أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ‌ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِىۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِىۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

ترجمہ:

جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو آگ کھاجائے آپ کہیے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول بہت سی واضح نشانیاں لے کر آئے اور تمہاری کہی ہوئی نشانی (بھی) لے کر آئے تھے تو اگر تم سچے ہو تو تم ان کو پھر کیوں قتل کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو آگ کھاجائے۔ (آل عمران : ١٨٣) 

پچھلی امتوں میں قربانی ‘ صدقات اور مال غنیمت کو آسمانی آگ کا کھا جانا : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں یہ یہودیوں کا دوسرا طعن ہے وہ کہتے تھے کہ پہلے نبیوں کی شریعت میں قربانی ‘ صدقات اور مال غنیمت کے مقبول ہونے کہ علامت یہ تھی کہ ان کو ایک آگ آکر کر کھا جاتی تھی اگر آپ سچے نبی ہوتے تو آپ کی قربانی کو بھی آگ کھا جاتی ! 

قربان اس نیکی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جائے ‘ اس کا مصدر قرب ہے ‘ اور قرب سے قربان اسی طرح بنا ہے جس طرح کفران اسی طرح رجحان اور خسران : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

عطا بیان کرتے ہیں کہ بنو اسرائیل اللہ کے لیے جانور ذبح کرتے اور اس میں سے عمدہ گوشت نکال کر گھر کے وسط میں رکھ دیتے ‘ گھر کی چھت کھلی ہوئی ہوتی تھی، پھر ان کے نبی کریم کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کرتے اور بنو اسرائیل گھر کے گرد کھڑے ہوتے تھے ‘ پھر آسمان سے بغیر دھوئیں کے صاف آگ اترتی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی۔ (الوسیط ج ١ ص ٥٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ (پچھلی امتوں میں) ایک شخص صدقہ کرتا تھا اگر وہ صدقہ قبول ہوجاتا تو آسمان سے آگ اتر کر اس کو کھا جاتی تھی (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٣١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ، درالمنثور ج ٢ ص ٤٠٦ مطبوعہ ایران) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن المنذر نے ابن جریرج سے روایت کیا ہے کہ ہم سے پہلی امتوں میں کوئی شخص قربانی سے تقرب حاصل کرتا تو لوگ نکل کر دیکھتے کہ اس کی قربانی قبول ہوئی ہے یا نہیں اگر اس کی قربانی قبول ہوتی تو آسمان سے ایک سفید آگ آکر اس کو کھا لیتی ‘ اگر اس کی قربانی قبول نہ ہوتی تو آگ آکر نہیں کھاتی تھی۔ 

حافظ جلال الدین نے ابن ابی حاتم سے روایت کیا ہے کہ پچھلی امتوں میں رسول دلائل لے کر آتے اور ان کی نبوت کی علامت یہ تھی کہ وہ گائے کے گوشت کو اپنے ہاتھ پر رکھتے پر آسمان سے آگ آکر اس کو کھالیتی (الدرالمنثور ج ٢ ص ٤٠٥‘ مبطوعہ ایران)

