مذہب اسلام میں ایمان ایک مستحکم بنیاد

مولانا سید شاکر حسین مصباحی

٭٭٭٭

مذہب اسلام میں ایمان ایک ایسی مستحکم بنیاد ہے جس پر اعمال خیر کی عمارت قائم کی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے بغیر عبادات کا تصور ہوائوں میں محل قائم کرنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔اورآخرت میں ان پر ثواب کی امید کسی خواب پریشاں سے کم نہیں جس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی ۔جس طرح ایک پیاسا مسافر دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر بڑی عجلت سے اس کے قریب پہنچتا ہے تو سوائے یا س وحسرت کے کچھ نہیں پاتا بلکہ مزید ذہنی الجھن میں مبتلا ہوجاتا ہے ، ایسے ہی ایک بے ایمان خوش فہم عامل کا حال ہے جو اپنے اعمال کی جھوٹی جگمگاہٹ پر جزاء خیر کی آس لگائے ہوئے آخرت میں پہنچتا ہے مگر ناامیدی کی کربنا کیوں اور جہنم کی ہولنا کیوں کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوتا ۔

عقیدہ وایمان کی اسی بنیادی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لئے قرآن پاک میں ہر جگہ اسے عمل صالح پر مقدم رکھا گیا ہے مثلا سورئہ عصر میں رب تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا وعملوا الصلحات)’’اس زمانۂ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے‘‘۔ (کنز الایمان)

اسی طرح سورہ التین میں ارشاد ہے:

’’ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددنہ اسفل سافلین الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات فلھم اجر غیر ممنون‘‘۔

’’بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیر دیا مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ انہیں بے حد ثواب ہے۔‘‘ (کنز الایمان)

اس کے بر خلاف ایمان کے بغیر عمل کرنے والوں کے متعلق وعید نازل فرمائی ۔

مثلا سورہ ٔغاشیہ میں وارد ہے:

(وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ تسقی من عین انیہ)

’’کتنے ہی منھ اس دن ذلیل ہوںگے کام کریں، مشقت جھلیں، جائیں بھڑ کتی آگ میں نہایت جلتے چشمے کا پانی پلائے جائیں۔‘‘ (کنزالایمان)

عقیدہ ایمان کی بنیادی اہمیت کے پیش نظر اسلام نے ان کے تحفظ کا بھی خاص اہتمام فرمایا ،بری صحبتوں سے بچنے کی ترغیب فرمائی بالخصوص مبتدع کی صحبت سے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین)

’’اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھو‘‘۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

(ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار)

’’ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے،بد مذہبوں،گمراہوں کے بارے میں حدیث رسول امیں وارد ہے:

(فلا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تواکلوھم ولا تناکحوھم)

’’تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو ،نہ پیو ،نہ کھائو،نہ نکاح کرو۔‘‘

نیز ارشاد نبویﷺہے:

(ایاکم وایاھم لا یفتنونکم ولا یضلونکم)

’’بد مذہبوں سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھو ،کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں،کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں۔‘‘

ایمان کیا چیز ہے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے ۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک بار لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے دو،کافی ہے پھر جو جی میں آئے کہو یا کرو،ایمان میں کچھ خلل نہیں آتا، اس خیال خام کی وجہ سے اس قدر لاپرواہ ہوجاتے ہیں کہ کفر سرزد ہونے کے باوجود توبہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ اپنے سچے پکے مسلمان ہونے پر انہیںناز بھی رہتا ہے ،اور اپنے اقوال وافعال کی بے جا تاویلات میں وقت ضائع کرتے ہیں۔۔۔۔۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کا کفر منکشف ہونے کے باوجود اس کے دیگر کاموںیا کارناموں کی طرف نظر کرتے ہوئے اسے کا فر نہیں سمجھا جاتا اور بات آتی ہے تو کہتے ہیں ،ہم اسے کافر کیسے کہیں؟اس نے فلاں کارنامہ انجام دیا ،وہ نماز پڑھتا ہے،روزہ رکھتا ہے،زکوٰۃ دیتا ہے ، حج کرتا ہے وغیرہ حالانکہ یہ نظریۂ اسلام کے سراسر خلاف ہے کیوں کہ قرآن و حدیث کا اعلان کہ کفر سرزد ہونے کے بعد کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ،یہاں تک کہ توبہ کرکے پھر سے اسلام لائے ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

