شیخ ابوالحسن خرقانی کی تعلیمات

شیخ ابوالحسن خرقانی کی تعلیمات 

شیخ ابوالحسن خرقا نی کا اصل نام ’’علی بن جعفر‘‘ہے۔وہ اپنے وقت کے بہت بڑے بزرگ،خدارسیدہ اور صوفی تھے ۔ان کی پیدائش شیخ ابویزید علیہ الرحمہ کی وفات کے کافی دنوں بعد ہوئی۔ تصوف میں ان کی نسبت سلطان العارفین ابو یزید بسطامی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ہے جبکہ سلوک میں ان کی روحانی تربیت شیخ ابو یزید علیہ الرحمہ نے کی۔شیخ ابوالحسن منگل کی رات ماہ محرم ۴۲۵ھ میں وفات پائی ۔ ادارہ

شیخ خرقانی رحمۃ اللہ علیہ ایک دن اپنے مریدوں سے کہنے لگے کہ کون سی چیزبہتر ہے؟ 
سب نے کہا کہ اے شیخ! آپ ہی فرمائیں۔
آپ نے فرمایا:وہ دل جس میں صرف اللہ کی یاد ہو۔
پھر لوگوں نے پوچھا کہ صوفی کس کو کہتے ہیں؟
آپ نے فرمایا: صوفی جبہ اور مصلٰے سے نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی رسم و عادت سے۔ صوفی وہ ہے جو خود کچھ نہ ہو۔ مزید فرماتے ہیں کہ صوفی اس دن صوفی ہوتا ہے جس دن اس کو آفتاب کی حاجت نہ ہو اور اس رات ہوتا ہے کہ اس کو چاند، ستارے کی ضرورت نہ ہو اور نیستی (موجود نہ ہونا) یہ ہے کہ ہستی (وجود)کی حاجت نہ ہو۔
شیخ خرقانی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ مرد کو کیونکر معلوم ہو کہ وہ بیدار ہے؟
فرمایا: اس طرح کہ جب خدا کو یاد کرے سر سے پاؤں تک خدا کی یاد سے با خبر ہو۔
پھر پوچھا گیا کہ سچ کیا ہے؟
کہا سچ یہ ہے کہ دل کی بات کہے،یعنی وہ کہے جو اس کے دل میں ہو۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اخلاص کس کو کہتے ہیں؟
فرمایا: جو خدا کے لیے کرے وہ اخلاص ہے اور جو لوگوں کے لیے کرے وہ ریا ہے۔
پھران سے پوچھا گیا کہ فنا و بقا کی بات کرنے کی اجازت کس کو ہے؟
شیخ خرقانی علیہ الرحمہ نے فرمایا:
اس شخص کو کہ اگر اس کو ایک ریشمی تار سے آسمان سے لٹکا دیں اور ایسی ہوا چلے کہ درخت، مکانات اورپہاڑ اکھڑ جائیں لیکن اس کو اپنی جگہ سے ہلا نہ سکے۔
وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ کبھی ایسے شخص کی صحبت نہ رکھو کہ تم تو کہو کہ خدا نے دی ہے ، وہ کہے کسی اور نے۔
شیخ خرقانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ غم طلب کر، یہاں تک کہ تیری آنکھوں سے پانی نکل آئے کیونکہ حق تعالیٰ بندوں کے رونے کو پسند کرتا ہے۔
مزیدیہ نصیحت بھی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی گانا گائے اور اس سے خدا کو چاہے اس سے بہتر ہے کہ قرآن پڑھے اور اس سے خدا کو نہ چاہے۔
انبیاومرسلین علیہم الصلاۃوالسلام کے وارثین کی نشاندہی کرتے ہوئے شیخ خرقانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وارث وہ شخص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل (سنت)کی پیروی کرے، وہ شخص نہیں جو کاغذ کالے کرتا رہے۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آج چالیس سال ہو چکے ہیں کہ ایک ہی وقت میں ہوں اور خدائے تعالیٰ میرے دل کو دیکھتا ہے تو اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتا: 

’’مَا بَقِیَ فِیَّ بِغَیْرِ اللّٰہِ شَئیٌ وَلَا فِیْ صَدْرِیْ بِغَیْرِہ قَرَارٌ۔‘‘
یعنی میرے اندر خدا کے سوا اور کچھ نہیں رہا اوراس کے بغیر مجھے قراربھی نہیں ہے ۔

شیخ خرقانی علیہ الرحمہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چالیس سال ہو چکے ہیں کہ میرا نفس ٹھنڈے پانی کا ایک گھونٹ مانگتا ہے یا کھٹی لسی لیکن ابھی تک میں نے اس کو نہیں دیا۔
وہ یہ بھی فرماتے ہیں علما اور عابد جہان میں بہت ہیں، تجھ کو چاہیے کہ دن کو اس طرح رات کر دے جیسا کہ خدا پسند کرتا ہے اور رات کو اس طرح دن بنا دے جس کو خدا پسند کرے۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دلوں میں سب سے زیادہ روشن وہ دل ہے کہ جس میں مخلوق نہ رہے اور سب سے بہتر کام وہ ہے کہ اس میں مخلوق کا اندیشہ نہ ہو۔
سب نعمتوں سے حلال وہ ہے کہ تیری اپنی کوشش سے ہو اور سب سے بہتر رفیق وہ ہے کہ اس کی زندگانی خدا کے ساتھ ہو۔ (نفحات الانس،ص:۳۲۹)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.