حدیث نمبر :277

روایت ہے حضرت عمرابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں ایسا کوئی نہیں جو وضوکرے تو مبالغہ کرے یا پورا وضو کرے ۱؎ پھر کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودنہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اور محمداس کے بندے اور رسول ہیں ۲؎ مگر اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھولے جائیں گے کہ جس سے چاہے گھسے۳؎ ایسے ہی مسلم نے اپنی صحیح میں اور حمیدی نے افراد مسلم میں روایت کی یوں ہی ابن اثیر نے جامع الاصول اور شیخ محی الدین نووی نے ۴؎ حدیث مسلم کے آخر میں ہماری روایت کے مطابق اور ترمذی نے یہ اور زیادہ فرمایا کہ خدایا مجھ توبہ والوں سے بنا اور مجھے خوب ستھروں سے کر ۵؎ اور جو حدیث محی السنہ نے صحاح میں روایت کی کہ جس نے وضوء کیا تو اچھا کیا الخ اسے ترمذی نے اپنی جامع میں اسی طرح روایت کیا سوا کلمہ اَشْہَد ُکے اَنَّ مُحمدًا سے پہلے۶؎

شرح

۱؎ مبالغہ سے مراد ہے کہ اس کی خوبیوں کو انتہاء پر پہنچادے،پورا کرنے سے مرادہے کہ پورے اعضاء دھوئے،بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے۔مِنْکُمْ فرماکر اشارہ فرمایا کہ سارے نیک اعمال مسلمانوں کو مفید ہیں،گمراہوں،بے دینوں کو نہیں،دوائیں زندہ کو فائدہ پہنچاتی ہیں نہ کہ مُردوں کو۔

۲؎ یعنی ہر وضو کے بعد دوسراکلمہ پڑھ لیا کرے،بعض روایات میں ہے کہ”اِنَّا اَنْزَلْنَا”پڑھے،بعض میں ہے کہ یہ دعا پڑھے”اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ”۔بہتر یہ ہے کہ یہ سب کچھ پڑھ لیا کرے تو ان شاءاﷲ ان کی برکت سے جسمانی طہارت کے ساتھ روحانی صفائی بھی نصیب ہوگی،مرقاۃ نے فرمایا کہ بعد غسل بھی یہ دعائیں اوراستغفار پڑھنا مستحب ہے۔

۳؎ یعنی اس عمل کی برکت سے اﷲ تعالٰی اس کا حشر ابوبکرصدیق کے غلاموں میں فرمائے گا کہ وہ ان سرکار کے ساتھ جنت میں جائے گا اور جیسے انہیں ہر دروازہ سے پکارا جائے گا کہ ادھر سے آؤ ایسے ہی ان کے صدقے میں اسے بھی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آٹھوں دروازے کھلنا حضرت صدیق اکبر کی خصوصیات میں سے ہےجیسا کہ ان کے فضائل میں آئے گاکیونکہ ان کا یہ داخلہ ان کے صدقے سے ہے۔خیال رہے کہ اگرچہ ہرجنتی داخل ایک ہی دروازہ سے ہوگا مگر ہر دروازہ سے پکاراجانا اس کی عزت افزائی کے لئے ہے۔

۴؎ محی الدین محمد ابن زکریا نووی شارح مسلم،نوا دمشق کے پاس ایک گاؤں ہے اس کیطرف آپ منسوب ہیں کیونکہ آپ وہاں کے باشندے ہیں۔

۵؎ خیال رہے کہ توّاب وہ ہے جو ہمیشہ ہر حال میں توبہ کرے،گناہ کرکے بھی اور بغیر گناہ کئے بھی کبھی رب کے دروازے سے نہ ہٹے،نہ مایوس ہو۔تائب وہ جو ایک آدھ بار توبہ کرے۔یونہی مُتَطَھِّرْ وہ جو ہر ظاہری و باطنی گندگی سے اپنے آپ کو پاک کرے۔طاہر وہ جو صرف ظاہری گندگی سے پاک ہو بارگاہ الٰہی میں توّاب اور متطھرکی قدر ہے،رب فرماتا ہے:”اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوّٰبِیۡنَ “اور فرماتا ہے:”وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ”۔

۶؎ یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے کہ اس نے فصل اول میں وہ حدیث بیان کی جو مسلم و بخاری میں نہیں صرف ترمذی میں ہے۔