*درس 012: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَالرَّابِعُ) غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة:6]

وضو کا چوتھا رکن: دونوں پیروں کا ایک بار دھونا۔ دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھولو۔

وَقَالَتْ الرَّافِضَةُ الْفَرْضُ هُوَ الْمَسْحُ لَا غَيْر

رافضیوں نے کہا کہ پیر کا مسح کرنا فرض ہے، دھونا فرض نہیں ہے۔

وَقَدْ ثَبَتَ بِالتَّوَاتُرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْوُضُوءِ، لَا يَجْحَدُهُ مُسْلِمٌ

اور نبی کریم ﷺ سے یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ آپ نے وضو میں اپنے دونوں پیروں کو دھویا ہے، جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کرتا۔

ثُمَّ الْكَعْبَانِ يَدْخُلَانِ فِي الْغَسْلِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ وَعِنْدَ زُفَرَ لَا يَدْخُلَانِ، وَالْكَلَامُ فِي الْكَعْبَيْنِ عَلَى نَحْوِ الْكَلَامِ فِي الْمِرْفَقَيْنِ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ.

ہمارے تینوں ائمہ (امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام امحمد) کے نزدیک دونوں ٹخنے دھونے کے حکم میں داخل ہیں، لیکن امام زفر کے نزدیک داخل نہیں ہیں۔ اور ٹخنوں کے معاملے میں وہی گفتگو ہے جو کہنیوں کے بارے میں ہوئی۔ جسے ہم ذکر کرچکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

وضو کا چوتھا رکن (فرض) دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا ہے۔

غَسل (دھونا) کسے کہتے ہیں یہ ہم پچھلے دروس میں بیان کرچکے ہیں۔

اس مقام پر علامہ کاسانی نے ایک قدیم اختلاف پر بہت تفصیلی گفتگو کی ہے جو اہلسنت فقہاء اور رافضیوں کے درمیان ہے، چونکہ گفتگو نحوی یعنی عربی گرامر سے متعلق ہے اسلئے ہم اسے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اکثر قارئین شاید گفتگو پڑھ کر بھی سمجھ نہیں سکیں گے۔

بس خلاصتاً اتنا سمجھ لیجئےکہ رافضیوں کے نزدیک پیروں کا مسح فرض ہے جبکہ ہمارے نزدیک پیروں کا مسح کافی نہیں بلکہ دھونا فرض ہے۔

علامہ کاسانی نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ آپ وضو میں پیروں کو دھوتے تھے جس کا کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا۔

*تواتر:* علمِ حدیث میں تواتر اُس خبر (حدیث) کو کہتے ہیں جس کے بیان کرنے والے ہر دور میں اتنے کثرت سے ہوتے ہیں کہ عقل اس بات کو ماننے سے انکار کردیتی ہے کہ یہ سب لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔

حدیثِ تواتر کا انکار کرنا کفر ہوتا ہے، قرآن مجید کی کسی ایک آیت کا انکار بھی کفر ہے اسلئے کہ اسکا کلامِ الہی ہونا تواتر سے ثابت ہے۔

ٹخنے دھونے کے حکم میں داخل ہیں، کیوں داخل ہیں ؟ اس کی وہی بحث ہے جو علامہ کاسانی نے ہاتھوں اور کہنیوں کی بحث میں ذکر کی ہے۔

اس رکن پر مزید گفتگو اگلی پوسٹ میں ہوگی۔

*ابو محمد عارفین القادری*