جگمگاتا خیمہ

حکایت نمبر130: جگمگاتا خیمہ

حضرت سیدنا مسمع بن عاصم علیہ رحمۃ اللہ المُنعم سے مروی ہے کہ حضرت سیدتنا رابعہ عدویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا بہت زیادہ عبادت کیا کرتیں۔ ساری ساری رات قیام فرماتیں، دن کو رو زہ رکھتیں اور تلاوت قرآن پاک کیا کرتیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کا ہرہر لمحہ یادِ الٰہی عزوجل میں گزرتا ۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں بہت زیادہ بیمار ہوگئی جس کی وجہ سے میں تہجد کی دولت سے محروم رہی اور دن کو بھی اپنے پاک پروردگار عزوجل کی عبادت نہ کر سکی،بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ کمزوری آگئی،اسی طرح کئی دن گزرگئے مجھے اپنی عبادت چھوٹ جانے کا بہت افسوس ہو ا لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!بیماری کی حالت میں بھی جتنا مجھ سے ہوسکتا میں عبادت کی کوشش کرتی ، کبھی دن میں نوافل کی کثرت کرتی ،کبھی رات کونوافل پڑھتی۔اسی طرح کئی دن گزر گئے ۔

پھر اللہ عزوجل نے کرم فرمایا او رمجھے صحت عطا فرمائی میں نے دو بارہ نئے جذبے کے ساتھ عبادت شروع کردی۔ سارا سارا دن عبادت الٰہی عزوجل میں گزر جاتا اور اسی طر ح رات کو بھی عبادت کرتی ۔

ایک رات مجھے نیند نے آلیا اور میں غافل ہو کر سوگئی۔ میں نے خواب دیکھاکہ میں فضاؤں میں اُڑ رہی ہوں ،پھر میں ایک سر سبز و شاداب با غ میں پہنچ گئی ۔ وہ باغ اتنا حسین تھا کہ میں نے کبھی ایسا با غ نہ دیکھا۔ اس باغ میں بہت خوبصورت محل تھے، ہر طر ف بلند و بالا،سر سبز درخت تھے، جگہ جگہ پھولوں کی کیا ریاں تھیں ، درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے ، میں اس باغ کے حسن وجمال کے نظارو ں میں گم تھی کہ یکایک مجھے ایک سبز پر ندہ نظرآیا، وہ پرند ہ اتنا خوبصورت تھا کہ اس سے پہلے میں نے کبھی ایسا پرندہ نہ دیکھا تھا، ایک لڑکی اسے پکڑنے کے لئے بھا گ ر ہی تھی، میں اس خوبصورت لڑکی اور خوبصورت پرندے کو بغور دیکھنے لگی اتنی دیر میں وہ حسین وجمیل لڑکی میری طرف متوجہ ہوئی۔ میں نے اس سے کہا: ”یہ پرندہ بہت خوبصورت ہے ،تم اسے آزادی کے ساتھ گھومنے دو اور اسے مت پکڑو۔” میری بات سن کر اس لڑکی نے کہا:” کیا تمہیں اس سے بھی زیادہ خوبصورت چیز نہ دکھاؤں؟ ”میں نے کہا: ”ضرور دکھاؤ۔” یہ سن کر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر مختلف با غات سے ہوتی ہوئی ایک عظیم الشان محل کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔ دروازہ فوراََ کھول دیا گیا،اند ر کا منظر بہت سہانا تھا ، دروازہ کھلتے ہی ایک خوبصورت باغ نظر آیا، وہ لڑکی مجھے لے کر باغ میں آئی اور پھر ایک خیمے کی جانب چل دی۔ میں بھی ساتھ ساتھ تھی ۔ اس نے حکم دیا کہ خیمے کے پر دے ہٹا دیئے جائیں ۔ جیسے ہی خادموں نے پردے ہٹائے تو اندر ایسی نورانی کرنیں تھیں جنہوں نے آس پاس کی تمام چیزوں کو منور کررکھا تھا۔ پورا خیمہ نور سے جگمگا رہا تھا۔ وہ لڑکی اس خیمے میں داخل ہوئی اور پھر مجھے بھی اندر بلالیاوہاں بہت ساری نوجوان کنیزیں موجود تھیں جن کے ہاتھوں میں عود (یعنی خوشبو) سے بھرے ہوئے برتن تھے اور وہ کنیز یں عود کی دھونی دے رہی تھیں۔”یہ دیکھ کر اس لڑکی نے کہا : ”تم سب یہاں کیوں جمع ہو؟ یہ اتنا اِہتمام کیوں کیا جارہاہے؟ اورتم کس لئے خوشبو کی دھونی دے رہی ہو؟” تو ان کنیزوں نے جواب دیا:” آج ایک مجاہد راہِ خدا عزوجل میں شہید ہوگیاہے ، ہم اس کے اِستقبال کے لئے یہاں جمع ہیں او ریہ سارا اِہتمام اسی مرد مجاہد کی خاطر کیا جا رہا ہے ۔”اس لڑکی نے میری جانب اشارہ کیا اور پوچھا:” کیا ان کے لئے بھی کوئی اہتمام کیا گیاہے؟”تو ان کنیز وں نے کہا : ہاں، اس کے لئے بھی اس طر ح کی نعمتوں میں حصہ ہے ۔”پھر اس لڑکی نے اپنا ہاتھ میری طر ف بڑھایا اور کہا:”اے رابعہ عدویہ!جب لوگ نیند کے مزے لے رہے ہوں اس وقت تیرا نماز کے لئے کھڑا ہونا تیرے لئے نور ہے اور نماز سے غافل کردینے والی نیند سر اسر غفلت اور نقصان کا باعث ہے ، تیری زندگی کے لمحات تیرے لئے سواری کی مانند ہیں اور جو شخص دنیاوی زندگی میں مگن رہے اور اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو فضول کاموں میں گزار دے تو وہ بہت بڑے خسارے میں ہے ۔”یہ نصیحت آموز کلمات کہنے کے بعد وہ لڑکی میری آنکھوں سے اوجھل ہوگئی اور میری آنکھ کُھل گئی ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا فرماتی ہیں: ”جب بھی مجھے یہ خواب یاد آتا ہے تومیں بہت زیادہ حیران ہوتی ہوں۔ ”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم) 

جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی پاکی

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :282

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی پاکی ۱؎(احمد)

شرح

۱؎ یعنی جنت کے درجات کی چابی نماز ہے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ جنت کی چابی کلمۂ طیبہ ہے کہ وہاں نفس جنت کی چابی مراد ہے،اگرچہ نماز کی شرائط بہت ہیں وقت،قبلہ کو منہ ہونا وغیرہ،لیکن طہارت بہت اہم ہے اسی لئے اسے نماز کی چابی فرمایا گیا۔

جو پاکی پر وضو کرے

حدیث نمبر :281

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو پاکی پر وضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۱؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی جس کا پچھلی نماز کا وضو ہو اور پھر اگلی نماز کے لئے وضو کرے تو یہ وضو بیکاروعبث نہیں ہے،بلکہ اس پر بہت ثواب ہے۔خیال رہے کہ وضو پر وضومستحب ہے جب کہ پہلے وضو کے بعد نماز یا ایسی عبادت کرلی گئی ہو جو وضوء پرموقوف ہو،ورنہ باربار وضوء کیے جانا مکروہ اور پانی کا اسراف ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اورنہ فقہ کا مسئلہ اس حدیث کے خلاف ہے۔

بہترین عمل نماز ہے

الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :280

روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سیدھے رہو مگر تم یہ کر نہ سکو گے۲؎ اور جان رکھو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے۳؎ اور وضوءکی حفاظت مؤمن ہی کرتا ہے ۴؎ اسے مالک،احمد،ابن ماجہ،اور دارمی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ آپ کا نام ثوبان ابن بُجْدَدْ،کنیت ابو عبداﷲ ہے،حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،ہمیشہ سفر و حضر میں حضور کے ساتھ رہے،حضور کے بعد اولًا شام میں، پھر حمص میں قیام فرمایا،۵۴ ھ ؁میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی عقائد،عبادات اور معاملات میں ٹھیک رہو ادھر ادھر نہ بہکو،لیکن پوری درستی طاقت انسانی سے باہر ہے۔لہذا بقدر طاقت درست رہو اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے رہو،یا یہ مطلب ہے کہ استقامت کا ثواب تم شمار نہ کرسکو گے۔اِحْصَاء بمعنے کنکریوں پر گننا،تھوڑی چیز پوروں پر اور زیادہ چیز کنکروں پر گنی جاتی ہے،جو کنکر پر بھی نہ گنی جائے وہ شمار سے باہر ہوتی ہے۔

