درس 016: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 016: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالْمَاءُ الْمُطْلَقُ هُوَ الَّذِي تَتَسَارَعُ أَفْهَامُ النَّاسِ إلَيْهِ عِنْدَ إطْلَاقِ اسْمِ الْمَاءِ، كَمَاءِ الْأَنْهَارِ، وَالْعُيُونِ، وَالْآبَارِ، وَمَاءِ السَّمَاءِ، وَمَاءِ الْغُدْرَانِ، وَالْحِيَاضِ، وَالْبِحَارِ

ماء مطلق اس پانی کو کہتے کہ جب لفظ *پانی* کہا جائے تو لوگوں کا ذہن فورا اس طرف منتقل ہوجاتا ہے، جیسے نہروں کا پانی، چشموں کا پانی، کنووں، بارش، تالاب، حوض اور سمندر کا پانی۔

فَيَجُوزُ الْوُضُوءُ بِذَلِكَ كُلِّهِ سَوَاءٌ كَانَ فِي مَعْدِنِهِ، أَوْ فِي الْأَوَانِي؛ لِأَنَّ نَقْلَهُ مِنْ مَكَان إلَى مَكَان لَا يَسْلُبُ إطْلَاقَ اسْمِ الْمَاءِ عَنْهُ، وَسَوَاءٌ كَانَ عَذْبًا أَوْ مِلْحًا؛ لِأَنَّ الْمَاءَ الْمِلْحَ يُسَمَّى مَاءً عَلَى الْإِطْلَاقِ

تو اس طرح کے تمام پانیوں سے وضو جائز ہے چاہے وہ اپنی جگہوں پر ہوں یا برتنوں میں ہوں، اسلئے کہ پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے سبب پانی ہی رہتا ہے۔ نیز پانی چاہے میٹھا ہو یا کھارا اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ کھارے پانی پر بھی پانی کا اطلاق ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے ماء مطلق کی جو تعریف بیان کی ہے اعلی حضرت قدس سرہ نے اسے فرمایا: "یہی اصح و احسن تعریفات ہے۔۔مگر محتاجِ توضیح و تنقیح ہے۔” پھر مزید وضاحت کے ساتھ ماء مطلق کی تعریف بیان کی۔

ہمارے احباب یاد رکھیں کہ ہم *ماء مطلق* اور *ماء مقید* پر گفتگو اسلئے کررہے ہیں کہ وضو اور غسل دونوں کے درست ہونے کی بنیاد اسی پر ہے کہ کس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے اور کس سے نہیں۔

اس بات پرفقہاء احناف کا اجماع (اتفاق) ہے کہ،

(1) جس مائع (Liquid) سے وضو اور غسل کیا جائے وہ *پانی* ہو، کسی اور Liquid سے وضو و غسل نہیں ہوسکتا۔

(2) جس پانی سے وضو اور غسل کیا جائے گا وہ *ماء مطلق* ہونا چاہئے۔

(فتاوی رضویہ، جــ2)

اب *ماء مطلق* سے متعلق اہم نکات ملاحظہ کریں۔

*تعریف:*

وہ پانی جو اپنی اصلی حالت کے مطابق رقیق یعنی پتلا ہو، اور اس میں کوئی ایسی چیز نہ ملی ہو جو مقدار میں اس سے زیادہ یا برابر ہو اور نہ ہی ملنے والی چیز کی وجہ سے اس کا نام اور کام تبدیل ہوجائے۔

*(1) پانی اپنی اصل حالت کے مطابق رقیق یعنی پتلا ہونا چاہئے:*

لہذا جب تک پانی کی رقت باقی ہے اس سے وضو اور غسل جائز ہے، مثلا

*پانی میں دال، چنے یا کوئی پھل بھگو کر رکھ دیئے، اگرچہ پانی میں میلا پن آجائے اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں ہوگا۔

*پانی میں سرف ڈال دیا، جب تک پانی میں رقت باقی ہے وضو اور غسل جائز ہے اور رقت ختم ہوئی گاڑھا پن ظاہر ہوا تو وضو اور غسل ناجائز ہے۔

*(2) اس میں کوئی ایسی چیز نہ ملی ہو جو مقدار میں اس سے زیادہ یا برابر ہو:*

مراد یہ ہے کہ پانی کے اوصاف تبدیل نہ ہوں، پانی کے اوصاف تین ہیں۔ رنگ ، بو اور مزہ۔۔، لہذا اگر اتنی مقدار میں شے ملی کہ پانی پر غالب نہ ہوئی تو اس سے وضو جائز ہےاور غالب ہوگئی تو وضو ناجائز ہے، آسان الفاظ میں یوں سمجھیں جب تک یہ کہا جائے کہ یہ پانی ہے جس میں فلاں چیز مل گئی ہے تو اس سے وضو جائز ہے اور یہ کہا جائے کہ فلاں چیز ہے جس میں کچھ پانی موجود ہے تو وضو ناجائز ہے۔ مثلا

پانی میں تھوڑا سا دودھ ، یا زعفران گرجائے اور رنگت میں تھوڑا سا فرق آجائے لیکن یہی کہا جائے کہ پانی ہے جس میں کچھ دودھ یا زعفران مل گیا ہے تو وضو جائز ہے اور اگر دودھ اتنا غالب آگیا کہ لسی بن گئی، یا زعفران اتنا غالب آگیا کہ کپڑا رنگنے کے کام آجائے تو چونکہ اب انہیں پانی نہیں کہا جاسکتا اسلئے اس سے وضو و غسل ناجائز ہے۔ لیکن صفائی ستھرائی حاصل کرنے والی اشیاء مل جائے تو وہ مستثنی ہے ۔ (تفصیل آگے آتی ہے)

نوٹ: ملنے والی چیز پاک ہو ورنہ ناپاک چیز کا ایک قطرہ بھی پورے پانی کو ناپاک کردے گا۔

*(3) اور نہ ہی ملنے والی چیز کی وجہ سے اس کا نام اور کام تبدیل ہوجائے:*

لہذا نام اور کام تبدیل ہوگیا ہوگیا تو وضو اور غسل جائز نہیں ہے، مثلا

پانی میں اتنی پتی ڈالی اور پکائی کہ قہوہ بن گیا، تو اگرچہ اس کا پتلا پن باقی ہے مگر نام اور کام (مقصود) تبدیل ہونے سے وضو اور غسل جائز نہیں ہوگا۔

ہماری یہاں تک کی گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ وضو اور غسل کے لئے *پانی* اور اس پانی کے لئے مطلق پانی یعنی *ماء مطلق* ہونا شرط ہے۔ آپ مذکورہ صورتوں میں غور کیجئے ۔۔۔ ایک واضح اصول سمجھ آئے گا۔

کسی بھی صورت میں جب تک *پانی* ہوناسمجھاجارہا ہے اس میں وضو اور غسل جائز ہے، اور جس صورت میں *پانی* نہ ہونا سمجھا جارہا ہے وہاں وضو اور غسل ناجائز ہے۔

تو خلاصہ وہی نکلا جو ابھی بیان ہوا۔۔ کہ وضو و غسل کے لئے پانی اور اس پانی کا مطلق پانی ہونا شرط ہے۔

