگایا یا کسی نے ان اشعار کو سن کر پسند کرلیا تو وہ بھی کافر ہوجائے گا ۔رضا بالکفر کفر ہے۔ارشاد ہے ’’انکم اذًا مثلھم‘‘اب اشعار مذکورہ بالا کے کفریات شمار کریں ۔یہ کہنا کہ ’’خدا بھی نہ جانے‘‘کفر ہے ۔یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ سوچتا ہوگا کہ میرے محبوب کو کس نے بنایا ،اس میں تین کفر ہیں ۔اول یہ کہ اس جاہل کے محبوب کو اللہ نے نہیں بنایا ۔دوسرے کس نے بنایا معلوم نہیں۔تیسرے یہ کہ سوچتاہوگا نیز پہلے مصرع میں بھی کفر ہے کہ جب دیکھتا ہوگا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زمین ہمیشہ اس کی قوت بصر کے احاطے میں نہیں بلکہ جب زمین پر دیکھے تو زمین کے احوال اسے معلوم ہوجائیں،اس میں ایک کفر تو یہ ہے کہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کا بصیر ہونا اس کی صفت قدیم نہیں حادث ہے ۔دوسرے یہ کہ زمین کی اشیاء اور ان کے احوال کا ہمیشہ علم نہیں رکھتا ہے۔۔۔۔یہ کہنا کہ رب نے مجھے پرستم کیا۔اللہ عزوجل کوظالم بنانا ہے جو صریح کفر ہے۔یہ کہنا کہ قدرت بھی حیران ہے ،کفر ہے ،یہ کہنا کہ قدرت نے تجھے فرصت سے بنایا ہوگا کفر ہے۔یہ کہنا کہ جس کو لڑکی بنانا تھا لڑکا بنادیا ۔یہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہونے کی وجہ سے کفر ہے ۔پھر اس کو غضب کہنا ۔دوسرا کفر ’’خدا تراش لیا اور بندگی کرلی‘‘ میں دو کفر ہیں ،مخلوق کو خدا کہنا پھر اس کی بندگی کرنا ، اس قسم کے کفریہ اور بے ہودہ اشعار اگر کوئی گائے پڑھے تو وہ بہر حال کافر اگر چہ وہ کہے کہ یہ میرا اعتقاد نہیں کفر بکنے کے بعد یہ بہانہ کام نہیں دے گا۔اسی لئے ہر مرد وعورت پر فرض ہے کہ وہ علم دین حاصل کرے،کفر اور اسلام کو پہچانے ،ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت سے واقفیت رکھے تا کہ ایسی غلطی نہ ہونے پائے کہ آدمی کاایمان ہی جاتا رہے اور اشعار کے سلسلے میں بہت احتیاط کرنی چاہییٔ ۔اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:’’والشعراء یتبعھم الغاؤن الم ترانھم فی کل وادیھیمون وانھم یقولون مالا یفعلون‘‘اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتی ہے کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے۔

(سورہ شعراء ،آیت ۲۲۶)(ماہنامہ اشرفیہ اکتوبر ۱۹۹۸ء؁)

یہ چند مثالیں ہیں نہ جانے ایسے کتنے گانے ہوںگے نہ جانے کتنے لوگ انہیں گاکر یا رضاورغبت کے ساتھ سن کر ایمان کی دولت گنوا بیٹھے ہوںگے ۔ابھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ہر مسلمان پر اپنے ایمان کی حفاظت ہر فرض سے اہم فرض ہے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ عقائد اسلامیہ جانیں پہچانیں اور اپنے ایمان کی شمع کو کفر کے جھونکوں سے بچائیں نیز شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں تا کہ حیات وممات اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس شعر کے مصداق بن سکیں۔ ؎

انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

درس 012: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 012: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَالرَّابِعُ) غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة:6]

وضو کا چوتھا رکن: دونوں پیروں کا ایک بار دھونا۔ دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھولو۔

وَقَالَتْ الرَّافِضَةُ الْفَرْضُ هُوَ الْمَسْحُ لَا غَيْر

رافضیوں نے کہا کہ پیر کا مسح کرنا فرض ہے، دھونا فرض نہیں ہے۔

وَقَدْ ثَبَتَ بِالتَّوَاتُرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ، لَا يَجْحَدُهُ مُسْلِمٌ

