سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

مولانا غلام مصطفی قادری باسنوی

محبوبۂ محبوب رب العلمین ام السادات ام المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و کمالات سے قرآنی آیات اور احادیث نبوی علیٰ صاحبھا الصلوۃ والسلام بھری ہوئی ہیںان کی عظمت و کرامت کے کس کس پہلو پر خامہ فرسائی کی جائے ؎

کرشمہ دامن دل می کشدکہ جا اینجا است

جو خاتون ہی نہیں خواتین کی ماں ہیں ،عظمت و بلندی کی جس چوٹی پر آپ فائز ہیں دنیا میں کسی عورت کو وہ مقام نہیں مل سکاجو ایک طرف اما م الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہیں تو دوسری جانب افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاڈلی شہزادی ہیں جن کی عصمت اور پاک دامنی کے بارے میں خالق کائنات جل وعلا نے پوری سورئہ نور ناز ل فرمائی اور بہتان باندھنے والوں کا حال بھی بیان کردیا گیا اور یہ عظیم اصول بھی بیان فرمادیا

’’الخبیثت للخبیثین والخبیثون للخبیثت‘‘۔

جس کے بارے میں اگر یہ کہاجائے کہ وہ ملکۂ سلطنت عفت وعصمت ہے تو بے جا نہ ہوگا اس مختصر سے مقالے میں ان کی کن کن خوبیوں کو بیان کیاجائے، زبان اور قلم جواب دے سکتے ہیں مگر اس محترم ہستی کے حالات وکرامات کا بیان کما حقہ نہیں ہو سکتا ۔ سنئے سفیر عشق مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام امام احمد رضاخاں قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ والہانہ عقیدت کے ساتھ یوں نغمہ سرا ہیں ؎

بنت صدیق آرام جان نبی

اس حریم برأت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورئہ نور جس کی گواہ

ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

جن میں روح القدس بے اجاز ت نہ جائیں

اس سرادق کی عصمت پہ لاکھوں سلام

شمع تابان کاشانۂ اجتہاد

مفتیٔ چہار ملت پہ لاکھوں سلام

سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بعد تاجدار دوعالمﷺ نے اس عظیم المرتبت خاتون سے نکاح فرماکر اسے زوجیت کاشرف بخشا یہ بھی آپ کی خصوصیات میں سے ہے کہ رسول گرامی وقارﷺ نے جن گیارہ خواتین سے نکاح فرمایا ان میں آپ ہی کنوارتھیں بقیہ تمام بیویاں بوقت نکاح یا تو مطلقہ تھیں یا پھر بیوہ تھیں ۔ دوسری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی وہ خوش بخت خاتون ہیں جن کا حضور سے نکا ح خود رب العزت نے منتخب فرمایا جب کہ دوسری عورتوں کارشتہ اور نکاح دنیوی اعتبار سے ان کے والدین یا رشتہ دار کرتے ہیںاور رحمت عالمﷺ کے ان سے نکاح کرنے کے دو بڑے سبب تھے ایک تو آپ کی ذہا نت و فطانت اور پاکبازی اور دوسرا آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایثار ،یعنی اپنا گھر بار اور جان و دل سب نچھاور کرنا ۔ نیز رحمت عالم انے جن مقاصد حسنہ کے پیش نظر متعدد خواتین کو شرفِ زوجیت عطا فرمایا، بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ساتھ نکا ح سے وہ مقاصد حاصل ہوگئے ……اس طرح تاجدار کائنات ا نے اپنے مخلص ترین صحابی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی جانثاری کاسب سے بڑا صلہ جو اس دنیا میں ممکن تھا عطا فرمایا ۔( ضیاء النبی)

آپ پیکر شرم و حیا بھی تھیں اورمجسمۂ عفت و عصمت بھی ، مزاج میں نفاست ،طبیعت میں لطافت ،سیرت و خصلت اور ذہانت و فطانت نیز علم و ہنر میں وہ کمال تھا کہ اس وقت سے لے کرتا ایں دم عورتوں میں کوئی آپ کی مثال نہ پیش کرسکا ۔ علم و فضل میں آپ کا مقام نہ صرف دوسری عورتوں میں بلکہ تمام ازواج مطہرات اور اکثر صحابۂ کرام میں بہت اونچا تھا، کئی حضرات صحابہ وہ ہیں جنہوں نے آپ کے بحر علم سے خوب خوب استفادہ کیا ۔