اسی لئے علامہ کاسانی نے کھارے اور میٹھے پانے کے بارے میں لکھا ہے

لِأَنَّ الْمَاءَ الْمِلْحَ يُسَمَّى مَاءً عَلَى الْإِطْلَاقِ

یعنی پانی کھارا ہو یا میٹھا دونوں پر پانی کا اطلاق ہوتا ہے، اور لوگ اسے پانی ہی سمجھتے ہیں اسلئے اس سے وضو و غسل جائز ہے۔

ہم یہاں بہارِ شریعت کا اسکرین شوٹ منسلک کررہے ہیں، ہوسکتا ہے بہت سے بھائیوں نے یہ عنوان پڑھا ہو اور آگے بڑھ گئے ہوں، مگر اب پڑھیں گے تو مسائل سمجھ آجائیں گے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

خطیب اور نعت خوان میں فرق

خطیب اور نعت خوان میں فرق

خطیب اور نعت خوان دونوں اپنے مقام پر نہیں رھے کل ایک قل خوانی کی محفل میں شرکت کا موقع ملا نعت خوان کو کلام پڑھنے کی دعوت دی گئی اس کے پاس تیس منٹ تھے اس نے دس منٹ گفتگو کی اور بیس منٹ کلام پڑھا۔شعر سے پہلے کچھ گفتگو کبھی مرنے والے سے تعلق ۔۔۔۔۔کبھی مرنے والے کی اولاد سے تعلق اور دوستی۔۔۔۔ کبھی سامعین کی سبحان اللہ نہ کہنے پر دھلائی۔۔۔۔۔ کبھی اپنی تعریف کہ یہ شعر میں نے گنبد خضراء کے سامنے بیٹھ کرپڑھا۔ نعت خوانی کے ایک لمبے سلسلے کے بعد خطیب صاحب کو بلایا گیا ان کے پاس بھی تیس منٹ تھے انہوں نے بیس منٹ گفتگو کی اور دس منٹ کلام پڑھا میں خطیب محترم کی یاد داشت پر عش عش کراٹھا مرنے والے کا گویا سارا شجرہ نسب یاد تھا مرنے والے کے بیرون ملک بچوں کے نام تک انہوں نے خطاب میں بیان فرما دیئے اور آخر میں یہ بھی کہا کہ میں جب بھی باباجی سے ملنے آتا تھا مجھے بابا جی نے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا تب مرنے والے کے بڑے بیٹے نے ہاتھ کھڑا کرکے باآواز بلند کہا کہ ہم اپنے والد کی سنت کو زندہ رکھیں گے تب خطاب کا اختتام ھوا ۔ بس خطیب اور نعت خوانوں میں پانچ منٹ کا فرق رہ گیا ھے اگر خطیب اپنی تقریر میں پانچ منٹ اشعار کے لیئے بڑھا دے اور نعت خوان اپنے وقت میں پانچ منٹ کی گفتگو کا اضافہ کردے تو دونوں پندرہ منٹ تقریر اور پندرہ منٹ اشعار پر آجائیں گے۔ اس طرح خطیب اور نعت خوان میں فرق مٹ کر صرف اتنا فرق رہ جائے گا کہ ایک بلبل پاکستان ھوگا اور ایک خطیب پاکستان۔ کام دونوں کا ایک ہی ھوگا۔

از رضا حسین

محبت ِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وبارک وسلم

محبت ِرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وبارک وسلم :۔

ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کس حد تک ہو نی چاہیئے ۔ خود پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے سنئے ، ارشاد فرماتے ہیں ۔

’’ لا یُؤ مِنُ اَحَدُکُم ْ حتّٰی اَ کُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ‘‘۔تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے ماں باپ اس کی اولاد اوربقیہ تمام انسانوں کے مقابلے میں اس کے نزدیک ذیادہ محبوب نہ ہو جائوں (متفق علیہ )

صحابہ کرام اور اولیائے کرام علیہم الرضوان میں اطاعت الٰہی عزَّ وجلَّ و اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عظیم جذبہ تھا اس کی وجہ کیا تھی ؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور انھیں ہمیشہ یہ خوف دامن گیر رہتا کہ محبت رسوا نہ ہو نے پا ئے کوئی یہ نہ کہے کہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کر رہا ہے ۔لہذا رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کوخوب خوب اپنے دل میں جا گزیں کر لو اور یہ محبت ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدا ہو تی ہے ۔

محبت رسولمیں اضافہ کے لئے معجزات و کمالات حضور اکرم ﷺ کا مطالعہ کریں اور ان کا ذکر کریں ۔نیز خالق کا ئنات جلَّ و عُلا نے جس طرح قرآن مجید میں اپنے پیارے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کی ہے اور جو آداب بارگا ہ رسول اکرم ﷺ کے بیان فرمائے ہیں انھیں اچھی طرح سے پڑھیں ۔اعلیٰ حضرت کا رسالہ تجلی الیقین اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب جذب القلوب کا مطالعہ بھی اس کے لئے بہت مفید ہے ۔

اسی طرح عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مزید اضافہ و پختگی کے لئے نعت پاک بہترین ذریعہ ہے ۔محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دل میں کس قدر ہے اس کو جانچنے کا بہترین آلہ یہ ہے کہ جب کو ئی کام احکام رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ٹکراتا ہو یا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا سبب بنتا ہواگر چہ اس میں مال کی فراوانی ،ظاہری عزت و شہرت،و بلندی حاصل ہوتی ہو اس کی طرف قدم بڑھنے سے رُک جائیں تو سجدئہ شکر بجا لائیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت سے آپ کے سینے کو منوّر کر دیا ہے اور اگر قدم پھسل جائیں تو ڈرنا چاہیئے کہ جس محبت کا تقاضہ ہم سے اللہ عزو جل اور اس کے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وہ محبت تکمیل تک نہیں پہو نچی ۔

آیئے چند صحابئہ کرام علیہم الرضوان کی کیفیت محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو پڑھیں تاکہ دعوت کی راہ میں ہمارے حوصلے بلند ہوں اور حصول ِمحبت ِرسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم آسان ہو جائے ۔

حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرما تے سنا کہ’’ اگر مجھے اپنی امت کے مشقتمیں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو تا تو میں لوگوں کو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ‘‘ اس کے بعد حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول ہو گیا کہ جب نماز کے لئے مسجد میں آتے تو ان کے کان پر مسواک ہو تی جس طرح کہ لکھنے والا قلم کو کان پر رکھ لیتا ہے ۔جب نماز کا ارادہ فرماتے تو مسواک دانتو ں میں گھما لیتے اورپھر اسے اپنی جگہ پر رکھ لیتے ۔(ترمذی ، ابو دا ود)

حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اپنی پسند کا اظہار فرمایا تھا تو حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی پسند کو زندگی بھر کے لئے محبوب بنائے رکھا تاکہ رضائے محبوب حاصل ہو جائے ۔یہ کیفیت حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی نہیں بلکہ ہر صحابئی رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی حال تھا ۔