پچھلی امتوں پر مال غنیمت کا کھانا بھی حلال نہیں تھا اور آسمانی آگ آکر کر غنیمت کو کھا جاتی تھی البتہ اگر کوئی شخص خیانت کرکے مال غنیمت سے کوئی چیز نکال لیتا تو پھر آسمانی آگ نہیں آتی تھی۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انبیاء سابقین میں سے کسی نبی نے جہاد کیا اور اپنی امت سے فرمایا جس شخص نے نکاح کیا ہو اور وہ اپنی بیوی سے عمل ازواج کرنا چاہتا ہوں ‘ جب کہ ابھی تک اس نے یہ عمل نہ کیا ہو اور جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ ڈالی ہو ‘ اور جس شخص نے بکریاں یا اونٹیناں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچوں کی پیدائش کا انتظار کررہا ہو ‘ یہ سب لوگ ہمارے ساتھ نہ جائیں ‘ اس نبی نے عصر کی نماز یا اس کے قریب وقت تک جہاد کیا ‘ پھر اس نے سورج سے کہا تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں ‘ اے اللہ ! اس کو ہم پر روک دے ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو فتح عطا فرمائی ‘ پھر تمام مال غنیمت جمع کیا گیا ‘ آگ آئی اور اس نے مال کو نہیں کھایا اس نبی نے فرمایا تم میں کوئی خیانت کرنے والا ہے ‘ ہر قبیلہ کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے ‘ ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا ‘ انہوں نے کہا تم میں کوئی شخص خیانت کرنے والا ہے ‘ تمہارے قبیلے کا ہر شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے ‘ پھر اس قبیلہ کے دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا ‘ انہوں نے فرمایا تم میں خیانت ہے ‘ تب وہ سونے کی بنی ہوئی گائے کا سر لائے ‘ انہوں نے مال غنیمت میں سونے کا وہ سر رکھا نے اس کو کھالیا پھر اللہ نے ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا ‘ اللہ نے ہمارے ضعف اور عجز کو دیکھ کر اس کو حلال کیا۔ (صحیح البخاری ج ٣ ص ٣٨٢‘ رقم الحدیث، ٣١٢٤ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ صحیح مسلم ج ٣ ص ١٣٦٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سے پہلے بنو آدم میں سے کسی کے لیے مال غنیمت حلال نہیں ہوا ‘ آسمان سے آیک آگ آکر اس کو کھا لیتی تھی۔ (صحیح البخاری ج ٥ ص ٢٧٢‘ رقم الحدیث، ٣٠٩٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ سنن کبری للنسائی ج ٥ ص ٣٥٢ طبع بیروت) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں یہ دیکھا ہے کہ ایک امت اپنے صدقات کو خود کھائے گی اور ان سے پہلے جب کوئی اپنا صدقہ نکالتا تھا تو اللہ تعالیٰ ایک آگ بھیجتا تھا وہ اس کو کھا لیتی تھی ‘ اگر وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا تھا تو وہ آگ اس کے قریب نہیں جاتی تھی ‘ اے اللہ اس امت کو میری امت بنا دے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ امت احمد ہے۔ (دلائل النبوۃ ج ١ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ مختصر تاریخ دمشق ج ٢ ص ‘ ٤٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٦٢ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت الوفا لابن الجوزی ج ١ ص ٣٩‘ طبع فیصل آباد پاکستان ‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ١ ص ٦٨‘ سبل الھدی والرشاد ج ١٠ ص ٣٦٦) 

تورات میں لکھا ہے : 

اور خداوند کے حضور سے آگ نکلی اور سو ختنی قربانی اور چربی کو مذبح کے اوپر بھسم کردیا۔ (احبار : باب ‘ ٩‘ آیت : ٢٤‘ تورات ص ١٠٢‘ مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور) 

یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب : 

یہود کا یہ کہنا کہ سچے نبی کی صرف یہ علامت ہے کہ اس کی پیش کی ہوئی قربانی کو آسمانی آگ کھاجائے ‘ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نبوت کے ثبوت میں یدبیضا اور اژدھے کا معجزہ پیش کیا تھا ‘ نیز قربانی کو آسمانی آگ کا کھا جانا اس لیے نبوت پر دلیل ہے کہ وہ ایک امر خلاف عادت ہے اور معجزہ ہے سو جو امر خلاف عادت پیش کیے تو ان پر اس کی تصدیق کرنا واجب ہے ‘ نیز اس سے پہلے بہت سے نبیوں نے ان کا مطلوبہ معجزہ بھی پیش کیا تھا اور ان کی قربانی کو آسمانی آگ کھا گئی تھی۔ اس کے باوجود یہود ان پر ایمان نہیں لائے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہود کا رد کرتے ہوئے فرمایا : آپ کہئے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول بہت سی واضح نشانیاں لے کر اور تمہاری کہی ہوئی نشانی (بھی) لے کر آئے اگر تم سچے ہو تو تم ان کو پھر کیوں قتل کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 183