یہ دیکھو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خود بہت بڑے عالم و فاضل اور جلیل القدر صحابی ہونے کا شرف رکھتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی حدیث پاک کو سمجھنے میں میں مشکل پیش آئی اور ہم نے اس کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو ان کے پاس اس حدیث کے متعلق علم پایا ۔

اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں ۔

’’میں نے کسی عورت کو طب ،فقہ اور شعرکے علوم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے بڑھ کرنہیں پایا ‘‘۔ (ضیاء النبی)

حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ بھی آ پ کے علم وہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔فرماتے ہیں :

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے علم کے مقابلے میںتمام امھات المومنین ،بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرت صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا ۔ (فضائل اہلبیت ص؍۲۲۲)

حضرت امام قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کے بعد مدینہ منورہ کے سات مشہور اہل علم تابعین میں سے ہیں،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت ہی میں مستقل طور پر افتاء کا منصب حاصل کرچکی تھیں حضرت عمر ،حضرت عثمان اور ان کے بعد آخر زندگی تک وہ برابر فتویٰ دیتی رہیں‘‘۔ (ابن سعد ۲؍۳۷۵بحوالہ فضائل اہلبیت)

حضرت عطاء بن ابورباح تابعی جن کومتعدد صحابہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہے ،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سب سے زیادہ سمجھنے والی سب سے زیادہ علم والی اور لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی رائے والی تھیں‘‘۔

بلا شبہ علم وفضل ،فہم وفراست میں آپ کے پا یہ کوکوئی خاتون نہیں پہنچ سکی ،کتاب اللہ اور سنت رسول اکے صحیح سمجھنے اور سمجھانے میں آپ کا جو ممتاز مقام تھاوہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور کیوں نہ ہو جس کے شوہر باوقار معلم کائنات اور عالم ماکان ومایکون ہو ں ان کے کاشانۂ اقدس میں رہنے والی خوش قسمت بیوی اور خاتون اسلام کا پھر کیا پوچھنا ۔خود آقائے کائنات ا ارشاد فرماتے ہیں:’’خذوانصف دینکم عن ھذہ الحمیراء‘‘اپنے دین کانصف علم اس حمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے سیکھو‘‘۔

اس مقدس خاتون اسلام کے امت مصطفوی پر بھی کئی احسانات ہیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے توسط سے امت پر کئی رحیمانہ احکام وضوابط کا نزول ہوا ۔کیا یہ معلوم نہیں ہے ہمیں کہ کوئی مرد وعورت وضو اور غسل کے لئے پانی پر قدرت نہ رکھے تو شریعت اسلامی کی طرف سے اسے تیمم کرکے پاکی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ تیمم کی اجازت اسی پاکیزہ بی بی کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ۔

(ضیاء النبی)

اب آیئے آپ کی ان خصوصیات کا بھی تذکرہ ملاحظہ کریں جو دیگر ازواج مطہرات میں سے صرف آپ کو عطا ہوئی ہیں ۔ سیدہ صدیقہ خود فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دس ایسی خوبیوں سے مالامال فرمایا ہے جو صرف میرے حصے میں آئیں ۔

(۱) حضورﷺ نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی

(۲) میرے سوا ازواج مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں ۔

(۳) اللہ تعالیٰ نے میری پاک دامنی کابیان آسمان سے قرآن میں اتارا

(۴) نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لاکر حضور اقدس ﷺ کو دکھلادی تھی اور آپ تین رات مجھے خواب میں دیکھتے رہے ۔

(۵) میں اور حضورﷺ ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیاکرتے تھے یہ شرف میرے سواازواج مطہرات میں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوا۔

( ۶) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نمازپڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المومنین میں سے کوئی بھی حضور اکرم اکی اس کریمانہ محبت سے سرفرازنہیں ہوئی ۔

(۷) میں حضور اقدسﷺکے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خداکی وحی نازل ہواکرتی تھی یہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجۂ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا۔