٭ حضرت ابن حنظلہ روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خزیم اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا خوب ہی آدمی ہیں سوائے دو باتوں کے کہ ان کے گیسو بہت لمبے ہیں اور تہبند گھسٹتاہے ۔

حضرت خزیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انھوںنے استرہ لیا اور گیسو کاٹ کر کان کے برابر کر لئے اور تہبند پنڈلی تک چڑھالی ۔(ابو دائو د )

محبت رسول کا جو ثبوت صحابئہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے پیش کیا ہے کو ئی پیرو کار کسی مقتداکے لئے پیش نہیں کر سکتا ۔ اور یہی وجہ تھی کہ اہل ِ باطل صحابئہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی دیوانگئی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سر خمیدہ نظر آتے یا میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے ۔

لہذا ہر داعئی دین کے لئے ضروری ہے کہ محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اپنے دل میں خوب خوب جاگزیں کرلے اور جیساکہ پہلے بیان ہوا کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ذکر رسول و نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیداہوتی ہے اور پھر بات بھی صحیح ہے جو جس زیادہ محبت کر تا ہے اسی کا ذکر زیادہ کرتا ہے ہم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دعویٔ محبت کر تے ہیں تو ہمیں بھی آپ ہی کا ذکر کثرت سے کرنا ہوگا ۔

وارفتگی اور شیفتگی کی ضرورت ہے محبت رسول میں مر مٹنے کی ضرورت ہے ہاں ذکر رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے فکر رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف قدم بڑ ھایئے فکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنّت ِرسول کی طرف قدم بڑھایئے سنتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے عظمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف قدم بڑھایئے قدم بڑھاتے رہیے اور پھر سارے عالم پر چھا جایئے۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟

ہاں ہو سکتا ہے اور ہُوا بھی ہے ۔جاگنے کی ضرورت ہے ، بیدا ر ہونے کی ضرورت ہے ۔سلانے والوں کے ہاتھ جھٹکنے کی ضرورت ہے سب طوق گلے سے نکال کر رحمت عالم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا طوق ڈالنے کی ضرورت ہے ۔

پھر دیکھیئے ٹاٹ پر بیٹھ کر بھی شاہی کی جا سکتی ہے بس آقائے کون و مکاں صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بن جایئے سارا جہاں آپ کا بن جایئے گا ۔

بدمذہبوں سے دوری و نفرت :۔ آج کل کئی ایک بد مذہب فرقے پائے جاتے ہیں جیسے دیو بندی ،وہابی غیر مقلد ،جماعت اسلامی ،تبلیغی جماعت ،صلح کلی ، رافضی ،قادیانی ، منکرین حدیث ان سے گھن کریں اور ان کو اپنے سے دور رکھیں ،حدیث پاک میں ہے کہ حضو ر اقدس صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لَا یُضِلُّوْ نَکُمْ وَلَا یَفْتَنُوْ نَکُمْ ‘‘ ’’ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں یہ تمھیں گمراہ نہ کردیں اور کہیں یہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ‘‘۔ ایک دوسری حدیث پاک میں ہے کہ نہ ان کے ساتھ کھائو ، نہ پیئو ،نہ بیٹھو ، نہ شادی بیاہ کرو،نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو ،نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھو ، ان کی صحبت ایمان و عقیدہ کے لئے زہر قاتل ہے ۔لہذا ان سے دور رہنا ضروری ہے ۔یو نہی جھوٹ ، چغلی ، غیبت ، حسد ، بغض ، کینہ ، حرص و طمع ، لڑا ئی جھگڑا وغیرہ سے لازمی طور پر اجتنا ب کریں ۔٭٭٭

باہمی اخوّت ـ:۔یوں تو جملہ مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیںلیکن ایک ہی تحریک کے ساتھ ہونے کی وجہ سے یہ بھائی چارگی کا رشتہ اور ذیادہ قوی ہے تحریک کے ساتھیوں میں بھائی چارگی کے نظا م کوقائم کریں۔ایک دوسرے کی خوشی اور ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوں ۔اپنے ساتھیو ں کی خوبی بیان کریں اور کمی کو دور کریں ایک دوسرے کی عیب جوئی کے بجائے عیب پوشی کریں ۔رشتئہ اخّوت کو توڑنی کی ہزار کوششیں کی جائیں لیکن سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو جائیں ۔اگر کسی ساتھی سے دل آزاری ہوئی ہو تو عفو و درگذر کی عادت اختیار کریں ۔اپنے کامیاب ساتھیوں کے لئے دل میںمحبت پیداکریں اور ان کی خوبیوں کو اپنا کر خود بھی کامیابی کی راہ کے مسافر بنیں ۔ یہ نہ ہو کہ شیطانی وساوس کے شکار ہوکر دل میں کینہ رکھیں ۔ اپنے ہر بھائی کی تکلیف و راحت کا خیال رکھیں ۔تحریکی مفادپر اپنی ذاتی مفاد کو قربان کریں اور ہزار کامیابی کی منزلوں کو چھو لینے کے باوجود اپنے رویّہ میں کہیں سے کوئی بھی تکبر یا اپنے دیگر ساتھیوں کو حقیر سمجھنے کا جذبہ پیدا نہ ہونے دیں ۔

اور یہ بات ہمیشہ دل و دماغ میں رہے کہ کوئی بھی شخص اگر محبت و اعتماد کرتا ہے تو دین کی وجہ سے کرتا ہے ورنہ ہم میں اور عام انسان میں کوئی فرق نہیں ۔لہذا خاتمہ بالخیر سے پہلے اپنے آپ کو کامیاب تصوّر کرنا یہ سراسر بیو قوفی ہے ۔ اللہ عز وجل ہم سب کو شیطانی شرارتوں سے محفو ظ رکھے ۔اور اخلاص و بھائی چارگی کے ساتھ دین متین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔

باہمی اخوت کو پارہ پارہ کرنے والی چیز تمسخر ہے جس کی مذمّت قرآن و حدیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔

’’یَا اَ یُھَا الذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَوْمَْ‘‘(پارہ۲۶؍رکوع ۱۴؍الحجرات ۔ ایت ۱۰؍) لہذا تمسخر سے پر ہیز کریں ۔

٭٭٭

خوش طبعی :۔خو ش مزاجی وخو ش طبعی ہر صحت مند معاشرے کے لئے ضروری ہے کبھی کبھی اچھا مزاح کر لیا کریں ۔ اس سے ساتھیوں میں محبت و اخوت پیدا ہوگی ۔خوش مزاج بنیں سب سے اچھی طرح پیش آئیں۔ ایک داعی کے لئے اس کی بھی ضرورت ہے ۔

حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے مزاح وملاعبت کے آثار وبرکات حدو شمار سے باہر ہیں ۔ان کا شمار و حصر نا ممکن ہے ۔ ایک مرتبہ حضرت امّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صا حبزادی جو کہ حضور کی ربیبہ تھیں وہ حضو ر کے پاس آئیں آپ غسل فر ماکر تشریف لائے ہی تھے آپ نے مزاحاً ان کے چہرے پر پانی کی چھینٹیں ماریں اس کی برکت سے آپ کے چہرے پر وہ حسن و جمال رُو نما ہوا جو کبھی نہ ڈھلا۔ شباب کا عالم ہمیشہ بر قرار رہا ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاحی واقعات میں سے ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ دیہاتوں میں ایک شخص ’’ زاہر ‘‘ نام کا تھا کبھی کبھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیہات کی ایسی ترکاریاں ہد یہ میں لا یا کرتا جو حضور کو پسند تھیں ۔اور حضو ر صلیٰ اللہ علیہ وسلم ا س کی واپسی پر شہر کی چیزیں مثلاًکپڑا وغیرہ عنایت فر مایا کرتے تھے اور حضور اس کو دوست رکھتے تھے ۔ فرماتے تھے کہ ’’ زاہر‘‘ سے ہمارا دوستانہ ہے ہم اس کے شہری دوست ہیں ۔ ایک روز حضور بازارتشریف لے گئے تو زاہر کو کھڑا دیکھا ۔ حضور نے اس کی پشت سے اپنا دست مبارک اس کی آنکھو ں پر رکھ کر اسے اپنی جانب کھینچا اور لپٹا لیااور اپنا سینہ مبارک اس کی پشت سے ملا دیا ۔ وہ حضو رکو نہیں دیکھ سکا تھا کہنے لگا یہ کون ہے ؟ اور جب پہچان لیا کہ حضور ہیں تو اپنی پُشت کو حضو ر کے سینئہ مبارک سے اور ملا دیا اور نہیں چاہا کہ جدا ہو ۔پھر حضور نے فرمایاکہ کوئی ہے جو اس غلام کو خریدے ۔ زاہر نے کہا یا رسول اللہ آپ نے مجھے کھو ٹا اور کم قیمت مال تصور کیا ہے ۔فرمایا تم خدا کے نزدیک تو کھو ٹے نہیں ہو بلکہ گراں بہا ہو ۔ (مدارج النبوۃ حصہ اول ص ۸۹؍۹۰؍) خلاف شر ع مزاح سے قطعی پر ہیز کریں ۔

فکر آخرت :اخلاص و للٰہیت کے ساتھ ملت اسلامیہ کو دین کی قدروں سے آشنا کرنے کے ساتھ ساتھ فکر آخرت کا جذبہ بھی دلوںمیں پیدا کرنا چاہیئے اس لئے کہ جب داعی کے دل ودماغ پر آخرت کی فکر چھائی ہوئی ہوگی تو وہ اپنے ہر عمل کی جزا و سزا کیا ملے گی اس کا خیال رکھیں گے بلکہ اعلیٰ درجہ کے مخلص داعی کے دل ودماغ پر اجر کا تصور نہیں رہتا بلکہ ہمیشہ مولیٰ کی رضا اور اپنے گناہوں پر نظر رہتی ہے ۔

اجلئہ صحابئہ کرام رضوان اللہ علیہم فکر آخرت میں لرزاں و ترساں رہتے حضور سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں اگر احکم الحاکمین قیامت میں یہ ارشاد فرمائے کہ میں نے سب کو بخش دیا سوائے ایک کے تو میں سوچوں گا کہ وہ ایک میں ہی ہوں اور اگر قیامت میں رب ارشاد فرمائے کہ سب کو جہنم میں ڈا ل د و سوائے ایک کے تو میں سوچوں گا کہ وہ ایک میں ہی ہوں۔

آپ اندازہ لگا سکتے ہیں بعد از انبیاء سب سے افضل و اعلیٰ ذات کی فکر آخرت کا ؟ اگر ہمیں اپنے مقصد میں کا میا ب ہونا ہے تو کامیاب داعیوںکی راہوں اور طریقوں پر ہی چلنا ہو گا اچھو ں کے صدقے میں اللہ عزوجل ہمیں اچھا اور کامیاب بنا دے گا ۔ ان شاء اللہ تعالی

اطاعت امیر :۔ تحریک کے ہر ساتھی کو اپنے امیر پر کامل اعتماد ہو ۔ اس کی صلاحیتوں پر بھی بھروسہ ہو ،اور اخلاص و دل سوزی کی طرف سے بھی اطمینان ہو، اس کی عزت واحترام کے جذبے سے سینہ سر شار ہو ۔

یاد رہے کہ امیر پر اعتماد کے بغیر تحریک کا کارواں منزل کی طرف رواں دواں ہونے کے بجائے تھک کر راستے ہی میں بکھر جاتا ہے ۔ماضی کی سیکڑوںتحریکیں اس بات کی شاہد ہیں جو عدم اعتماد کی وجہ سے کامیابی سے ناکامی میں تبدیل ہو گئیں ،دین اور شریعت کے معاملے میں امیر کی اطاعت لازمی ہے۔

امیر کی طرف سے صادر ہونے والے احکام کو فیصلہ کن جانے ۔ ان میں بحث ومباحثہ یا نکتہ چینی کی ذرا بھی گنجائش نہ سمجھے ۔ اور خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرے اگر کوئی فیصلہ نظر ثانی کے لائق ہو تو مشورہ ضرور دے اور اپنی رائے سے ضرور مطلع کرے لیکن ادب اور اخلاص کا دامن ہاتھوں سے نہ چھو نٹنے پائے ۔

یاد رکھیں امیر اور دعوت کے سپاہیوںکے درمیان اعتماد اور اطمینان کی جتنی عمدہ اور خوشگوار فضا قائم ہوگی تحریک کا نظام اتنا ہی مضبوط ہو گا ۔

اس لئے کہ محسن اعظم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’ اِنْ اُمِرعَلَیْکُمْ عَبدْ مُجْدعُْ یقو دُ کم بِکِتابِ اللّہ ِ فاسْمَعُوالَہ وَاَ طِیعُوا (مسلم)

اگر کوئی نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق لے چلے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو ۔

ایک اور مقام پر رسول اعظم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔

’’ اِسْمَعُوا وَ اَطِیْعُوا وانْ تُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عبدُْ حَبْشِیُْ کانَ رأ سُہ زَبِیْبَۃ ‘‘ُ

’’ سنو اور اطاعت کرو اگر چہ ایک حبشی غلام بھی تمہارا ذمّہ دار بنا دیا جائے جس کا سر کشمش کی مانند چھو ٹا اور بد نما ہو ۔

مذکورہ بالا احدیث کی روشنی میں اگر انسانوں کی سر براہی کی ذمہ داری کسی ایسے شخص کے سپرد کی ہوتی ہے جو کسی وجہ سے جچتا نہ ہو ۔ بہت سے لوگ اسے اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں اس کے باوجود امت کی اجتماعیت اور اس کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر ایسا شخص بھی امیر مقرر کیا گیا ہو تو اس کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا۔یہی نہیں بلکہ اگر امیر کی طرف سے کسی ایسے رویے کا اظہار ہو اور وہ کوئی ایسا طرز عمل اختیار کرے جو آدمی کو نا پسند ہو ایسی حالت میں بھی امیر کی اطاعت سے ہاتھ کھینچنا روا نہیں ہے ۔اِلّا یہ کہ وہ رویّہ خلاف شرع ہو تو اس پر تنبیہ کا ہر مسلمان کو حق ہے ۔