اور نبی کریم ﷺ سے یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ آپ نے وضو میں اپنے دونوں پیروں کو دھویا ہے، جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کرتا۔

ثُمَّ الْكَعْبَانِ يَدْخُلَانِ فِي الْغَسْلِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ وَعِنْدَ زُفَرَ لَا يَدْخُلَانِ، وَالْكَلَامُ فِي الْكَعْبَيْنِ عَلَى نَحْوِ الْكَلَامِ فِي الْمِرْفَقَيْنِ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ.

ہمارے تینوں ائمہ (امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام امحمد) کے نزدیک دونوں ٹخنے دھونے کے حکم میں داخل ہیں، لیکن امام زفر کے نزدیک داخل نہیں ہیں۔ اور ٹخنوں کے معاملے میں وہی گفتگو ہے جو کہنیوں کے بارے میں ہوئی۔ جسے ہم ذکر کرچکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

وضو کا چوتھا رکن (فرض) دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا ہے۔

غَسل (دھونا) کسے کہتے ہیں یہ ہم پچھلے دروس میں بیان کرچکے ہیں۔

اس مقام پر علامہ کاسانی نے ایک قدیم اختلاف پر بہت تفصیلی گفتگو کی ہے جو اہلسنت فقہاء اور رافضیوں کے درمیان ہے، چونکہ گفتگو نحوی یعنی عربی گرامر سے متعلق ہے اسلئے ہم اسے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اکثر قارئین شاید گفتگو پڑھ کر بھی سمجھ نہیں سکیں گے۔

بس خلاصتاً اتنا سمجھ لیجئےکہ رافضیوں کے نزدیک پیروں کا مسح فرض ہے جبکہ ہمارے نزدیک پیروں کا مسح کافی نہیں بلکہ دھونا فرض ہے۔

علامہ کاسانی نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ آپ وضو میں پیروں کو دھوتے تھے جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا۔

*تواتر:* علمِ حدیث میں تواتر اُس خبر (حدیث) کو کہتے ہیں جس کے بیان کرنے والے ہر دور میں اتنے کثرت سے ہوتے ہیں کہ عقل اس بات کو ماننے سے انکار کردیتی ہے کہ یہ سب لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔

حدیثِ تواتر کا انکار کرنا کفر ہوتا ہے، قرآن مجید کی کسی ایک آیت کا انکار بھی کفر ہے اسلئے کہ اسکا کلامِ الہی ہونا تواتر سے ثابت ہے۔

ٹخنے دھونے کے حکم میں داخل ہیں، کیوں داخل ہیں ؟ اس کی وہی بحث ہے جو علامہ کاسانی نے ہاتھوں اور کہنیوں کی بحث میں ذکر کی ہے۔

اس رکن پر مزید گفتگو اگلی پوسٹ میں ہوگی۔

*ابو محمد عارفین القادری*

کیا امام بیہقی شافعی علیہ الرحمہ متعصب تھے؟؟؟

کیا امام بیہقی شافعی علیہ الرحمہ متعصب تھے؟؟؟

بعض دیوبندیوں نے طوفان بد تمیزی شروع کیا ہوا ہے کہ امام بیہقی شافعی علیہ الرحمہ احناف کے ساتھ متعصب تھے۔

جب کہ امام بیہقی علیہ الرحمہ نے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ اور امام ابویوسف کی توثیق کی ان کو ثقہ کہا

اس کی بات کا ثبوت یہ ہے:

وقرأت في كتاب أبي عبد الله محمد بن محمد بن يوسف بن إبراهيم الدقاق بروايته عن القاسم بن أبي صالح الهمذاني , عن محمد بن أيوب الرازي , قال: سمعت محمد بن سابق , يقول: سألت أبا يوسف , فقلت: أكان أبو حنيفة يقول القرآن مخلوق؟ , قال: معاذ الله , ولا أنا أقوله , فقلت: أكان يرى رأي جهم؟ فقال: معاذ الله ولا أنا أقوله ” رواته ثقات