(۸) وفات اقدس کے وقت میں حضورﷺ کو اپنی گود میں لئے ہوئی تھی اور آپ کاسر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ ا کا وصا ل ہوا۔

(۹) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا

(۱۰) آقائے کا ئنات علیہ التحیۃوالثناء کی قبر انور خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ ) میں بنی ۔ (سیرۃالمصطفیٰ ا)

عبادت و ریاضت :

کاشانۂ نبوت میں اپنی زندگی کے ایام گزارنے والی خاتون کی عبادت کے انداز بھی نرالے ہی ہوں گے اور جو پیغمبر اسلامﷺ کی زوجۂ محترمہ ہو پھر جس کے توسط سے کچھ شرعی احکام کی امت کواجازت ملی ہوخوداس کی عبادت وریاضت کاکیا پوچھنا ، آپ بکثرت فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں ، ہر سال حج کرتیں ،بہت زیادہ سخی اور فیاض تھیں ۔ آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا روزانہ بلاناغہ تہجدکی نمازپڑھنے کی پابندتھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہاکرتیں ۔

خوف خداوندی اور خشیت ربانی کایہ عالم کہ ایک بار دوزخ یادآگئی تورونا شروع کردیا ۔سرکار مدینہﷺنے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیاکہ مجھے دوزخ کاخیال آگیا اس لئے رورہی ہوں ۔

اور سخاوت و فیاضی کایہ حال تھا کہ حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’ لقد رأیت عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقسم سبعین الفا و انھا لترقع جیب درعھا ‘‘

بے شک میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ستر ہزار کی رقم راہ خدائے پاک میں تقسیم کردی حالانکہ وہ خود اپنی قمیص کی جیب میں پیوند لگاتی تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء)

رسول کونینﷺ کی نگاہ میں بھی آپ کا مقام و رتبہ بڑا تھا اور تاجدا کونینﷺ انہیں بہت زیادہ چاہتے تھے آپ کا لقب ہی محبوبۂ محبوب رب العالمین ہے ۔تاجدار کونینﷺکو جو آپ سے محبت تھی وہ ناقابل بیان ہے۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب غزوۂ سلاسل سے واپس آئے تو انہوں نے حضور اقدسﷺ سے پوچھا ،یارسول اللہ ا ! ’’ای الناس احب الیک قال عائشۃ فقلت من الرجال قال ابوھا ‘‘آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ فرمایا عائشہ، انہوں نے عرض کی مردوں میں ؟ فرمایا ان کے والد(سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ )۔ ( بخاری شریف ج۱؍ ۵۱۷)

ّّ اللہ کامحبوب بنے جوتمہیں چاہے

اس کا تو بیان ہی نہیں جس کو تم چاہو

رسول کونینﷺ نے جو بھی تعلیمات امت کو عطا فرمائیں پہلے خود ان پر عمل کیا۔ آپ یقینا بے مثال شوہر تھے حقوق زوجیت کی جو آپ نے مثال پیش فرمائی وہ آج بھی سب کو متاثر کرتی ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک فارسی حضورﷺ کا پڑوسی تھا اس نے آپﷺ کی دعوت کی، فقال ھذہ لعائشۃ تو آپنے فرمایا ساتھ عائشہ کی بھی ؟فقال لا ۔فقال رسول اللہ الا؟اس نے کہا نہیں تو حضور انے فرمایا :پھر میں بھی قبول نہیں کرتا ۔وہ چلا گیا پھر دوبارہ آیا تو یہی سوال وجواب ہوا ۔تیسری مرتبہ پھر آیا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ساتھ عائشہ بھی ہوگی؟اس نے کہا ،جی ہاں ، پھر آپ اور سیدہ عائشہ اس کے گھر گئے ۔ (مسلم شریف جلد اول )

شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ آپ کے تنہا دعوت نہ قبول کرنے کی وجہ یہ تھی کی اس روز گھر میں فاقہ تھا ،آپ کے انس ومحبت اور لطف وکرم سے بعید تھا کہ گھر میں بیوی کو بھوکا چھوڑ کر اکیلے کھانا کھالیں۔ (فضائل اہل بیت ص؍۲۱۲)