جو شخص امیر کا مطیع و فرمانبردار نہ رہا اور مر گیا تو ایسے شخص کی موت حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جہالت کی موت فرمایا ہے۔

ارشاد رسالت ہے :

جو کوئی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی چیزدیکھے جو اسے نا پسند ہو تو چاہیئے کہ صبر کرے اس لئے کہ جو کوئی جماعت سے ایک بالشت دوری بھی اختیار کرتا ہے اور اس کو اسی حالت میں موت آجاتی ہے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو تی ہے ۔

مغربی اصطلاحات کی تعریف

مغربی اصطلاحات کی تعریف

۔۔۔سیکولرازم۔۔۔

ذیل میں کچھ مشہور و معروف مغربی اصطلاحات کی فنی تعریفات پیش کی جارہی ہیں، جنہیں میں نے فلاسفہ و مفکرین مغرب اور خود ان اصطلاحات کے موجدین کی فکر و نظر اور مطلوبہ مفاہیم کی روشنی میں مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم مغربی اصطلاحات تو بے دریغ استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے حقیقی مفاہیم(وہ مفہوم جو اہل مغرب کی حقیقی مراد ہوں) سے آگاہ نہیں ہیں۔ اوپر سے یہ ظلم کہ ہمارے دیسی لبرل دانشورمغرب کا نمک حلال کرتے ہوے ان اصطلاحات کو عین اسلامی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، یہ لوگ جان بوجھ کر اسلام پر مغربیت کا لبادہ اوڑھنے کے درپے ہیں، ان سے ہوشیار رہئے اور اصطلاحات کو ان کے حقیقی مفاہیم کو مدنظر رکھ کر ہی استعمال کرنے کی عادت ڈالئے۔ شکریہ

1۔ سیکولرازم/سیکولرزم/Secularism:-

پاکستان کی سرکاری اردو لغت(http://udb.gov.pk) میں سیکولرازم کا مطلب یہ بتایا گیا ہے

"لادینیت، مذہبی عقیدے سے بریت، ایسا نظریہ حیات جو عقائد کی مداخلت سے پاک ہو۔”

عرف میں سیکولرازم کا مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ

سیکولرازم ایک ایسا نظریہ ہے جس کے مطابق چرچ(مذہب) اور اسٹیٹ(ریاست) کو الگ الگ رکھا جانا چاہئے۔

اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ ریاستی یا انسان کے اجتماعی معاملات میں مذہب کو الگ رکھا جانا چاہئے اور اجتماعی انسانی مسائل کا فیصلہ وحی، کسی مخصوص مذہب یا مطلقا مذہب کی تعلیمات کی بجائے، اکثریت، انسانی اجتماع یا General/Common Willکی روشنی میں کیا جانا چاہئے۔

فکروفلسفہ مغرب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سیکولرازم کی تعریف یوں کر سکتے ہیں؛

"سیکولرازم تنویری مفکرینِ مغرب(Enlightened Western Thinkers) کا پیش کردہ ایک ایسا نظریہ حیات ہے جس کے مطابق انسان کے اجتماعی معاملات کو ہدایتِ الہی(Religion)سے آزاد فکرِ انسانی(Reasoning) کے اصولوں پر طے کیا جانا چاہئے۔”

اگر ہم اس تعریف پر غور کریں تو مندرجہ ذیل نقاط اخذ ہوتے ہیں؛

1۔ سیکولرازم کوئی الہامی نظریہ حیات نہیں بلکہ اس کا فلسفہ مغرب کے دین بیزار مفکرین کی ایجاد ہے۔

2۔ سیکولرازم صرف نظریہ ریاست نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ حیات ہے۔

3۔ سیکولرازم کا تعلق انسان کے اجتماعی معاملات سے ہے۔

4۔ سیکولرازم انسانی معاملات کو طے کرنے میں خدائی یا پیغمبرانہ نورِ ہدایت یا سادہ لفظوں میں "وحی” سے انکار کرتا ہے۔

5۔ سیکولرازم خدا اور وحی کو انسانی اجتماعی مسائل سے غیرمتعلق قرار دینے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق تسلیم کرنے کا نام ہے۔

6۔ سیکولرازم وحی کو معطل کر کے انسان ساختہ اصولوں Man Made Laws/Human Rights کی بنیاد پر اجتماعی مسائل کا حل تلاش کرتا ہے۔

مذکورہ نقاط میں سے کوئی ایک بھی نقطہ ایسا نہیں جسے رد کیا جا سکے۔ مغربی مفکرین کی کتب سیکولرازم کے اسی مفہوم کو بیان کرتی ہیں اور اسی مفہوم کی دعوت دیتی ہیں۔ پس ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ سیکولرازم لادینیت ہے۔بعض مغربی مفکرین یہ کہتے ہیں کہ سیکولرازم لادینیت نہیں ہے کیونکہ لادینیت خدا کے انکارکا نام ہے جب کہ سیکولرازم خدا کا انکار نہیں کرتا ۔

یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ سیکولرازم لادینیت ہی ہے۔ درحقیقت لادینیت کی تعریف اہل مغرب کے ہاں مختلف ہے جبکہ ہم مسلمانوں کے نزدیک مختلف ہے۔ مغربی مفکرین کے نزدیک لادینیت صرف وجودباری تعالیٰ کے انکار کا نام ہے جبکہ ہم مسلمانوں کے نزدیک انکارِ وجود باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ انکارِ مذہبDeism بھی لادینیت ہے پس اسلامی نقطہ نظر کے مطابق سیکولرازم لادینیت /الحاد ہے۔ سیکولرازم کے لادینیت ہونے پر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ سیکولرازم خدا کو انسانی اجتماعی زندگی سے غیر متعلق قرار دینے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق اپنانے یا نافذ کرنے کا نام ہے۔

2۔ لبرل ازم/ لبرلزم/Liberalism:-

لبرل ازم ایک پیچیدہ اور جامع اصطلاح ہے۔ مغربی مفکرین کی اکثریت اسے ایک سیاسی نظریہ قرار دیتی ہے لیکن اگر لبرل ازم کے فلسفے کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ صرف ایک سیاسی نظریہ نہیں ہے۔ اس کی جڑیں حیات انسانی میں انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں پھیلی ہوئی ہیں۔

پاکستان کی سرکاری اردو لغت(http://udb.gov.pk) میں لفظ لبرل کا مطلب یہ بتایا گیا ہے

"کھلے ذہن کا مالک، وسیع القلب، کشادہ نظر، وہ شخص یا افراد کا گروہ جو انفرادی آزادی، جمہوری نظام حکومت اور آزاد تجارت کا حامی ہو، جاگیرداری اور رجعت پسندی کے مقابل، فیاض، کریم، دریادل، سخی ۔”

لفظ لبرل کے جو معانی بتائے گئے ہیں ان میں سے آخری چار معانی لغوی ہیں جبکہ بقیہ سب اصطلاحی معانی ہیں۔