۳؎ کیونکہ اسلام میں سب سے پہلے نماز ہی فرض ہوئی،سارے اعمال فرش پر آئے مگر نماز عرش پر بلا کردی گئی،جس نے نماز درست کرلی ان شاءاﷲ اس کے سارے اعمال درست ہوجائیں گے،نیز نماز بہت سی عبادات کا مجموعہ اور سارے گناہوں سے بچانے والی ہے کہ بحالت نمازجھوٹ،غیبت وغیرہ کچھ نہیں ہوسکتی۔

۴؎ یعنی ہمیشہ باوضو رہنایاہمیشہ صحیح وضو کرنا کامل مؤمن کی پہچان ہے۔

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

مولانا غلام مصطفی قادری باسنوی

محبوبۂ محبوب رب العلمین ام السادات ام المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و کمالات سے قرآنی آیات اور احادیث نبوی علیٰ صاحبھا الصلوۃ والسلام بھری ہوئی ہیںان کی عظمت و کرامت کے کس کس پہلو پر خامہ فرسائی کی جائے ؎

کرشمہ دامن دل می کشدکہ جا اینجا است

جو خاتون ہی نہیں خواتین کی ماں ہیں ،عظمت و بلندی کی جس چوٹی پر آپ فائز ہیں دنیا میں کسی عورت کو وہ مقام نہیں مل سکاجو ایک طرف اما م الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہیں تو دوسری جانب افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاڈلی شہزادی ہیں جن کی عصمت اور پاک دامنی کے بارے میں خالق کائنات جل وعلا نے پوری سورئہ نور ناز ل فرمائی اور بہتان باندھنے والوں کا حال بھی بیان کردیا گیا اور یہ عظیم اصول بھی بیان فرمادیا

’’الخبیثت للخبیثین والخبیثون للخبیثت‘‘۔

جس کے بارے میں اگر یہ کہاجائے کہ وہ ملکۂ سلطنت عفت وعصمت ہے تو بے جا نہ ہوگا اس مختصر سے مقالے میں ان کی کن کن خوبیوں کو بیان کیاجائے، زبان اور قلم جواب دے سکتے ہیں مگر اس محترم ہستی کے حالات وکرامات کا بیان کما حقہ نہیں ہو سکتا ۔ سنئے سفیر عشق مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام امام احمد رضاخاں قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ والہانہ عقیدت کے ساتھ یوں نغمہ سرا ہیں ؎

بنت صدیق آرام جان نبی

اس حریم برأت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورئہ نور جس کی گواہ

ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

جن میں روح القدس بے اجاز ت نہ جائیں

اس سرادق کی عصمت پہ لاکھوں سلام

شمع تابان کاشانۂ اجتہاد

مفتیٔ چہار ملت پہ لاکھوں سلام

سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بعد تاجدار دوعالمﷺ نے اس عظیم المرتبت خاتون سے نکاح فرماکر اسے زوجیت کاشرف بخشا یہ بھی آپ کی خصوصیات میں سے ہے کہ رسول گرامی وقارﷺ نے جن گیارہ خواتین سے نکاح فرمایا ان میں آپ ہی کنوارتھیں بقیہ تمام بیویاں بوقت نکاح یا تو مطلقہ تھیں یا پھر بیوہ تھیں ۔ دوسری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی وہ خوش بخت خاتون ہیں جن کا حضور سے نکا ح خود رب العزت نے منتخب فرمایا جب کہ دوسری عورتوں کارشتہ اور نکاح دنیوی اعتبار سے ان کے والدین یا رشتہ دار کرتے ہیںاور رحمت عالمﷺ کے ان سے نکاح کرنے کے دو بڑے سبب تھے ایک تو آپ کی ذہا نت و فطانت اور پاکبازی اور دوسرا آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایثار ،یعنی اپنا گھر بار اور جان و دل سب نچھاور کرنا ۔ نیز رحمت عالم انے جن مقاصد حسنہ کے پیش نظر متعدد خواتین کو شرفِ زوجیت عطا فرمایا، بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ساتھ نکا ح سے وہ مقاصد حاصل ہوگئے ……اس طرح تاجدار کائنات ا نے اپنے مخلص ترین صحابی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی جانثاری کاسب سے بڑا صلہ جو اس دنیا میں ممکن تھا عطا فرمایا ۔( ضیاء النبی)

آپ پیکر شرم و حیا بھی تھیں اورمجسمۂ عفت و عصمت بھی ، مزاج میں نفاست ،طبیعت میں لطافت ،سیرت و خصلت اور ذہانت و فطانت نیز علم و ہنر میں وہ کمال تھا کہ اس وقت سے لے کرتا ایں دم عورتوں میں کوئی آپ کی مثال نہ پیش کرسکا ۔ علم و فضل میں آپ کا مقام نہ صرف دوسری عورتوں میں بلکہ تمام ازواج مطہرات اور اکثر صحابۂ کرام میں بہت اونچا تھا، کئی حضرات صحابہ وہ ہیں جنہوں نے آپ کے بحر علم سے خوب خوب استفادہ کیا ۔

یہ دیکھو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خود بہت بڑے عالم و فاضل اور جلیل القدر صحابی ہونے کا شرف رکھتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی حدیث پاک کو سمجھنے میں میں مشکل پیش آئی اور ہم نے اس کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو ان کے پاس اس حدیث کے متعلق علم پایا ۔

اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں ۔

’’میں نے کسی عورت کو طب ،فقہ اور شعرکے علوم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے بڑھ کرنہیں پایا ‘‘۔ (ضیاء النبی)

حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ بھی آ پ کے علم وہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔فرماتے ہیں :

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے علم کے مقابلے میںتمام امھات المومنین ،بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرت صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا ۔ (فضائل اہلبیت ص؍۲۲۲)

حضرت امام قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کے بعد مدینہ منورہ کے سات مشہور اہل علم تابعین میں سے ہیں،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت ہی میں مستقل طور پر افتاء کا منصب حاصل کرچکی تھیں حضرت عمر ،حضرت عثمان اور ان کے بعد آخر زندگی تک وہ برابر فتویٰ دیتی رہیں‘‘۔ (ابن سعد ۲؍۳۷۵بحوالہ فضائل اہلبیت)

حضرت عطاء بن ابورباح تابعی جن کومتعدد صحابہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہے ،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سب سے زیادہ سمجھنے والی سب سے زیادہ علم والی اور لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی رائے والی تھیں‘‘۔

بلا شبہ علم وفضل ،فہم وفراست میں آپ کے پا یہ کوکوئی خاتون نہیں پہنچ سکی ،کتاب اللہ اور سنت رسول اکے صحیح سمجھنے اور سمجھانے میں آپ کا جو ممتاز مقام تھاوہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور کیوں نہ ہو جس کے شوہر باوقار معلم کائنات اور عالم ماکان ومایکون ہو ں ان کے کاشانۂ اقدس میں رہنے والی خوش قسمت بیوی اور خاتون اسلام کا پھر کیا پوچھنا ۔خود آقائے کائنات ا ارشاد فرماتے ہیں:’’خذوانصف دینکم عن ھذہ الحمیراء‘‘اپنے دین کانصف علم اس حمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے سیکھو‘‘۔

اس مقدس خاتون اسلام کے امت مصطفوی پر بھی کئی احسانات ہیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے توسط سے امت پر کئی رحیمانہ احکام وضوابط کا نزول ہوا ۔کیا یہ معلوم نہیں ہے ہمیں کہ کوئی مرد وعورت وضو اور غسل کے لئے پانی پر قدرت نہ رکھے تو شریعت اسلامی کی طرف سے اسے تیمم کرکے پاکی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ تیمم کی اجازت اسی پاکیزہ بی بی کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ۔