(قل ابا للہ و ایتہ ورسولہ کنتم تستہزؤن لا تعذروا قد کفرتم بعد ایمانکم)

’’تم فرمائو کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو ۔ بہانے نہ بنائو تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔ (کنز الایمان)

تفسیر خزائن العرفان میں آیت مذکورہ کے تحت ہے:

’’غزوئہ تبوک میں جاتے ہوئے منافقین کے تین نفروں میں سے دو رسول اللہﷺکی نسبت تمسخرا کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ روم پر غالب آجائیں گے کتنا بعید خیال ہے اور ایک نفر بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سن کر ہنستا تھا ۔حضورﷺنے ان کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے ۔انہوں نے کہا ہم راستہ کاٹنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دل لگی کی باتیں کررہے تھے،اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان سے وہ عذر وحیلہ قبول نہ کیا گیا۔‘‘

ایک اور ارشاد الٰہی ملاحظہ ہو :

(ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامھم)

’’اور بے شک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر کافر ہوگئے۔‘‘ (کنز الایمان)

اس آیت کریمہ کی شان نزول کے بارے میں صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں:

’’امام بغوی نے کلبی سے نقل کیا کہ یہ آیت جلاس ابن سوید کے حق میں نازل ہوئی ۔واقعہ یہ تھا کہ ایک روز سید عالمﷺ نے تبوک میں خطبہ فرمایا ۔اس میں منافقین کا ذکر کیا اور ان کی بد حالی اور بد مالی کا ذکر فرمایا ۔یہ سن کر جلاس نے کہا کہ اگر محمدﷺسچے ہیں تو ہم لوگ گدھوں سے بد تر جب حضورا مدینہ تشریف لائے تو عامر ابن قیس نے حضور سے جلاس کا مقولہ بیان کیا ۔جلاس نے انکار کیا اور کہا یا رسول اللہ عامر نے مجھ پر جھوٹ بولا ۔حضور نے دونوں کو حکم فرمایا ک ممبر کے پاس قسم کھائیں ۔جلاس نے بعد عصر ممبر کے پاس کھڑے ہوکر اللہ کی قسم کھائی کہ اس نے ایسی بات نہیں کہی اور عامر نے اس پر جھوٹ بولا۔خود عامر نے کھڑے ہوکر قسم کھائی کہ بیشک یہ مقولہ جلاس نے کہا اور میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا پھر عامر نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کی اے رب اپنے نبی پر سچے کی تصدیق نازل فرما ۔ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ہی حضرت جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے آیت میںفان یتوبوابک خیرا لھمسن کر جلاس کھڑے ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ا!سنیئے اللہ نے مجھے توبہ کا موقع دیا ۔عامر بن قیس نے جو کچھ کہا سچ کہا ۔میں نے وہ کلمہ کہا تھا اور میں توبہ واستغفار کرتا ہوں ۔حضور ا نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور وہ توبہ پر ثابت رہے۔‘‘

(تفسیر خزائن العرفان)

مذکورہ قرآنی آیات اور ان کی تفسیروں سے بات واضح ہوگئی کہ ایک آدمی ایمان لانے کہ بعد بھی کسی کلمۂ کفر کے ارتکاب سے کافر ہوجاتاہے ا ورایسی صورت میں بے جا عذر خواہی ،تاویلات کی گرما گرمی کوئی فائدہ نہیں دیتی۔صرف توبہ وتجدید ایمان ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔ بعض منافقین اور حضرت جلاس ابن سوید کا واقعہ ببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے کہ :

دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو

میری سنو جو گوش حقیقت نویش ہے

آج کل بد مذہب و گمراہ فرقوں کا حال یہ ہے کہ اولا تو وہ ان کلمات کفریہ جو ان کے پیشوائوں نے کہے یا لکھے سرے سے قصدا ان کا انکار کردیتے ہیں اور جب کتابیں کھول کر سامنے رکھ دی جاتی ہیںتو بے جا تاویلات کا طریقۂ کار اپنا کر عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی نماز وروزے کی دھونس جما کر انہیں بے وقوف بناتے ہیں۔ نہ جانے کتنے لوگ اس دم فریب میں آچکے اور ابھی تک یہ پھسلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بڑے تعجب کی بات ہے جب حضور اکرم ا کی معیت وصحبت اور آپ کی اقتداء میں پڑھی جانے والی نماز کسی کا کلمۂ کفر سرزد ہونے کے بعد کافر ہونے سے نہ بچا سکی تو آج کلمۂ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو توبہ کے بغیر نماز وروزہ کی بنیاد پر کیسے مسلمان مانا جاسکتا ہے۔

ناطقہ سر بگریباں ہے،اسے کیا کہییٔ

خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے

اس دور میں ایمان کا تحفظ بڑا مشکل مسئلہ بن کر رہ گیا ہے۔ ایک طرف بد مذہب وگمراہ فرقے طرح طرح کی کچھڑی پکا کر دعوت قلب ونظر کے بہانے مسلمانوں کا شکار کررہے ہیںتو دوسری طرف ذرائع لہو ولعب ،دن دہاڑے ایمان پر ہاتھ کی صفائی دکھارہے ہیں مثلا فلمی گیت جو عوام الناس میں بہت مقبول ہیں۔لوگ عام دنوں اور بالخصوص خوشیوں کے موقع پر بڑے ہی شوق سے سنتے سناتے ہیں بلکہ خود بھی چلتے پھرتے گاتے رہتے ہیں۔ان میں بعض گیت کفر پر مشتمل ہوتے ہیں ہمارے بعض جاہل دینی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایسے گیت گانے اور سننے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ۔اگر انہیں عقائد اسلامیہ سے واقفیت ہوتی تو ان کا تصور کرنا بھی گناہ سمجھتے ۔اس سلسلہ میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان کا ایک فتویٰ اکتوبر ۱۹۹۸ء؁کے ماہ نامہ’’اشرفیہ‘‘میں شائع ہوا تھا ،اس کی ضرورت وافادیت کے پیش نظر ہم اسے بعینہ ذیل میں نقل کرتے ہیں:

’’کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کچھ نوجوان مسلم مندرجہ ذیل اشعار بہت شوق سے گاتے ہیں ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ان اشعار کے مفہوم کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں یا یوں ہی صرف زبان پر لاتے ہیں۔بہر صورت شریعت طاہرہ کی روشنی میں ان پر کیا احکام لاگو ہوںگے۔وہ اشعار یہ ہیں:

حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے

خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانیں

خدا بھی جب زمیں پر آسما ں سے دیکھتا ہوگا

میرے محبوب کو کس نے بنایا سوچتا ہوگا

رب نے بھی مجھ پر ستم کیا کیا ہے

سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے

پھولوں سا چہرا تیرا ،کلیوں سی مسکان ہے

رنگ تیرا دیکھ کر ،روپ تیرا دیکھ کر قدرت بھی حیراں ہے

کتنا حسین چہرہ کتنی پاری آنکھیں

کتنی پیاری آنکھیں ہیں ،آنکھوں سے چھلکتاپیار

قدرت نے بنایا ہوگا ،فرصت سے تجھے میرے یار

او میرے ربّا ربّا رے ربّا یہ کیا غضب کیا

جس کو بنانا تھا لڑکی ،اس کو لڑکا بنادیا

اب آگے جو بھی ہو انجام دیکھا جائے گا

خدا تراش لیا اور بندگی کرلی

نیز کیا ان گانوں کو کیسٹوں کے ذریعہ سننا بھی گناہ ہے ؟

الجواب

جتنے اشعار سوال میں درج کئے گئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے ۔جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں ،وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہوکر کافر ومرتد ہوگئے۔ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہوگئے ۔ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں۔ان سب پر فرض ہے کہ فورا بلا تاخیر اشعار میں جو کفریات ہیں ،ان سے توبہ کرلیں۔کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہو ں۔اپنی بیویوں کو رکھنا منظور ہوتو ان سے دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کریں ۔ایسی کسیٹس جن میں ایسے کفریہ اشعار ہوں ،ان کو بجانا حرام سخت حرام منجرالی الکفر ہے اور ان کیسٹوں کو سننا بھی حرام بلکہ ایسی کیسٹوں کو ضائع کردینا فرض،اگر معاذ اللہ ایسے کفری اشعار کی کیسٹوں کو پسندیدہ اور اچھی سمجھ کر لگایا یا کسی نے ان اشعار کو سن کر پسند کرلیا تو وہ بھی کافر ہوجائے گا ۔رضا بالکفر کفر ہے۔ارشاد ہے ’’انکم اذًا مثلھم‘‘اب اشعار مذکورہ بالا کے کفریات شمار کریں ۔یہ کہنا کہ ’’خدا بھی نہ جانے‘‘کفر ہے ۔یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ سوچتا ہوگا کہ میرے محبوب کو کس نے بنایا ،اس میں تین کفر ہیں ۔اول یہ کہ اس جاہل کے محبوب کو اللہ نے نہیں بنایا ۔دوسرے کس نے بنایا معلوم نہیں۔تیسرے یہ کہ سوچتاہوگا نیز پہلے مصرع میں بھی کفر ہے کہ جب دیکھتا ہوگا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زمین ہمیشہ اس کی قوت بصر کے احاطے میں نہیں بلکہ جب زمین پر دیکھے تو زمین کے احوال اسے معلوم ہوجائیں،اس میں ایک کفر تو یہ ہے کہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کا بصیر ہونا اس کی صفت قدیم نہیں حادث ہے ۔دوسرے یہ کہ زمین کی اشیاء اور ان کے احوال کا ہمیشہ علم نہیں رکھتا ہے۔۔۔۔یہ کہنا کہ رب نے مجھے پرستم کیا۔اللہ عزوجل کوظالم بنانا ہے جو صریح کفر ہے۔یہ کہنا کہ قدرت بھی حیران ہے ،کفر ہے ،یہ کہنا کہ قدرت نے تجھے فرصت سے بنایا ہوگا کفر ہے۔یہ کہنا کہ جس کو لڑکی بنانا تھا لڑکا بنادیا ۔یہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہونے کی وجہ سے کفر ہے ۔پھر اس کو غضب کہنا ۔دوسرا کفر ’’خدا تراش لیا اور بندگی کرلی‘‘ میں دو کفر ہیں ،مخلوق کو خدا کہنا پھر اس کی بندگی کرنا ، اس قسم کے کفریہ اور بے ہودہ اشعار اگر کوئی گائے پڑھے تو وہ بہر حال کافر اگر چہ وہ کہے کہ یہ میرا اعتقاد نہیں کفر بکنے کے بعد یہ بہانہ کام نہیں دے گا۔اسی لئے ہر مرد وعورت پر فرض ہے کہ وہ علم دین حاصل کرے،کفر اور اسلام کو پہچانے ،ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت سے واقفیت رکھے تا کہ ایسی غلطی نہ ہونے پائے کہ آدمی کاایمان ہی جاتا رہے اور اشعار کے سلسلے میں بہت احتیاط کرنی چاہییٔ ۔اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:’’والشعراء یتبعھم الغاؤن الم ترانھم فی کل وادیھیمون وانھم یقولون مالا یفعلون‘‘اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتی ہے کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے۔

(سورہ شعراء ،آیت ۲۲۶)(ماہنامہ اشرفیہ اکتوبر ۱۹۹۸ء؁)

یہ چند مثالیں ہیں نہ جانے ایسے کتنے گانے ہوںگے نہ جانے کتنے لوگ انہیں گاکر یا رضاورغبت کے ساتھ سن کر ایمان کی دولت گنوا بیٹھے ہوںگے ۔ابھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ہر مسلمان پر اپنے ایمان کی حفاظت ہر فرض سے اہم فرض ہے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ عقائد اسلامیہ جانیں پہچانیں اور اپنے ایمان کی شمع کو کفر کے جھونکوں سے بچائیں نیز شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں تا کہ حیات وممات اعلیٰحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس شعر کے مصداق بن سکیں۔ ؎

انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا