خطیب اور نعت خوان میں فرق

خطیب اور نعت خوان دونوں اپنے مقام پر نہیں رھے کل ایک قل خوانی کی محفل میں شرکت کا موقع ملا نعت خوان کو کلام پڑھنے کی دعوت دی گئی اس کے پاس تیس منٹ تھے اس نے دس منٹ گفتگو کی اور بیس منٹ کلام پڑھا۔شعر سے پہلے کچھ گفتگو کبھی مرنے والے سے تعلق ۔۔۔۔۔کبھی مرنے والے کی اولاد سے تعلق اور دوستی۔۔۔۔ کبھی سامعین کی سبحان اللہ نہ کہنے پر دھلائی۔۔۔۔۔ کبھی اپنی تعریف کہ یہ شعر میں نے گنبد خضراء کے سامنے بیٹھ کرپڑھا۔ نعت خوانی کے ایک لمبے سلسلے کے بعد خطیب صاحب کو بلایا گیا ان کے پاس بھی تیس منٹ تھے انہوں نے بیس منٹ گفتگو کی اور دس منٹ کلام پڑھا میں خطیب محترم کی یاد داشت پر عش عش کراٹھا مرنے والے کا گویا سارا شجرہ نسب یاد تھا مرنے والے کے بیرون ملک بچوں کے نام تک انہوں نے خطاب میں بیان فرما دیئے اور آخر میں یہ بھی کہا کہ میں جب بھی باباجی سے ملنے آتا تھا مجھے بابا جی نے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا تب مرنے والے کے بڑے بیٹے نے ہاتھ کھڑا کرکے باآواز بلند کہا کہ ہم اپنے والد کی سنت کو زندہ رکھیں گے تب خطاب کا اختتام ھوا ۔ بس خطیب اور نعت خوانوں میں پانچ منٹ کا فرق رہ گیا ھے اگر خطیب اپنی تقریر میں پانچ منٹ اشعار کے لیئے بڑھا دے اور نعت خوان اپنے وقت میں پانچ منٹ کی گفتگو کا اضافہ کردے تو دونوں پندرہ منٹ تقریر اور پندرہ منٹ اشعار پر آجائیں گے۔ اس طرح خطیب اور نعت خوان میں فرق مٹ کر صرف اتنا فرق رہ جائے گا کہ ایک بلبل پاکستان ھوگا اور ایک خطیب پاکستان۔ کام دونوں کا ایک ہی ھوگا۔

از رضا حسین