أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـتُبۡلَوُنَّ فِىۡۤ اَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ وَلَـتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا اَذًى كَثِيۡـرًا‌ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ

ترجمہ:

بیشک تم اپنی جانوں اور مالوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے تم ان سے اور مشرکوں سے ضرور بہت سی دل آزار باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرتے رہے اور اللہ سے ڈرتے رہے تو یہ ضرور بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک تم اپنی جانوں اور مالوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے تم ان سے اور مشرکوں سے ضرور دل آزار باتیں سنو گے ‘ اور اگر تم صبر کرتے رہے اور اللہ سے ڈرتے رہے تو یہ ضرور بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ (آل عمران : ١٨٦) 

کافروں اور بےدینوں کی زیادیتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرنا : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماکر تسلی دی تھی کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے یہ آیت بھی تسلی کے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ‘ اور یہ بیان فرمایا کہ جس طرح کفار اور مشرکین نے جنگ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو ایذاء پہنچائی تھی ‘ اسی طرح مستقبل میں بھی یہ لوگ ہر ممکن طریقہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانون کو جانی اور مالی نقصان پہنچا کر ‘ ان کے خلاف سازشیں کر کے اور دل آزار باتیں کرکے انہیں ایذاء پہنچائیں گے ‘ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ان مصائب کے لیے تیار رکھیں اور تکلیفیں برداشت کرنے اور مشقتیں جھیلنے کا خود کو عادی بنائیں ‘ اور جب انسان کو پہلے سے یہ پتہ چل جائے کہ اس پر مصیبت آنے والی ہے تو اس کے لیے وہ مصیبت آسان ہوجاتی ہے ‘ سو اللہ تعالیٰ کا ان کو پہلے سے آنے والی مصیبتوں پر خبردار کرنا بھی ان پر اللہ کا بڑا کرم ہے۔ 

ان آنے والے مصائب کے متعلق بعض مفسرین نے کہا اس سے مراد مال کی کمی اور جہاد میں قتل ہونا اور زخمی ہونا ہے ‘ اور اس سے کافروں اور مشرکوں کی دل آزار باتیں بھی مراد ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس جانی اور مالی نقصان اور کفار کے طعن وتشنیع پر صبر کریں اور ان کی یذاء کا جواب ایذارسانی سے نہ دیں کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر بہت سے کافر مسلمان ہوجائیں گے ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل “۔ (الاحقاف : ٣٥) 

ترجمہ : آپ صبر کیجئے جس طرح ہمت والے رسولوں نے صبر کیا ہے، 

(آیت) ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ ادفع بالتیھی احسن فاذا بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم (حم السجدۃ : ٣٤) 

ترجمہ : نیکی اور بدی برابر نہیں ہے آپ بدی کو بہترین طریقہ سے دفع کیجئے ‘ تو آپ کے اور جس شخص کے درمیان عداوت ہے تو وہ گویا آپ کو خیرخواہ اور دوست ہوجائے گا۔ 

(آیت) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “۔ (الشوری : ٤٠) 

ترجمہ : سو جس نے معاف کردیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔ 

(آیت) ” ولمن صبر وغفر ان ذالک لمن عزم الامور “۔ (الشوری : 43) 

ترجمہ : اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو بیشک یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو الحارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی عیادت کے لیے ایک دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اس سواری پر فدک کی بنی ہوئی ایک موٹی چادر تھی اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ بیٹھے ہوئے تھے ‘ یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ‘ آپ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بیٹھا ہوا تھا ‘ اور مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ بھی تھے ‘ جب اس مجلس پر اس سواری کا غبار پڑا تو عبداللہ بن رواحہ بھی تھے “ جب اس مجلس پر اس سواری کا غبار پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر کپڑا رکھ لیا اور پھر کہا ہم پر غبار نہ اڑاؤ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سلام کیا (رض) پھر آپ ٹھہر گئے اور سواری سے اترے اور ان کو اللہ کی طرف دعوت دی ‘ اور ان پر قرآن مجید کی تلاوت کی ‘ عبداللہ بن ابی سلول نے کہا جو آپ کہتے ہیں اس سے اچھی کوئی چیز نہیں ہے اگر یہ حق بھی ہے تو آپ ہمیں ہماری مجلس میں ایذاء نہ پہنچائیں ‘ اپنی سواری کی طرف جائیں اور جو شخص آپ کے پاس آئے اس کے سامنے بیان کریں ‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کہا کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلس میں ٹھیریں ‘ ہم اس کو پسند کرتے ہیں ہیں ‘ پھر مسلمان اور مشرکین اور یہود ایک دوسرے کو برا کہنے لگے ‘ حتی کہ قریب تھا کہ وہ جوش میں آجاتے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو مسلسل ٹھنڈا کرتے رہے ‘ حتی کہ ان کا جوش ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر سوار ہو کر روانہ ہوگئے ‘ اور حضرت سعد بن عبادہ کے پاس گئے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اے سعد ! کیا تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب (عبداللہ بن ابی کی کنیت ہے) نے کیا کہا ہے ‘ اس نے اس اس طرح کہا ہے ‘ حضرت سعد بن عبادہ نے کہا یا رسول اللہ ! اس کو معاف کر دیجئے اور اس سے درگذر کیجئے ‘ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اور آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ اس خطہ زمین کے لوگوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ وہ اس کے سر پر تاج پہنائیں گے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین حق دے کر اس کا انکار کردیا تو یہ غضب ناک ہوگیا اور اس نے وہ کچھ کیا جو آپ نے دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو معاف کردیا ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب ‘ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مشرکین اور اہل کتاب کو معاف کردیتے تھے ‘ اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتے تھے۔ (صحیح بخاری ج ٥ ص ٢٠٨‘ رقم الحدیث ٤٥٦٦‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٢ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 186