(ضیاء النبی)

اب آیئے آپ کی ان خصوصیات کا بھی تذکرہ ملاحظہ کریں جو دیگر ازواج مطہرات میں سے صرف آپ کو عطا ہوئی ہیں ۔ سیدہ صدیقہ خود فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دس ایسی خوبیوں سے مالامال فرمایا ہے جو صرف میرے حصے میں آئیں ۔

(۱) حضورﷺ نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی

(۲) میرے سوا ازواج مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں ۔

(۳) اللہ تعالیٰ نے میری پاک دامنی کابیان آسمان سے قرآن میں اتارا

(۴) نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لاکر حضور اقدس ﷺ کو دکھلادی تھی اور آپ تین رات مجھے خواب میں دیکھتے رہے ۔

(۵) میں اور حضورﷺ ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیاکرتے تھے یہ شرف میرے سواازواج مطہرات میں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوا۔

( ۶) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نمازپڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المومنین میں سے کوئی بھی حضور اکرم اکی اس کریمانہ محبت سے سرفرازنہیں ہوئی ۔

(۷) میں حضور اقدسﷺکے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خداکی وحی نازل ہواکرتی تھی یہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجۂ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا۔

(۸) وفات اقدس کے وقت میں حضورﷺ کو اپنی گود میں لئے ہوئی تھی اور آپ کاسر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ ا کا وصا ل ہوا۔

(۹) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا

(۱۰) آقائے کا ئنات علیہ التحیۃوالثناء کی قبر انور خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ ) میں بنی ۔ (سیرۃالمصطفیٰ ا)

عبادت و ریاضت :

کاشانۂ نبوت میں اپنی زندگی کے ایام گزارنے والی خاتون کی عبادت کے انداز بھی نرالے ہی ہوں گے اور جو پیغمبر اسلامﷺ کی زوجۂ محترمہ ہو پھر جس کے توسط سے کچھ شرعی احکام کی امت کواجازت ملی ہوخوداس کی عبادت وریاضت کاکیا پوچھنا ، آپ بکثرت فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں ، ہر سال حج کرتیں ،بہت زیادہ سخی اور فیاض تھیں ۔ آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا روزانہ بلاناغہ تہجدکی نمازپڑھنے کی پابندتھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہاکرتیں ۔

خوف خداوندی اور خشیت ربانی کایہ عالم کہ ایک بار دوزخ یادآگئی تورونا شروع کردیا ۔سرکار مدینہﷺنے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیاکہ مجھے دوزخ کاخیال آگیا اس لئے رورہی ہوں ۔

اور سخاوت و فیاضی کایہ حال تھا کہ حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’ لقد رأیت عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقسم سبعین الفا و انھا لترقع جیب درعھا ‘‘

بے شک میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ستر ہزار کی رقم راہ خدائے پاک میں تقسیم کردی حالانکہ وہ خود اپنی قمیص کی جیب میں پیوند لگاتی تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء)

رسول کونینﷺ کی نگاہ میں بھی آپ کا مقام و رتبہ بڑا تھا اور تاجدا کونینﷺ انہیں بہت زیادہ چاہتے تھے آپ کا لقب ہی محبوبۂ محبوب رب العالمین ہے ۔تاجدار کونینﷺکو جو آپ سے محبت تھی وہ ناقابل بیان ہے۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب غزوۂ سلاسل سے واپس آئے تو انہوں نے حضور اقدسﷺ سے پوچھا ،یارسول اللہ ا ! ’’ای الناس احب الیک قال عائشۃ فقلت من الرجال قال ابوھا ‘‘آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ فرمایا عائشہ، انہوں نے عرض کی مردوں میں ؟ فرمایا ان کے والد(سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ )۔ ( بخاری شریف ج۱؍ ۵۱۷)