جس جگہ سے حضرت عائشہ گوشت کھاتیں اسی جگہ سے سرکار بھی گوشت تناول فرماتے ،جس برتن سے حضرت عائشہ پانی پیتیں اسی برتن سے ان کے منھ لگنے کی جگہ سے آپ بھی پانی نوش فرماتے، حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم نور مجسم انے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عائشہ! جبرئیل تجھے سلام کہتا ہے میں نے کہا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ،

اور فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور اقدسﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب کبھی تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو میں جان لیتا ہوں اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو بھی جان لیتا ہوں ،حضرت عائشہ نے عرض کیا، وہ کس طرح ؟فرمایا :تم جب راضی اور خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے وقت یوں کہتی ہو’’ لاورب محمد‘‘مجھے محمد کے رب کی قسم !اور جب کبھی ناراض ہوتی ہو تو یوں قسم کھاتی ہو ۔لاورب ابراھیم مجھے ابراھیم کے رب کی قسم ،حضرت عائشہ نے عرض کیا بے شک یا رسول اللہ ا !بات ایسے ہی ہے لیکن میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں،آپ کی محبت تو میرے دل میں بدستور رہتی ہے ۔ ؎

اللہ اللہ عائشہ کا اتنا اونچا ہے مقام

حشر تک انہی کے گھر ہے محمد کاقیام

حضرت اُم المومنین کے یہ چند فضائل و کمالات پڑھکر ہماری ماں بہنوں کو ان کی سیرت و کردار کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنانا چاہیئے ورنہ ہمارا دعوئے محبت بیکار اور جھوٹا ہوگا۔کیا محبوب سے محبت کرنے والے محبوب کی سنتوں اور طریقوں سے منھ موڑ تے ہیں ۔ نہیں ہر گز نہیں، بلکہ وہ تو اپنے محبوب کی ایک ایک ادا پر جاں فدا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

آپ کی حیات مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ہماری ماں بہنیں اگر آپ کی سیرت کو اپنی زندگی میں بھی اپنائیں تو یقینا کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومے گی ۔مذکورہ بالا واقعات اورحالات سے ہمیں یہ درس ملتاہے۔

(۱) پہلی چیزجوہمیں سیدہ صدیقہ کی زندگی میں ملتی ہے وہ ہے خدا کا خوف و خشیت اور محبت خدا وعشق والفت مصطفوی ا میں شیفتگی ،کہ وہ ہر کام خدا ورسول جل وعلا اکی رضا و خوشنودی ہی کے لئے کرتی تھیں۔

(۲) حقوق شوہر کی ادائیگی جس اچھوتے انداز میں فرمائی وہ ہماری ماں بہنوں کے لئے مکمل نمونہ ہے اگر موجودہ دور میں زندگی بسر کرنے والی عورتیں اسے مشعل راہ بنالیں تو ضرور معاشر ہ میں نکھار پیدا ہوجائے ۔ کیا قسم کھانے والاواقعہ میں اس دور کی خواتین کے لئے درس نہیں ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کبھی نااتفاقی ہوجائے تو اسے نرمی سے حل کریں اور پیار ومحبت کے جملوں سے ایک دوسرے کادل خوش کردیں۔کیا ایک برتن سے پانی پینا ہماری ماں بہنوں کے لئے شوہر کو راضی کرنے کا ذریعہ نہیں ہے؟

(۳) کیا بی بی عائشہ کے علم وفضل میں کمال اور صحابۂ کرام علیھم الرضوان کا دینی مسائل میں آپ سے رجوع کرنا ہماری ماں بہنوں کے لئے درس نہیں ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی دینی تعلیم حاصل کرکے زندگی کو عمدہ بنانی چاہیئے تاکہ وہ خود نیک اور صالح کردار اپنا کر اپنی نسل کوبھی صحیح راستے پر چلائیں ۔

(۴) کیا آپ کاباریک دو پٹے کو پھاڑ دینا خواتین اسلام کو پردے اور عصمت وعفت کا خاص خیال رکھنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے ۔آپ کی زندگی کا ہر پہلو اسلام کی شہزادیوں کے لئے مکمل نمونۂ عمل اور مشعل راہ ہے ۔