عرف میں لبرل ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو انفرادی و اجتماعی آزادی کی بات کرتا ہو، جمہوریت کا حامی ہو، فری ٹریڈ کا حامی ہو، حقوق نسواں کی تحریکوں کو نظریاتی سطح پر جسٹیفائے کرتا ہو اور اشیاء کا جائزہ بالعموم مذہب کی بجائے عقل و خرد کی بنیاد پر کرتا ہو۔

مغربی فکر و فلسفے کے مطالعے سے واضح ہے کہ لبرل ازم ایک جامع اصطلاح ہے جس میں سیکولرازم، ہیومن ازم اور انہی کے طرح کے دیگر "اِزم” بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت جتنے بھی مغربی "اِزم” ہیں وہ کئی کئی جہات سے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس لئے ان کے درمیان کوئی واضح خط فاصل کھینچنا خاصا مشکل کام ہے۔

جہاں تک ہم لبرل ازم کو سمجھتے ہیں، اس کے مطابق، لبرل ازم اور سیکولر ازم کی تعریف میں صرف ایک لفظ کا فرق ہے ،

"لبرل ازم تنویری مفکرینِ مغرب(Enlightened Western Thinkers) کا پیش کردہ ایک ایسا نظریہ حیات ہے جس کے مطابق انسان کے انفرادی معاملات کو ہدایتِ الہی(Religion)سے آزاد فکرِ انسانی(Reasoning) کی اصولوں پر طے کیا جانا چاہئے۔”

آپ نے دیکھا کہ سیکولر ازم کا تعلق انسان کے اجتماعی معاملات سے تھا جبکہ لبرل ازم کا تعلق انفرادی معاملات سے ہے۔

لبرل ازم کا بنیادی نعرہ ہے، "آزادی”، قابل غور بات یہ ہے کہ آزادی سےمغربی مفکرین کی مراد کیا ہے؟ مغربی فکر اور معاشرے میں آزادی ایک بنیادی قدر ہے۔ تمام مغربی فلسفے فرد یا افراد کی آزادی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔جاننا چاہئے کہ مغربی تصور آزادی سے مراد ہے، "مذہب کی حدود و قیود سے آزادی۔” ہمارے دیسی لبرل دانشور اگرچہ واشگاف الفاظ میں یہ مفہوم بیان نہیں کرتے لیکن اگر آپ لبرل ازم کے حقیقی مفکرین اور دانشوران مغرب کے افکار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

لبرل ازم کا نصب العین آزادی کو یقینی بنانا ہے، لہذا ضروری ہے کہ ہم آزادی کے مغربی تصور پر روشنی ڈالیں۔

مغربی تصور آزادی یہ ہے کہ "میری خواہشات اور ترجیحات کی تقسیم اور درجہ بندی متعین کرنے کا حتمی اختیار صرف اور صرف میرے پاس ہے، خیر و شر کا حتمی پیمانہ میں ہوں، خدا اور نبی کون ہوتے ہیں جو مجھے بتائیں کہ مجھے کیا چاہنا چاہئے اور کیا نہیں چاہنا چاہئے!”

1۔ لبرل ازم وحی اور مذہب کو اولا تو انسان کی انفرادی زندگی سے معطل کرنے اور بعد ازاں ان کے انکار کا نام ہے۔

2۔ لبرل ازم خیر و شر کا پیمانہ خدا اور نبی کی بجائے خود فرد کو قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر میں شراب پینا پسند کرتا ہوں تو مجھے شراب پی لینی چاہئے، یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ خدا اسے ناپسند کرتا ہے کیونکہ خدا کو کوئی حق نہیں کہ وہ میری پرسنل لائف میں انٹر فئیر کرے!(العیاذ باللہ)

3۔ لبر ل ازم ہر قسم کی مذہبی تعلیمات اور حدود و قیود کو توڑ کر ان سے آزادی حاصل کر لینے کا نام ہے۔

4۔ لبرل ازم ہر شعبہ ہائے زندگی سے مذہب کو بے دخل کر کے نفسانی خواہشات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق اپنانے یا نافذ کرنے کا نام ہے۔

5۔ لبرل ازم اسلامی نقطہ نظر کے مطابق کفر ہے اور ہر نظریاتی لبرل دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

۔۔۔ہیومن ازم۔۔۔(انسانیت پرستی)۔۔۔

3۔ ہیومن ازم/ ہیومنزم/ Humanism:-

گزشتہ سات آٹھ سو سال میں مغرب نے جتنے بھی نئے نظریات پیش کئے ان میں سے نوے پچانوے فیصد نظریات کی اساس ایک ہی ہے۔ یہ اساس ہے "انسان”، بات زرا سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

نشاۃ ثانیہ کا مغربی عہد درحقیقت انسان پرستی کی ابتداء کا عہد تھا۔ نشاۃ ثانیہ اور انسان پرستی دونوں الفاظ قابل غور ہیں،

مغرب کی فکری تاریخ تین ادوار میں منقسم ہے،

1۔ عہد قدیم

2۔ نشاۃ ثانیہ

3۔ عہد جدید

عہد قدیم وہ عہد ہے جو زمانہ قبل از تاریخ سے شروع ہو کر قرون وسطیٰ کی آخری صدیوں یعنی تقریبا پندرہویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس عہد کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مذہب مغربی فکر کی اساس رہا ہے، چاہے وہ قدیم یونانی و رومی بت پرستانہ مذاہب ہوں یا قرون وسطیٰ کا مسیحی مذہب ہو، مغربی فکر پر مذہب کی گہری چھاپ رہی ہے۔

پندرہویں صدی کے وسط سے سترہویں صدی کے وسط تک تقریبا دو سو سال کا عہد نشاۃ ثانیہ اور ہیومنزم کی ابتداء کا عہد کہلاتا ہے۔ اس کی خصوصیات زرا بعد میں بتاتا ہوں۔

اس کے بعد سترہویں صدی عیسوی کے وسط تا زمانہ حال تک مغربی فکر کا تیسرا عہد یعنی عہد جدید پھیلا ہوا۔ اس عہد کی سب سے نمایاں خصوصیت عقل پرستیRationalism ہے۔ ریشنل ازم یا عقل پرستی کا مطلب یہ ہے کہ اس عہد میں مغرب نے خدا، مذہب اور وحی کا یا تو انکار کر دیا یا اسے غیر تسلی بخش قرار دے کر انسانی حیات سے نکال باہر کیا۔

عہد قدیم و جدید کے درمیان ایک عبوری دور نشاۃ ثانیہ کا ہے۔ نشاۃ ثانیہ سے پہلے مغربی فکر پرخدا، وحی اور مذہب کا غلبہ رہا جبکہ نشاۃ ثانیہ کے بعد مغربی فکر پر انسان، عقل اور الحاد و سائنس کا غلبہ رہا ہے جو آج تک موجود ہے۔ ان ادوار کے مابین نشاۃ ثانیہ مغربی انسان کی خدا پرستی سے انسان پرستی کی طرف تبدیلی سے عبارت ہے۔ نشاۃ ثانیہ کی اہم ترین تحریکوں میں تحریک تراجم سر فہرست ہے جس کا مقصد قدیم یونانی و رومی فلسفیانہ کتب کا مقامی زبانوں میں ترجمہ تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ "مذہب سے آزاد” علوم کی طرف راغب ہوں اور مذہب کا طوق اتار پھینکنے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں۔

غرض ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ مغرب نے خدا پرستی سے انسان پرستی کا معکوس سفرجن دو صدیوں میں طے کیا اسے نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان پرستی Humanism سے مراد کیا ہے؟

انسان پرستی کی تعریف یوں کر لیجئے

” انسان پرستی ایک ایسا نظریہ حیات ہے جس کے مطابق پرستش کے قابل صرف ایک ہی ہستی ہے، اور وہ ہستی انسان خود ہے۔”

ہیومنزم کا بنیادی کلمہ "لاالہ الا الانسان” ہے!

