*درس 013: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (بَيَانُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالْكَعْبَانِ هُمَا الْعَظْمَانِ النَّاتِئَانِ فِي أَسْفَلِ السَّاقِ بِلَا خِلَافٍ بَيْنَ الْأَصْحَابِ كَذَا ذَكَرَهُ الْقُدُورِيُّ

کعب (یعنی ٹخنے) ان ابھری ہوئی ہڈیوں کو کہتے ہیں جو پنڈلی کے نیچے ہوتی ہے، ہمارے ائمہ کرام میں اس حوالے سے کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے جیسا کہ قدوری میں ذکر کیا گیا ہے۔

لِأَنَّ الْكَعْبَ فِي اللُّغَةِ اسْمٌ لِمَا عَلَا وَارْتَفَعَ، وَمِنْهُ سُمِّيَتْ الْكَعْبَةُ كَعْبَةً

ٹخنوں کو *کعب* اسلئے کہتے ہیں کہ کعب کا لغوی معنی ہے بلندہونا اور اٹھا ہوا ہونا۔۔ اور کعبہ کو کعبہ بھی اسی لئے کہتے ہیں (کیونکہ وہ اپنی عظمت کے سبب بلند ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے ٹخنوں سے متعلق زیادہ بحث نہیں فرمائی، بلکہ فرمایا: وَالْكَلَامُ فِي الْكَعْبَيْنِ عَلَى نَحْوِ الْكَلَامِ فِي الْمِرْفَقَيْنِ جس طرح ہاتھ میں کہنیوں کے مسائل ہیں اسی طرح پیر میں ٹخنوں سے متعلق ہیں۔

لہذا کسی کا پیر ٹخنوں کی جانب سے کٹ گیا تو ٹخنوں کا دھونا فرض ہوگا اسلئے کہ ٹخنے دھونے کے حکم میں داخل ہیں۔

یہاں پر وضو کے چار ارکان (فرائض) سے متعلق بحث ختم ہوئی۔ لہذا دو فصلیں پوری ہوگئی۔

(١) ~وضو کی تشریح~ (٢) ~وضو کے ارکان~ (٣) ارکانِ وضو کی شرائط (٤) وضو کی سنتیں (٥) وضو کے مستحبات (٦) وضو توڑنے والی چیزیں

اسکے بعد علامہ کاسانی نے ایک ضمنی فصل باندھی ہے موزوں پر مسح کے عنوان سے، جس میں مزید پانچ فصلیں ہیں۔ چونکہ موزوں پر مسح ہمارے شہروں میں تقریبا ترک ہوچکا ہے، پھر اس کی شرائط، موزوں کی کیفیت، مدت وغیرہ کے کافی مسائل ہیں لہذا ہم اسے چھوڑ کر آگے کی فصل پر کلام کریں گے۔ جو ارکانِ وضو کی شرائط پر مشتمل ہے، یہ پوری فصل بہت دلچسپ اور انتہائی معلوماتی ہے جس میں پانی اور اس سے متعلق مسائل ذکر ہوں گے۔اور آپ دیکھیں گے کہ ہماری شریعت میں کتنی وسعت ہے کہ بظاہر *پانی* ایک عام شے ہے مگر اس سے متعلق بھی کتنے کثیر مسائل ہیں جنہیں پڑھ کر ذہن کو زبردست وسعت ملتی ہے۔

ہم نے اب تک درج ذیل بحثیں پڑھ لی ہیں اور امید ہےاس میں آپ کو بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہوگا؛

*طہارت کا لغوی و شرعی مفہوم

*طہارت کی اقسام

*طہارتِ حقیقیہ و طہارتِ حکمیہ کی تعریف

*طہارت حکمیہ کی اقسام

*حدث اور خبث میں فرق

*وضو کی تعریف

*غسل اور مسح کی تعریف

*چہرہ، ہاتھ اور سر کی تعریف اور ان کی حدود وغیرہ۔۔۔

*ابو محمد عارفین القادری*