[الاسماء والصفات للبیہقی ج1 ص 611 رقم الحدیث 550]

اس روایت کی سند میں امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف علیہما الرحمہ دونوں موجود ہیں اور امام بیہقی علیہ الرحمہ کی سند کے رواۃ کو ثقات کہہ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اپنی کتب میں کافی جگہ امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے لیے کلمات خیر کہہ ایک جگہ سند میں فرماتے ہیں:

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ , أخبرني محمد بن علي بن دحيم الشيباني , ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة , ثنا عبيد الله بن موسى , ثنا النعمان بن ثابت أبو حنيفة رحمه الله , عن أبي الزبير , عن جابر بن عبد الله…الخ

[السنن الکبری للبیہقی ج 5 ص 532 رقم الحدیث 10769]

اس سند میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امام بیہقی علیہ الرحمہ نے خصوصا امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے لیے "رحمہ اللہ” کے الفاظ کہہ۔

اس کے علاوہ امام محمد بن الحسن الشیبانی کی تعریف کی اور ان کے اقوال سے بہت جگہ نقل کیے ان پر کوئی جرح نہیں کی اور نہ ہی نقل کی۔

پتہ نہیں امام بیہقی علیہ الرحمہ کیسے متعصب ہیں ان دیوبندیوں کے نزدیک یا صرف امام بیہقی علیہ الرحمہ کا بغض ہے؟؟؟؟

اگر متعصب ہوتے تو ایسا کچھ بھی نہ کہتے نہ لکھتے…!!!

باقی دلائل کے ساتھ اختلاف کرنے سے کوئی بندہ متعصب نہیں بن جاتا کیونکہ دلائل کی وجہ سے خود امام ابوحنیفہ اور صاحبین اور طرفین کا بھی کافی اختلاف ہے۔

لہذا اللہ عزوجل ہمیں صحیح بات کہنے اور سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین)

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

6 جنوری 2019ء

دیوبندیوں کی امام بیہقی شافعی علیہ الرحمہ پر جسارتیں

دیوبندیوں کی امام بیہقی شافعی علیہ الرحمہ پر جسارتیں

حبیب اللہ ڈیروی دیوبندی (جو تحریفیوں کا بادشاہ سرفراز دیوبندی کا شاگرد ہے) امام بیہقی شافعی علیہ الرحمہ پر ایسے جسارت کرتا ہے:

1-حضرت بیہقی نے جان بوجھ کر یہ جھوٹی روایت اپنے مذہب کو سہارا دینے کے لیے ذکر کی۔..الخ [توضیح الکلام پر ایک نظر ص 129]

2-حضرت امام بیہقی نے اپنے مذہب کی حمایت میں دو جرم کا ارتکاب کیا [توضیح الکلام پر ایک نظر ص 131]

3-حضرت بیہقی جھوٹے اور مجہول راویوں سے اپنا دین حاصل کر رہے ہیں [توضیح الکلام پر ایک نظر 131]

4-حضرت بیہقی نے زبردست خیانت کا ارتکاب کیا..الخ [توضیح الکلام پر ایک نظر ص 136]

5-امام بیہقی عجیب کارنامے انجام دے رہے ہیں۔کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا۔[توضیح الکلام پر ایک نظر ص 141]

6-امام بیہقی نے اس مسئلہ میں سینہ زوری اورتک بندی سے کام لیا ہے۔ [توضیح الکلام پر ایک نظر ص 140]

7-یہ دسیسہ کاری امام بیہقی نے خود قبول کی۔[توضیح الکلام پر ایک نظر ص 248]

8-کتاب القراءۃ میں یوں تحریف کی۔ [توضح الکلام پر ایک نظر ص 136]

اور امام محمد بن اسحاق بن یسار (امام المغازی) کے بارے میں یہی دیوبندی لکھتا ہے:

محمد ابن اسحاق مشہور دلّا ہے [توضیح الکلام پر ایک نظر ص 117]

اس کے علاوہ اسی دیوبندی نے اور کئی محدثین کی گستاخیاں اور توہین کیں ہیں اپنی کتب میں۔