ّّ اللہ کامحبوب بنے جوتمہیں چاہے

اس کا تو بیان ہی نہیں جس کو تم چاہو

رسول کونینﷺ نے جو بھی تعلیمات امت کو عطا فرمائیں پہلے خود ان پر عمل کیا۔ آپ یقینا بے مثال شوہر تھے حقوق زوجیت کی جو آپ نے مثال پیش فرمائی وہ آج بھی سب کو متاثر کرتی ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک فارسی حضورﷺ کا پڑوسی تھا اس نے آپﷺ کی دعوت کی، فقال ھذہ لعائشۃ تو آپنے فرمایا ساتھ عائشہ کی بھی ؟فقال لا ۔فقال رسول اللہ الا؟اس نے کہا نہیں تو حضور انے فرمایا :پھر میں بھی قبول نہیں کرتا ۔وہ چلا گیا پھر دوبارہ آیا تو یہی سوال وجواب ہوا ۔تیسری مرتبہ پھر آیا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ساتھ عائشہ بھی ہوگی؟اس نے کہا ،جی ہاں ، پھر آپ اور سیدہ عائشہ اس کے گھر گئے ۔ (مسلم شریف جلد اول )

شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ آپ کے تنہا دعوت نہ قبول کرنے کی وجہ یہ تھی کی اس روز گھر میں فاقہ تھا ،آپ کے انس ومحبت اور لطف وکرم سے بعید تھا کہ گھر میں بیوی کو بھوکا چھوڑ کر اکیلے کھانا کھالیں۔ (فضائل اہل بیت ص؍۲۱۲)

جس جگہ سے حضرت عائشہ گوشت کھاتیں اسی جگہ سے سرکار بھی گوشت تناول فرماتے ،جس برتن سے حضرت عائشہ پانی پیتیں اسی برتن سے ان کے منھ لگنے کی جگہ سے آپ بھی پانی نوش فرماتے، حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم نور مجسم انے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عائشہ! جبرئیل تجھے سلام کہتا ہے میں نے کہا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ،

اور فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور اقدسﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب کبھی تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو میں جان لیتا ہوں اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو بھی جان لیتا ہوں ،حضرت عائشہ نے عرض کیا، وہ کس طرح ؟فرمایا :تم جب راضی اور خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے وقت یوں کہتی ہو’’ لاورب محمد‘‘مجھے محمد کے رب کی قسم !اور جب کبھی ناراض ہوتی ہو تو یوں قسم کھاتی ہو ۔لاورب ابراھیم مجھے ابراھیم کے رب کی قسم ،حضرت عائشہ نے عرض کیا بے شک یا رسول اللہ ا !بات ایسے ہی ہے لیکن میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں،آپ کی محبت تو میرے دل میں بدستور رہتی ہے ۔ ؎

اللہ اللہ عائشہ کا اتنا اونچا ہے مقام

حشر تک انہی کے گھر ہے محمد کاقیام

حضرت اُم المومنین کے یہ چند فضائل و کمالات پڑھکر ہماری ماں بہنوں کو ان کی سیرت و کردار کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنانا چاہیئے ورنہ ہمارا دعوئے محبت بیکار اور جھوٹا ہوگا۔کیا محبوب سے محبت کرنے والے محبوب کی سنتوں اور طریقوں سے منھ موڑ تے ہیں ۔ نہیں ہر گز نہیں، بلکہ وہ تو اپنے محبوب کی ایک ایک ادا پر جاں فدا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

آپ کی حیات مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ہماری ماں بہنیں اگر آپ کی سیرت کو اپنی زندگی میں بھی اپنائیں تو یقینا کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومے گی ۔مذکورہ بالا واقعات اورحالات سے ہمیں یہ درس ملتاہے۔

(۱) پہلی چیزجوہمیں سیدہ صدیقہ کی زندگی میں ملتی ہے وہ ہے خدا کا خوف و خشیت اور محبت خدا وعشق والفت مصطفوی ا میں شیفتگی ،کہ وہ ہر کام خدا ورسول جل وعلا اکی رضا و خوشنودی ہی کے لئے کرتی تھیں۔

