أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ جَآءُوۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ

ترجمہ:

سو اگر یہ آپ کی تکذیب کریں تو آپ سے پہلے کئی عظیم رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے جو واضح نشانیاں اور آسمانی صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے : سو اگر یہ آپ کی تکذیب کریں تو آپ سے پہلے کئی عظیم رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے جو واضح نشانیاں اور آسمانی صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ (آل عمران : ١٨٤) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کا بیان : 

اس آیت میں آپ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ آپ کے اس قول کی تکذیب کریں کہ پہلے نبیوں نے ان کو مطلوبہ معجزہ پیش کیا تھا اور ان کی قربانی کو آگ کہ نے کہا لیا تھا پھر بھی یہودیوں نے ان کو نہیں مانا ان کی تکذیب کی اور ان کو قتل کردیا ‘ تو آپ غم نہ کریں یا اگر یہ آپ کی نبوت اور رسالت کو نہیں مانتے اور بیشمار معجزات دیکھنے کے باوجود آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ افسوس نہ کریں ہمیشہ سے کفار اور منکرین بڑے بڑے رسلوں کی تکذیب کرتے آئے ہیں۔ 

بینات ‘ زبر اور کتاب منیر کا معنی : 

بینات سے مراد دلائل اور معجزات ہیں ‘ اور زبور سے مراد حکمت والی کتاب ہے ‘ زبر کا معنی زجر و توبیخ بھی ہے زبور کو اس لیے زبور کہتے ہیں کہ اس میں خلاف حق ‘ باطل امور اور برائیوں پر زجر وتوبیخ کی گئی ہے اور نصیحتوں کا بیان کیا گیا ہے اور کتاب منیر سے مراد روشن کتاب ہے جس میں واضح احکام بیان کئے گئے ہیں ‘ بینات سے مراد معجزات ہیں اور ان پر کتاب منیر کا عطف کیا گیا ہے اور عطف تغایر کا مقتضی ہے اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی کتابیں اور صحیفے معجزہ نہیں تھے ‘ یہ صرف قرآن مجید کی خصوصیت ہے کہ وہ معجز ہے ‘ آج تک کوئی اس کی نظیر لاسکا نہ اس میں کمی یا زیادتی ثابت کرسکا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 184