اللہ عزوجل ہر مسلمان کو ان دیوبندیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ‌ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى الۡغَيۡبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجۡتَبِىۡ مِنۡ رُّسُلِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ۖ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ۚ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَلَـكُمۡ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 179

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ‌ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى الۡغَيۡبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجۡتَبِىۡ مِنۡ رُّسُلِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ۖ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ۚ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَلَـكُمۡ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ

ترجمہ:

اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر (آج کل) تم ہو ‘ حتی کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے ‘ اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تم (عام مسلمانوں) کو غیب پر مطلع کرے لیکن اللہ (غیب پر مطلع کرنے کے لیے) جن کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور وہ اللہ کے (سب) رسول ہیں، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان (برقرار) رکھو اور اگر تم ایمان اور تقوی پر (برقرار) رہے تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر (آج کل) تم ہو حتی کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ 

اصحاب رسول کے مومن اور طیب ہونے پر دلیل : 

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو منافقوں سے متمیز کردیا ‘ ابن جریج نے کہا اللہ تعالیٰ نے سچے مومنوں کو جھوٹوں سے الگ کردیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٢٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

یہ آیت بھی قصہ احد کے واقعات میں سے ہے جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مسلمانوں کے لشکر سے نکل گیا تو مومن اور منافق الگ الگ ہوگئے، اسی طرح جنگ احد کے فورا بعد جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا کہ حمراء الاسد کے مقام پر ابو سفیان دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو اس کا تعاقب کرنے کا حکم دیا ‘ اس وقت مسلمان زخمی اور دل شکستہ ہونے کے باوجود آپ کے حکم کی تعمیل میں چل پڑے اور منافقوں نے آپ کا ساتھ نہیں دیا ‘ اس طرح مومن اور منافق الگ الگ ہوگئے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دینے والے تمام صحابہ کرام (رض) کو مومن اور طیب فرمایا ہے اور یہ سات سو صحابہ تھے اور میں خلفاء راشدین حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) ‘ حضرت عثمان (رض) اور حضرت علی (رض) بھی ہیں اس لیے جو شخص ان کو برا اور کافر ‘ ظالم یا منافق کہتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ آپ کے وصال کے بعد چھ کے سوا تمام اصحاب مرتد ہوگئے تھے وہ قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف کہتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تم (عام مسلمانوں) کو غیب پر مطلع کرے لیکن اللہ (غیب پر مطلع کرنے کے لیے) جن کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور وہ اللہ کے (سب) رسول ہیں۔ (آل عمران : ١٧٩) 

اعلی حضرت فاضل بریلوی (رح) (متوفی ١٣٤٠ ھ) اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ” اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے چاہے۔ “ 

محدث اعظم ہند سید محمد کچھوچھوی (رح) (متفی ١٩٦١ ء) ” اور نہیں ہے اللہ کہ آگاہی بخشے تم سب کو غیب پر لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے چ سے چاہے۔ “ 

علامہ پیر محمد کرم شاہ الازہری (رح) (متوفی ١٤١٨ ھ) لکھتے ہیں ” اور نہیں اللہ (کی شان) کہ آگاہ کرے تمہیں غیب پر البتہ اللہ (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے “۔ 

ان تراجم میں ” من “ کو تبعیضیہ قرار دیا ہے ‘ جس کا حاصل ہے بعض رسولوں کو غیب پر مطلع فرمایا ہے اور ہمارے ترجمہ میں ” من “ ” من یشاء “ کا بیان ہے ‘ جس کا حاصل ہے سب رسولوں کو غیب پر مطلع فرمایا ہے ‘ کیونکہ سب رسول اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے اور برگزیدہ ہیں۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کو علم الغیب ہے یا غیب کی خبروں کا علم ہے :

یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ تم عام مسلمانوں کو لوگوں کے دلوں کے احوال پر مطلع کر دے اور تم لوگوں کو دیکھ کر یہ جان لو کہ فلاں شخص مومن ہے اور فلاں منافق ہے اور فلاں کافر ہے ‘ البتہ اللہ تعالیٰ مصائب ‘ آلام ‘ اور آزمائشوں کے ذریعہ مومنوں اور منافقوں کو متمیز کردیتا ہے۔ جیسا کہ جنگ احد میں منافق مسلمانوں سے الگ ہوگئے۔ اسی طرح اسلام کی راہ میں جب بھی جہاد کا موقع آیا منافق پیچھے ہٹ گئے اور مسلمان آگے بڑھے ‘ ماسوا رسولوں کے جن کو اللہ تعالیٰ غیب پر مطلع کرنے کے لیے چن لیتا ہے اور ان کو لوگوں کے دلوں کے احوال پر مطلع فرماتا ہے اور وہ نور نبوت سے جان لیتے ہیں کہ کس کے دل میں ایمان ہے اور کس دل میں نفاق ہے۔ 

اس آیت میں یہ صراحت سے بیان فرمایا ہے کہ انبیاء السلام غیب پر، مطلع ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ غیب پر مطلع ہونا غیب کے علم کو مستلزم ہے ‘ سو یہ آیت انبیاء (علیہم السلام) کے لیے علم غیب کے ثبوت میں قطعی الدلالۃ ہے ‘ بعض متاخرین علماء یہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کو علم الغیب نہیں دیا گیا اور علم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے البتہ انبیاء (علیہم السلام) کو غیب کی خبریں دی گئی ہیں اور غیب کی خبروں کا حاصل ہونا اور چیز ہے اور علم الغیب اور چیز ہے ‘ ان علماء کی مراد یہ ہے کہ علم الغیب میں اضافت اور ” الغیب “ میں لام استغراق کے لیے ہے اور اس سے مراد ہے تمام امور غیبیہ غیر متناہیہ کا علم ‘ اور ظاہر ہے کہ یہ علم الغیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے علم الغیب کی اپنے غیر سے مطلقا ‘ نفی کی ہے : rnّ (آیت) ” قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ “۔ (النمل : ٦٥) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کسی کو علم الغیب نہیں ہے۔ 

اب اگر انبیاء (علیہم السلام) کے لیے علم الغیب مانا جائے تو ظاہر ہے قرآن مجید سے تعارض لازم آئے گا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کہ جب مطلقا علم الغیب کا اطلاق کیا جائے تو اس سے متبادر علم الغیب ذاتی اور مستقل ہوتا ہے جس کا ثبوت بغیر کسی کی عطا کے ہوتا ہے اس لیے جب مطلقا یہ کہا جائے گا کہ انبیاء (علیہم السلام) کو علم الغیب ہے تو اس سے یہ وہم ہوگا کہ ان کو ذاتی اور مستقل طور پر علم الغیب ہے۔ 

امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے اس کی تشریح حاشیہ کشاف پر میر سید شریف (رح) نے کردی ہے اور یہ یقینا حق ہے کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقینا کافر ہے۔ (الملفوظ ج ٣ ص ٤٧‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور) 

دوسری طرف قرآن مجید کی متعدد آیات اور بہ کثرت احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو عموما اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خصوصا غیب کا علم دیا گیا ہے اس لیے ان میں تطبیق کے لیے بعض علماء نے یہ کہا کہ یوں کہا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بعض علوم غیبیہ عطا کئے گئے ہیں (واضح رہے کہ یہ علوم اللہ کے اعتبار سے بعض ہیں) علامہ آلوسی نے کہا یوں کہا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو غیب کا علم دیا گیا یا وہ غیب پر مطلع کیے گئے ‘ علماء دیوبند نے اس کی یہ تعبیر کی انبیاء (علیہم السلام) کو غیب کی خبریں دی گئی ہے اور امت کو ان کے واسطے سے غیب پر مطلع کیا جاتا ہے ‘ اب ہم اس کے ثبوت میں مستند مفسرین کی عبارات نقل کر رہے ہیں۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کو غیب پر مطلع کرنے کے متعلق علماء امت کی تصریحات : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ تم سب کو غیب کا عالم نہیں بنائے گا جیسے رسول کو علم ہے حتی کہ تم رسول سے مستغنی ہوجاؤ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے رسالت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے اور باقی لوگوں کو ان رسولوں کی اطاعت کا مکلف کرتا ہے ‘ نیز اس سے پہلے امام رازی نے لکھا ہے کہ غیب پر مطلع ہونا انبیاء (علیہم السلام) کے خواص میں سے ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٠٦‘ مطبوعہ دار الفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ غیب پر مطلع کرنے کے لیے اپنے رسولوں کو چن لیتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢٨٩ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ ابو الحیان عبداللہ بن یوسف غرناطی اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ علم الغیب سے جس پر چاہے اپنے رسولوں کو مطلع فرماتا ہے ‘ پس رسول کا غیب پر مطلع ہونا اللہ تعالیٰ کی اس کی طرف وحی کے ذریعہ ہے ‘ سو اللہ تعالیٰ غیب سے یہ خبر دیتا ہے کہ فلاں شخص میں اخلاص ہے اور فلاں میں نفاق ہے اور یہ ان کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے خود بہ خود بغیرواسطہ وحی کے معلوم نہیں ہوتا۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ٤٤٩ طبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