(۲) حقوق شوہر کی ادائیگی جس اچھوتے انداز میں فرمائی وہ ہماری ماں بہنوں کے لئے مکمل نمونہ ہے اگر موجودہ دور میں زندگی بسر کرنے والی عورتیں اسے مشعل راہ بنالیں تو ضرور معاشر ہ میں نکھار پیدا ہوجائے ۔ کیا قسم کھانے والاواقعہ میں اس دور کی خواتین کے لئے درس نہیں ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کبھی نااتفاقی ہوجائے تو اسے نرمی سے حل کریں اور پیار ومحبت کے جملوں سے ایک دوسرے کادل خوش کردیں۔کیا ایک برتن سے پانی پینا ہماری ماں بہنوں کے لئے شوہر کو راضی کرنے کا ذریعہ نہیں ہے؟

(۳) کیا بی بی عائشہ کے علم وفضل میں کمال اور صحابۂ کرام علیھم الرضوان کا دینی مسائل میں آپ سے رجوع کرنا ہماری ماں بہنوں کے لئے درس نہیں ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی دینی تعلیم حاصل کرکے زندگی کو عمدہ بنانی چاہیئے تاکہ وہ خود نیک اور صالح کردار اپنا کر اپنی نسل کوبھی صحیح راستے پر چلائیں ۔

(۴) کیا آپ کاباریک دو پٹے کو پھاڑ دینا خواتین اسلام کو پردے اور عصمت وعفت کا خاص خیال رکھنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے ۔آپ کی زندگی کا ہر پہلو اسلام کی شہزادیوں کے لئے مکمل نمونۂ عمل اور مشعل راہ ہے ۔

سوشل میڈیا پر اسلامی تہذیب وثقافت کی بقا اور فروغ

سوشل میڈیا پر اسلامی تہذیب وثقافت کی بقا اور فروغ:

عام مشاہدہ ہے کہ کسی پسند آنے والی چیز، تحریر یا تصویر کے پش نظر انگوٹھے یا دل والی یا کوئی اور آرٹ اور ڈرائنگ کی تصویر چسپاں کر کے لوگ اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ اسلامی تہذیب نہیں۔ شاید اس کا بہت ہی معمولی اور وقتی فائدہ ہو۔

اس کی بجائے مسلمانوں کو بالعموم اور اسلامیات کے اساتذہ اور طلبہ ؍ طالبات کو بالخصوص اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار ما شاء اللہ، سبحان اللہ، إن شاء الله العزيز، الحمد للہ، بارک اللہ فیکم، جزاکم اللہ خیرا، وغیرہ سے موقع کی مناسبت سے کرنا چاہیئے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا فائدہ وقتی اور معمولی نہیں ہے۔ یہ زندگی میں، مرنے کے بعد قبر میں اور قیامت کے دن بھی حاصل ہو گا۔

یہ دعائیں ہیں جو کہ ایک طرف ہمیں ہمارے اللہ پاک سے اور دوسری طرف اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم سے مسلسل جوڑے رکھتی ہیں۔

یہ اسلامی تعلیمات ہیں جن سے ہم مسلمانوں کی شناخت بحیثت مسلمان برقرار رہتی ہے۔

کیا میں اپنے فیس بکی احباب سے سوشل میڈیا پر اسلامی تہذیب و ثقافت کی بقا اور فروغ کے لیے اسلامی قدروں کے لحاظ کی امید کر سکتا ہے؟

جزاکم اللہ خیرا

از پروفیسر خورشید احمد سعیدی

درس 015: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 015: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَمِنْهَا) : أَنْ يَكُونَ بِالْمَاءِ الْمُطْلَقِ؛ لِأَنَّ مُطْلَقَ اسْمِ الْمَاءِ يَنْصَرِفُ إلَى الْمَاءِ الْمُطْلَقِ، فَلَا يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِالْمَاءِ الْمُقَيَّدِ

دوسری شرط یہ ہے کہ وضو ماء مطلق سے کیا جائے، اسلئے کہ جب مطلق پانی کی بات ہوتی ہے تو اس سے ماء مطلق مراد ہوتا ہے۔ لہذا ماء مقید سے وضو کرنا جائز نہیں ہے۔

