*درس 015: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَمِنْهَا) : أَنْ يَكُونَ بِالْمَاءِ الْمُطْلَقِ؛ لِأَنَّ مُطْلَقَ اسْمِ الْمَاءِ يَنْصَرِفُ إلَى الْمَاءِ الْمُطْلَقِ، فَلَا يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِالْمَاءِ الْمُقَيَّدِ

دوسری شرط یہ ہے کہ وضو ماء مطلق سے کیا جائے، اسلئے کہ جب مطلق پانی کی بات ہوتی ہے تو اس سے ماء مطلق مراد ہوتا ہے۔ لہذا ماء مقید سے وضو کرنا جائز نہیں ہے۔

وَالْمَاءُ الْمُطْلَقُ هُوَ الَّذِي تَتَسَارَعُ أَفْهَامُ النَّاسِ إلَيْهِ عِنْدَ إطْلَاقِ اسْمِ الْمَاءِ، كَمَاءِ الْأَنْهَارِ، وَالْعُيُونِ، وَالْآبَارِ، وَمَاءِ السَّمَاءِ، وَمَاءِ الْغُدْرَانِ، وَالْحِيَاضِ، وَالْبِحَارِ

ماء مطلق اس پانی کو کہتے کہ جب لفظ *پانی* کہا جائے تو لوگوں کا ذہن فورا اس طرف منتقل ہوجاتا ہے، جیسے نہروں کا پانی، چشموں کا پانی، کنووں، بارش، تالاب، حوض اور سمندر کا پانی۔

فَيَجُوزُ الْوُضُوءُ بِذَلِكَ كُلِّهِ سَوَاءٌ كَانَ فِي مَعْدِنِهِ، أَوْ فِي الْأَوَانِي؛ لِأَنَّ نَقْلَهُ مِنْ مَكَان إلَى مَكَان لَا يَسْلُبُ إطْلَاقَ اسْمِ الْمَاءِ عَنْهُ، وَسَوَاءٌ كَانَ عَذْبًا أَوْ مِلْحًا؛ لِأَنَّ الْمَاءَ الْمِلْحَ يُسَمَّى مَاءً عَلَى الْإِطْلَاقِ

تو اس طرح کے تمام پانیوں سے وضو جائز ہے چاہے وہ اپنی جگہوں پر ہوں یا برتنوں میں ہوں، اسلئے کہ پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے سبب پانی ہی رہتا ہے۔ نیز پانی چاہے میٹھا ہو یا کھارا اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ کھارے پانی پر بھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

لیجئے اب بحث یہاں آ کھڑی ہوئی ہے کہ *پانی* کیسا ہونا چاہئیے۔ یعنی کس پانی سے وضو و غسل جائز ہے اور کس سے نہیں۔

تو یاد رکھئے، بنیادی طور پر پانی کی دو قسمیں ہیں:

*ماء مطلق:* یعنی مطلق پانی

*ماء مقید:* یعنی مقید پانی

ماء مطلق و مقید کی تعریف میں فقہاء کرام کے 12 اقوال ہیں۔

امام کاسانی کے مطابق،

انسان کا ذہن لفظ *پانی* سن کر جس طرف منتقل ہو اسے *ماء مطلق* کہتے ہیں۔

یہ تعریف بھی بہت خوب ہے مگر امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ماء مطلق کی جو تعریف بیان کی ہے وہ بہت شاندار یے اور جامع و مانع ہے، آپ کی ماء مطلق اور ماء مقید کی تعریف اور اسکے مسائل سے متعلق ایک مفصل کتاب یے جس کا نام *النور والنورق لاسفار الماء المطلق* یے۔ (اسکرین شاٹ منسلک ہے)

اعلی حضرت کی تعریف آسان الفاظ میں یوں ہے:

وہ پانی جو اپنی اصلی حالت کے مطابق رقیق یعنی پتلا ہو، اور اس میں کوئی ایسی چیز نہ ملی ہو جو مقدار میں اس سے زیادہ یا برابر ہو اور نہ ہی ملنے والی چیز کی وجہ سے اس کا نام اور کام تبدیل ہوجائے۔

اس تعریف کو تعریف رضوی کہتے ہیں۔

مثال کے طور پر: سمندر کا پانی ماء مطلق یے، رقیق یعنی پتلا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ملی ہوتی ہے جو سمندر کےپانی پر غالب یا برابر آجائے اور نہ ہی اس کا نام اور کام تبدیل ہوتا ہے کہ اسے شوربہ، شربت یا جوس کہا جاتا ہو۔

اگلی پوسٹ میں ماء مطلق کی دلچسپ مثالیں اور وضاحت آئیگی جس سے کونسیپٹ مزید کلئیر ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*