واحدی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر میری امت اپنی صورتوں میں پیش کی گئی جیسا کہ حضرت آدم پر پیش کی گئی تھی اور مجھے یہ علم دیا گیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا ‘ منافقوں کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے مذاق اڑایا اور کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زعم یہ ہے کہ انہیں ان پر ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کا علم ہے اور ہم انکے ساتھ ہیں اور ان کو ہمارا علم نہیں ہے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں : 

یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ نفوس قدسیہ میں سے بعض اہل کشف کو بھی غیب پر مطلع فرماتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بہ طور وراثت ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے سے ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) کو بلاواسطہ غیب پر مطلع فرماتا ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ‘ ١٣٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

شیخ محمود الحسن دیوبندی متوفی ١٣٣٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

خلاصہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو بلاواسطہ کسی یقینی غیب کی اطلاع نہیں دی جاتی۔ انبیاء (علیہم السلام) کو دی جاتی ہے مگر جس قدر خدا چاہے۔ 

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٢ ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں 

اور اس آیت سے کسی کو شبہ نہ ہو کہ جو غیب خصائص باری تعالیٰ سے ہے اس میں رسل کی شرکت ہوگئی کیونکہ خواص باری تعالیٰ سے دو امر ہیں اس علم کا ذاتی ہونا اور اس علم کا محیط ہونا۔ یہاں ذاتی ہونا اور اس علم کا محیط ہونا۔ یہاں ذاتی اس لیے نہیں ہے کہ وحی سے ہے اور محیط اس لیے نہیں کہ بعض امور خاص مراد ہیں (بیان القرآن ج ١ ص ١٥٠‘ مبطوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور ‘ کراچی) 

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

حق تعالیٰ خود بذریعہ وحی اپنے انبیاء کو جو امور غیبیہ بتاتے ہیں وہ حقیقتا علم غیب نہیں بلکہ غیب کی خبریں ہیں جو انبیاء کو دی گئی ہیں جس کو خود قرآن کریم نے کئی جگہ انباء الغیب کے لفظ سے تعبیر فرمایا : (معارف القرآن ج ٢ ص ٢٤٨‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٤١٤ ھ) 

سید ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : 

مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کر دے۔ غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے منتخب کرلیتا ہے، یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس ترجمہ کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب رسولوں کو غیب پر مطلع نہیں فرماتا بلکہ منتخب رسولوں کو غیب پر مطلع فرماتا ہے۔ شیخ اشرف علی تھانوی کا ترجمہ صحیح ہے وہ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ (بمقتضائے حکمت) ایسے امور غیبیہ پر تم کو (بلاواسطہ ابتلاء امتحان کے) مطلع نہیں کرنا چاہتے لیکن ہاں جس کو (اس طرح مطلع کرنا) خود چاہیں اور (ایسے حضرات) وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب اور علم ماکان وما یکون ‘ کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو اللہ تعالیٰ نے علم غیب عطا فرمایا ہے اس پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوموسی اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا جن کو آپ نے ناپسند کیا جب آپ سے زیادہ سوالات کیے گئے تو آپ غضبناک ہوئے اور آپ نے لوگوں سے فرمایا تم جو چاہو مجھ سے سوال کرو ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ‘ دوسرے شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ شیبہ کا آزادہ کردہ غلام سالم ہے ‘ جب حضرت عمر (رض) نے آپ کے چہرے میں غضب کے آثار دیکھے تو عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اللہ عزوجل سے توبہ کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٠۔ ١٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے یہ وجہ استدلال یہ ہے کہ آپ کا یہ فرمانا مجھ سے جو چاہو سوال کرو یہ اسی وقت درست ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر سوال کے جواب کا علم عطا فرمایا ہو خواہ احکام شرعیہ سے متعلق سوال کیا جائے یا ماضی اور مستقبل کی خبروں کے متعلق سوال کیا جائے یا اسرار تکوینیہ کے متعلق سوال کیا جائے اور صحابہ کرام (رض) نے اس کو عموم پر ہی محمول کیا تھا اس لیے دو اصحاب نے آپ سے اپنے نسب کے متعلق سوال کیا۔ 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان ایک مجلس میں کھڑے ہوئے پھر آپ نے ابتداء خلق سے خبریں بیان کرنا شروع کیں حتی کہ جنتیوں کے اپنے ٹھکانوں تک جانے اور جہنمیوں کے اپنے ٹھکانوں تک جانے کی خبریں بیان کیں جس شخص نے ان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے ان کو بھلا دیا اس نے ان کو بھلا دیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٥٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم میں ایک تقریر فرمائی اور اس میں قیامت تک ہونے والے تمام امور بیان فرمادیے جس شخص نے اسے جان لیا اس نے جان لیا اور جس نے نہ جانا اس نے نہ جانا (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوزید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا پھر منبر سے اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر آپ منبر سے اترے اور عصر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا پھر آپ نے ہمیں تمام ماکان وما یکون کی خبریں دی سو جو ہم میں زیادہ حافظہ والا تھا اس کو ان کا زیادہ علم تھا۔ (صحیح مسلم ج ٤ ص ‘ ٢٢١٧‘ رقم الحدیث ٢٨٩٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے تمام روئے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے تمام مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا۔ 

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں : 

لہذا ان لوگوں کا قول باطل ہے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر شریف اور دیگر صالحین کی قبروں کی زیارت کیلیے سفر کرنے سے منع کیا ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ ابن تیمیہ سے جو مسائل منقول ہیں یہ ان میں سب سے قبیح مسئلہ ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٦٦ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

طلب علم ‘ تجارت نیک لوگوں اور متبرک مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع نہیں ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ قاضی ابن کج نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے نذر مانی تو اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

ملا علی قاری حنفی نے لکھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کو حرام کہنے کی وجہ سے شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کی گئی ہے اور یہ تکفیر صحت اور صواب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جس چیز کی اباحت پر اتفاق ہو اس کو حرام کہنا بھی کفر ہے تو جس چیز کے مستحب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے اس کو حرام کہنا بہ طریق اولی کفر ہوگا۔ (شرح الشفاء ج ٣ ص ١٦١۔ ١٦٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص نیکی کرتی ہوا بیت اللہ میں داخل ہو وہ اپنے گناہوں سے بخشا ہوا بیت اللہ سے نکلے گا۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ‘ ١٤٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا وہ بخشا ہوا نکلے گا۔ 

علامہ عز الدین بن جماعہ الکنانی متوفی ٧٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابو سعید جندی فضائل مکہ میں اور امام واحدی اپنی تفسیر میں حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد سات طواف کئے اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی ‘ اور زمزم کا پانی پیا اس کے گناہ جتنے بھی ہوں ہوں معاف کردیئے جائیں گے۔ 