اس تعریف کو کھولا جائے تو حسب ذیل نقاط اخذ ہوتے ہیں؛

1۔ ہیومن ازم انسان کو خدا کے مقام پر فائض کرنے کا نام ہے۔

2۔ ہیومن ازم مذہب کے متوازی ایک مکمل مذہب ہے۔ایک ایسا مذہب جس میں انسان کی پرستش کی جاتی ہے۔آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ "انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے”!

3۔ ہیومن ازم میں انسان کی پرستش کا طریقہ ویسا نہیں جو خدا پرستی کا طریقہ کار ہے۔

4۔ ہیومن ازم کے مطابق ہر انسان اپنے اندر ایک عدد خدا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر کے مطابق ہیومن ازم یا انسانیت پرستی صریح کفر و شرک ہے۔ لیکن یہ کفر کیسے ہے؟ سطور زیریں میں پڑھئے!

امریکی فلسفی کارلس لیمنٹ نے اپنی کتاب فلسفہ انسانیت پرستی میں ہیومنز ازم کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہےکہ میرے ہاتھ میں اس وقت کتاب کا آٹھواں ایڈیشن ہے!

صفحہ نمبر 10 سے وہ ہیومنزم کے دس بنیادی نکات بیان کرنا شروع کرتا ہے جن میں سے پہلے پانچ کا معنوی ترجمہ مع اصل متن آپ احباب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس کے بعد فیصلہ آپ خود فرمائیے۔

First, Humanism believes in a naturalistic metaphysics or attitude toward the universe that considers all forms of the supernatural as myth; and that regards Nature as the totality of being and as a constantly changing system of matter and energy which exists independently of any mind or consciousness.

اول، ہیومنزم نیچری مابعد طبیعات یا سادہ لفظوں میں اس روئیے پر یقین رکھتا ہے جس کے مطابق ہر قسم کے مافوق الفطری موجودات(مثلا خدا، فرشتے، جنت، جہنم وغیرہ) فرضی قصے کہانیاں اور افسانے ہیں، اور یہ کہ تمام وجودات اور یہ ساری کائنات ،مستقل بالذات مادے اور انرجی کے باہمی تعامل ہی کا نتیجہ ہیں جن کے پیچھے کوئی ذہن مطلق یا ناظم کائنات کارفرما نہیں ہے۔

Second, Humanism, drawing especially upon the laws and facts of science, believes that we human beings are an evolutionary product of the Nature of which we are a part; that the mind is indivisibly conjoined with the functioning of the brain; and that as an inseparable unity of body and personality we can have no conscious survival after death.

دوم، ہیومنزم کا انحصار، بالخصوص سائنسی قوانین و حقائق پر ہے۔ ہیومنزم کے مطابق ہم انسان اس مادی کائنات، جس میں کہ ہم رہتے ہیں، ہی کا ایک حصہ اور ارتقائی ماحصل ہیں۔ اور یہ کہ نفس یا شعور انسانی دماغ ہی کے تعامل اور فنکشنز کا نام ہےجس کا دماغ کے ساتھ اٹوٹ رشتہ ہے یعنی نفس انسانی الگ سے کوئی روحانی وجود نہیں بلکہ دماغ ہی کا ایک عمل ہے۔ ہیومنزم اس بات پر بھی یقین رکھنے کا نام ہےکہ چونکہ انسانی تشخص یا روح اور جسم درحقیقت ایک ہی شے ہے اس لئے موت کے بعد کسی قسم کی شعوری حیات کا کوئی وجود نہیں۔

Third, Humanism, having its ultimate faith in humankind, believes that human beings possess the power or potentiality of solving their own problems, though reliance primarily upon reason and scientific method applied with courage and vision.

سوم، ہیومنز م چونکہ "انسان” پر ایمان لانے کا نام ہے، اس لئے انسانی مسائل کو حل کرنے میں حتمی فیصلہ (وحی یا آسمانی ہدایت کی بجائے) انسانی عقل اور سائنسی طریقہ کار کا ہے۔

Fourth, Humanism, in opposition to all theories of universal determinism, fatalism, or predestination, believes that human beings, while conditioned by the past, possess genuine freedom of creative choice and action, and are, within certain objective limits, the shapers of their own destiny.

چہارم، ہر قسم کے نظریہ جبر و تقدیر اور ایمان بالقدر کے برعکس، ہیومنز م یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان اپنی قسمت اور تقدیر کا خالق خود ہے، ان معنوں میں کہ جس شے یا عمل کو انسان مثبت سمجھتا ہے، اسے اپنانے یا کر گزرنے میں انسان پوری طرح آزاد ہے۔ یعنی اسے کسی خارجی یا آسمانی پابندی کی فکر نہیں کرنے چاہئے، وہ اپنے لئے خیر و شر کے انتخاب اور ترجیحات کی درجہ بندی متعین کرنے میں پوری طرح آزاد ہے۔

Fifth, Humanism believes in an ethics or morality that grounds all human values in this-earthly experiences and relationships and that holds as its highest goal the this worldly happiness, freedom, and progress – economic, cultural, and ethical – of all humankind, irrespective of nation, race, or religion.

پانچواں یہ کہ ہیومنزم کے مطابق اخلاقیات کی تمام تر بنیاد مذہب، قوم یا قبیلے کی روایات و تعلیمات کی بجائےان دنیاوی اقدار پر ہے جن کے ذریعے انسان اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ خوشیاں، آزادی اور مادی ترقی حاصل کر سکے۔

کارلس لیمنٹ نے یہ بات کھول کر بیان کر دی ہےکہ ہیومنزم یعنی انسانیت پرستی ، خدا پرستی یا مذہب کے عین الٹ ہے۔ ہیومنزم ہر اس بات کی مخالفت کرتا ہے جو کسی بھی مذہب کی بنیادی تعلیمات ہوتی ہیں پس ہیومنزم کو کلمہ پڑھوانا ناممکن ہے۔ ہمارے جدیدیت پرست مسلم مفکرین کو ہزار بار سوچنا چاہئے کہ وہ اسلام میں کس غلیظ کپڑے کا پیوند لگانے میں کوشاں ہیں!

فیصل ریاض شاہد

26-12-2018

نبی ﷺ کا دیا کھاتے ہیں یا جو کچھ ہے وہ سرکار کا دیا ہے

بعض حضرات اس پر بگڑ جاتے ہے کہ اپ نے یوں کیوں کہہ دیا

کہ نبی ﷺ کا دیا کھاتے ہیں یا جو کچھ ہے وہ سرکار کا دیا ہے

یا نعت وغیرہ کے اشعار پر کہ تیرا کھاواں میں یارسول اللہ ﷺ

بلکہ صرف اللہ کا کہنا چائیے کہ اللہ کا ہی کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ

بہت ہیاعتراضات بنا دیے جاتے ہیں

تو ایسے حضرات سے گزارش ہے کہ پہلے علم سیکھیں اور پھر بحث کیا کریں اور فتوا جات جو اپکے پاس مشرک اور کفر کہ مفت پڑھے ہوئے ہے مت دیا کریں

 

وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 189

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

ترجمہ:

اور آسمانوں اور زمینوں کا ملک اللہ ہی کی ملکیت میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ؏

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 189

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 188

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

ترجمہ:

ان کے متعلق ہرگز نہ سمجھنا جو اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیے ان لوگوں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ عذاب سے نجات پاجائیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے متعلق ہرگز نہ سمجھنا جو اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیے ‘ ان لوگوں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ عذاب سے نجات پاجائیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، اور اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ،

بعض آیات میں عموم الفاظ کی بجائے خصوصیت مورد کا اعتبار :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ کو یہود اور مشرکین کی طرف اذیتیں نہیں لاحق ہوں گی اللہ تعالیٰ نے ان ہی ایذاؤں میں سے یہ بیان فرمایا ہے کہ ان کی ایک ایذاء بھی ہے کہ وہ کمزور مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف شبہات ڈالتے ہیں ‘ اور وہ اس پر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی یہ تعریف کی جائے کہ وہ صالح ‘ متقی ‘ متدین اور صادق القول ہیں ‘ اور ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو اذیت پہنچتی تھی۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق تورات کی آیات چھپاتے تھے اور اس کے بدلہ میں اپنے ارادت مندوں سے نذرانے وصول کرتے تھے ‘ اور ان پر یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ بہت بڑے عالم اور دیندار ہیں اور وہی مقتداء بننے کے لائق ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس فعل کی سزا بیان فرمائی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ میں تشریف لے جاتے تو بعض منافقین پیچھے رہ جاتے اور آپ کے ساتھ نہ جاتے اور اپنے فعل پر خوش ہوتے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے ‘ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آتے تو مختلف حیلے بہانے بناتے قسمیں کھاتے اور اس پر قسمیں کھاتے کہ جو کام انہوں نے کہا ہے (جہاد میں آپ کے ساتھ جو نہیں گئے) ان پر ان کی تعریف کی جائے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا “۔ علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ! حضرت ابن عباس (رض) کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ ہر شخص اپنے فعل پر خوش ہوتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا ہے اس پر اس کی تعریف کی جائے تو اگر عذاب دیا جائے تا تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو بلایا اور ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسل چیز کو چھپالیا اور آپ کو کچھ اور بتادیا اور وہ یہ چاہتے تھے کہ انہوں نے آپ کو جس چیز کی (جھوٹی) خبر دی ہے اور انہوں نے آپ کے سوال کے جواب میں جو اصل چیز نہیں بتائی اس پر ان کی تعریب کی جائے ‘ اور پھر حضرت ابن عباس نے یہ دو آیتیں پڑھیں۔ (آیت) ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوالکتاب “ اور ” یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا “۔ (صحیح بخاری ج ٥ ص ٢٠٩‘ رقم الحدیث ٤٥٦٨‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ صحیح مسلم ج ٤ ص ٢١٤٣‘ ٢١٤٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن کبری للنسائی ج ٦ ص ٣١٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١١ ھ ‘ الجامع الصحیح للترمذی ج ٥ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) 

ہرچند کہ قرآن مجید کی آیات میں عموم الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے اور خصوصیت مورد کا اعتبار نہیں ہوتا لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض آیات میں خصوصیت مورد ہی کا اعتبار ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) کی اس تفسیر سے معلوم ہوتا ہے۔ 

نیکی کی تعریف چاہنے پر عذاب کی وعید :

مسلمانوں کو چاہیے کہ اس آیت کی وعید سے ڈریں اور یہ نہ چاہیں کہ جو کام انہوں نے نہ کیا ہو اس پر ان کی تعریف کی جائے ‘ جیسا کہ بعض لوگ اپنے آپ کو عالم ‘ علامہ ‘ مفتی اور شیخ الحدیث بلکہ حافظ الحدیث کہلاتے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں ہوتے ‘ اور اگر کوئی مسلمان کسی نیک کام کے کرنے پر خوش ہو یا برا کام نہ کرنے پر خوش ہو تو یہ ایمان کی علامت ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اپنی نیکی سے خوشی ہو اور برائی پر افسوس ہو وہ مومن (کامل) ہے امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

(الجامع الصحیح ج ٤ ص ٤٦٦‘ رقم الحدیث ٢١٦٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ مسند احمد ج ١ ص ٢٦‘ ١٨‘ ج ٣ ص ٤٤٦‘ ج ٥ ص ٢٥٦‘ ٢٥٢‘ ٢٥١ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

البتہ کوئی نیک کام کرکے یہ خواہش رکھنا کہ اس پر اس کی دنیا میں تعریف کی جائے اخلاص کے منافی ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کی طرف متوجہ ہوگا تاکہ ان کا فیصلہ فرمائے ‘ اس وقت ہر امت دو زانو بیٹھی ہوگی ‘ سب سے پہلے قرآن کے حافظ کو بلایا جائے گا اور اس شخص کو جو اللہ راہ میں شہید ہوا اور مالدار شخص کو ‘ اللہ تعالیٰ قرآن کے قاری سے فرمائے گا کیا میں نے تجھے اس چیز کا علم نہیں دیا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کی تھی ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائئے گا تو تو اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا ؟ وہ شخص کہے گا میں رات دن قرآن پڑھتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے تو جھوٹ بولتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تو نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے سو یہ کہا گیا پھر مالدار شخص کو بلایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مالی وسعت نہیں دی تھی حتی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا ! وہ شخص کہے گا اے میرے رب ! کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر تو نے میرے دیئے ہوئے مال میں کیا عمل کیا ؟ وہ شخص کہے گا میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ کرتا تھا ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص جواد ہے سو یہ کہا گیا پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو کس وجہ سے قلت کیا گیا تھا ؟ وہ شخص کہے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا تھا سو میں نے قتال کیا حتی کہ میں قتل کردیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں شخص بہادر ہے سو یہ کہا گیا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا : اے ابوہریرہ ! یہ پہلے وہ تین شخص ہیں جن سے دوزخ کی آگ کو بھڑکایا جائے گا۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٥٩٣۔ ٥٩٢‘ رقم الحدیث ٢٣٨٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ صحیح مسلم ج ٣ ص ١٥١٤۔ ١٥١٣ رقم الحدیث ١٩٠٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٥٧‘ مطبوعہ کراچی ‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٢) 

قرآن مجید کی زیر بحث آیت اور اس حدیث میں نیکیوں پر اپنی تعریف کی خواہش رکھنے پر سخت وعید ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 188