وَالْمَاءُ الْمُطْلَقُ هُوَ الَّذِي تَتَسَارَعُ أَفْهَامُ النَّاسِ إلَيْهِ عِنْدَ إطْلَاقِ اسْمِ الْمَاءِ، كَمَاءِ الْأَنْهَارِ، وَالْعُيُونِ، وَالْآبَارِ، وَمَاءِ السَّمَاءِ، وَمَاءِ الْغُدْرَانِ، وَالْحِيَاضِ، وَالْبِحَارِ

ماء مطلق اس پانی کو کہتے کہ جب لفظ *پانی* کہا جائے تو لوگوں کا ذہن فورا اس طرف منتقل ہوجاتا ہے، جیسے نہروں کا پانی، چشموں کا پانی، کنووں، بارش، تالاب، حوض اور سمندر کا پانی۔

فَيَجُوزُ الْوُضُوءُ بِذَلِكَ كُلِّهِ سَوَاءٌ كَانَ فِي مَعْدِنِهِ، أَوْ فِي الْأَوَانِي؛ لِأَنَّ نَقْلَهُ مِنْ مَكَان إلَى مَكَان لَا يَسْلُبُ إطْلَاقَ اسْمِ الْمَاءِ عَنْهُ، وَسَوَاءٌ كَانَ عَذْبًا أَوْ مِلْحًا؛ لِأَنَّ الْمَاءَ الْمِلْحَ يُسَمَّى مَاءً عَلَى الْإِطْلَاقِ

تو اس طرح کے تمام پانیوں سے وضو جائز ہے چاہے وہ اپنی جگہوں پر ہوں یا برتنوں میں ہوں، اسلئے کہ پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے سبب پانی ہی رہتا ہے۔ نیز پانی چاہے میٹھا ہو یا کھارا اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ کھارے پانی پر بھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

لیجئے اب بحث یہاں آ کھڑی ہوئی ہے کہ *پانی* کیسا ہونا چاہئیے۔ یعنی کس پانی سے وضو و غسل جائز ہے اور کس سے نہیں۔

تو یاد رکھئے، بنیادی طور پر پانی کی دو قسمیں ہیں:

*ماء مطلق:* یعنی مطلق پانی

*ماء مقید:* یعنی مقید پانی

ماء مطلق و مقید کی تعریف میں فقہاء کرام کے 12 اقوال ہیں۔

امام کاسانی کے مطابق،

انسان کا ذہن لفظ *پانی* سن کر جس طرف منتقل ہو اسے *ماء مطلق* کہتے ہیں۔

یہ تعریف بھی بہت خوب ہے مگر امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ماء مطلق کی جو تعریف بیان کی ہے وہ بہت شاندار یے اور جامع و مانع ہے، آپ کی ماء مطلق اور ماء مقید کی تعریف اور اسکے مسائل سے متعلق ایک مفصل کتاب یے جس کا نام *النور والنورق لاسفار الماء المطلق* یے۔ (اسکرین شاٹ منسلک ہے)

اعلی حضرت کی تعریف آسان الفاظ میں یوں ہے:

وہ پانی جو اپنی اصلی حالت کے مطابق رقیق یعنی پتلا ہو، اور اس میں کوئی ایسی چیز نہ ملی ہو جو مقدار میں اس سے زیادہ یا برابر ہو اور نہ ہی ملنے والی چیز کی وجہ سے اس کا نام اور کام تبدیل ہوجائے۔

اس تعریف کو تعریف رضوی کہتے ہیں۔

مثال کے طور پر: سمندر کا پانی ماء مطلق یے، رقیق یعنی پتلا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ملی ہوتی ہے جو سمندر کےپانی پر غالب یا برابر آجائے اور نہ ہی اس کا نام اور کام تبدیل ہوتا ہے کہ اسے شوربہ، شربت یا جوس کہا جاتا ہو۔

اگلی پوسٹ میں ماء مطلق کی دلچسپ مثالیں اور وضاحت آئیگی جس سے کونسیپٹ مزید کلئیر ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*