امام ازرقی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص بیت اللہ میں طواف کے ارادہ سے نکلتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کا استقبال کرتے ہے ‘ اور جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے ‘ اور اس کے ہر قدم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ پانچ سو نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے پانچ سو گناہ مٹا دیتا ہے ‘ اور اس کے لیے پانچ سودرجات بلند کردیتا ہے اور جب وہ طواف سے فارغ ہو کر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھتا ہے ‘ تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور اس کے لیے اولاد اسماعیل سے دس غلاموں کے آزاد کرنے کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور حجر اسود کے قریب ایک فرشتہ اس کا استقبال کرکے کہتا ہے تم اپنے پچھلے عملوں سے فارغ ہوگئے ‘ اب از سر نو عمل شروع کرو ‘ اور اس کو اس کے اس کے خاندان کے ستر نفوس کے حق میں شفاعت کرنے والا بنایا جائے گا۔ (اخبار مکہ ج ٢ ص ٥۔ ٤) (صحیح مسلم ج ٤ ص ٢٢١٦۔ ٢٢١٥‘ رقم الحدیث ٢٨٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن ابوداؤد ج ٤ ص ٩٥‘ رقم الحدیث ٤٢٥٢ مطبوعہ بیروت ‘ دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٥٨٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٨ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز کے لیے آنے میں دیر کی حتی کہ عنقریب ہم سورج کو دیکھ لیتے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی سے آئے اور نماز کی اقامت کہی گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختصر نماز پڑھائی ‘ پھر آپ نے سلام پھیر کر ہم سے بہ آواز بلند فرمایا جس طرح اپنی صفوں میں بیٹھے ہو بیٹھے رہو ‘ پھر ہماری طرف مڑے اور فرمایا میں اب تم سے یہ بیان کروں گا کہ مجھے صبح کی نماز کے لیے آنے میں کیوں دیر ہوگئی ‘ میں رات کو اٹھا اور وضو کر کے میں اتنی نماز پڑھی جتنی میرے لیے مقدر کی گئی تھی پھر مجھے نماز میں اونگھ آگئی پھر مجھے گہری نیند آئی اچانک میں نے اچھی صورت میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھا رب تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد ! میں نے کہا اے میرے رب میں حاضر ہوں ‘ فرمایا ملاء اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا ‘ آپ نے کہا میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا اور اس کے پوروں کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر ہر چیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے اس کو جان لیا۔ الحدیث الی قولہ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٥ ص ٣٦٩۔ ٣٦٨‘ رقم الحدیث ٣٢٣٥‘ مطبوعہ بیروت ‘ ج ٢ ص ١٥٥‘ فاروقی کتب خانہ ملتان ‘ ومطبع مجتبائی پاکستان وکتب خانہ رحیمیہ دیوبند انڈیا ‘ مسند احمد ج ١ ص ٣٦٨‘ ج ٤ ص ٦٦‘ العلل المتناصیہ ج ١ ص ٢١۔ ٢٠) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے (خواب میں) اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا ‘ میرے رب نے فرمایا : اے محمد ! میں نے کہا حاضر ہوں یارب ! فرمایا ملاء اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا اے رب میں نہیں جانتا پھر اللہ تعالیٰ نے اپناہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی ‘ پھر میں نے جان لیا جو کچھ مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٥ ص ٣٦٧‘ رقم الحدیث ٣٢٣٤‘ مطبوعہ بیروت ‘ ج ٢ ص ١٥٦‘ فاروقی کتب خانہ ملتان ‘ ومطبع مجتبائی پاکستان وکتب خانہ رحیمیہ دیوبند انڈیا ‘ تحفۃ الاحوذی ج ٢ ص ١٧٥۔ ١٧٣‘ نشرالسنۃ ملتان) 

یہ حدیث حضرت عبدالرحمن بن عائش سے بھی مروی ہے دیکھئے سنن دارمی ج ٢ ص ٥١‘ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٣٧٨‘ جامع البیان للطبری ج ٧ ص ١٦٢‘ الدرالمنثور ج ٣ ص ٢٤‘ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کو امام ابن خزیمہ اور امام ابو نعیم کے حوالے سے بھی ذکر کیا ہے۔ الاصابہ ج ٢ ص ٣٩٩۔ ٣٩٧‘ الطبقات الکبری ج ٧ ص ١٥٠‘ زاد المسیر ج ١ ص ١٥٥‘ اتحاف السادۃ المتقین ج ١ ص ٢٢٥ میں بھی یہ حدیث مذکور ہے۔ 

اس حدیث کے مزید حوالہ جات شرح صحیح مسلم ج ١ ص ٣١٦۔ ٣١٤ اور ج ٥ ص ١١٦۔ ١١٤ میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 179